کمزور دل والے قاسم علی شاہ کی کامرانی ہضم کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاسم علی شاہ ابھی ایک عام سی شخصیت ہیں۔ ابھی تو وہ پاکستان میں صف اول کی سطح کے سیلیبرٹی بھی نہیں بنے اور کچھ لوگ ان کی ابتدائی کامرانی میں بھی کیڑے ڈھونڈ رہے ہیں- ہاں البتہ سادہ سے پنجابی لہجے میں سیدھی سادی باتیں کر کے تالیوں کی گونج میں تیزی سے آگے بڑھتا قاسم علی شاہ کچھ لوگوں سے ہضم نہیں ہو رہا۔

عجیب لگا جب ایک معقول لکھنے والی کامران مصنفہ کو قاسم کی کامرانی پر اعتراض اٹھانے کے لئے ایک ایسے قصہ کا سہارا لینا پڑا جو ہمارے معا شرے کے روایتی گھروں میں ایک عام سی بات ہے۔ نہ تو مجھے قاسم کی کامرانیوں کے قصیدے پڑھنے کا شوق ہے اور نہ ہی فاضل مصنفہ کی شان میں کوئی گستاخی کرنے کا خیال، یہ تحریر فقط اس لیے لکھ رہا ہوں کہ جس قصہ کا مذاق اڑایا گیا ہے وہ قصہ ہمارے ذاتی تجربہ میں بھی آ چکا ہے۔

جب ہمارے والد کا انتقال ہوا تب میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا اور میرے بڑے بھائی ماسٹرز میں تھے۔ ہم دونوں بھائیوں میں عمر کا فرق اور روایتی گھرانوں کا نہ سمجھ آنے والا رکھ رکھاؤ ایسے عناصر تھے کہ ہم دونوں میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے کا رواج تب پڑا جب میں ماسٹرز میں پہنچ چکا تھا۔ انہی گپ شپ کے سلسلوں میں میں نے محسوس کیا کہ بھائی جان والد صاحب سے بہت متاثر تھے اور ان کو بہت مس کرتے ہیں-

والد صاحب اپنے بہن بھائیوں میں بڑے تھے اور دادا جان کے جلد انتقال کی وجہ سے کنبے کے کفیل بھی تھے۔ کچھ روایتی رکھ رکھاؤ اور کچھ ذمہ داریوں کے بوجھ کی وجہ سے انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو نظر انداز کئے رکھا۔ وہ ملازمت کے سلسلے میں آبائی گھر سے دور رہتے تھے اور جب بھی آنا ہوتا تھا تو اپنے بھائیوں سے تو سرسری سا گلے مل لیتے لیکن بھائی جان سے صرف ہاتھ ملاتے۔ اور بات چیت صرف کسی کام کہنے یا کسی کہے گئے کام کے متعلق پوچھنے تک محدود تھی-

بھائی بتاتے ہیں کہ اس وقت ان کی خواہشوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ان کو یہ موقع ملے کہ وہ والد صاحب سےعید کے دن کے علاوہ بھی کبھی گلے مل سکیں اور ڈھیروں باتیں کر سکیں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے بھائی جان کسی دن ڈپریس ہو جاتے، ایسے ہی کسی ایک دن گھر کا ماحول کسی وجہ سے تلخ تھا اور اس تلخی میں بھائی بھی شامل تھے اور کچھ دیر بعد والد صاحب بھی آ گئے۔

سب سننے کے بعد وہ بھائی جان کو ایک الگ کمرے میں لے گئے اور ان کو خوب زدوکوب کیا اور غصے میں بولے کہ میرا دل کر رہا ہے کہ یا میں تم کو مار دوں یا گھر سے نکال دوں اس لیے تم کچھ کہنا چاہتے ہو تو بول دو اور بھائی جان بولے کہ “مجھے ایک بار گلے لگا لیں”۔ یہ معا ملہ نہ جانے کیسے رفع دفع ہوا اور کچھ عرصہ کے بعد پتہ چلا کہ والد صاحب کو کینسر ہے اور علاج شروع ہوا مگر دیر ہو چکی تھی۔

میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا لیکن یہ منظر مجھے آج بھی یاد ہے کہ والد صاحب کی میت صحن میں پڑی تھی اور بھائی جان ان کے سینے سے لگ کر اونچا اونچا رو رہے تھے۔  ہر گھر کا اپنا ماحول ہوتا ہے، اس میں بستے قہقہے ہوں یا خاموشیاں، بے تکلفیاں ہوں یا سرد مہریاں، ہر چیز کا اپنا ایک پس منظر ہوتا ہے-

اگر آپ کسی ایک طرح کے ماحول کے عادی ہیں تو آپ دوسری طرح کے ماحول کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ میں اور بھائی جان اب کافی بے تکلف بھی ہیں اور گھنٹوں گپ شپ لگاتے ہیں، لیکن میں آج تک ان سے یہ نہیں پوچھ سکا کہ وہ جو آپ نے والد صاحب سے کہا تھا کہ “مجھے ایک بار گلے لگا لیں” تو کیا اس دن یا اس کے بعد کسی دن انہوں نے آپ کو گلے لگایا کہ نہیں؟

اس نہ پوچھنے کے پیچھے چھپے خدشات نے کبھی اتنی ہمت ہی پیدا نہیں ہونے دی کہ جو بات بتاتے بتاتے انہوں نے خود ہی ادھوری چھوڑ دی وہ مجھے پوچھنی بھی چاہیے کہ نہیں۔ اس لئے یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ کسی گھر کا نہ سمجھ آنے والا ماحول ضروری نہیں کہ صرف فلمی بناوٹ ہو، یہ بہت سے روایتی گھرانوں کی جیتی جاگتی کہانیاں ہیں۔

اور جہاں تک بات ہے کہ قاسم علی شاہ کی موٹیویشنل گفتگو کسی نہ کسی حوالے سے پہلے ہی موجود ہے تو آپ دنیا بھر کے موٹیویشنل سپیکرز کی تقاریر سن لیں وہ سب ایک دوسرے سے حیران کن حد تک مماثلت رکھتی ہیں۔ جس طرح دنیا کی پانچ ہزار سالہ لکھی تاریخ ایک ہی ہے۔ بس اس کو پیش کرنے کے انداز اور زاویے مختلف ہیں۔ اسی طرح موٹیویشنل تقاریر کا بھی ایک مخصوص دائرہ ہے اور انہی چند معلوم قصوں اور مثالوں کو سامنے رکھ کر لوگ رنگ برنگے اور مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں اور اپنی قابلیت اور پیشکش کے معیار کے مطابق داد سمیٹتے ہیں۔

اور اس میں کوئی شک نہیں قاسم کی سیدھی سادی باتوں میں اتنا دم خم تو ہے کہ ان باتوں پر تالیاں بجانے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وہ قاسم علی شاہ جس کو کچھ سال پہلے تک کوئی جانتا نہیں تھا وہ آج کل سوشل میڈیا کی ٹاپ سرچ میں ہے۔ فاضل مصنفہ کی اپنی تحریروں میں بھی بہت دم خم ہے لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں انہوں نے اس طرح ٹارگٹ کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •