بیچنے والے بھی کیا کیا کمال کرتے ہیں، کسی کو اس کی اپنی ہی چیز بیچ ڈالتے ہیں، کسی کو اس کی اشیآ کی افادیت اور حفاظت کے لیے اپنی مصنوعات کو لازم گردان کر بیچ ڈالتے ہیں۔ فروخت صرف اشیا کے عوض نہیں ہے بلکہ احساسات، جذبات، مذہب اور وطنیت کے عوض بھی جاری ہے اور یہ ذریعہٍ فروخت سب سے زیادہ منافع بخش تجارت ہے جو ہتھیاروں اور طاقت کی منڈی کو جٍلا بخشتا ہے۔ معروف معیشت دان جے بی سئے نے کہا تھا کہ رسد اپنی طلب خود پیدہ کر لیتی ہے مگر ہم جس تجارت کی بات کر رہے ہیں وہ طلب و رسد کے معاشی اصولوں سے ماورا ہے۔وہ کہیں طلب پہلے پیدا کرتی ہے اور رسد کا سامان بعد میں، کہیں رسد پیدا کر کے پھر اس رسد کے لیے منڈی پیدا کرتی ہے۔ کچھ جگہوں پر تو اس کو منڈی پیدا کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، یہ اہتمام بعض جہلا نے اپنے طورپر کر رکھا ہوتا ہے۔ یہ منڈیاں کسی نہ کسی انجانے خوف کا پرچار کر کے وجود میں لائی جاتی ہیں جن کا مقصد یا تو اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے یا حاصل شدہ طاقت اور اقتدار کوجائز قرار دے کر عارضی استحکام بخشنا ہوتا ہے یا پھر حصولٍ اقتدار کا راستہ بنانا۔
Read more