عورت کو بے مہار آذادی نہی اس کے حقوق چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت کو آزاد کروانے کے لیے عورت مارچ ہوا۔ کیسا ہوا، یہ ہم سب کو معلوم ہے۔ اس کے اثرات معاشرے پر کیا مرتب ہوں گے، بحث طلب ہے۔ بات کا آغاز وہیں سے ہونا چاہیے جہاں سے آوازیں اٹھیں، صحیح غلط کا فیصلہ سماج کی نفسیات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ عورت کے حقوق طے شدہ ہیں، ملتے ہیں یا نہی، اس پر بات ہونی چاہیے۔ ملتے ہیں تو اچھی بات۔ نہی مل رہے تو اس کے محرکات کیا ہیں؟ آیا کہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے، معاشی یا معاشرتی ہے یا کہ مذہبی؟ کیا بات مردوں کو روکتی ہے کہ وہ جس عورت کے وجود سے وجود پاتے ہیں، اور جس عورت سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں اس کے احساسات کی جمالیاتی حساسیت سے نظریں چراتے ہیں۔

برصغیر انسانی تہذیب و تمدن کا ایک قدیم مرکز رہا ہے۔ اس طرف جب جب کسی قوم نے رخ کیا، اسی کے رنگ میں رنگ گئی۔ یہاں کی اپنی معیشت، اپنی معاشرت اور باہر کی دنیا سے الگ ہی ثقافت ہے۔ یہاں کے قدیم مذہب میں عورت ہی بلی دیتی آئی ہے۔ کبھی انگاروں پہ چل کے تو کبھی ستی بن کے، مرد اس خطے میں عورت پر غالب رہا ہے۔ اس خطے میں عورت کو بچے پیدا کرنے کا ذریعہ ہی سمجھا جاتا رہا۔

اسلام کی تعلیمات اس کے برعکس ہیں۔ اسلام نے عورت کے وجود کو نہ صرف تسلیم کروایا ہے بلکہ اسے وہ تمام حقوق مہیا کیے ہیں جو مردوں کو حاصل رہے ہیں۔ اسلام سے قبل عورت کو شادی ختم کرنے کا حق حاصل نہ تھا، اب خلع کا حق حاصل ہے۔ اسلام سے پیشتر لڑکیوں کو قتل کردیا جاتا تھا، اسلام نے لڑکی کو رحمت قرار دے کر اس کی زندگی کی ضمانت دی۔ اس اہمیت کو یوں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل بیٹیوں سے ہی چلی۔

اسلام نے تعلیم کا حق عورت کو دیا، ملازمت و تجارت کی آزادی دی اور گواہی کی صورت مشاورت و فیصلہ سازی میں عورت کے کردار کو شامل کیا۔ ایک اعتراض جائیداد کے حوالے سے کیا جاتا ہے کہ حصہ نصف کیوں رکھا تو شاید اس بات کا خیال نہی رکھا جاتا کہ عورت کو خاوند کی طرف سے بھی حصہ ملتا ہے اور نکاح کے وقت ملنے والا مہر بھی عورت ہی کی ملکیت ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ سہولیات عورت کو میسر بھی ہیں کہ نہی تو اس کا سیدھا سا جواب ہے اس خطے میں مجموعی طورپر عورت کو پسماندہ اور حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس کہ وجہ کا تعین کرتے ہیں تو کہیں بھی مذہب وجہ بن کر سامنے نہی آتا۔ یہ اس خطے کی ثقافت اور یہاں بسنے والوں کے سماجی رویے اور نفسیات ہے جس نے عورت کو اس کے حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے مسائل اور اس کے اسباب میں قطعاً مذہب کا کردار شامل نہی۔

یہ ہمارے عمومی رویوں کی مرہون منت ہیں۔ ایک سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ عورت مارچ میں جن مسائل کا چرچہ کیا گیا ہے کیا وہ حقیقت میں اس خطے کی خواتین کے مسائل ہیں بھی یا محض ایک مخصوص طبقے کی ضروریات تک ہی محدود ہیں۔ اگر تمام نعروں کا ایک مرکزی خیال نکالا جائے تو وہ لباس سے شروع ہوکر جنسی معاملات پر آنبٹتے ہیں۔

لباس سے متعلق اسلام کی واضح تعلیمات ہیں کہ ستر ڈھانپتا ہو۔ یہی اس خطے کی ثقافت بھی ہے۔ جنسی معاملات میں بھی اسلام اور مقامی ثقافت تقریبا ملتی جلتی ہے، بلکہ اسلام نے تو خواتین کو وہ سہولیات مہیا کی ہیں جو پہلے ناپید تھیں۔ اگر کسی مرد سے نباہ نہی ہوپارہا تو عورت علیحدگی کرسکتی ہے۔ اپنی مرضی سے دوسری شادی بھی کرسکتی ہے۔ اس قبل عورت خلع کا سوچ بھی نہی سکتی تھی۔ اگر بیوہ ہوجاتی تو بھی اسے اجازت نہ تھی کہ کسی اور مرد سے متعلق سوچے، بلکہ بعض صورتوں میں تو اسے ستی ہونا پڑتا تھا۔

رنگین لباس نہی پہن سکتی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اب تک بض قبائل میں یہ قبیح رسم چلیطآتی ہے کہ اگر کوئی عورت بیس بائیس برس کی عمر میں بھی بیوہ ہوجائے تو اسے تمام عمر بن بیاہے گزارنی پڑتی ہے۔ یہ سماجی مسئلہ ہے اور حل طلب ہے۔ جائیداد کے معاملات میں بھی یہی صورت حال ہے کہ جہیز تو دیدیا جاتا ہے لیکن اس کو جائیداد سے محروم رکھا جاتا ہے۔ تعلیم سے محروم رکھنے کے پیچھے بھی یہی بات کارفرما ہے کہ عورت کو کمزور رکھنا ہے۔ پڑھ لکھ کے خوامخواہ سوال و جواب کرنے پر اتر آئے گی۔

عورت مارچ کے اثرات کیا پڑنے ہیں؟ اس ملک کی اکثریتی آبادی دیہات سے ہے۔ قیام پاکستان کے وقت خواندگی کی شرح 12 فیصد تھی جس میں خواتین کی شرح اس سے بھی کم ہی تھی۔ نفسیاتی رویوں اور ہندوستانی ثقافت کے باوجود آج جب شرح خواندگی 60 فیصد تک آ پہنچی ہے تو خواتین کی تعلیم کی شرح میں بہترین اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ دیہات میں جہاں پانچ آٹھ جماعتوں تک پڑھنے کی اجازت ہوتی تھی آج وہاں سے یونیورسٹیز کی شٹل سروس پہنچ چکی ہے۔

شہروں کی آبادی میں بے ہنگم اضافے کے پیچھے بھی ہجرت برائے تعلیم ہی کارفرما ہے۔ ایسے میں جب ملک کے بڑے شہروں سے ایک طبقہ اس قسم کے نعرے بلند کرے جو نا صرف اس خطے کی ثقافت بلکہ مذہبی طور پر بھی قابل قبول نہ ہوں تو ہونا کچھ بھی نہی۔ اس مراعت یافتہ ایلیٹ کلاس کے لائف سٹائل ہر کوئی فرق نہی پڑنا۔ بس اتنا ہوگا کہ پھر کوئی باپ اس خوف سے اپنی بیٹی کو یونیورسٹی جانے سے روک دیگا کہ کہیں اس کی بیٹی جس کے لیے اس نے سماج سے بغاوت کرکے، گھر بار چھوڑ کے، شہر کی طرف کوچ کیا اور اسے اعلی تعلیم کی اجازت دی، اسے یہ سمجھانے نہ بیٹھ جائے کہ بیٹھنا کیسے ہے؟

جس بیٹی کے لیے وہ محدود وسائل کے باوجود بہت کچھ برادشت کررہا ہے، وہ یہ نہ کہدے کہ دوپٹا اپنی آنکھوں پہ باندھ لو۔ جس قدر بھی ترقی کرلیں، دوپٹہ اس ثقافت کا حصہ بھی ہے اور یہاں بسنے والوں کی مذہبی تعلیمات کا بھی۔ اتنا سوچ لیں کہ ایسے کسی نعرے سے ایک لٹکی کے مستقبل پر خطرے کے بادل چھائے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔

چار چھ انچ لباس کی کمی بیشی سے ہٹ کر اگر تیزاب گردی کی بات کی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ خواتین کی معاشی مضبوطی اور سماجی مقام کی بات ہونی چاہیے۔ قانون سازی میں خواتین کی ایفیکٹو نمائندگی کی بات ہونی چاہیے۔ اسمبلی میں پارٹی ورکرز کو نوازنے کی بجائے پروفیشنل خواتین کو نمائندگی ملنی چاہیے تاکہ محض کورم پورا نہ ہو بلکہ قانون سازی میں کردار ادا کرسکیں۔

جو لوگ آج بھی خواتین کو دباکر رکھنا چاہتے ہیں تو وہ جان لیں کہ اب یہ ممکن نہی رہا۔ اب عوام مین اتنا شعور آرہا ہے کہ نا تو کوئی سیاستدان اور نہ ہی کوئی سماجی و معاشی ہوس حرص مذہب کو استعمال کرکے خواتین کو جبر تلے دباکے نہی رکھ سکتا۔ اسلام کی خواتین سے متعلق واضح تعلیمات ہیں۔ زندگی، معیشت و معاشرت میں خواتین کو ویسے ہیں حقوق حاصل ہیں جیسے مردوں کو۔ عورت کو آزادی نہی بلکہ حقوق چاہیے ہیں۔ معاشروں میں بے ہمنگم آزادی نہ تو مرد کو مل سکتی ہے نہ عورت کو۔

معاشرہ نام ہی کچھ خاص قسم کی پابندیوں کا ہے جو اس کی اکائیوں پر عائد ہوتی ہیں۔ فلاحی معاشروں میں ان پابندیوں میں توازن ہوتا ہے۔ در حقیقت حقوق و فرائض کا ایک نظام ہے جس سے سینس آف اٹیچمنٹ بڑھتا ہے۔ باپ اور بیٹی کا رشتہ، بھائی بہن کا رشتہ، ماں بیٹے کا رشتہ اور میاں بیوی کا رشتہ، ان سب میں ایک توازن ہوتا ہے۔ زندگی کو اسی توازن سے حسن اور راحت ملتی ہے۔ اسلام نے تو میاں بیوی کے رشتے کو عائلی زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے کہ اس مین دوطرفہ محبت اور احاس ذمہ داری ہوگا تو معاشرے کو دوام میسر ہوگا۔

اگر اسی میں کسی قسم کا ہیجان ہوتو معاشرے نفسیاتی الجھاؤ کا شکار ہوکر انتہا پسندی کی طرف چل نکلتا ہے۔ اسی انتہا پسندی سے وہ سوچ جنم لیتی ہے جو کہیں تو عورت کو غلام بنانے کا اعلان کرتی ہے تو کہیں اس بات کا اعلان سننے کو ملتا ہے کہ اپنا بستر خود گرم کرلو۔ دونوں انتہائیں بربادی کی طرف جاتی ہیں۔ اب فیصلہ خود کرلیں کہ بے مہار آزادی چاہیے ہے کہ کامیاب اور پرسکون معاشرتی زندگی۔ فریقین اپنی سمتوں کا تعین کرنے میں البتہ کسی قدر آزاد ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •