طالبان نے ملا عمر کے خفیہ ٹھکانے کی تصاویر جاری کر دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 95
  •  

افغان طالبان نے پیر کو رات گئے ملا عمر کے اس خفیہ ٹھکانے کی تصاویر جاری کر دیں، جہاں طالبان کے اس رہنما نے مبینہ طور پر اپنی زندگی کے آخری سات برس اور پانچ ماہ گزارے تھے۔ طالبان کے مطابق یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ملا عمر سن دو ہزار تیرہ میں اپنے انتقال تک اسی خفیہ ٹھکانے میں مقیم رہے، جو مبینہ طور پر افغانستان میں تھا۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق ملا عمر گلاب کے پھولوں والے صحن میں دھوپ میں لیٹتے تھے۔

اتوار دس مارچ کو امریکا کے زومیا سینٹر نامی تھنک ٹینک نے ڈچ خاتون صحافی بیٹے ڈیم کی تحقیقات پر مبنی دستاویزات شائع کی تھیں، جن کے مطابق طالبان کے رہنما ملا عمر ایک عرصے تک افغانستان میں ایک امریکی فوجی اڈے کے انتہائی قریب رہائش پذیر رہے تھے۔

بیٹے ڈیم کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’سرچنگ فار این اینیمی‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملا عمر سن دو ہزار تیرہ میں اپنی وفات سے پہلے تک دراصل افغانستان میں اپنے آبائی صوبے زابل میں امریکا کے ایک اہم فوجی اڈے سے صرف تین میل کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے۔ اس کتاب کے مطابق وہ تقریباﹰ خفیہ زندگی گزار رہے تھے اور اپنے اہل خانہ سے بھی نہیں ملتے تھے۔ وہ اس دوران اپنی یادداشتیں بھی تحریر کرتے رہے تھے۔

اس ڈچ خاتون صحافی نے اپنی نئی کتاب کے لیے تقریباً پانچ برس تک تحقیق کی اور انہوں نے جبار عمری کا انٹرویو بھی کیا۔ جبار عمری ملا عمر کے محافظ تھے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد انہی کے ساتھ رہے تھے۔

اس کتاب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ملا عمر بی بی سی پشتو کی شام کی سروس لازمی سنا کرتے تھے جبکہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی خبر سن کر بھی انہوں نے بیرونی دنیا کو کوئی پیغام دینا مناسب نہیں سمجھا تھا۔

ڈیم مزید لکھتی ہیں کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکی حکومت نے ملا عمر کے سر کی قیمت دس ملین ڈالر رکھ دی تھی جبکہ وہ اس وقت افغان علاقے قلات میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں چھپے ہوئے تھے۔ جس گھر میں ملا عمر کی رہائش تھی، اس گھر میں رہنے والی فیملی کو بھی اس ’پراسرار مہمان‘ کی شناخت کا علم نہیں تھا۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں سختی سے ایسے دعووں کی تردید کی گئی ہے کہ ملا عمر افغانستان میں قیام پذیر تھے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے، ”ہمارے پاس ایسے کافی شواہد ہیں کہ وہ پاکستان میں رہے اور وہیں ان کا انتقال بھی ہوا۔ “
بشکریہ ڈوئچے ویلے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 95
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں