!جیسنڈا آرڈن کے نام


ڈئیر جیسنڈا

گزشتہ کئی روز سے میں یہ دیکھ دیکھ اور سوچ سوچ کر پریشان ہوں، کہ ایسا کیا ہو گیا ہے جو مشرق سے لے کر مغرب تک ہر کوئی بے قرار ہے، ہر آنکھ اشک بار ہے اور ہر دل سوگ وار ہے۔ اور مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ یہ سب صرف 49 غریب الوطن مسلمان نمازیوں کے سوگ میں ہے جو کسی مذہبی جنونی کی گولیوں کی زد پر آئے۔
ان بے سر و ساماں لوگوں کے لیے تم نے کاہے کو تکلیف کی اور آنسو بہائے؟

کیا تمہیں کسی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تو روز مرتے ہیں، روز ان کے گھر اجڑتے ہیں اور 49 تو عدد ہی کیا، ان کے مقتولین کی تعداد تو دن میں ہزاروں میں جا پہنچتی ہے، تم نے ناحق خود کو ان کے غم میں ہلکان کیا۔

اعداد و شمار کی بات کروں تو فلسطین، شام، یمن، عراق، افغانستان، برما، کشمیر کو تو چھوڑو کیونکہ وہ مہذب ملکوں کے نشانے پر ہیں، امید ہے وہاں قتل بھی تہذیب سے ہوتے ہوں گے، اتنے تھوڑے سے لوگ تو ہمارے ہاں گلیوں میں چلتے پھرتے مار دیے جاتے ہیں، یہ تو پھر نمازی تھے، تسلیم شدہ شہید۔

اور ڈئیر جیسنڈا! شہادت کے رتبے کو تم کیا جانو؟

تمہیں کیا خبر کے شہید ہونے کے لیے ہماری قوم ترستی ہے اور کوئی نہ کوئی رحم دل ہماری اس حسرت کو پوری کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔

ڈئیر جیسنڈا!
یہ سب لوگ تو صرف گولیوں کا نشانہ بنے، اور تمہاری آنکھوں سے لہو ٹپک پڑا، تمہیں ہمارے ارباب اختیار کے حوصلے کی داد دینی پڑے گی جن کے لوگوں کے جسموں کے پر خچے اڑ جاتے ہیں، مگر ان کے عزم میں لغزش اور آنکھوں میں ندامت تک نظر نہیں آتی۔

تم صرف 49 غیر مذہب کے لوگوں کے لیے گھر سے نکل پڑی، ہمارے جوان مردوں کے منہ سے سیکڑوں ہم مذہبوں کے لیے ہم دردی کے دو بول نہیں نکلتے۔

سیکھو، کچھ تو سیکھو، ہم تو 100، 100 جنازوں کو ان کے پیاروں سمیت دنوں برف پر نہ بٹھائے رکھیں تب تک تعزیت کے لیے نہیں جاتے، کچھ تو ہم سے سیکھو۔

ڈئیر جیسنڈا! تم کیسے وزیر اعظم بن گئی، کیا تمہیں کسی نے نہیں بتایا کہ مسلح مسلمان کا قتل، دہشت گردی کا خاتمہ اور نہتے مسلمان کا قتل کولیٹرل ڈیمیج ہے؟

اوہ اب یاد آیا تمہارا افسوس شاید اس لئے ہے کہ وہ سب تمہارے ملک میں رہتے تھے، تمہارا ملک جسے امن سے رہنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا تمہارے باقی ساتھی ممالک کو۔ اور کرائسٹ چرچ، کابل اور کراچی میں صرف اسپیلنگز ہی کا تو فرق نہیں۔

تمہارے درد کی وجہ تو ہمیں سمجھ آ گئی مگر ڈئیر جیسنڈا ہم سے ابھی کسی اظہار افسوس کی امید مت رکھنا کیونکہ ایک تو ہمارے احساس دکھ کی خبریں سن سن کر سن ہو چکے ہیں، دوسرا کل ملا کر ان سب میں 10 سے کم پاکستانی تھے۔

تیسرا اور سب سے اہم، ابھی تک نیوزی لینڈ نے مقتولین کے فرقوں اور مسالک کی فہرست فراہم نہیں کی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ان میں سے کون سیدھا جنت میں گیا ہے، کون تھوڑا بل کھا کر اور کون جہنم میں جا گرا ہے۔

Facebook Comments HS