جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے یا جو دکھاؤ گے وہی دیکھا جائے گا؟
پیمرا کے مطابق اس وقت پاکستان میں 90 کے قریب لائسنس یافتہ ٹی وی چینل ہیں۔ ان چینل کوپروگرام کی نوعیت کے لحاظ سے تفریح، خبرو حالات حاضرہ، مذہب، مارننگ شوز، کارٹون، کھیل اور صحت کے شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر میڈیا ہاوٗسز میں جس حکمت عملی کو مرکز بنا کر سارے پروگرام بنائے جائے جاتے ہیں وہ ہے، جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ مطلب یہ کہ وہ دکھایا جائے جو لوگ ٹی و ی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس چیز کا ادراک کرنے کے لئے چینل ریٹنگ کا استعمال کرتے ہیں۔
سو، اس لحاظ سے یہ سوال اہم ہے کہ لوگ ٹی وی دیکھتے کیوں ہیں؟ ایک تحقیق کے مطابق لوگ روزمرہ کے معمولات سے ہٹ کر کچھ اچھا وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ چونکہ، ٹی وی ایک خاندان کو جوڑنے کا بھی باعث ہے سو لوگ اس بہانے مل جل کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کیونکہ تفریح انسان کی بنیادی ضرورت ہے لہذا ٹی وی ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنی پسند کی چیزوں (پروگراموں ) سے دل بہلانا انسان کو نفسیاتی طور پر ہلکا کرتا ہے لہذا ٹی وی ترجیح بن جاتا ہے۔
پاکستان میں میڈیا کی صنعت میں جس رفتا ر سے ترقی ہوئی، چینل اس رفتار سے ناظرین کو اپنی گرفت میں نہ رکھ سکے۔ ایک نجی ادارے کی تحقیق کے مطابق، ایک عام پاکستانی ہر روز 2۔ گھنٹے ٹی وی کو دیتا ہے، جبکہ 2008 میں یہ وقت ڈھائی گھنٹے سے زیادہ تھا۔ آج جب چینل کی تعداد بھی 2008 کے مقابلے میں زیادہ ہے تو اس انڈسٹری کے لئے یہ حقیقت باعث فکر ہونی چاہیے کہ ایسا کیا ہوا، کہ لوگ سکرین سے ہٹتے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے، اس کی وجہ بہت سی ہوں جیسے، ٹی وی کی جگہ انٹرنیٹ پر تمام پروگرام دستیاب ہوتے ہیں، جنھیں لوگ اپنی سہولت اور وقت کی دستیابی کے حساب سے دیکھتے ہوں۔
مگر اس میں دو، رائے نہیں کہ ریٹنگ کی اس دوڑ میں ٹی وی پروگرام کا معیار کہیں پیچھے، بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ جانے یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ اگر چینلز کچھ ہٹ کر دکھائیں گے تو وہ دیکھا نہ جائے گا۔ اگر 200۔ 2001 کا وقت یاد کریں تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں ہو گا کہ خبر اور حالات حاضرہ کو کوئی خاص پزیرائی حاصل نہ ہوئی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ لوگوں کو اس سب کی عادت ہوگئی۔ سو، چینلز اگرآج بھی کچھ بدل کر یا نیا دکھانا چاہیں تو امکان موجود ہے کہ لوگ آخر کار اچھے پروگراموں کو دیکھنا شروع کر دیں گے۔ ہو سکتا ہے اس میں تھوڑی دیر لگ جائے مگر یہ ناممکن ہر گز نہیں۔
اسی ادارے کی تحقیق کے مطابق 60 فیصد لوگ خبرو حالات حاضرہ پر مبنی پروگرام دیکھتے ہیں۔ جن میں زیادہ تر ٹاک شوز ہوتے ہیں۔ ان ٹاک شوز کا ایک لگا بندھا فارمیٹ ہوتا ہے۔ کوئی سیاسی و انتظامی نوعیت کی دن کی خبر یا کسی بھی سیاسی لیڈر کا شوشہ، موضوع گفتگو ہوتا ہے۔ حکومت، حزب اختلاف کے نمائندے اورایک آدھ تجزیہ نگار کو پروگرام میں شامل کرکے 45 منٹ کی قلیل مدت میں لایعنی، لا حاصل اور بے ثمر گفتگو کا کھیل شروع کیاجاتا ہے۔
خال ہی دیکھا گیا ہے کہ ان پروگراموں میں مدعو کیے گئے لوگ کبھی کسی کی بات سے متفق ہوں۔ سات سے رات گیارہ بجے تک، ایک ہیجان، اور ڈس انفارمیشن کا بازار گرم رہتا ہے۔ رہی سہی کسر، میڈیا کی روز کی ریٹنگ کی دوڑ، جس میں سنسنی اور سسپنس مرکز توجہ بنایا جاتا ہے، پوری کر دیتی ہے۔ تحقیق کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ لہذا بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ میڈیا کی موجودگی نے بہت سے اداروں کو سیدھا چلنے کے لئے محتاط کر رکھا ہے۔
مگر، اس ہیجان کا ذمہ دار کون ہے جو آج لوگوں میں سیاست کے نام پر بکنے و الے منجن کا مرہون منت ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں وہ پہلے سے باشعور ہو رہے ہیں، میڈیا ہاؤ سز اپنے تئیں ریاست کا چوتھا ستون بنے ہیں۔ مگر درپردہ یہ صرف ایک کاروبار ہے اور کچھ نہیں۔ ان ٹاک شوز کے طفیل سیاسی بلوغت اور شعور کے پردے میں کیا دیا جا رہاہے۔ یہ سمجھنے سے ہم تو قاصر ہیں۔ مگر آپ لوگ بطور نا ظرین کیا سمجھتے ہیں؟
کسی سیانے نے کہا تھاکہ ہر شخص کو سیاسی ہونا چاہیے۔ جس کا یقینی طور پر یہی مطلب ہو گا کہ ہر شخصکسی نہ کسی سیاسی پارٹی یا نظریے کو بوجوہ پسند کرے۔ مگر اس کے لئے یہ ضروری تو نہیں کہ پانچ سال بعد ہونے والے انتخابات کے لئے روز کی بنیاد پر ایک سیاسی اکھاڑہ میڈیا پر سجایا جائے؟ سیاسی پارٹیوں کے لوگ بٹھا دیے جائیں اور بدنیتی کے ساتھ وہ سوال پوچھے جائیں جن سے اختلاف ایک ایسی نہج تک پہنچے جائے جہاں برداشت جواب دے جائے اور لوگ اس سب بد تہذیبی سے محظوظ ہونے لگیں۔
نتیجے کے طور پر ریٹنگ میڑ پر آپ کے چینل کی کارکردگی ابھر کر سامنے آئے۔ حکومت کی کارکردگی جانچنے کو لوگوں کی اپنی قائم کی گئی رائے بہت اہم ہے۔ لوگ بازار جاتے ہیں، سفر کرتے ہیں، ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، لا تعدا مسائل اور حل ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں جو انھیں یہ سمجھانے کے لئے کافی ہیں کہ کون سی حکومت کتنا اور کیسا اچھا یا برا کام کرتی ہے۔ جانے کیوں میڈیا نئے تجربات کرنے سے کیوں گھبراتا ہے؟
میڈیا کا معاشرے کے لئے تعمیری کردار کیا ہے؟ اس سوال کے بھی کئی جواب ہو سکتے ہیں مگر ظاہر ہے ہیجان برپا کرنا اس کا کسی صور ت کوئی کردار نہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح سے ٹی وی سکرین کو لوگوں کو مایوس بھی نہ کرنا چاہیے کہ لو گ اس خیال سے کہ کوئی ڈھنگ کی چیز تو آنہیں رہی، سو، سیاست کی بجتی ڈگڈگی دیکھنا شروع کر دیں۔ ایک زمانہ تھا، جب پی ٹی وی واحد چینل تھا اور اس پر نشر ہونے والے پروگراموں کا لوگ بے صبری سے انتظا ر کرتے تھے۔
چاہے وہ کوئی ڈرامہ ہو یا سٹیج شو یا پھر ذہنی آزمائش کا پروگرام، ہر نوعیت کا پروگرام ایک مقصدیت، علمی تحقیق اور تہذیب کے دائرے کے اندر گندھا ہوا ہوتا تھا۔ یہ بات کہاں تک درست ہے اور کہاں تک غلط یہ کہنا تو مشکل ہے مگر، میڈیا پر جو کچھ آتا ہے اس کا جائزہ لینے کے بعد یقین نہیں آتا کہ لوگ واقعی ہی یہ سب کچھ دیکھنا چاہتے ہیں؟
بحرحا ل اگر میڈیا کاروبار کے ساتھ ساتھ واقعی ہی معاشرے کی علمی اور صحتمندانہ تفریح کے لئے کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اس کو اپنے پروگرام اور ان کے فارمیٹ میں تعمیری قسم کی تبدیلی کرنا پڑے گی۔ ایسے پروگرام جو اپنی سنسنی کی وجہ سے لوگوں کا بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث نہ ہوں، بلکہ لوگوں کو معیاری تفریح فراہم کریں۔ اس ضمن میں درج ذیل تجاویز پر غور کیا جاسکتا ہے۔
1۔ ایسے ڈرامے دکھائیں جائیں، جن میں معاشرے کے اہم مسائل دکھائے جائیں۔ ڈراموں کو ایک کنال کے گھروں، قیمتی گاڑیوں سے کھینچ کر وآپس ان لوگوں کی زندگی اور ان کے مسائل پر لایا جائے جس کا حصہ اس ملک کے اکثریتی لوگ ہیں۔ این۔ جی۔ اوز کے سپانسرڈ موضوعات کی حقیقت سے انکار نہیں، مگر، وہ زمینی حقائق سے کوسوں دور اور مبالغہ آمیزی کو دکھا کر اپنے فنڈز کو جواز فراہم کرتی ہیں۔
2۔ مارننگ شوز میں دکھائی جانیوالی شادیاں، میک اپ کے انداز اور بد تہذیبی پر مشتمل مواد کو فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جانے کیوں اتنے قیمتی وقت پر جب گھر پر موجود خواتین کو کچھ اچھا دکھائے جانے کی ضرورت ہے، یہ تھرڈ کلاس شوز کون سی آبادی کے نمائندہ شوز ہیں۔ اگر ان کو بہتر کرنے کی تھوڑی سی بھی خواہش ہو تو محض نوے کی دہائی کے پی ٹی وی کے پروگرام دیکھ کر ان کے معیار کو بہتر بنا یا جاسکتا ہے۔
3۔ ایک زمانے میں ذہنی آزمائش کے پروگرام کتنے ہی لوگوں کے پسندیدہ تھے۔ مگر آج جب اتنے چینلز ہیں کسی کو خیال ہی نہیں آتا کہ کو ئی ایسا سلسلہ شروع کریں جس سے ان اذہان کی تربیت ہو جو آنے والے دنوں میں اس قوم کا مستقبل ہیں۔ کتنے لوگ، کسوٹی، پنجند، نیلام گھر جیسے شوز کے سحر میں آج تک مبتلا ہیں۔
4۔ سائنس کا داخلہ ہمارے ٹی وی چینلز پر بالکل بند ہے۔ کوئی ایسا پروگرام نہیں جن میں سائنسی موضوعات اور اس سے جڑی گتھیوں کو سلجھانے کی حیران کن بات ہو۔ نئی ایجادات کی بات ہو، نئے سائنسی مقالات کی بات کی جائے۔ کچھ تو اس طرف بھی توجہ ہو کہ کئی پیاسے ذہن اس میدان کے بھی رسیا ہیں۔
5۔ اسی طرح کسی کتاب، یا اس کے مصنف پر کبھی کوئی سیر حاصل گفتگو یا تبصرہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ افسوس ہے کہ مباحثہ کے لئے ٹی وی چینلز نے جن لوگوں کا انتخاب کیا ہے، ان سے یہ قوم مباحثہ کی غلط روش سیکھ رہی ہے۔ موضوعات کی بھرمار ہے۔ مگر کوئی یہ تجربہ کرنے کو تیا ر ہی نہیں۔
6۔ سیاحت، تاریخ، آثار قدیمہ، بچوں کی صحت، اچھی تربیت، روزگار کے طریقے، تعلیم کا حصول اوردستیاب تعلیمی ادارے جیسے موضوعات بہت سے لوگوں کے فائدے کا باعث ہو سکتے ہیں۔ مگر چونکہ سیاست فی زمانہ چینلز والوں کے ذہن پر چھائی ہوئی ہے لہذا موضوعات بھی وہی اہم ہیں اور مہمان کے طور پر بلائے جانیوالی شخصیات بھی سیاسی ہیں۔
7۔ سیاست پر بات کرنا اگر اس قدر ناگزیر ہو تو روز بہ روز آنے والے سیاست دانوں کے بیانات سے ہٹ کر کچھ اچھوتے اور مفید مو ضو عات پر بات کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔ جیسے لوگوں کو مختلف اداروں کے مقاصد بتا کر انھیں راہنمائی دینا، کسی بھی ادارے کے خلاف شکایات کے طریقے بتا کر ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرنا، پاکستان کے مختلف شہروں کے مسائل اور اس شہر کے سیاسی نمائندوں کی کارکردگی دکھانا، شہریوں کو اپنے کون سے مسائل کو کہاں رپورٹ کرنا ہے تاکہ ان کے مسائل کا ازالہ ہو سکے، وغیرہ، وغیرہ۔
اس سے زیادہ ستم ظریفی کا عالم کیا ہوگا کہ کہاں تو مستنصر حسین تارڑ، توثیق حیدر جیسے خوبصورت طرز گفتگو کرنیوالے میزبان صبح کے پروگرام کرتے تھے اور کہاں اب کچھ لوگ جو بظاہر تو میزبان ہیں مگر بڑے ہی حضرت ہیں اور نہ جانے صبح کے وقت کیا اودھم مچا کر رکھتے ہیں۔ کہاں نعیم بخاری، دلدار پرویز بھٹی اور ضیا محی الدین جیسے نابغہ روزگار لوگ جن کا پروگرام خوبصورت اور شستہ مزاح سے بھرپور اور دانشورانہ اور پر مغز باتوں سے لبریز ہوتا تھا اور کہاں یہ لوگ جو نہ جانے کون سی زبان بولتے ہیں اور کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اصول فطرت پر جائیے تو امید ہے کہ بلا آ خر، ان بناوٹی اور پھیکے پروگراموں سے لوگ اکتا ہی جائیں گے، مگرکیا بہتر نہیں کہ اس سے پہلے میڈیا اپنی پروگرام سکیم اور معیار پر کام کرنا شروع کردے۔


