ہوئے مر کے ہم جو رسوا

ہماری پیاری بہنو اور ان کے بھائیوں آج ہم اپکو اپنا ایک واقعہ سناتے ہیں۔ حالانکہ شاعر نے تو کہا تھا کہ جو ہم پہ گزرتی ہے ستاروں سے پوچھیے، مگر ہم اپکو خود ہی بتا دیتے ہیں، پتہ نہی آپ کی سمجھ میں ستاروں کی بات آئے یا نہ آئے، چلیں تو سنیں۔

ہم اپنے چھ فٹے بیڈ پہ دراز خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے کہ اچانک ہی سانس میں رکاوٹ سی ہوئی اور گلے سے خرخر کی آواز آنے لگی، سارے جسم کی جان کھنچ کے جیسے پھیپھڑوں میں سما گئی۔ سخت تکلیف کا عالم تھا۔ گھر والے سب سوئے، بلکہ مرے پڑے تھے۔ کوئی اٹھ کے بھی نہ ایا اور ہم اکیلے ہی بستر پہ ہاتھ پاؤں پٹختے رہ گئے۔ پھر اچانک پتہ نہیں کیا ہوا کہ خود بخود ہی سکون سا آگیا۔ یوں لگا، جیسے ہم آزاد ہو گئے اور ہم نے خود کو بلندی پہ ہوا میں تیرتے دیکھا۔ مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ کہ ہم بستر پہ بھی پڑے ہیں اور ہوا میں تیر بھی رہے ہیں۔

Read more

بابل کی گلیاں

ہزاروں بار سنا کہ لڑکیاں بابل کے آنگن کی چڑیاں، بکریاں بلکہ مائیکے کی گیا بھی ہوتی ہیں۔ اور بھی نجانے کیا کچھ ہوتی ہے جو ساری زندگی اپنے مائیکے کو یاد کرکر کے تڑپتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں بیسیوں فلمیں، ڈرامے، ناول و افسانے موجود ہیں جن کو پڑھ پڑھ کے قاری دھاروں دھار روتے ہیں۔ اللہ جانے وہ کون سی لڑکیاں ہوتی ہیں، ہم تو اپنے میکے میں کنگ فو تھے، مولاجٹ تھے یا پھر آئرن گرل لڑکیوں والے نرم گرم احساسات ہم میں کبھی پروڈیوس ہوئے ہی نہیں۔ کئی بار خود کو ٹٹولا کہ ہم بھی کہیں سے کچھ محسوسات برامد کریں کچھ اچھا سا لکھیں جسے پڑھنے والے پھڑک پھڑک جائیں آنکھوں سے گریہ اور منہ سے آہیں برامد ہوں۔

اکثر ہماری دائیں ہتھیلی میں خارش ہوتی ہے اور جب تلک ہم کچھ لکھ نہ ڈالیں یہ ہمارا جینا حرام کرتی رہتی ہے۔

Read more

مہمان بلائے جان

ہماری آج کی روداد ان دکھی لوگوں کے نام جن کے گھر مہمانوں سے اٹے رہتے ہیں۔
ویسے تو مہمان رحمت ہوتے ہیں مگر کچھ مہمان ایسے بھی ہیں جن کے نہ آنے کا وقت مقرر ہوتا ہے اور جانے کا تو خیر بالکل ہی نہیں ہوتا۔ جب یہ آتے ہیں تو جانا بھول جاتے ہیں۔ کیا سمجھے آپ؟ کہ یہ بوریا بستر لے کے آتے ہیں؟

اجی نہیں حضرت۔ یہ ہمارے گھر بالکل خالی ہاتھ آتے ہیں اور ہمارے ہی بوریے و بستروں میں قیام ِلیل و نہار کرتے ہیں۔ ان کو ہمارے گھر پرمکمل تصرف حاصل ہوتا ہے بچوں کے کھلونوں سے لے کے ہماری الماری میں ٹنگے استری شدہ کپڑوں تک اور کچن میں موجود بسکٹ کے ڈبوں سے ہمارے موبائل تک ہر چیز کو بلا اجازت بلا تکلف بلکہ بے دھڑک یوں استعمال کرتے ہیں کہ ہم تو بس منہ ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ایسے مہمان جن کو بلائے جان کہنا زیادہ مناسب ہوگا تقریبا ہر گھر کا مسئلہ ہیں۔

Read more

امی جان کے نام کھلا خط

امید ہے آپ بخیرو عافیت ہوں گی اور حسب معمول ابا اور بھابھیوں کا جینا حرام کررہی ہوں گی ۔ کتنا اچھا لگتا ہے جب آپ ابا پہ گلا پھاڑ پھاڑ ے چیختی اور پلو پھیلا پھیلا کے بھابھیوں کو کوسنے دیتی ہیں گھر میں آپ کی وجہ سے ہروقت رونق سی لگی رہتی ہے ذرا جو سناٹا ہوتا ہو۔ بھئی مجھے تو بڑی ہنسی آئی جب بڑی بھاوج کو آپنے گلاس کھینچ کرمارا اور ان کی ماں کو سنائیں تو وہ پھپھک پھپھک کر رونے لگی۔ حد ہے جذباتی پن کی ایسا بھی کیا بچپنا کہ انسان ذرا سی دو چار صلواتیں بھی برداشت نہ کرسکے اور رونے بیٹھ جائے۔

Read more