ہے اپنا دل تو آوارہ۔ نجانے کس پہ آئے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 129
  •  

ہائے سچی بات اتنی سی ہے کہ اس ظالم دل کو کسی پہ نہیں، مجھ پہ صرف مجھ پہ آنا چاہیے۔ ”چور مچائے شور“ یہ سب چور اسی لئے شور مچا رہے ہیں کہ یہ دل کا معاملہ ہے۔ صدیوں محنت کے بعد جس کوغلا م بنا کر، آپس میں لڑا کرکے، ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کر کے، ان عورتوں کو ایک دوسرے سے دورکر دیا۔ جبکہ سب نے بچپن میں پڑھا ہوا ہے ”اتقاق میں برکت ہے“ مگر اب یہ عورتوں کے اتفاق میں اتنی بے برکتی کیو ں دکھائی دے رہی ہے؟

کس بات کا خوف ہے؟ جس کھلاڑی کوآج ہم نے وزیر اعظم بنایا ہے۔ یہ الزام تو اس کے سیاسی جلسو ں پہ بھی تھا۔ اب اتنے ماہ کتنے ایسے میلے دیکھ لئے آپ نے؟

زلزلے صرف چند سیکنڈ کے ہوتے ہیں مگر جغرافیہ اور بعض دفعہ تاریخ بھی بدل دیتے ہیں۔ پھروقت کے ساتھ ساتھ زندگی نارمل حالات میں لو ٹ آتی ہے۔ سو یہ ایک کامیاب زلزلہ ہے۔ جس نے آپ کا ذہنی جغرافیہ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یونہی یہ تاریخ رقم کر نے میں بھی کامیاب ہو جائے گا۔

جب ظلم انتہا سے بڑھ جاتا ہے تو یہ سب ہو جاتا ہے۔ اس میں این جی او کی آنٹیوں کو گالی دینے سے کیا ملے گا۔ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتیں اگر بنیاد مو جو د نا ہو۔ اور اگر آپ کی نظر اتنی دور اندیش ہے تو، کہا ں ہیں آپ کے پالیسی میکر اور دانش ور کہ ان کو یہ علم نہیں ہو رہا کہ کچھ این جی او آپ کی سر زمین پہ صحت، تعلیم اور اس طرح کے مثبت مسائل پہ مخلیصانہ کام کر رہی ہیں۔ مگر اس کی مد میں آپ کے اعداد و شمار کسی عالمی جنگ کی افرادی قوت کا راز لے اڑے ہیں۔

صاحب جذبات کی بنیاد پہ کھوکھلی باتیں کو ئی بھی کر سکتا ہے۔ جیسے ابھی ہو رہی ہیں۔ یہ آپ کاغصہ ہے۔ کہ آپ بے لباس ہو گئے ہیں۔ ”ڈک کی پک اپنے پا س رکھو“ شرم کا مقام ہے۔ یہ مردانگی نہیں ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو اگلے مارچ میں آپ کے نام کے ساتھ ان تصاویر کی ایک نمائش کی جا سکتی ہے۔ پہلے آپ جب عورت کے ساتھ یہ برہنگی کرتے تھے تووہ ڈر جاتی تھی۔ اب وہ سمجھ گئی ہے یہ کوئی مزائل نہیں ہے، جس کو آپ جب چاہیں جہا ں چاہیں چلا دیں گے۔ آپ کو غصہ یہ ہے کہ آپ کا راز نہیں کھلنا چاہیے۔

”میرا جسم میری مرضی ِِ

جی جی آپ یہ بھی بس اپنی سوچ کی اعلی پرواز کے مطابق سمجھ رہے ہیں کہ عورت جسم کی آزادی چاہتی ہے۔ نہیں صاحب وہ کہہ رہی ہے۔ کہ مجھے یہ سب ہر وقت اور ہر کسی کے ساتھ نہیں کر نا۔ مگر آپ چاہ رہے ہیں کہ آپ کے گھر کی عورت کے علاوہ سب عورتیں آزاد ہو جائیں۔

وہ کہہ رہی ہے، میرا جسم ہے مارنے سے اور پرتشدد پیار سے دکھتا ہے۔ وہ کہہ رہی ہے اپنا رویہ بدلیں مگر آپ کسی طنز کو نہیں سمجھ رہے۔ آپ چاہ رہے ہیں ’میراجسم میری مرضی، کے مطابق آپ مد ہو ش ہو جائیں۔ کیا آپ بھول رہے ہیں کہ عورت کو ایک دوسرے کا دشمن بنا کر آپ نے سب سے پہلا کا م یہی کیا ہے کہ اس کو چھپے چھپے بتایا ہے کہ دیکھو یہ تمہارا جسم ہے۔ اس پہ تمہارا حق ہے۔ زندگی کو انجوائے کرنا تمہارا بھی حق ہے۔ اور اس کے لئے میں حاضر ہو ں۔ خوب ہنسئے صاحب۔

آج سے کو ئی پندرہ سال پہلے کی بات ہے۔ ایک تحقیق کے سلسلے میں مجھے ایک این جی او جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک کتاب چاہیے تھی جو وہاں کی لائبریری میں موجود تھی اور کہیں دستیاب نہیں تھی۔ وہا ں ادارے کی ذاتی میٹنگ چل رہی تھی۔ جس میں مجھے بھی بیٹھنے کا اتقاق ہو ا۔ ایک مرد دوسرے کو کہہ رہا تھا ”اگر ہمیں آزاد ہو نا ہے تو پہلے عورت کو آزاد کر نا ہو ا“ لیجیے جواب دیجئے۔ مردانہ شطرنج کہا ں کی کہانی کہا ں تک آئی۔ اس کو پلاننگ کہتے ہیں۔ اس وقت اتنی این جی اوز عورت کے حقوق کے لئے کام نہیں کر رہیں تھیں۔

ہمیں روتی پیٹتی عورت کی اتنی عادت ہو گئی ہے کہ ہم اب ہنستی عورت کوفحش سمجھتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اتنی عورتیں اکٹھی دیکھ کر جو آگ سینو ں میں لگی ہے۔ اب اس پہ خاک کو ن ڈالے۔ اب اگر ان میں اتحاد ہو گیا تو عورت کو متاثر کیسے کریں گے آپ؟ کیونکہ آپ نے تو متاثرین عورتوں کی فہرست بنانی ہوتی ہے تاکہ ”دونو ں قسم کی ریٹائرمنٹ“ کے بعد آپ کا بڑھاپا کم از کم ”یادوں کی بارات“ میں گزرے۔

صاحب ویسے سوچئے جس عورت کوگا لی پسند نہیں جب آپ اس کے سامنے کوئی گندی گالی دیتے ہیں اس بے چاری پہ کیا گزرتی ہو گی۔ جی جی آپ ذہین ہیں۔ یہی گزرتی ہے جو اس وقت آپ پہ گزر رہی ہے۔ ابھی گا لی نہیں دی۔ ابھی صرف آپ کا مکالمہ بے لباس ہو اہے۔

جتنی پیاری پیاری خواتین بہار کے سنگ ہم رقص ہو ئی ہیں۔ اس سے زیادہ تو شرفاء کے خاندانو ں میں بھائیو ں کی شادیو ں پہ بہنیں بیٹیاں خوش ہو لیتی ہیں۔ اور وہ مووی میکر اور فوٹو گرافر بھی مرد ہی ہوتے ہیں۔

”میں بد چلن“ اب یہ کہنے کا حق تو آپ کا ہے۔ اگر عورت نے آخری ہتھیار کے طور پہ مان لیا تو اب آپ کیا کہیں گے۔ کہ آپ کو اس کو قابوکرنے کا ایک یہ بھی تو حربہ تھا۔ اب بد چلن کو مزید کیا کہیں؟ مسئلہ یہ ہے؟ اور جو کچھ تھا یا طنز تھا، یا آپ کے جملے تھے۔ کچھ غیر فطری نہیں تھا۔

یہ سب کبھی ناہو تا۔ اگر جن حقوق کی ہم بات کرتے ہیں۔ وہ حق ادا ہو گئے ہوتے۔ لیکن سچ یہ ہے مجھے اتنی ساری سہیلیو ں کو اکٹھادیکھ کر دل سے خوشی ہوئی۔ آپ نے نصف صدی پہلے اس گانے پہ رقص کیا تھا ”ہے اپنا دل تو آوارہ، نجانے کس پہ آئے گا“ مگر آپ کا خوش گمان دل اسی دن بیٹھ گیا جب آپ کی شادی پچھلی گلی کی ”پینو“ ماسی کی ”رانی“ چاچی کی ”بلّو“ سے ہو ئی۔

اس لئے دل خوش گما ن کو اب بھی سمجھائے اور اعتراف کر لیجیے، بلکہ گناہ کی معافی مانگئے کہ وہ جو آپ ہر محفل میں کہتے ہیں کہ آپ کافلا ں مشہو ر بندی سے عشق چلتا رہا۔ اورآپ ڈنگیں مارنے کے لئے چادر کی شکنیں تک کنوا دیتے ہیں۔ اور وہ بھی آپ کے عشق میں پاگل تھی۔ تو صاحب، میں بھی ایک عورت ہو نے کے ناطے بہت وثوق سے کہہ رہی ہو ں۔ وہ ”بلّو“ ہی تھی۔ جس کے وجود میں آپ اپنی چشم تصور سے کسی اور کو دیکھ کر بہتان لگاتے رہے ہیں اور آپ کے قبیل کے بے شمار ڈینگئے اب بھی اس سوسائٹی میں موجود ہیں۔ ناکام لوگو ں کی سب سے بڑی نشانی یہی ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کی کامیابی برداشت نہیں کر پاتے۔ جتنے عشق آپ سب نے مل کے اس مرنے والی سے منسوب کر دیے ہیں اس کے چہرے اور ہاتھوں پہ اس جسمانی مشقت کی تھکن نہیں تھی۔ نا ہی اتنا سکون اور خوشی اس کی آنکھو ں میں تھی۔ عورت کی تو اس کی کہانی ہو تی ہے۔

ارے آپ تو ڈر ہی گئے ہم سے۔ ”سالگرہ مبارک“ کے گیس والے غبارے ہی تو فضاؤ ں میں اڑتے پھر رہے تھے۔ اور آپ نے جنگی جہا ز اڑادیے۔ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔ کہ آپ بھی اشرف المخلوق میں سے ہیں۔

اور سنیئے

رقص رنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

تو آئیے

رقص کرتے ہیں اور گنگناتے ہیں کہ یہ ایک فطری فعل ہے۔ چیخنے چلانے سے اب کچھ رکنے والا نہیں ہے۔ ورنہ قیامت نہیں آئے گی۔

ہے اپنا دل تو آوارہ۔

نجانے کس پہ آئے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 129
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں