اسلام امن اور محبت کا دین ہے

اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔ ظلم کی سیاہ تاریک رات میں ایک سنہری روشن ستارہ ہے جس کی نورافشانی سے بھولے بھٹکے راہیوں کو منزل کی نوید ملتی ہے۔ کمزور و ناتواں کی دادرسی اسلام کا پیغام ہے اور ٹھکرائے گئے یا روند دیے گئے غلاموں کو سیدی بلال و زید کا شرف…

Read more

عورت کو بے مہار آذادی نہی اس کے حقوق چاہیے

عورت کو آزاد کروانے کے لیے عورت مارچ ہوا۔ کیسا ہوا، یہ ہم سب کو معلوم ہے۔ اس کے اثرات معاشرے پر کیا مرتب ہوں گے، بحث طلب ہے۔ بات کا آغاز وہیں سے ہونا چاہیے جہاں سے آوازیں اٹھیں، صحیح غلط کا فیصلہ سماج کی نفسیات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ عورت کے حقوق طے شدہ ہیں، ملتے ہیں یا نہی، اس پر بات ہونی چاہیے۔ ملتے ہیں تو اچھی بات۔ نہی مل رہے تو اس کے محرکات کیا ہیں؟ آیا کہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے، معاشی یا معاشرتی ہے یا کہ مذہبی؟ کیا بات مردوں کو روکتی ہے کہ وہ جس عورت کے وجود سے وجود پاتے ہیں، اور جس عورت سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں اس کے احساسات کی جمالیاتی حساسیت سے نظریں چراتے ہیں۔

Read more

ایٹمی قوتیں جنگوں کی متحمل نہی ہوسکتیں

جمعۃ المبارک 22 فروری کی سہ پہر ڈی جی آیی ایس پی آر آصف غفور صاحب نے میڈیا بریفنگ دی۔ قومی و بین الاقوامی صحافیوں کے جھرمٹ میں یہ ایک بہترین کانفرینس تھی۔ اپنی بات اور ریاست کی حکمت عملی سے آگاہ کرنے کے بعد سوال و جواب کی نشست لگی۔ ایک صاحب نے پوچھا کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے قومی سلامتی کے اجلاس میں افواج کے سربراہان کو جو جنگی اختیارات تفویض کیے ہیں ان میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت بھی دی ہے تو ایک بہترین جواب تھا جو ایک ذمہ دار مہذب قوم کی ترجمانی کر رہا تھا۔

ڈی جی صاحب نے فرمایا کہ آپ کا سوال ہی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ بلکہ ان کے الفاظ اس سے بھی قدرے سخت تھے۔ کئی بار انہوں نے اس سوال کو دیوانگی آمیز سوال کہا۔ جواب کیا تھا وہ لائق تحسین ہے۔ ”ایٹمی اسلحہ جنگوں کے لیے نہی ہوتا۔ یہ سیاسی ڈیٹیرینس ہوتی ہے جو اقوام کو جنگ کرنے سے روکتی ہے۔ مہذب اقوام جنگ کرنے کا سوچ بھی نہی سکتیں، اور ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال تو جنگی پلان کا حصہ ہی نہی ہوتا۔ رہی بات وزیراعظم صاحب کی اجازت کی تو انہوں نے جنگ کرنے کی اجازت نہی دی کیونکہ ان کے نزدیک جنگ کا آغاز ہمارے بس میں ہوتا ہے، انجام کا کسی کے پاس کوئی حل نہی۔ انہوں نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اگر اس پار سے جنگ شروع کی جائے تو اس کا جواب دینا ہے۔ “

Read more

ادب، ادیب اور معاشرتی رویے

ادیب کی حیثیت کسی بھی معاشرے کے لیے ارتھ ورم کی سی ہے۔ عجیب سی بات نہی ہو گئی کہ اچھے بھلے سمجھدار لوگوں کو ایک کیڑے سے مشابہت۔ اس کے لیے ارتھ ورم یعنی کیچوے کا تعارف ضروری ہے۔ کیچوا ایک کسان دوست کیڑا ہے جو زمین کی زرخیزی میں کئی طرح سے اضافہ…

Read more

جدت کی بدعت یا قدامت پہ ندامت

بندے کو فقیر ہونے کا گماں ہے نہ ہی امارت کا زعم، بس ہنگام شب و روز میں زندگی گزر رہی ہے بلکہ دوڑ رہی کہ کہیں ذرا سی بے ہنگمی کے باعث کچلی نہ جائے۔ ویسے فقیری کا لقب ادیب لوگوں کی کسر نفسی کی مرہون منت ہی زندہ ہے وگرنہ اس جہان آب…

Read more

یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے

یِہی فرماتے رہے تِیغ سے پھیلا اِسلام یہ نہ ارشاد ھوا توپ سے کیا پھیلا ہے (اکبر الہ آبادی) اکبر (حسین رضوی) الہ آبادی پرانے دور کے آدمی تھے۔ زندگی کے آخری ایام جنگ عظیم اول کی توپوں کی گھن گرج میں گذرے تو دل کے پھپھولے توڑنے کو لبرل، مہذب اقوام کی ترقی کی…

Read more

اقتدار کی جلدی میں جیالوں کو نہ اکسائیے صاحب۔ احتساب ہولینے دیجیے

پاکستان تحریک انصاف سندھ کی لیڈرشپ گرم کھانے کے چکر میں کہیں منہ نہ جلوا بیٹھے۔ اوپر سے آلو کا جلا تالو لمبے عرصے تک احساس دلاتا ہے ہے کہ وقت سے پہلے اور اوقات سے زیادہ کی حرص و ہوس ہمیشہ رسوائی کا سبب بنتی ہے۔ ویسے بھی ایک رکابی سالن کے لیے پوری دیگ خراب کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ تھوڑا حوصلہ رکھیں، کارکردگی دکھائیں، وزیراعظم صاحب کو اپنے منشور پر عملدرآمد کروالینے دیں ہھر آپ کا وقت بھی آجائے گا۔ ویسے بھی تقریباً سبھی نظریاتی لوگوں کو کسی نہ کسی صورت وزارت مشارت مل ہی چکی ہے۔ جو دو چار رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ ٹھنڈا کرکے کھائیں۔

پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جن سے بچنا محال ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب سندھ کے غریب عوام کی فکر زردار بھٹووں کو ستانے لگی ہے۔

Read more

میڈم آمنہ ریاض: طالب علموں کے لیے ایک روشن مینارہ

جامعہ بہاو الدین زکریا کے الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹ منٹ کی ہر دل عزیز شخصیت، جن کے چہرے پہ پھیلی مسکان، بھول پن اور معصومیت کے سحر سے کسی طالب علم کو راہ فرار نہیں، وہ میڈم آمنہ ریاض ہیں۔ اسائن منٹس، کوئز پروگرام اور سیشنل مارکس کی مار دھاڑ سے قطع نظر، آپ تشنگان علم کی انتہائی شفقت و منکسر المزاجی سے راہنمائی فرماتی ہیں۔ شاذ و نادر ہی ایسا ہوا ہو گا، کہ آپ لیکچر کے اوقات پر نہ پہنچ پائی ہوں؛ وگرنہ ایسی ایسی صورت احوال کا سامنا بھی کیا، کہ جب ان کی وہیل چئیر کو اسپورٹ کرنے والی فیملی کی کوئی خاتون ہم راہ نہ ہوتی، تو خود ہی اپنے قلم چلانے والے ہاتھوں کو مشقت دیتے ہوئے تشریف لے آتیں۔

قدرت نے اس قدر روشن چہرہ بنا کر ٹانگیں کم زور کر دیں۔ وہ مالک ہے، ہر کام پہ قادر ہے۔ اس نے جو بہتر سمجھا کیا؛ لیکن شخصیت میں اعتماد، متانت غم گساری، خیر خواہی و رحم دلی کی صفات بدرجہ اَتم موجود ہیں۔

Read more

آئی ایم ایف سے بے نامی اکاؤنٹس تک

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جولائی انیس صد چوالیس میں تمام چوالیس اتحادی ممالک کے وفود کی موجودگی میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جسے بریٹن ووڈ کانفرنس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب براہ راست سامراجیت کے خاتمے کی تحریکیں ایشیا سے لاطینی امریکہ اور افریقی ممالک تک پھیل…

Read more

ریاست اگر چاہے تو

کیسا دلفریب جھانسا ہے جو اشرافیہ سات دہائیوں سے مفلوک الحال لوگوں کو دیے ہوئے ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ سڑک کنارے سونے والے لوگ بے گھر ہوں، بلکہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو جھوٹے شہروں اور دیہاتوں سے اس آس پر نکلے تھے کہ بوڑھے والدین کی آنکھوں کا نور، اور معصوم بچوں کی آشائیں لے کر لوٹیں گے۔ کسی نے بہن کا جہیز جوڑنے کا ذمہ لیا تو کوئی ماں کے گروی رکھے گہنوں کی ضمانت کروانے نکلا ہے۔ ذمہ داریوں کے احساس نے کرائے کے مکان تک لینے سے باز رکھا اور گاؤں کے الہڑ جوان، جن کے بانکپن سے ہوائیں اٹھکلیاں کرتی تھیں، بڑے بڑے شہروں کی تنگدلی ان کو سایہ تک فراہم کرنے سے قاصر رہی۔

Read more