ہوئے مر کے ہم جو رسوا
ہماری پیاری بہنو اور ان کے بھائیوں آج ہم اپکو اپنا ایک واقعہ سناتے ہیں۔ حالانکہ شاعر نے تو کہا تھا کہ جو ہم پہ گزرتی ہے ستاروں سے پوچھیے، مگر ہم اپکو خود ہی بتا دیتے ہیں، پتہ نہی آپ کی سمجھ میں ستاروں کی بات آئے یا نہ آئے، چلیں تو سنیں۔
ہم اپنے چھ فٹے بیڈ پہ دراز خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے کہ اچانک ہی سانس میں رکاوٹ سی ہوئی اور گلے سے خرخر کی آواز آنے لگی، سارے جسم کی جان کھنچ کے جیسے پھیپھڑوں میں سما گئی۔ سخت تکلیف کا عالم تھا۔ گھر والے سب سوئے، بلکہ مرے پڑے تھے۔ کوئی اٹھ کے بھی نہ ایا اور ہم اکیلے ہی بستر پہ ہاتھ پاؤں پٹختے رہ گئے۔ پھر اچانک پتہ نہیں کیا ہوا کہ خود بخود ہی سکون سا آگیا۔ یوں لگا، جیسے ہم آزاد ہو گئے اور ہم نے خود کو بلندی پہ ہوا میں تیرتے دیکھا۔ مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ کہ ہم بستر پہ بھی پڑے ہیں اور ہوا میں تیر بھی رہے ہیں۔
Read more
