کیا اچھے بچے غصہ نہیں کرتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کو کیسا لگتا ہے جب آپ کا باس آپ کے انتہائی محنت سے کیے گئے کام کی باقی تمام محنت نظر انداز کر کے ایک چھوٹی سے غلطی پہ ایک گھنٹہ ڈانٹے؟
اور آپ کو کیسا لگتا ہے جب آپ کا ماتحت ہر بار بچوں کی طرح الٹا سیدھا کام کر کے آپ کے سامنے لاکر رکھ دے؟

ظاہر ہے یہ ایک ہی واقعے کے دو پہلو ہیں جس میں دونوں ہی اپنی اپنی جگہ غصہ محسوس کرتے ہیں۔ مگر کیا دونوں کا ردعمل ایک ہوگا۔ بلکہ پہلے یہ دیکھیں کہ کیا دونوں کا مسئلے کے حوالے سے زاویہءنگاہ ایک ہے؟ یقینا نہیں ہے۔ ایک کی توجہ کی گئی محنت پہ ہے اور دوسرے کی غلطی پہ۔ پھر اس کے بعد ایک کواپنی جاب جانے کا خوف ہے جبکہ دوسرے کو؟ دوسرے کو بھی خوف ہی ہے۔ ردعمل نا دکھانے کی صورت میں اپنے اختیار اور طاقت چھن جانے کا خوف کہ میں نے اسے ابھی ٹوکا نہیں تو یہ دوبارہ میری بات نہیں مانے گا۔ مگر اس کے علاوہ بھی کئی عوامل ہیں جو ”غصہ“ پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

غصہ آنا فطری عمل ہے جسے آپ ختم نہیں کرسکتے۔ اگر آپ کو کسی ناخوشگوار بات پہ غصہ آتا ہے تو مبارک ہو آپ نارمل انسان ہیں غصے کا بالکل نا آنا بھی نقصان دہ ہے اور کسی شدید ذہنی مسئلے کی علامت بھی۔

آیئے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ غصہ کیوں آتا ہے۔ ہر انسانی جذبے کی طرح غصہ بھی کیمیکل ری ایکشن کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب ہم ایسے حالات سے دوچار ہوتے ہیں جو ہمارے لئے کسی بھی حوالے سے ناخوشگوار ہوتے ہیں تو ہمارا جسم ”لڑو یا بھاگو“ یعنی fight or flight کی کیفیت میں آجاتا ہے اس کے لئے ہمارا دماغ ایڈرنلائن adrenaline کیمیکل بناتا ہے جو ہمارا دوران خون بڑھا دیتا ہے پسینہ آنے لگتا ہے آنکھ کی پتلی پھیل جاتی ہے۔ اس کے جواب میں نون ایڈرنلائن کیمکل بنتا ہے جو ہمیں فیصلہ سازی میں مدد دیتا ہے۔

اس جسمانی ردعمل کے بعد باری آتی ہے ماحول کے اثر کی۔ ہمارا ردعمل اس پہ منحصر ہوتا ہے کہ ہم نے ماحول سے کیا سیکھا۔ مثال کے طور پہ ہمارے گھر کی نانیاں دادیاں چھوٹی بچی کے غصہ دکھانے پہ فورا ٹوکتی ہیں کہ یہ لڑکیوں کا شیوہ نہیں جبکہ چھوٹے بچے کے غصہ دکھانے پہ عموماً رائے ہوتی ہے کہ ابھی اتنا سا ہے مگر ابھی سے باپ دادا جیسا جلال ہے۔ یعنی دیکھا جائے تو کم عمری سے ہم اپنے رویوں سے بتانا شروع کردیتے ہیں کہ کسے اپنے غصے کے اظہار کی اجازت ہے اور کسے نہیں۔

ایک طرف غصے میں کسی چیز یا رویے سے صرف ناپسندیدگی کا اظہار یا ناراضگی کا اظہار بھی منع کیا جاتا ہے اور دوسری طرف اظہار کے پرتشدد طریقے کو بھی اس کی شخصیت کا حصہ کہہ کر اجازت کا اعزاز بخشا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا غصے کا اظہار کرنا درست ہے بھی یا نہیں۔ جناب نفسیاتی صحت کے لیے ہر جذبے کا مناسب طریقے سے اظہار ضروری ہے وہ خوشی ہو غم ہو درد ہو غصہ یا کچھ بھی۔ اور کسی بھی جذبے کے اظہار کے لیے زبردستی، تذلیل یا تشدد کا راستہ اپنایا جائے تو یہ نا صرف نامناسب رویہ ہے بلکہ یہ کسی ذہنی مرض کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ اگر شروع میں پیش کیے گئے واقعے کو مثال کے طور پہ لیں تو دونوں اپنی اپنی جگہ ٹھیک بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی، ہوسکتا ہے ماتحت نے واقعی بہت محنت سے کام کیا ہو اور نادانستگی میں غلطی رہ گئی ہو اور ہوسکتا ہے کہ جلدی فارغ ہونے کی کوشش میں جیسا بن پڑا کام مکمل کر کے باس کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہو۔

باس کو کام دیکھ کر پہلے غصہ آئے گا اور ماتحت کو باس کے ردعمل پہ بعد میں غصہ آئے گا یعنی دیکھا جائے تو معاملہ فہمی کا بار اس وقت باس کے کندھوں پہ ہے۔ وہ چاہے تو اپنے غصہ کو مناسب طرح استعمال کر کے اسی ماتحت سے کام ٹھیک بھی کروا لے اور آپس کا ماحول بھی خراب نا ہو۔ حقیقت میں ایسا بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی نا کسی حوالے سے رتبہ میں برتر سمجھا جاتا ہے اسے ہمارا معاشرہ اپنی غصے کا کسی بھی طرح اظہار کرنے کی اجازت دیتا ہے جب کہ کم رتبے والے کو اپنی ناپسندیدگی کے اظہار کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔

ہمارے یہاں جذبات کے حوالے سے یہ غیر منصفانہ اصول مزید مسائل کی وجہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ باس ماتحت پہ غصہ اتارتا ہے ماتحت اگر شادی شدہ ہے گھر آکر بیوی بچوں سے لڑتا ہے یا مارتا پیٹتا ہے یا غیر شادی شدہ ہے اور گھر کا خرچ اٹھاتا ہے تو ضعیف ماں باپ اور چھوٹے بہن بھائیوں پہ غصہ اتارتا ہے۔ بیوی اپنے بچوں سے، ساس سے، نند سے لڑ کر غصہ اتارتی ہے اور بچے چیزیں توڑ کر محلے کے خود سے کمزور بچوں کو مار کر یا گلی کے کتے بلیوں کو مار کر غصہ اتارتے ہیں۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس سے غم و غصے کا اصل احساس ختم نہیں ہوتا۔ اس پورے چکر میں صرف پہلا ردعمل اسی جانب تھا جس پہ غصہ تھا مگر وہ بھی ضرورت سے زیادہ ردعمل کی وجہ سے بے فائدہ ہوجاتا ہے۔ جب کہ اس کے بعد والے سارے ردعمل بالکل غیر موثر ہیں کیونکہ ان افراد پہ غصہ اتارا گیا جن کی غلطی نہیں تھی۔ ایسے میں نا صرف منفی رویہ آگے بڑھایا گیا بلکہ اپنے اندر مزید غصہ بڑھا بھی لیا گیا۔

یہ یاد رکھیں کہ غصہ کا اظہار جب تک اسی سمت نا ہو جس کی وجہ سے غصہ آیا ہے آپ کا غصہ ختم نہیں ہوگا وہ شکلیں بدل بدل کر پریشان کرتا رہے گا یا مستقل ذہنی دباؤ بن کر آپ کو ڈپریشن کا مریض بنا دے گا۔ اور اس سب کی بنیادی وجہ یہ کہ ہمیں ہمیشہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ خود سے کسی بھی لحاظ سے بڑے سے بے ادبی نہیں کرنی۔ چاہے وہ عمر میں بڑا ہو، تعلیم میں، رشتے میں، عہدے میں یا سماجی حیثیت میں۔

اگر آپ کا خیال ہے کہ یہ سب بتانے کے بعد میں آپ کو مشورہ دوں گی کہ آپ کو اسی پہ غصہ اتارنا چاہیے جس پہ آیا ہے تو جی ہاں میں یہی کہوں گی مگر اگر آپ کے خیال میں اس کا مطلب ہے کہ جس پہ غصہ آیا اس پہ چیخنا چلانا، اس کی بے عزتی کرنا اسے دو چار دل کو سکون پہنچانے والی گالیاں دینا یا دو چار تھپڑ لگا دینا تو سوری غصہ کے اظہار مطلب یہ بالکل بھی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اوپر واضح کیا کہ جذبات کا اظہار کرنا اور جذبات کا اظہار کرنے کے بہانے کسی کو بے عزت کرنا یا اس کو جسمانی تکلیف پہنچانا یہ بالکل الگ باتیں ہیں۔

اگر آپ کو کسی پہ غصہ آرہا ہے آپ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں یا آپ کو احساس ہے کہ سامنے والے کی غلطی بہت سنگین ہے تو خود کو پرسکون رکھتے ہوئے اسے مناسب الفاظ میں واضح کریں کہ آپ کو یہ بات یا یہ رویہ پسند نہیں آیا۔ اگر کوئی ایسا مسئلہ ہے جس پہ گفتگو ضروری ہے مگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ گفتگو نہیں کرپائیں گے / گی تو اس مسئلہ پہ بات چیت کو کچھ وقت کے لیے ملتوی کردیں۔ جب تک غصہ کا احساس کم نا ہو۔

خود کو پرسکون رکھنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں مثلا سب سے پہلے اس شخص کے سامنے سے ہٹ جائیں جس پہ ناراض ہیں آپ جاتے ہوئے واضح کرسکتے / سکتی ہیں کہ کیونکہ ابھی آپ بات نہیں کرنا چاہتے ورنہ مسئلہ جھگڑے میں بدل جائے گا لہذا موضوع کو یہیں چھوڑ دیا جائے۔ اس کے بعد پرسکون جگہ آکر گہری سانسیں لیجیے یہ آپ کے فائٹ اور فلائٹ کی کیفیت کو کم کرتا ہے اور دوران خون کی رفتار معمول پہ لاتا ہے اور اعصاب پرسکون ہوجاتے ہیں۔ ٹھنڈا پانی پئیں۔ کوئی پسندیدہ گانا سنیں، اپنی مذہبی کتاب پڑھیں یا کوئی مذہبی ترانہ سنیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا تعلق سندھ کے شہر سکھر سے ہے۔ نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پہ آرٹیکلز اور کہانیاں لکھتی ہیں۔ ”ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر“ کی کمیٹی اورگنائزر ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سائنس کی اردو میں ترویج کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سےبھی منسلک ہیں۔

absar-fatima has 45 posts and counting.See all posts by absar-fatima