شیطان، لڑکی، مہنگائی کی بلیک کافی اور پنجاب اسمبلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی فکشن میں جتنا مجھے پاؤلو کوئیلہو، ساتر، کافیکا اور البرٹ کامیو نے متاثر کیاہے اتنا کسی نے نہیں کیایا شاید مطالعہ ابھی انہی تک محدود ہے۔ خاص طورپر برازیل سے تعلق رکھنے والے کوئیلہو، جس کا الکیمسٹ اور الظاہر The Alchemist and The Pilgrimageجتنی بارپڑھا اتنا ہی لطف آیا۔ مگر گذشتہ دنوں پاؤلوکوئیلہو کا ایک اور ناول The Devil & The Miss Prym یعنی شیطان اور لڑکی بھی پڑھنے کا موقع ملا۔

انسانی فطرت میں شامل بدی اور اچھائی کے قدیم موضوع کا احاطہ کرتا ہوا یہ ناول اپنے کرافٹ کے حوالے سے نہ صرف کافی منفرد ہے بلکہ سوچ کے کئی در بھی وا کرتا ہے۔ جسے سمجھنے کے لیے قاری کوبھی اپنے دائرے سے باہر آنا پڑتا ہے۔ کامیابی کے لیے بدی کاراستہ اختیار کرنے والے ہمیشہ بے چینی میں مبتلارہتے ہیں کیونکہ اس جنگ میں جیت ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے بات ہے صرف ہمت اور حوصلہ کی۔ اس ناول میں لڑکی ایک انسان میں چھپے شیطانی خیالات سے طویل جنگ کرتی ہے اور بالاخر جیت جاتی ہے۔ یہ ایک اعصاب شکن جنگ ہے اور لڑکی کا ساتھ دینے والے بہت کم۔

اس نے یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ اسے زندگی کی قدر کرنی ہے چاہے وہ طویل ہو یا مختصر۔ ایک صاف ستھری زندگی بے شک کچھ مسائل کا شکار ہوتی ہے مگر کسی دھوکے کے تحت پروان نہیں چڑھتی۔ اپنے آغاز سے انجام تک لمحہ لمحہ اپنی گرفت میں لیتا ہوا منفرد ناول ہے۔ جس میں کوئیلہو کا فن اپنے پورے عروج پر نظر آتا ہے۔ اگر آپ نے اردو میں یہ ناول پڑھنا ہے تو ابوالفرح ہمایوں کا کیا ہوا ترجمہ ضرور پڑھیں، نگارشات ٹیمپل روڈ سے مل جائے گا۔

سردیوں کا مطالعہ کافی کے بغیر ادھورا ہے، رواں سال کی سردیوں میں جو عنصر سب سے زیادہ غالب رہا، وہ گذشتہ سال سے جاری مہنگائی میں ہوشربا اضافہ تھا۔ موجودہ حکومت کی جانب سے ملنے والی مہنگائی کی بلیک کافی سے متاثر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہے۔ روز مرہ کی خوردونوش کی اشیاکی علاوہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام پر جس طرح ٹیکسز اور مہنگائی کا بوجھ ڈالا ہے اس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہی ہو گا، عوام کا کیا ہے وہ تو جیسے تیسے بھگت لیں گے، ورنہ مٹی کا تیل چھڑک کر خودکو آگ لگا لیں گے اور حکومت صرف مذمتی بیان تک محدود رہے گی۔ بلیک کافی کے ذائقے کی طرح۔

مہنگائی کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس اور پانی کے بلوں کے نام پر بھی عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کیا جا رہا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا پر ویسے ہی سچ بولنا منع ہے۔ جب سوشل میڈیا پر اس حوالے سے آواز اٹھائی جاتی ہے تو چہار جانب سے صدا آتی ہے کہ اسے بھی بند کردیا جائے گا، گویا ہمارے ”ہینڈسم“ وزیراعظم مخالفت سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کے لیے جمہوریت کے ماتھے کا جھومر تنقید ہی ناگوار ہے۔ تو بھیا جی یہ جمہوریت تو نہ ہوئی نہ، سچ کہوں تو آمریت ویسے ہی بدنام ہے، ورنہ جتنا ظلم جمہوریت میں عوام کے ساتھ ہوتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ کہیں دور نہ جائیں، اپنی بہتر سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔

مہنگائی سے یاد آیا کہ اسد عمر صاحب نے فرمایا تھا کہ ابھی عوام کی اور چیخیں نکلیں گی کیونکہ حالات بہت خراب ہیں اور عوام کو اس کے لیے قربانیاں دینا پڑے گی۔ یہ جو ہمارے سیاست دان ہیں نہ، بڑے سیانے ہیں، چاہتے ہیں کہ بس عوام کو ہی سولی پر لٹکائے رکھیں۔ خود کچھ نہ کریں۔ اب دیکھیں، پی ٹی آئی حکومت سادگی، نو پروٹوکول جیسے نعرے لگاتی ہے مگر عملی طورپر ہو اس کے برعکس رہا ہے۔ جیسے ابھی حال ہی میں پنجاب اسمبلی کے فلور پرایک دوسرے کے دست وگربیان پی ٹی آئی، اپوزیشن تنخوائیوں اور مراعات کے معاملے پر ”ایک پیچ“ پر آ گئیں اور منٹوں میں یہ بل منظوربھی کر لیا۔ جس میں وزیراعلیٰ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزراء اور ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا۔

وہ عثمان بزدار جس کی سادگی کی قسمیں عمران خان کھاتا ہے، وہ وزیر اعلیٰ جو اہل پنجاب کے لیے کسی بددعا سے کم نہیں اس کی تنخواہ 59 ہزار سے ساڑھے تین لاکھ (چھ گنا) ، سپیکر 49 ہزارسے ڈیڑھ لاکھ (تین گنا) ڈپٹی سپیکر 55 ہزار سے ایک لاکھ 65 ہزار (تین گنا) ، وزراء 45 ہزار سے ایک لاکھ 45 ہزار (تقربیاًتین گنا) کر دی گئی ہے۔ ایم پی ایز کی تنخواہوں میں بھی دو گنا اضافہ کر دیا گیا ہے اور مختلف نوعیت کے الاؤنسز میں بھی مہنگائی سے زیادہ ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے۔

جس میں یومیہ الاؤنسز، سفری واؤچرز، ہاؤس رینٹ، دفتری الاؤنس، یوٹیلیٹی بل، مہمانداری الاؤنس شامل ہیں۔ جبکہ پنجاب کے معصوم وزیر اعلیٰ نے لاہور میں ریٹائرمنٹ کے بعد گھر بھی پکا کرا لیا ہے۔ اور حسب سابق ملک کے وزیراعظم، پارٹی کے چیئرمین تبدیلی کے عمل بردار کو اس ساری صورت حال کا پتہ قومی اسمبلی سے بل پاس ہونے کے بعد چلتا ہے۔ جس کا غصہ وہ ایک ٹویٹ کر کے نکال چکے ہیں۔

بل اس وقت حتمی منظوری کے لیے گورنر کے پاس پڑا ہے، دیکھتے ہیں وہ وزیراعظم کی بات مانتے ہیں یا وزیر اعلیٰ کی۔ صورت حال اس وقت مکمل طور پر دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ویسے میں فواد چوہدری، فیصل ووڈا، مراد سعید کے اس بیان کی منتظر ہوں کہ یہ بھی اپوزیشن کی سازش ہے۔ اس نے ہمارے معصوم وزیراعلیٰ، وزراء اور ارکان کو ”تبدیلی کے لولی پوپ“ کا لالچ دے کر بیوقوف بنایا ہے وغیرہ وغیرہ۔ مرکزی حکومت زبوں حالی کا شکار ہے اور کشکول گدائی لئے ملکوں ملکوں پھر رہی ہے اور قرضوں کی بھیگ مانگ رہی ہے۔ اور چھ ماہ تک پنجاب کے وزیراعلیٰ رہنے والے کو تاحیات گھر، پنشن اور سیکورٹی ملے گی۔ شاباش ہے۔

پی ٹی آئی حکومت نہ بھولے کہ یہ وہی عوام ہے جس کے منہ میں بدتمیزی کا آلہ آپ کی سیاسی تربیت کا شاخسانہ ہے۔ سوال پوچھنا ہمارا حق ہے اور جواب دینا حکومت اور حکومتی نمائندوں کا فرض۔ عوام کو حب الوطنی کے نام پر، قربانی کے نام پر مسلسل مہنگائی کا جو ٹیکہ لگایا جارہا ہے، اس کی حد پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والے اس بل کے بعد پوری ہو گئی، اب آپ حساب دیں اورلیں بھی۔ چار سو ترقیاتی منصوبے ختم کر دیے گئے۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی روک دی گئی اور میڈیکل ٹیسٹ مہنگے کر دیے گئے۔

مہنگائی، بے روزگاری، غربت، خودکشیاں، سسکتی ہوئی زندگی، تبدیلی کا یہ سونامی تو عذاب کا سونامی ثابت ہوا ہے۔ قومی خزانے کوریوڑیاں کی طرح باٹنے کے اس طرح کے فیصلوں کی مذمت ہر سطح پر ہونی چاہیے۔ عوام کوہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سوچناپڑے گا کہ یہ بھی قومی خزانہ جسے ہمارے ٹیکسوں سے بھرا جا رہا ہے، عوام پر قرضوں کا بوجھ لادا جا رہا ہے، اس خزانے پر یہ کھلی نقب زنی ہی ہے۔ آئیں ہم سب ہر سطح پر اس کی مذمت کریں ورنہ ابھی تین صوبے اور مرکزی حکومت باقی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •