مفتی تقی عثمانی صاحب پر حملہ اور ہماری کراچی پالیسی

یقین تقریبا غیر متزلزل ہونے والا تھا کہ کراچی کی روشنیاں بحال ہو چکی۔ اس کا امن پھر سے لوٹ آیا ہے۔ ان شاءاللہ وہ دن بھی دور نہیں جب کسی کو کسی سے ڈر یا کوئی خوف اور کھٹکا، پہلے کی طرح نہیں رہے گا۔ کراچی بالکل ستر کی دہائی سے قبل کی اپنی…

Read more

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

پچھلے دو دنوں سے طبیعت بہت نا ساز رہی۔ کچھ لکھنے کی جانب طبیعت مائل ہو کر نہیں دے رہی تھی۔ سندھ کے ایک پسماندہ علاقے میں درویش رہائش رکھتا ہے، جہاں مختصر وقفوں کے سوا دہائیوں سے روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کی دعویدار پیپلز پارٹی حکمران رہی۔ اس حکمرانی کی برکات کے…

Read more

میثاق جمہوریت کی اہمیت کا ادراک جلد تحریک انصاف کو بھی ہو جائے گا

پچھلے دنوں کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے عیادت کے لیے ملاقات کی۔ اس ملاقات سے قبل بلاول بھٹو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی سیاسی ایجنڈا لے کر میاں صاحب سے ملنے نہیں جا رہے بلکہ ان کا مقصد فقط عیادت ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا، میاں صاحب کی طبیعت واقعتا خراب ہے اور وہ دل کے سنگین عارضے میں مبتلا ہیں، اس حالت میں انہیں دباؤ میں رکھنا تشدد کے مترادف ہے۔مزید برآں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حالت میں بھی میاں صاحب کا عزم غیر متزلزل ہے اور وہ اپنے بیانیے پر قائم ہیں۔ ان کے موقف میں کوئی لچک نہیں اور نہ ہی محسوس ہوتا ہے وہ کسی سمجھوتے یا رو رعایت کے متقاضی ہیں۔ دونوں کے درمیان ملاقات کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ عیادت تو ویسے بھی رسم دنیا ہے اور ہماری مذہبی تعلیم میں ایک مسلمان کا حق ہے کہ جب وہ بیمار ہو تو شناسا اس کی عیادت کو پہنچے۔ دو ہزار تیرہ کی الیکشن کمپین میں جب عمران خان اسٹیج سے گر کر زخمی ہوئے تو نہ صرف میاں صاحب نے اپنی الیکشن مصروفیات موقف کی۔ بلکہ ان سے ملنے ہسپتال بھی پہنچے۔

Read more

قانون کی تبدیلی اپنی جگہ، عملدرآمد اصل مسئلہ

پہلے زمانے میں بھی ایک بادشاہ گزرا، جسے یقین کی حد تک گمان تھا کہ اس کی رعایا بہت ایماندار اور پارسا ہے۔ بادشاہ کی اس بات سے اس کے وزیر کو اختلاف تھا۔ وہ سمجھتا تھا بادشاہ جیسا سوچتا ہے رعایا ویسی نہیں ہے۔ ایک دن بادشاہ کو جانے کیا سوجھی، اس نے سوچا رعایا کا امتحان لے کر دیکھتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا شہر کے بیچ درمیان ایک وسیع و عریض تالاب تعمیر کرائے۔ حکم کی جب تعمیل ہو گئی تو وزیر نے اطلاع دی، حضور تالاب تو بن چکا۔اب کیا حکم ہے؟ بادشاہ نے کہا! شہر میں منادی کرائی جائے کہ آج رات ہر شہری اس تالاب میں ایک گلاس دودھ لا کر ڈالے گا۔ صبح یہ تالاب مجھے دودھ سے بھرا ہوا چاہیے۔ سورج ڈھلا، اندھیرے نے پر پھیلائے تو شہری ایک ایک کر کے گلاس اٹھا کر آتے گئے اور اپنے حصے کا گلاس تالاب میں خالی کر کے واپس لوٹتے گئے۔ غرض رات پوری یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ صبح پو پھوٹتے بادشاہ تالاب کی طرف نکلا کہ جا کر دیکھے رعایا نے اس کے حکم پر کتنا عمل کیا۔

Read more

Truth and reconciliation commission وقت کی ضرورت!

افلاطونی دماغوں میں سودا سمایا ہے کہ ہماری جگ ہنسائی اور کمزوری کا سبب ”گھر کی خرابی“ ہے۔ لہذا گھر کی صفائی کی جائے گی تاکہ دنیا میں ہم کچھ مقام اور آبرو پا سکیں۔ جب سے یہ خبر سنی ہے اک وحشت طاری ہے، اضطراب بڑھتا جارہا ہے، دل میں سو وسوسے لاکھ اندیشے…

Read more

عمران خان کا امتحان اب ہوگا

کسی بے وقوف شخص کی غلطی کی سزا اس کی ذات تک محدود رہتی ہے مگر، ایسا شخص اگر حکمران ہو اور اس سے غلط فعل سر زد ہو جائے تو بسا اوقات اس کی قوم کی عمر بھر کی کمائی اور محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ اس فعل کے مضر اثرات اس طرح جان کو چمٹتے ہیں کہ چھڑانے کی سر توڑ کوشش بھی کامیاب نہیں ہوتی۔ جتنے مرضی ہاتھ پیر مارے جائیں، دلدل سے نکلنے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ یہی عمل مخالف قوم کی ناکامی کو کامیابی اور انتشار کو وحدت میں بدلنے کی بنیاد بنتا ہے۔بشرطیکہ زمام اقتدار کسی صاحب فہم و ذکا شخص کے ہاتھ میں ہو۔ پلوامہ حملہ ہوا، بھارتی وزیراعظم مودی بغیر ثبوت پاکستان کے خلاف شعلہ بدہن ہو گئے۔ بات چیت یا دلیل کے بجائے جنگ اور جارحیت کی دھمکیاں شروع کر دیں۔ حسب معمول پاکستان صفائیاں پیش کرتا رہا، لیکن جنگی جنوں کچھ اس طرح انڈیا کے سر چڑھا ہوا تھا کہ اس کی فضائیہ نے پاکستانی علاقے میں دراندازی کر دی۔ جوابا یہ ممکن نہ رہا کہ پاکستان خاموش رہتا، لہذا اسے بھی اپنی فضائیہ کو حرکت دینا پڑی۔ جس کے نتیجے میں بھارت اپنے دو جنگی جہازوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور تباہ شدہ جہاز کا پائلٹ بھی گرفتار ہو گیا۔

Read more

کشیدگی سے سبق سیکھ لیں!

گذشتہ رات مار گرائے جانے والے انڈین مگ 21 طیارے کے پائلٹ کو دو دن کی حراست کے بعد انڈین حکام کے حوالے کر دیا۔ عمران خان نے پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا۔ الا چند ایک آوازوں کے مجموعی طور پر اندرون ملک بھی اس امر کو سراہا گیا۔ جتنی دیر وہ پائلٹ یہاں موجود رہا اس کی ہمارے مذہبی، اخلاقی اور سماجی اقدار کے تحت بھرپور مہمان نوازی کی گئی۔ جس کا اعتراف خود اس پائلٹ نے اپنے دو ویڈیو بیانات میں بھی کیا۔

Read more

کوئی قیامت نہیں آنے والی!

صبح سویرے نماز کے لیے اٹھا، حسب عادت رات کے میسج چیک کرنے کے لیے واٹس ایپ آن کیا تو اچانک پیغامات کی برسات ہو گئی کہ رات کے آخری پہر انڈین فضائیہ کے طیاروں نے مظفر آباد کے قریب پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جوابا جب ان کی سرکوبی کے لیے پاکستانی جہاز فضا میں بلند ہوئے بزدل انڈین پائلٹ اپنا فالتو ایمونیشن اور اسلحہ بالا کوٹ کے قریب گرا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب سے پلوامہ میں حملہ ہوا، اور بھارت کی طرف سے جنگی جنون کا مظاہرہ ہو رہا اس طرح کی چھوٹی موٹی شرارت کوئی عجب بات نہیں، لیکن میری ناقص رائے میں انڈیا اس سے بڑھ کر کسی ایڈونچر کی ہمت کبھی نہیں کرے گا۔

اس یقین کی وجہ کیا ہے، یہ آگے چل کر ذکر کروں گا، پہلے یاد دلاتا چلوں انہیں صفحات پر جنوری کی ابتدا میں انتہائی ٹھوس ذرائع سے ملی معلومات کی روشنی خبر دی تھی کہ مودی سرکار مارچ سے مئی کے درمیانی عرصے میں کوئی احمقانہ اقدام کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ صرف انتخابات میں یقینی نظر آنے والی شکست سے بچنا اور ان دنوں اپنی حکومتی کارکردگی سے عوام کی نظریں ہٹا کر ہندو دھرم میں موجود دائمی تنگ نظری، کم ظرفی اور عدم برداشت کو ابھارنا ہے۔

Read more

سچ دبتا ہے، دھوکا دھڑلے سے بکتا ہے!

پون صدی کسی ملک، قوم کے ارتقا اور کامیابی کے لیے کم نہیں۔ اس عرصے میں تین نسلیں گزرتی ہیں، نیت اگر صاف، ارادہ اٹل، دلوں میں نفاق نہ ہو، اس مدت میں ترقی کیا، زمین و آسمان کی وسعت با آسانی طے ہو سکتی ہے۔ اتنے سالوں کے ضیاع کے بعد اپنی حالت تو کیا بدلنی تھی، اب تک بطور قوم ہی متحد نہیں ہو پائے۔ دیگر بہت سی وجوہ کے ساتھ اس کی وجہ یہ بھی ہے، ہم سیاسی عقیدتوں کی بنیاد پر بری طرح تقسیم ہیں، یہ جملہ استاد محترم نصرت جاوید صاحب کا ہے اور درویش بھی اکثر مستعار لیتا ہے۔

بڑی حد تک ہمارے انتشار و اضمحال کی تشخیص ہے۔ سونے پہ سہاگہ تقسیم کا عمل سیاسی بنیادوں تک محدود نہیں رہا، پچھلے کچھ عرصے میں لبرلز اور مذہب پرستوں کا دلیل سے بڑھ کر کدورت اور دشنام تک پہنچتا عدم اتفاق بھی قومی وحدت کے آڑے آتا رہا۔ سیاسی معاملہ ہو یا قومی سلامتی سے متعلق امور، مذہبی اور فقہی مسائل ہوں یا خالصتا سماجی اور معاشرتی اقدار، ہر جگہ ہر دو جانب سے زبانی کلامی طنز وتشنیع کے بجائے، عملا لٹھ بازی تک نوبت پہنچتی ہے۔

Read more

کشمیر آزاد ہو چکا!

ہوش سنبھالنے کے بعد، خارجہ امور، پاکستان کے بین الاقوامی معاملات اور سویلین ملٹری تعلقات سے بہت دلچسپی رہی۔ جب سے لفظوں کی گھسیٹا کاری شروع کی اس دوران بھی یہ کوشش رہی جد و جہد کشمیر، پاک بھارت چپقلش، افغانستان کی صورتحال، بڑی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے مفت میں ریاست کا پراکسی کردار، پڑوس اور خلیج کے ممالک میں سینڈوچ بنی حالت اور سویلین ملٹری تعلقات کو سمجھنے اور اپنی ناقص سوچ دنیا تک پہنچانے کی کوشش کروں۔

لیکن وہ کہتے ہیں بڑی مچھلی ہمیشہ چھوٹی مچھلی کو نگل لیتی ہے، یہی حال ہمارے ملک میں خبر اور ابلاغ کی دنیا کا ہے۔ پچھلا پورا ہفتہ میڈیا اور حکومت کی توجہ کا مرکز سعودی ولی عہد کا دورہ رہا۔ اسی دوران مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوجی کانوائے پر بارود بھری گاڑی کی مدد سے خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 46 انڈین فوجی جہنم واصل ہو گئے۔ جس کے بعد حسب توقع انڈین میڈیا پر آہ و فغاں شروع ہو گئی، بغیر ثبوت و تحقیقات لمحاتی تاخیر کے بغیر الزام پاکستان اور جیش محمد پر لگا۔

Read more