وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
پچھلے دو دنوں سے طبیعت بہت نا ساز رہی۔ کچھ لکھنے کی جانب طبیعت مائل ہو کر نہیں دے رہی تھی۔ سندھ کے ایک پسماندہ علاقے میں درویش رہائش رکھتا ہے، جہاں مختصر وقفوں کے سوا دہائیوں سے روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کی دعویدار پیپلز پارٹی حکمران رہی۔ اس حکمرانی کی برکات کے طفیل صحت سے متعلقہ معمولی مسائل کے لیے بھی تمام سندھ کے شہریوں کو کراچی یا حیدرآباد کا سفر بیماری کی حالت میں طے کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے پہلے سے بیمار مریض کی حالت مزید ابتر ہو جاتی ہے۔
اس کے باوجود انقلابی حکومت کے معاشی افلاطون اسد عمر کے اس بیان پر کہ آنے والے دنوں میں عوام کی مہنگائی کے سبب مزید چیخیں نکلنے والی ہیں یا بلاول بھٹو کے کالعدم تنظیموں سے متعلق اختیار کیے جارحانہ موقف پر کچھ لکھنے کی کوشش تھی۔ جونہی مگر واٹس ایپ کھولا! ایک دوست کی بھیجی ویڈیو سامنے آئی۔ جس میں کوئی شخص گاڑی سے اتر کر ایک عمارت میں گھستا اور فائرنگ کرتا نظر آ رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر جھرجھری آئی کہ پھر کسی انفرادی عمل کی سزا میں مذہب اسلام تو خدانخواستہ کہیں کٹہرے میں کھڑا نہیں ہوگا۔ دل مضطرب کے خدشات بے سبب تو نہیں کیونکہ آج تک دیکھا یہی ہے۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
یہاں وہاں پوچھ گچھ کرنے سے قبل خبریں آنا شروع ہوئیں کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر سفید فام نسل پرست دہشت گردوں نے حملہ کر کے 49 افراد کو شہید کر دیا۔ بربریت اور چنگیزیت کی حد، اس سفاکی کی ویڈیو اپنے ہیلمٹ پر لگے کیمرے سے حملہ آور بدبخت لائیو شیئر کرتا رہا۔ متعدد افراد اس واقعے میں شدید زخمی ہوئے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص 2 بندوقیں اٹھائے گاڑی سے اترتا ہے اور فائرنگ کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہوتا ہے اور پھر وہاں موجود افراد کو بے دردی سے اندھا دھند شہید کر دیتا ہے۔
خوش قسمتی سے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی جو نیوزی لینڈ کے دورے پر تھے وہ اس وقت نماز جمعہ کی ادائی کے لیے اسی مسجد آ رہے تھے محفوظ رہے۔ اس کے بعد یہ سیریز مگر ختم کر دی گئی ہے۔ ستم کی حد ایک آسٹریلوی سینیٹر نے اس پر کہا کہ تارکین وطن یہاں آئیں گے تو اس طرح کے واقعات تو ہوں گے۔ اگرچہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس حملے کی مذمت کی اور اس واقعے کو دہشت گرد کہا مگر، انہوں نے یا دنیا بھر میں کسی بھی مسلم یا غیر مسلم ملک کے سربراہ نے اس واردات کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا۔
نا ہی اقوام عالم کے تھانیدار امریکا نے نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا کو یہ کہا کہ فلاں ملک کو غصہ ٹھنڈا کرنے یا اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے سرجیکل اسٹرائیک کی اجازت دی جائے۔ نا ہی یہ توقع رکھی جائے کہ نیوزی لینڈ کے کھیلوں کے میدان ہمارے میدانوں کی طرح ہمیشہ کی بنیادوں پر ویران ہوں گے۔ اور نہ اتنا بھی کہا جائے گا چلیں مانتے ہیں، یہ صلیبی دہشت گردی نہیں مگر نسلی تعصب تو پھر بھی ہے، لہذا اس تعصب کو ابھارنے والے امریکی صدر ٹرمپ کا نام بھی اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ڈالا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ہماری دہشت گردی کی اس نام نہاد جنگ میں ساٹھ ہزار جانوں کی قربانیاں کسی کو یاد نہیں۔ مسلم اکثریتی ممالک عراق افغانستان شام لیبیا صومالیہ اور فلسطین کس نے کھنڈر اور قبرستان میں تبدیل کیے کوئی سوال پوچھنے والا نہیں۔ دن دیہاڑے ہونے والی یہ المناک واردات بھی لندن کے پارک میں شہید ہونے والی مسلم طالبہ، فرانس اور جرمنی میں سڑک پر حجاب اوڑھنے کے جرم میں گھسٹنے والی مسلم خواتین۔ اور کچھ عرصہ قبل کینیڈا میں اسی طرح مسجد میں فائرنگ اور نائن الیون کے بعد امریکا میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد واقعات کی طرح بھلادی جائے گی۔
فرض کریں، ایسا کوئی واقعہ اگر کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیت کی عبادت گاہ میں کسی مسلمان کے ہاتھوں پیش آیا ہوتا کیا ردعمل ہوتا؟ کتنا شور شرابا ہوتا؟ اسلام کو دہشت گردی سے زبردستی نتھی کرنے والے اب تک آسمان سر پر اٹھا چکے ہوتے۔ لیکن اب فیس بک سے لے کر ٹویٹر تک اس ویڈیو کو یادداشت سے محو کرنے کی خاطر ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے۔ افسوس صد افسوس ہمارا ملکی میڈیا ہی پوپ فرانسس اور مغربی ممالک کے سربراہوں کے پھسپھسے مذمتی بیانات چلا کر اسلامک فوبیا کی پلید سوچ پر مٹی ڈالنے میں مصروف ہے۔
نام نہاد مہذب دنیا، ہمارے جیسے غریب ملک پر تلور کے شکار پر پابندیوں کی دھمکیاں دیتی ہے۔ یہ کسی کی ذہنی اختراع یا محض الزام نہیں خود امریکی اور برطانوی عہدیداران تسلیم کر چکے۔ عراق پر چڑھائی محض مفروضوں کی بنیاد پر کی۔ جو ہزاروں بے موت مارے گئے ان کی جانوں کا ذمہ دار کون ہے؟ اس شخص کو سزا یا ان ممالک پر کیا پابندی ہونی چاہیے؟ پلوامہ واقعہ ہوا، حملہ آور بھی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والا۔ بارود بھی انڈیا کا۔ گاڑی بھی انڈین۔ اس نوجوان کو تشدد کی طرف دھکیلنے والے بھی انڈین۔ یہاں تک اس حملے پر شکوک و شبہات بھی انڈیا کے اندر سے اٹھ رہے، بدنام اور مطعون پھر بھی مولانا مسعود اظہر اور حافظ محمد سعید۔ سوال یہ اس کے سوا ان کا جرم کیا ہے کہ وہ کشمیریوں کی اخلاقی حمایت کر رہے ہیں؟ خود اقوام متحدہ کا چارٹر قابض افواج کے خلاف جد و جہد کی مقامی آبادی کو اجازت دیتا ہے۔ چنانچہ اس چارٹر کے ہوتے تحریک انتفادہ کی حمایت جرم کس طرح ہے؟
یہ اگر جرم ہے اور اس کی بنیاد پر ان کی نقل و حرکت پر پابندی اور ان کے رفاہی کام تک بند ہو سکتے ہیں۔ پھر تو آج والا دہشت گرد واقعہ جس کے بارے میں آسٹریلوی سینیٹر نے خود کہا کہ نقل مکانی کر کے آنے والے بیرون ممالک کے لوگ ایسے واقعات کی بنیاد ہیں، اس سے کہیں بڑا جرم ہے۔ اور نسلی تعصب کو ہوا دینے والے اکلوتی سپر پاور ریاست کے سربراہ ٹرمپ بھی ذمہ دار ہیں۔ اس لحاظ سے ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کر کے ان کی نقل و حرکت پر پابندی اور ان کے اثاثے اور کاروبار بھی ضبط کریں۔
کون پوچھے اور بتلائے دہشت گردی کے واقعات کی بنیاد، چاہے وہ کسی مسلمان نے کیے ہوں یا غیر مسلم نے، اسلام مخالف اقدامات اور سوچ ہیں۔ جب آپ نفرت کا پرچارک مسلسل کریں گے آگ تو بھڑکے گی۔ یاد رکھیں، آگ جب پھیلتی ہے تو اپنا یا پرایا آنگن نہیں دیکھا کرتی۔ جانے مغالطہ ختم کیوں نہیں ہوتا، اسلام سراپا امن و محبت ہے۔ اس کی تعلیم میں تو جنگ کے بھی اصول بتائے ہیں، مد مقابل قوم کے بوڑھوں، نا بالغ بچوں، عورتوں اور غیر مسلح شخص کو امان ہے۔
عبادت گاہ چاہے کسی مذہب کی ہو اس کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ تیار فصلوں یہاں تک کہ سایہ دار درخت کاٹنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اب مغربی حکومتوں کے کار پردازان اور میڈیا میں ہمت ہے (حالانکہ حملہ آور کی رائفل پر تحریر واضح کرتی ہے ) اس حملے کو صلیبی دہشت گردی کہے یا پھر ایسے ہی کسی مسلمان کے انفرادی فعل کو نائن الیون کے بعد تسلسل سے اسلام سے جوڑنے کی علی الاعلان معافی مانگیں۔


