گلشن زہرا کے پھولوں کو سلام

حسین ایک استعارہ ہے استعماری قوتوں کے خلاف جہاد کا۔ حسین ایک روشن مینارہ ہے ظلمت کدوں کے لاچار و بے کسوں کے لئے۔ حسین طاغوتی طاقتوں کے سامنے خم ٹھونک کے کھڑے ہونے کا نام ہے۔ کیسا شہزادہ تھا کہ سرور کونین کے کندھوں کا شہسوار، وہ جس کی غلامی کا پروانہ ملنے پر…

Read more

اسلام کی عالمگیریت اور ہماری تنگ نظری

”اسلام ایک مکمل ضابطہء حیات ہے“ یہ جملہ بچپن سے کتابوں میں پڑھتے اور بزرگوں سے سنتے آئے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس بات کو نصاب تک ہی محدود رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی کہ عوام الناس کو ایک نعرہ مستانہ دے دیا جائے جسے جب جب جب دل چاہا استعمال کرکے…

Read more

سیکولرازم مذہب بیزاری کا نام ہے…ڈاکٹر غزالہ قاضی صاحبہ کے جواب میں

جس طرح پاکستان میں لفظ ”سیکولرازم“ کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں جاتی ہیں یا پیدا کی گئی ہیں، اسلام کو بحیثیت ایک دین جاننے یا سمجھنے میں بھی اسی طرح کوتاہی برتی گئی۔ سیکولرازم کی تنقیص یا تنقید پر مقامی طور پر جو لکھا یا کہا جاتا ہے وہ مقامی لوگ جو سیکولرازم…

Read more

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

زندگی بے رنگ ہے، ہم اسے جذبات کے رنگوں سے رنگتے ہیں۔ واقعات بے معنی ہوتے ہیں، ہم انہیں معنی و مفہوم سے آراستہ کرتے ہیں۔ جیت کیا ہے، ہار کیا اس کا انحصار اس بات ہر ہے کہ ہم اسے کیسے دیکھ رہے ہیں۔ ایک ہی موقع خوشی اور غم، ہار جیت، پیار اور…

Read more

کون سیاہی گھول رہا تھا وقت کے بہتے دریا میں

خون ہی خون ہے چار چوفیرے۔ اکیسویں صدی کا سورج سرخ رنگ لیے طلوع ہوا۔ غروب ہوتے ہوتے جانے کیا کیا رنگ دکھائے گا۔ نیویارک سے اٹھنے والے دھنویں کے بادل ایشیا کی سرزمینوں پر خون برسا چکے۔ گرج و چمک اگرچہ کچھ کم ہوئی ہے لیکن ارتکاز اتنا ہوچکا کہ اب گرنے والی دو…

Read more

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے

بہت شور مچا ہوا ہے کہ ہماری معیشت تنزلی کا شکار ہے۔ برباد ہوجائیں گے، دیوالیہ نکل جائے گا۔ ڈالر مہنگا ہوگیا، سونا نایاب یوگیا۔ بازار سنسان، کاروبار میں مندی کا رجحان۔ افراط زر کی شرح بلند ہوگئی۔ یقینا معاملات ایسے ہی ہیں۔ یہ سب ایکا ایکی نہی ہوا۔ دہائیاں لگی ہیں اس سب میں۔…

Read more

زندہ جلانے پر مستعد شوہر اور بے نیاز تھانیدار

اخبار میں خبر لگی کہ ملتان میں دیور کے ہاتھوں سونیا بی بی جھلس کے جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ ایس ہی خبریں اکثر و بیشتر سننے کو ملتی ہیں۔ کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ کچن میں سلنڈر پھٹ جاتا ہے جس میں بدقسمت گھر کی بہو جل جاتی ہے اور کسی کو…

Read more

اسلام امن اور محبت کا دین ہے

اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔ ظلم کی سیاہ تاریک رات میں ایک سنہری روشن ستارہ ہے جس کی نورافشانی سے بھولے بھٹکے راہیوں کو منزل کی نوید ملتی ہے۔ کمزور و ناتواں کی دادرسی اسلام کا پیغام ہے اور ٹھکرائے گئے یا روند دیے گئے غلاموں کو سیدی بلال و زید کا شرف…

Read more

عورت کو بے مہار آذادی نہی اس کے حقوق چاہیے

عورت کو آزاد کروانے کے لیے عورت مارچ ہوا۔ کیسا ہوا، یہ ہم سب کو معلوم ہے۔ اس کے اثرات معاشرے پر کیا مرتب ہوں گے، بحث طلب ہے۔ بات کا آغاز وہیں سے ہونا چاہیے جہاں سے آوازیں اٹھیں، صحیح غلط کا فیصلہ سماج کی نفسیات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ عورت کے حقوق طے شدہ ہیں، ملتے ہیں یا نہی، اس پر بات ہونی چاہیے۔ ملتے ہیں تو اچھی بات۔ نہی مل رہے تو اس کے محرکات کیا ہیں؟ آیا کہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے، معاشی یا معاشرتی ہے یا کہ مذہبی؟ کیا بات مردوں کو روکتی ہے کہ وہ جس عورت کے وجود سے وجود پاتے ہیں، اور جس عورت سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں اس کے احساسات کی جمالیاتی حساسیت سے نظریں چراتے ہیں۔

Read more

ایٹمی قوتیں جنگوں کی متحمل نہی ہوسکتیں

جمعۃ المبارک 22 فروری کی سہ پہر ڈی جی آیی ایس پی آر آصف غفور صاحب نے میڈیا بریفنگ دی۔ قومی و بین الاقوامی صحافیوں کے جھرمٹ میں یہ ایک بہترین کانفرینس تھی۔ اپنی بات اور ریاست کی حکمت عملی سے آگاہ کرنے کے بعد سوال و جواب کی نشست لگی۔ ایک صاحب نے پوچھا کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے قومی سلامتی کے اجلاس میں افواج کے سربراہان کو جو جنگی اختیارات تفویض کیے ہیں ان میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت بھی دی ہے تو ایک بہترین جواب تھا جو ایک ذمہ دار مہذب قوم کی ترجمانی کر رہا تھا۔

ڈی جی صاحب نے فرمایا کہ آپ کا سوال ہی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ بلکہ ان کے الفاظ اس سے بھی قدرے سخت تھے۔ کئی بار انہوں نے اس سوال کو دیوانگی آمیز سوال کہا۔ جواب کیا تھا وہ لائق تحسین ہے۔ ”ایٹمی اسلحہ جنگوں کے لیے نہی ہوتا۔ یہ سیاسی ڈیٹیرینس ہوتی ہے جو اقوام کو جنگ کرنے سے روکتی ہے۔ مہذب اقوام جنگ کرنے کا سوچ بھی نہی سکتیں، اور ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال تو جنگی پلان کا حصہ ہی نہی ہوتا۔ رہی بات وزیراعظم صاحب کی اجازت کی تو انہوں نے جنگ کرنے کی اجازت نہی دی کیونکہ ان کے نزدیک جنگ کا آغاز ہمارے بس میں ہوتا ہے، انجام کا کسی کے پاس کوئی حل نہی۔ انہوں نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اگر اس پار سے جنگ شروع کی جائے تو اس کا جواب دینا ہے۔ “

Read more