کیا اچھے بچے غصہ نہیں کرتے؟
مراقبہ کرنا غصہ کنٹرول کرنے کا وقت طلب مگر ساتھ ہی ساتھ دیر پا حل ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ غصہ کنٹرول کرنے میں آپ کا یہ نظریہ کہ آپ کس پہ غصہ اتار سکتے ہیں اور کس پہ نہیں یہ ہمیشہ اثر انداز ہوگا۔ آپ کبھی کسی ایسے شخص کے لئے غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کریں گے / گی جسے آپ خود سے کمتر سمجھیں یا قابل عزت نا سمجھیں۔ بظاہر اس کا کوئی نقصان نہیں مگر ذہنی طور پہ یہ نظریہ دونوں کونقصان پہنچاتا ہے جس کی تذلیل کی گئی اسے بھی ذہنی کرب میں مبتلا کرتا ہے اور جس نے تذلیل کی وہ بھی ذہنی کرب میں مبتلا ہوتا ہے۔
یہاں تک تو بات تھی عمومی غصے کی مگر اگلا مرحلا ہوتا ہے کسی ذہنی مسئلے کی وجہ سے بار بار غصے کا آنا اور اس پہ قابو پانے میں مشکل پیش آنا۔ یہ عموماً مستقل ذہنی دباو، اینگزائٹی یا ڈپریشن میں مبتلا افراد کے ساتھ ہوتا ہے جس کی وجہ ان کا پہلے سے حالات سے پریشان ہونا ہوتا ہے۔
شاید آپ کو یہ بات عجیب لگے مگر جلد غصہ آنے میں ایک عنصر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی فرد کم ذہانت کا حامل ہو یا یہ سمجھتا ہو کہ وہ صلاحیت میں دوسروں سے کم ہے۔ اس کی وجہ کے دو پہلو ہوسکتے ہیں ایک تو احساس کم تری، دوسرا معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر نتیجہ اخذ کرنا۔ یعنی ایک ایسا شخص جسے ہمیشہ اس کی کند ذہنی پہ ٹوکا گیا ہو اس کے سامنے اس سے کم رتبے یا برابر رتبے کا حامل شخص اس سے بہتر کام کر کے دکھائے تو وہ پہلے سے موجود ذہنی دباؤ کی وجہ سے اور ساتھ ساتھ اس صلاحیت کی کمی کی وجہ سے یا پھر ”اگر دوسرے نے بہتر کیا ہے تو یہ بھی ذرا سی محنت سے اس سے بہتر کر سکتا ہے“ کی طرف دھیان دیے بغیر جلد غصے میں آجاتا ہے اور غصے کے اظہار کا نامناسب طریقہ اپناتا ہے۔
کسی بھی قسم کے ذہنی مسئلے حد یہ کہ ذہانت کی کمی اور اس کی وجہ سے ہونے والے معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ہونے والے غصے کو وقتی طور پہ اوپر دیے گئے طریقوں سے حل کیا جاسکتا ہے مگر اس کا مستقل حل تب ہی ممکن ہے جب ذہنی مسئلے کا علاج کروایا جائے
یہ یاد رکھیں کہ ہر جھگڑے میں جھگڑا ختم کرنے یا بڑھانے کی ذمہ داری ہمیشہ اس شخص پہ ہوتی ہے جو دونوں فریقوں میں سے نسبتاً زیادہ رتبہ یا طاقت رکھتا ہو۔ یعنی والدین اور اولاد میں والدین پہ یہ ذمہ داری تب ہوتی ہے جب اولاد کم عمر ہے اور یہ ذمہ داری اولاد پہ تب آجاتی ہے جب وہ جوان ہوجاتی ہے اور والدین جسمانی طور پہ ان کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں۔ استاد شاگرد کے رشتے میں یہ ذمہ داری استاد پہ ہوتی ہے۔ افسر ماتحت کے رشتے میں افسر پہ اور عالم اور غیر عالم کے معاملے میں عالم پہ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے کم عمر بچوں کو غصے کے اظہار کی کس حد تک اجازت دیتے ہیں کیونکہ یہی وہ مرحلہ ہے جب ہم سب سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ غصہ کیا ہے کب آتا ہے اور اسے کس طرح سے قابو کیا جائے۔ ایسے میں بچوں کو ڈانٹنے کی بجائے ان کے احساسات کو بیان کریں کہیں کہ ”ہمیں معلوم ہے کہ یہ کام غلط ہوگیا اس وجہ سے آپ کو غصہ آرہا ہے۔ مگر آپ روئیں گے یا چیخیں گے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا ہم مل کر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں“۔
آپ نے غلطی کی ہے تو مانیں تاکہ بچہ سیکھے کہ غلطی کی جاتی ہے تو مانا جاتا ہے اور پھر اسے ٹھیک کیا جاتا ہے۔ ہمیں عموماً ایک دوسرے پہ تبھی غصہ آتا ہے جب ہم دوسرے کی غلطی معاف نہیں کرپاتے۔ اور اسے غلطی سدھارنے کا موقع بھی نہیں دیتے اور بدقسمتی سی ایک معاشرے کہ طور پہ ہم کند ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ کبھی بھی کسی سے غلطی نا ہو لہٰذا اہمیت غلطی کو نا دیں بلکہ اس بات کو دیں کہ اسے سدھارا کس طرح سے جائے۔

