کیا عورت انسان نہیں؟


ہمیں اپنے گھروں میں لڑکوں کو لڑکیوں کی عزت کرنا سکھانا چاہیے۔ مردوں کو بتانا چاہیے کہ عورت پر ہاتھ اٹھانا مردانگی نہیں ہے۔ گھر کے کام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے سے مردانگی پر آنچ نہیں آتی۔ اگر بہن بھائی برابر کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو گھر میں بھی یکساں ذمہ داریاں سنبھالنی چاہئیں۔ خیر یہ سب تو بڑے شہروں کی باتیں ہیں جہاں تعلیم اور روزگار کے مواقع زیادہ ہیں مگر چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں تو صورتحال اور بھی تکلیف دہ ہے۔

جاگیرداری کی باقیات، تعلیم کی کمی اور انفرا اسٹرکچر کی عدم موجودگی نے زندگی اور بھی دشوار بنا دی ہے۔ مسئلہ صرف جینڈر یا صنف کا نہیں بلکہ طبقاتی بھی ہے۔ شہر وں میں مزدور طبقہ اور گاؤں میں ہاری اور دونوں جگہ غریب زیادہ پستے ہیں۔ اس کے علاوہ طبقاتی نظام کے ساتھ ساتھ پدر شاہی نظام کی وجہ سے عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ ظلم و زیادتی کا شکار ہوتی

ہیں۔

ہمارے دیہی معاشرے اور شہروں میں بھی نچلے متوسط طبقے میں کچھ گھرانوں میں لڑکی کی پیدائش پر ماں کو یا بچی کو جان سے مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ملاحظہ کیجئے مضمون کے آخر میں دیا گیا لنک۔

یہ واقعہ شکارپور میں 2019 میں پیش آیا جب لڑکی کی پیدائش پرشوہر اور سسرال والوں نے نوجوان ماں کا گلا کاٹنے کی کوشش کی۔ لڑکی کی پیدائش کا ”جرم“ سرزد ہونے کے ساتھ ساتھ شادی سے انکار پر تیزاب پھینکنے کے واقعات بھی عام ہیں۔
پاکستان میں دیہی اور شہری تفریق اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس مختصر سی تحریر میں دیہی خواتین کے مسائل کا احاطہ کرنا ممکن نہ ہو گا چنانچہ اس کا ذکر ایک علیحدہ مضمون میں کریں گے۔

https://www.facebook.com/groups/264140480642312/permalink/9880159549/21424

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2