سائیں بزدار ، یہ بچہ مار کھاتا رہے گا ؟


ایک روز سائیں آ دھمکے، فرمایا، وزیراعلیٰ کا ریٹائرمنٹ پیکیج ہونا چاہئے، پوچھا گیا، کیا ہونا چاہئے، بولے، سوچ کر بتاتا ہوں، دو تین دن بعد سائیں جو وزیراعلیٰ ریٹائرمنٹ پیکیج لائے وہ کچھ یوں تھا، سابق وزیراعلیٰ کو 3گاڑیاں، 10سیکورٹی گارڈز، 2کلرک، ایک پرسنل سیکریٹری، لاہور میں ایک گھر مع یوٹیلیٹی بلز، علاج کی سہولت، ٹیلی فون بل، دو گاڑیاں، دو ڈرائیور ملیں اور یہ سب عمر بھر کیلئے، بات اسپیکر پرویز الٰہی تک پہنچی تو انہوں نے سائیں سے کہا ’’ایک تو یہ کچھ زیادہ ہی، دوسرا وزیراعظم کے کانوں سے گزار لیں، بعد میں کوئی مسئلہ نہ بن جائے، سائیں بولے ’’پیکیج فائنل کر لیتے ہیں، وزیراعظم سے پوچھنا میری ذمہ داری‘‘،
 
یہ ارشاد بھٹی کے آج جنگ میں چھپے کالم سے اقتباس ہے ۔
 
غور و خوض کا آغاز ہوا تو بزدار صاحب نے مسوّدہ دیکھنے کی فرمائش کی۔ ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ تین بار انہوں نے پڑھا۔ مشورہ بھی کسی دانا سے کیا ہوگا۔ اس لئے کہ جو کچھ انہوں نے تجویز کیا‘ وہ وزارتِ اعلیٰ سے زیادہ‘ وزارتِ عظمیٰ اور صدارت کے منصب کو سزا وار تھا۔ دوسری چیزوں کے علاوہ عمر بھر کے لیے‘ لاہور میں ایک شاندار رہائش گاہ۔ گھریلو ملازمین‘ ایک بڑی اور ایک بہت بڑی گاڑی۔
 
یہ ہارون رشید کے دنیا اخبار میں چھپے کالم سے اقتباس ہے ۔
 
وسیم اکرم پلس بتایا تھا کپتان نے سائیں عثمان بزدار کو ۔ ان کے گھر میں بجلی نہیں تھی یہ ان کی نامزدگی کا کرائٹیریا تھا ۔
 
سردار عثمان بزدار کی نامزدگی اپن کو پسند بھی آئی تھی سمجھ بھی آئی تھی ۔ اک وقت میں( دو ہزار چھ سات) ہم پولیٹکل میپنگ کرتے رہے ۔ پاکستان کی سیاسی ڈائنامکس پر غور ۔ اس کی اک تھکا دینے والی لمبی ایکسرسائز کا حصہ رہا ۔ پاکستان بھر کا سفر ، ملاقاتیں سروے سوالات ۔
 
کچھ عجیب سے نتائج نکلے تھے ۔ مثال کے طور پر اگر اک پڑھا لکھا بلوچستان کا بلوچ جماعت اسلامی کا امیر بن جائے تو اس پارٹی میں بہت جان پڑ سکتی اور یہ حیران کن نتائج دے گی ۔
 
پنجاب کا وزیر اعلی اگر کسی پنجابی بلوچ کو بنا دیا جائیں جس کا پس منظر تھوڑا قبائلی ہو تو بہت مزے کی تبدیلیاں متوقع ہیں ۔
 
یہ سب دھول مٹی ہوا ۔
 
کچھ دن پہلے کراچی سے اک دوست نے پوچھا کہ یار یہ ڈی جی خان والوں میں اتنا احساس کمتری کیوں ہوتا ۔ جواب نہیں دیا ، کوئی تھا بھی نہیں کہ جواب دیتا ۔
 
اک آنکھوں دیکھی دکھ کہانی یاد آ گئی ۔ اک بار کہیں مہمان ہوا تھا ، میزبان غریب تو نہیں تھے پر شہری حساب سے خوشحال بھی نہیں تھے ۔ سفر میں اک سینڈوچ خریدا تھا جو بستر کے پاس رکھ کر سو گیا ۔
 
سویرے اٹھ کر منہ دھونے گیا ، میزبانوں کا اک لڑکا سکول جانے کو تیار تھا پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی دیہاتی پرائیویٹ سکول والی وردی ۔ اس نے چارپائی کے پاس سے گزرتے وہ سینڈوچ اٹھا کر کھانا شروع کیا ۔
 
باپ نے دیکھا تو لاتیں تھپڑ مارے کہ دفع ہو سکول جا ، شرم کر بے غیرتا مہمان کی چیز اٹھاتا کھاتا ہے ۔ اس بچے کو بچانے کے لیے دوڑا پھر رک گیا ۔ بچہ تھپڑ لاتیں سہتا سینڈوچ کھاتا رہا ۔ باپ دھکے دیتا رہا ۔ بچہ سر جھکائے سینڈوچ کی طرف ہاتھ بڑھاتا رہا کہ کھا لوں ۔
 
کھانا بھول جاتا ہوں جب یہ سب یاد آتا ہے۔ امید تھی کہ جب کوئی بھوک محرومی کو دیکھتا بھالتا اختیار سنبھالے گا تو ایسا بچہ ایسی حسرت پھر دیکھنے کو نہیں ملے گی ۔ پر سائیں عثمان بزدار امید ٹوٹ گئی یہ بچہ ابھی مار کھاتا رہے گا کہ آپ کی اپنی حسرت ابھی باقی ہے ، اس  بچے کی حسرت ابھی ویسی ہی رہے گی ۔ 
Facebook Comments HS

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi