بابل کی گلیاں
ہزاروں بار سنا کہ لڑکیاں بابل کے آنگن کی چڑیاں، بکریاں بلکہ میکے کی گیا بھی ہوتی ہیں۔ اور بھی نجانے کیا کچھ ہوتی ہے جو ساری زندگی اپنے میکے کو یاد کرکر کے تڑپتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں بیسیوں فلمیں، ڈرامے، ناول و افسانے موجود ہیں جن کو پڑھ پڑھ کے قاری دھاروں دھار روتے ہیں۔ اللہ جانے وہ کون سی لڑکیاں ہوتی ہیں، ہم تو اپنے میکے میں کنگ فو تھے، مولاجٹ تھے یا پھر آئرن گرل لڑکیوں والے نرم گرم احساسات ہم میں کبھی پروڈیوس ہوئے ہی نہیں۔ کئی بار خود کو ٹٹولا کہ ہم بھی کہیں سے کچھ محسوسات برآمد کریں کچھ اچھا سا لکھیں جسے پڑھنے والے پھڑک پھڑک جائیں آنکھوں سے گریہ اور منہ سے آہیں برآمد ہوں۔
اکثر ہماری دائیں ہتھیلی میں خارش ہوتی ہے اور جب تلک ہم کچھ لکھ نہ ڈالیں یہ ہمارا جینا حرام کرتی رہتی ہے۔
لہذا کاغذ قلم سنبھالا اور لگے ذہن کو کھرچنے سب سے پہلے ماں کا پیار یاد کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ کیا ہمیں تو پیار سے زیادہ ماں کی مار یاد آنے لگی۔ لوگوں کی ماں پیار سے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہیں گود میں لٹا کے لوری سناتی ہیں اور بچے چاہے جس عمر کے بھی ہوں سکون سے سو جاتے ہیں۔ ہمارا تو حال ہی عجب تھا امی سے اپنا سر چھپاتے پھرتے کہ جہاں ان کی نظر ہمارے سر پہ پڑتی جھپٹ کے پکڑتیں اور گھٹنوں میں دبا لیتیں۔
ساتھ ہی کمر پہ دوچار دھموکے جڑ کے کہتیں کمبخت سر دکھا اپنا، جوئیں نہ بھر گئی ہوں کیسے ستلی جیسے سخت اور روکھے بال ہورہے ہیں۔ بس پھر ہم ہوتے اور ہماری شامت اعمال، پہلے رگڑ رگڑ کے ملتانی مٹی سے سر دھلایا جاتا پھر کنگھی سے جوؤں اور لیکھوں کا خاتمہ ہوتا پھر ایک پاؤ ناریل کا تیل ڈال کے دو چوٹیاں کس کس کے باندھی جاتیں جس سے ہمارے کان خرگوش کے کانوں کی طرح کھڑے ہوجاتے اور چوڑا ماتھا کچھ اور نمایاں ہوکے موٹر وے کا منظر پیش کرتا اور ہم تیل میں بسے بال اور آنکھوں میں آنسو لئے سو جاتے۔
یہ تو تھا امی کی محبت کا افسانہ اب باقی کا بھی سن لیں۔ ہمارے ابا کاروباری آدمی تھے لہذا مصروف رہا کرتے نہایت دوست نواز آدمی تھے لہذا چھٹی کا دن دوستوں کے ساتھ گزارتے۔ اپنے بچوں کے نام بھی اکثر بھول جاتے، نہ ان کے پاس سائیکل تھی نہ اتنا وقت کہ ہمیں سائیکل پہ بٹھا کے یا انگلی پکڑ کے اسکول چھوڑنے جاتے، وہ ہر صبح بڑی شان سے اپنی موٹر میں سوار ہوکے کام پہ روانہ ہوتے تھے ہم تو خود اسکول جانے کے لئے بے تاب رہا کرتے کہ وہاں کم از کم امی نہیں ہوتیں تھیں اور ٹیچربھی نہ تو اتنی ظالم ہوتی تھی نہ ہی انھیں ہمارے سر سے کوئی سروکار ہوتا تھا لہذا اسکول ہمارے لئے دافع بلا تھا۔
وہاں ریاضی کے پیریڈ کے علاوہ مورخ ہمارے لئے چین ہی چین لکھتا تھا۔ فارغ وقت میں ابو جی شاعری کرتے مشاعرے برپا کرتے جس میں گھر کے چھوٹے بچے ہونے کے سبب ہمیں سارے انکلوں کو جو اس وقت چچا جان ہوتے تھے کو پانی پیش کرنا، کنڈی کھولنا، چائے کے لئے فرشی دسترخوان لگانا اور اٹھانا پڑتا تھا اور وہ سارے چچا ہماری تربیت پہ ہمہ وقت کمر بستہ رہا کرتے ای منی پیر مت ہلاؤ، سیدھی ہو کے بیٹھو، گڑیا آہستہ ہنسو آہستہ بولو، ارے بھئی پہلے ہاتھ دھو کے آو پھر کھانا کھانا، اور تو اور کبھی کبھار تو کان بھی اینٹھ دیا کرتے تھے اب ان یادوں کو ہم کیسے یاد کرسکتے ہیں۔
باقی بچے بہن بھائی تو ان سے ہمارا اینٹ اور کتے والا بیر تھا، اور بیر بھلا کیسے نہ ہوتا سب ہمیں چھوٹا سمجھ کے دبانا چاہتے تھے جبکہ ہم میں قدرت نے وہ لچک رکھی ہی نہیں تھی۔ لہذا ہمیں دین اسلام کی مانند جتنا دبایا جاتا ہم اتنا ہی ابھرتے گئے اور ابھرتے تو جسم پہ گومڑے بھی تھے جو دن رات معرکوں کے نتیجے میں کبھی ہمارے سر تو کبھی کہیں ابھر آتے۔
ہمارے بھائی اپنی چھوٹی بہن پہ فدا ہونے کی بجائے ہمارے طرح طرح کے نام رکھتے، جن میں کلو، چھپکلی، لنگڑی بطخ وغیرہ وغیرہ سر فہرست ہیں۔ جب ہم جھوٹ موٹ کے کھانے پکاتے تو وہ ان میں مٹی ڈال دیتے اور جب ہم کوئی چیز کچن سے چرا کے کھاتے تو وہ فورا ہماری شکایت جڑ دیتے اور نتیجتا سارے گھر کے افراد حسب توفیق ہمارے کچھ نہ کچھ جڑتے۔ خدا گواہ ہے کہ اسکول کے دس سالوں میں کبھی جو ہم پیٹ یا سر درد کا بہانا کرکے چھٹی کرسکے ہوں، سب مل کے امی کو یقین دلاتے کہ ہم مکاری کررہے ہیں ہماری طبیعت بالکل ٹھیک ہے لہذا ہمیں اسکول ضرور جانا چاہیے اور اگر کبھی چھٹی کرنے کو امی راضی ہوجاتیں تو پھر وہ ہی ہمیں دبوچ کے سر پکڑ کے بیٹھ جاتیں پھر کسی بہن کی ضرورت رہتی نہ بھائی کی، امی کا سگمنٹ شروع ہوجاتا۔ پھر ملتانی مٹی ہوتی کنگھی ہوتی، تیل مالش اور ہمارا سر۔
اب آپ ہی بتائیں اس ظالمانہ میکے کی یادوں سے تو فقط ہماری ہی آنکھیں بھر سکتی ہیں ہمارے قارئین کی ہرگز نہیں۔ ہم اتنے مثبت سوچ کے مالک ہیں کہ بھائیوں کی اس بد فطرتی کو بچپن کی شرارت سمجھ کے مسکرا لیتے اگر وہ ان پہ قائم نہ ہوتے۔ فرق بس الفاظ کا ہے بچپن میں چھپکلی کا لقب دینے والے اب ہمیں موٹی بھینس اور بارہ من کی دھوبن کہتے ہیں۔ یعنی فرق بس الفاظ کا ہے فطرت وہی کی وہی۔
کہانیوں میں بھائی بہن کو میکے لے کے جانے کے لئے لینے آتا ہے، اور پھر بہن بھائی کا ملاپ جذباتی منظر، ہمارے سارے بھائیوں کی جان نکلتی تھی ہمیں لینے جانے سے۔ وہ یہ ماننے پہ تیار ہی نہ ہوتے کہ ہم گئے ہوئے ہیں ان کا خیال ہوتا کہ ہم بس چند لمحوں کے لئے ادھر اودھر ہوگئے ہیں ابھی وہیں موجود ہوں گے، حد ہوتی ہے بے توقیری کی بھی۔
لیکن کچھ نہ کچھ لکھنا بھی تو ضرور ی ہے۔ یہی سوچ کے ہم ایک کے بعد دوسرا یادوں کا در کھولتے گئے۔
میکے میں ایک عموما ایک درخت بھی ہوتا ہے جس میں بچپن کے ساون میں جھولا ڈالا جاتا ہے اوووووو یاد آیا، ہمارے گھر میں بھی درخت تو تھا ہمیں یاد آیا مگرر وہ تو املی کا تھا اور ہم جس کے پتے کچر کچر بکری کی مانند کھا جاتے تھے اور پکڑے جانے پہ حسب معمول پٹتے، پھر بالوں کی شامت آتی، پھر ملتانی مٹی ہوتی اور ہم، تو جھولے کا بھی کوئی جذباتی سین نہیں ہے۔
دوسری چیز ساون کے،
تو یہ بتا دیں کہ ہمارے گھر میں ساون کا ایسا کوئی تردد نہیں کیا جاتا تھا۔ بلکہ ساون میں ہماری امی سارے گھر کے ردے اور چادریں لے کے صحن میں کپڑے دھونے بیٹھ جاتی تھیں۔ پتہ نہیں کون سے حکیم نے ان کو یہ بتا دیا تھا کہ بارش کے پانی سے کپڑے اچھے صاف ہوتے ہیں۔ سو امی کپڑے دھوتیں اور ہم انھیں نچوڑ نچوڑ کے پرآمدے میں پھیلاتے۔ برسات میں ہمارا گھر کسی دھوبی کے گھاٹ کا منظر پیش کرتا۔ ساون کو جب بھی یاد کروں تو ہاتھوں میں درد جاگ اٹھتا ہے۔ جب کپڑے دھو دھو کے امی تھک جاتیں تو ہمارا سر قابو کر لیتیں پھر وہی ملتانی مٹی ہوتی اور ہم۔
ایک یہ بات بھی ہے کہ لڑکیاں میکے جا کے رہنے کے لیے بڑی تڑپتی ہیں ہمارے ساتھ وہ معاملہ بھی نہ ہو سکا۔ کہ ہمارے میاں جی ہماری امی کے سگے اور چہیتے بھانجے تھے۔ جن کے حلق سے اپنی خالہ جان کے بغیر لقمہ اترنا محال تھا۔ لہذا ہم زیادہ تر میکے میں ہی پائے جاتے۔ سسرال میں رہنے کے لیے ترستے، ہزار بہانے بناتے کہ آج ہم نہیں گے امی کے گھر مگر میاں جی ہمیں بزور خطابت شرم دلاتے کہ بیٹی ہو ماں تمہارے جدائی میں نڈھال ہے اور تم جا کے حال تک نہیں پوچھتی۔
ہم پریشان ہو کے پوچھتے کون سی جدائی ہم ایک ہفتہ ہرنے کے بعد کل رات گیارہ بجے ہی تو آئے ہیں ابھی تو ہم نے دل بھر کے اپنے جہیز کا سامان بھی استعمال نہیں کیا، پلیز آج رہنے دیں آج ہم اپنے بیڈ پر سوئیں گے امی کے گھر کل چلیں گے۔ مگر مجال ہے جناب جو میاں جی کے کان پر جوں بھی رینگے اور رینگتی بھی کیسے ان کی تو پوری قوم کا صفایا ہماری والدہ ماجدہ پہلے ہی کر چکی تھیں۔ یقین مانیں ہم اینے میکے میں اس قدر ستائے گئے ہیں گویا اگر یہ کہا جائے کہ تاریک راہوں میں مارے گئے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
میکے کا ذکر آتا ہے تو ہمیں جھرجھری آنے لگتی ہے کہ وہاں آج بھی صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ ناشستہ صبح کے سات بجے اور نہ اٹھنے والے کا ناشتہ بند۔
ہمیں بچپن میں اتنا جلایا ستایا گیا ہے کہ جب ہمارے شادی ہوئی تو ہمیں اپنی ساس نندوں سے جلنے میں قطعاً کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ بلکی سچی بات کبھی کبھار تو پیار بھی آتا ہے جو کہ یقینا قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
میکے کی یادوں میں چڑیوں سے باتیں بکریوں کے ساتھ کھیلنا بھی ہوتا ہے۔ سو ہم کراچی جیسے شہر کے پروردہ ہمارے گھر میں بکری کی صرف تصویر ہی ہوتی تھی وہ بھی ڈرائنگ کی کتاب میں اور بکرا آتا تھا بقرعید کے موقع پر۔ چڑیاں، آم کا پیڑ، انگیٹھیکی راکھ، اللہ اللہ ہمارے میکے میں تو کچھ بھی ایسا نہ تھا۔ اب یاد کیا کریں گیس کا چولھا، فرگ کا پانی، گیتوں کے بجائے اشعار سنتے اور گلی میں کھیلنے کے بجائے اپنی باجی سے ٹیوشن پڑھتے، جس میں پڑھائی کم اور پٹائی زیادہ ہوتی۔
ارے ہاں، میکے سے خط بھی آتا ہے پھر اسے ہاتھ میں لے کر لڑکی پہلے آنسو بہاتی ہے اور پھر چومتی ہے اور پھر پڑھتی ہے۔
ایک بار ہماری امی نے بھی لفافہ ہمیں دیا ہم بڑے خوش ہوئے کہ بھئی ماں ہیں آخر جو کبھی کچھ زبان سے نہ کہا وہ وہ خط میں لکھ دیا ہوگا۔ فرطِ جذبات سے ہماری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ امی نے جو ہمیں روتا دیکھا تو سخت لہجے میں بولیں پہلے کھول کے تو دیکھو پھر روتی رہنا۔ ہم حیران ہوئے لفافہ کھولا تو ہماری انٹر کی مارکس شیٹ تھی جس میں ہم چار پرچوں میں فیل تھے۔ بس پھر کیا تھا ہم خوب ہی ہنسے کیونکہ جن دو پرچوں میں پاس ہوئے تھے ان میں بھی ہم نے کچھ نہ لکھا تھا۔ آج بھی ان یادوں سے ہم دہشت زدہ ہو جاتے ہیں۔
ہم آنکھیں بند کیے انکار میں سر ہلاتے ہوئے نئی جانڑاں نئی جانڑاں میں میکے نئی جانڑاں دھیرے دھیرے گنگنا رہے تھے کہ میاں جی باچھیں پھیلائے کمرے میں داخل ہوئے، ارے بھئی بیگم خوش ہو جائیے خالہ جان ایک ماہ کے لیے اسلام آباد سے ہمارے گھررہنے آ رہی ہیں۔
ہہہیییییییییییں ہماری آنکھیں دہشت سے پوری کھل گئیں بلکہ پھٹ گئیں۔
اچھا، ہم نے خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کی اور سوکھتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے پوچھا، کب اور کیوں؟
یہ کیا بات ہوئی؟ میاں جی سخت ناراض لہجے میں بولے۔ اتنی مشکل سے ہم نے خالہ جان کو آنے پر راضی کیا وہ بھی آپ کی خاطر۔
ارے بھئی واہ، ہم نے کب کہا کہ آپ ہماری والدہ کو بلائیں؟
ٹھیک ہے منہ سے نہیں کہا مگر کیا ہم دیکھ نہیں رہے کہ آپ کئی دن سے سوچوں میں گم سم رہتی ہیں، تو یقینا اپنی ماں کو ہی مس کر رہی ہوں گی۔
میاں جی نے ہم پہ بم پھوڑے، اوہ، تو گویا وہ وہ ہم لکھنے کے لیے سوچ بچار کرتے تھے وہی وار ہم پہ الٹ گیا۔
اب کیا ہو سکتا تھا۔ ہم نے ٹھنڈی آہ بھری اور بالوں میں انگلیاں چلانے لگے، بہت دنوں سے تیل کی مالش جو نہیں کی تھی، اور ابھی تو ملتانی مٹی بھی منگوانی ہے۔


