ڈِھیٹ جمہوریت

جمہوری شخصیات اور اقدار کو بدنام اور ختم کرنے کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ یہ ان کے سامنے بھی رہنی چاہیے، جو اسے بدنام اور ختم کرنے کے مسلسل عمل سے گزر ہے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہر قابلِ ذکر سیاسی شخصیت اور سوچ کو راستے سے ہٹانے کے باوجود، جمہوریت کا پودا…

Read more

چیرمین چُمی

ایک بابا جی نے ایک لڑکی کو چھیڑا تو لڑکی بولی ”کچھ تو شرم کرو بڈھے، قبر میں تمھاری ٹانگیں ہیں“۔ بابا جی نے جواب دیا ”تو کیا ہوا، منہ تو باہر ہی ہے نا“۔ ایک بابا جی نے اسی سال کی عمر میں ایک جوان لڑکی سے شادی کا پروگرام بنایا۔ ایک عزیز نے مشورہ دیا کہ اس عمر میں شادی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ بابا جی نے کہا ”مجھے کوئی پرواہ نہیں، مرتی ہے تو مرنے دو“۔ ایک بابا جی تیار ہو کر گھر سے باہر جانے لگے تو بیگم نے پوچھا ”کہاں جا رہے ہو“۔ جواب آیا کہ گراونڈ میں کتوں کی ریس ہے وہاں جا رہا ہوں۔ بیگم جھٹ سے بولی ”چلا ٹھیک سے جاتا نہیں اور جا رہے ہیں ریس لگانے“۔

Read more

کیکڑا گیس نہیں دے رہا تو مکڑا ٹرائی کر لیں

کیکڑے سے گیس نہیں نکلی لیکن حکومت کی گیس نکل رہی ہے۔ جیسے غبارے کو ہوا بھر کے چھوڑا جائے تو ہوا میں ادھر ادھر پھدکتا ہے، ویسے ہی اس حکومت کو جب سے سیانوں نے ہوا بھر کر چھوڑا ہے، تب سے پھدک رہی ہے اور اس کی ہوا بڑی تیزی سے نکلتی جا…

Read more

میڈم پرائم منسٹر آپ جیسا کوئی نہیں

ہمارے ملک میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں کو بم سے اڑا دیا گیا اور کئی مسیحی برادری کے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کیا کبھی ہمارے کسی لیڈر نے ان کی عبادت گاہوں میں جا کر اور شمع روشن کر کے ان سے اظہارٍ یکجہتی کرنے کی ہمت دکھائی ؟ چلیں ان کی عبادت گاہوں میں جانا یا ان جیسا لباس پہن لینا آپ کے ایمان کو گوارا نہیں تھا تو کم از کم اس دن اسمبلی میں صلیب سامنے رکھ کر چند ہمدردی کے کلمات بولے گئے ؟ہزارہ اور پارہ چنار میں شیعہ برادری کی لاشوں کے انبار لگا دئیے گئے۔ کیا کبھی کوئی لیڈر کالا لباس پہن کر یا علم اٹھا کر وہاں کی یا کہیں کی بھی اما م بارگاہ میں جا کر دو لفظ ہمدردی کے بول پایا ؟

Read more

کمزور دل والے قاسم علی شاہ کی کامرانی ہضم کریں

قاسم علی شاہ ابھی ایک عام سی شخصیت ہیں۔ ابھی تو وہ پاکستان میں صف اول کی سطح کے سیلیبرٹی بھی نہیں بنے اور کچھ لوگ ان کی ابتدائی کامرانی میں بھی کیڑے ڈھونڈ رہے ہیں- ہاں البتہ سادہ سے پنجابی لہجے میں سیدھی سادی باتیں کر کے تالیوں کی گونج میں تیزی سے آگے…

Read more

جنگ کے خلاف جنگ ہونی چاہیے

بیچنے والے بھی کیا کیا کمال کرتے ہیں، کسی کو اس کی اپنی ہی چیز بیچ ڈالتے ہیں، کسی کو اس کی اشیآ کی افادیت اور حفاظت کے لیے اپنی مصنوعات کو لازم گردان کر بیچ ڈالتے ہیں۔ فروخت صرف اشیا کے عوض نہیں ہے بلکہ احساسات، جذبات، مذہب اور وطنیت کے عوض بھی جاری ہے اور یہ ذریعہٍ فروخت سب سے زیادہ منافع بخش تجارت ہے جو ہتھیاروں اور طاقت کی منڈی کو جٍلا بخشتا ہے۔ معروف معیشت دان جے بی سئے نے کہا تھا کہ رسد اپنی طلب خود پیدہ کر لیتی ہے مگر ہم جس تجارت کی بات کر رہے ہیں وہ طلب و رسد کے معاشی اصولوں سے ماورا ہے۔وہ کہیں طلب پہلے پیدا کرتی ہے اور رسد کا سامان بعد میں، کہیں رسد پیدا کر کے پھر اس رسد کے لیے منڈی پیدا کرتی ہے۔ کچھ جگہوں پر تو اس کو منڈی پیدا کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، یہ اہتمام بعض جہلا نے اپنے طورپر کر رکھا ہوتا ہے۔ یہ منڈیاں کسی نہ کسی انجانے خوف کا پرچار کر کے وجود میں لائی جاتی ہیں جن کا مقصد یا تو اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے یا حاصل شدہ طاقت اور اقتدار کوجائز قرار دے کر عارضی استحکام بخشنا ہوتا ہے یا پھر حصولٍ اقتدار کا راستہ بنانا۔

Read more

ایک سرکاری فائل کی آپ بیتی

میں ایک فائل ہوں، سرکاری دفتر میں بوسیدہ الماری کے بند کواڑ کے پیچھے بے شمار فائلوں کے ساتھ دفن ایک فائل۔ کہنے کو تو یہ الماری ہے مگر حقیقت میں یہ دھتکاری ہوی فائلوں کی اجتماعی قبر ہے، اور جب ایک بار کوئی قبر میں چلا جائے تو انتہائی مجبوری یا دباؤ میں ہی…

Read more

اسپینوزا ! ایک دھتکارا ہوا فلسفی

1492 میں فرڈیننڈ نے غرناطہ کو فتح کر کے جہاں ایک طرف مسلمانوں پر بے تحاشا ظلم کیا تو دوسری طرف یہودیوں کو حکم دیا کہ یا وہ عیسائیت قبول کر لیں یا ملک چھوڑ دیں۔ یہودی ملک چھوڑ کر مختلف ممالک کا رخ کرنے لگے ان میں سے ایک گروہ ہالینڈ پہنچا جس میں…

Read more

1564 سے شروع ہونے والی کہانی کے کردار گیلیلیو اور نیوٹن

انسانوں کی اس دنیا میں آمد اور ان کی کاوشوں کی کہانیوں میں ہمیں کہیں کہیں قدرت کا خاص انتظام نظر آتا ہے اور جہاں یہ انتظام نظر آ جاے تو سمجھ جائیں کہ نہ یہ کہانی عام ہے اور نہ ہی اس کے کردار۔ ایسی ہی ایک کہانی شروع ہوتی ہے سن 1564 میں…

Read more