سول ملٹری حکمران اور عوام


پاکستان میں پینتیس سال ڈائریکٹ فوجی حکمرانوں نے حکومت کی ہے اور اس باقی عرصے میں بھی اپنے من پسند جاگیردار، سرمایہ دار یا ذاتی وفاداروں کو حکومت کرنے دی ہے جس کو جمھوریت نہیں کہہ سکتے لیکن با امر مجبوری چلو اس کو ہم جمھوریت مان لیتے ہیں کیونکہ تھی تو سول حکمرانوں کی حکومتیں جو ان جرنیلوں کے بنائے ہوئے لوگ تھے لیکن پھر یہی اپنے لوگ بھی جرنیلوں کو کچھ عرصے بعد برے لگتے ہیں۔ ان میں سے جب بھی کسی نے عوام کی بات کی ہو تو ان کے متبادل تلاش کرتے ہیں۔

ستر سال سے یہ کھیل تماشا جاری ہے عوام کے ووٹوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اقتدار پہلے سول اورملٹری اسٹبلشمنٹ دونوں کے ہاتھ میں ہوتا تھا، اب یہ کام تن تنہا ملٹری اسٹبلشمنٹ کر رہی ہے۔ معاشی، خارجہ، داخلہ اور دفاع کی پالیسیاں ہمیشہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اختیارمیں رہی ہیں۔ اختیار ان کے پاس لیکن ذمہ داری سول حکومت پر ڈالتے ہیں۔ جو حکومت چھوڑ کے جاتے ہیں وہ چور ڈاکو اور لٹیرا اور جن کو اقتدار دیتے ہیں ان کو قوم کا مسیحا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

قوم کو میڈیا اور عدلیہ کے ذریعے اس طرح الجھایا گیا ہے کہ عوام اپنے بنیادی اجتماعی مسائل عدم تحٖفظ اور غیر یقینی کی صورت احوال، سوچ غور و فکر سے عاری ہو چکے ہیں اسٹبلشمنٹ کے رحم و کرم پر ہیں۔ اپنی بنیادی ضرورتوں کے لئے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ دست و گریبان، کھینچا تانی اورلوٹ کھسوٹ میں مصروف عمل ہیں لیکن جائز حقوق کے لئے کسی بھی صورت آواز اٹھانے کو تیار نظر نہیں آتے، اورجدوجہد کے بجائے کسی مسیحا کے منتطر رہتے ہیں یا چور راستہ دیکھتے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ دارالیکشن کے دوران جھوٹے وعدوں اور دولت کے ریل پیل کی وجہ سے الیکشن جیت جاتے ہیں۔ جینتے والے اور ہارنے والے دونوں سرمایہ دار، جاگیردار اور مفاد پرست ہوتے ہیں اور ان کے مفادات ایک سے ہوتے ہیں۔

الیکشن کے بعد پالیسی سازی ان کے اختیار میں نہیں ہوتی اور نہ یہ خود سنجیدہ ہیں۔ صرف اپنے من پسند خوشامدیوں کو کلاس فور کی نوکریوں یا ٹھیکوں پر ٹرخا تے ہیں عام عوام اسی طرح حیران و پریشان و مفلوک الحال رہتے ہیں کچھ لوگ اب بھی اندھی عقیدت میں مبتلا ہیں اور اپنی پسند کی پارٹی یا لیڈر سے بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں، اس قسم کے الیکشن سے عوام کی بنیادی حقوق اور بقا کے مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوں گے، کیونکہ سیکیورٹی اسٹیٹ کے ہوتے ہوئے تمام بجٹ سیکیورٹی اور بیرونی قرضوں پر خرچ ہوتی ہے، عوامی ترقیاتی کاموں کے لئے کچھ بھی نہیں بچتا۔ جو بھی آتے ہیں انتشار کا شکار ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی طور گرے لسٹ میں ہیں اورمئی تک بلیک لسٹ میں جانے کا امکان ہے۔ معاشی طور پر پاکستان غیر محفوظ اور دیوالیہ ہو چکا ہے۔ ایسی حالت میں ملک کے اندر روزگار اور کاروبار کرنا کسی طرح بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کے بھی امکانات نظر نہیں آ رہے۔

انتپاپسند تنظیموں کی اسپورٹ اورانتہا پسند سوچ کے خاتمے کے لئے بھی حکمران سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو عدلیہ کے ذریعے دبایا جاتا ہے یا سزا دی جاتی ہے۔ موجودہ حکومت ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ وفاداری نبھانے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ صرف موجودہ حکومت نہیں بلکہ تمام بڑی سیاسی پارٹیاں وفاداریاں نبھانے میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کے چکر میں ہیں۔

حکومت وقت اور ریاستی اداروں سے توقعات وابستہ کرنے کی بجائے مستقل طور پر عوام کے بنیادی حقوق، معیار تعلیم، صحت، سوشل سیکیورٹی اور روزگار کے لئے تمام باشعورعوام کو جدوجہد کرنی ہو گی، اور ایسی تمام تحریکیں اور پارٹیاں جو حقیقت میں عوام کے لیے کام کر رہی ہیں ان کو یک جہتی اور اتحاد کی طرف جانا ہو گا۔ اس کے علاوہ کوئی حل دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اگر یہ چھوٹی چھوٹی تحریکیں اور پارٹیاں اتحاد کی طرف نہیں جاتیں تو عوام ان کو بھی ان روایتی پارٹٰیوں کی طرح ریجیکٹ کر دیں گے۔ ان تحریکوں اور چھوٹی پارٹیوں کی بقا اور عوام کے بہتر مستقبل کے لئے اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ سماج اس وقت مکمل انارکی میں ہے۔ ہر طرف قتل و غارت، لوٹ کھسوٹ اور جنگل راج ہے۔

پارلیمنٹ کی بالادستی، ریاستی بیانیے میں تبدیلی، ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات اورغیر پیداواری اخراجات کا خاتمہ، ریاست اور عوام کی بقا کے لئے ہر قسم کی انتہا پسندی، منافرت پھیلانے والے تنظیموں کے خلاف کارروائی اور عوام کی بنیادی ضرورتوں کی طرف توجہ دینا اورایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS