مئی 2010 اور مارچ 2019: ہم واقعی منافق ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حامد میر صاحب کا کالم ”ہمارا اصل قصور، ہماری منافقت ہے“ پڑھا تو یادوں کے دریچے وا ہوتے چلے گئے۔ یہ یادیں مجھے 2010 میں لے گئیں۔ میں نے دیکھا :

وہ بھی باپ تھے۔ بھائی تھے۔ بیٹے تھے۔ ان کی بھی راہ تکتی مائیں تھیں۔ صدقے واری جاتی بیٹیاں اور بہنیں تھیں۔ انہیں بھی ماؤں بہنوں بیٹیوں نے نما زجمعہ کے لئے بھیجا تھا۔ ان میں بچے بھی تھے۔ نوجوان اور بوڑھے بھی تھے۔ ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی تھے۔ وطن کی خدمت کے تمغے سینے پرسجانے والے ریٹائرڈ جنرل بھی تھے اور قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار مستقبل کا سرمایہ نوجوان بھی تھے۔ یہ مئی 2010 تھا۔

جمعہ کا دن اور نماز کا وقت تھا۔ پنجاب کے دل لاہور میں ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو کا علاقہ تھا۔ یہ کوئی دیار غیر تھا نہ وطن ثانی۔ مرنے اور مارنے والے غیر مذہب کے تھے نہ غیر قوم کے۔ مرنے والے بھی اپنے تھے اور مارنے والے بھی اسی سرزمین کے باشندے تھے۔ لیکن منافقت آڑے آئی تو حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہوئی نہ سول سوسائٹی اور میڈیا۔

نیوزی لینڈ میں درجنوں بے قصور مسلمان نمازیوں کی شہادت کا واقعہ اتنا وحشت ناک ہے کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ وہاں شہید ہونے والے بہرحال دیار غیر میں تھے۔ اس ملک کو اپنی مرضی سے انہوں نے اپنا وطن بنا لیا تھا۔ کیوں بنایا تھا یہ الگ کہانی ہے۔ ایک عیسائی شدت پسند اور مذہبی جنونی کے ہاتھوں بے قصور مارے گئے۔ ان شہادتوں کے لئے آج قومی پرچم سر نگوں ہے تو ہونا بھی چاہیے تھا۔ قومی اور حکومتی سطح پر افسوس اور تعزیت کے پیغامات جاری ہو رہے ہیں تو ہونے بھی چاہییں۔ لیکن میرے اپنے ہی وطن میں نیوزی لینڈ واقعہ سے دوگنی تعداد میں ایک ہی دن مرنے والوں کے لئے صاحبان اقتدار کے پاس الفاظ کا ذخیرہ کیوں ختم ہو گیا تھا۔ لب خاموش اور زبانیں گنگ کیوں ہو گئی تھیں۔

واقعی ہمارا مسئلہ منافقت ہے۔ بلکہ اعلیٰ درجے کی منافقت ہے۔ درویش کے نزدیک تو یہ بھی شہید ہیں اور وہ بھی شہید تھے۔ یہ بھی بے قصور نمازی تھے اور وہ بھی بے قصور نمازی۔ وہ بھی انسان تھے اور یہ بھی انسان ہیں۔ اُن پر جاہلانہ حملہ بھی قتل انسانیت تھا اور یہ شدت پسندانہ اور جنونی حملہ بھی انسانیت کا قتل ہے۔

لیکن سانحہ گڑھی شاہوں اور ماڈل ٹاؤن کے وقت ہماری منافقت عروج پر کیوں تھی۔ یہی میڈیا جو آج سوگ کی کیفیت میں ہے، اس نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ احمدیوں پر حملے کو تصادم قرار دے دیا جائے۔ نماز جمعہ کو قادیانیوں کی عبادت گاہ اور ان کی مسجد کو قادیانی عبادت گاہ لکھا پڑھا اور بولا گیا۔ ایک بے حس معروف اینکر صاحب تو بہت دور کی کوڑی لائے اور کہا قادیانیوں کی عبادت گاہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے یوم پیدائش کے حوالے سے تقریبات ہو رہی تھیں۔ یا للعجب۔ اس بے چارے کو یہ بھی علم نہ تھا کہ آج تک احمدیوں نے اپنے امام کا یوم ولادت منایا نہ یوم وفات۔ کہ وہ ایسے عمل کو بدعات شمار کرتے ہیں۔

واقعی ہمارا مسئلہ منافقت ہے! آج ہم ایک غیرمسلم ملک کی غیرمسلم حکمران وزیر اعظم کے اقدامات پر تعریف کے ڈونگرے برساتے ہوئے تھک نہیں رہے۔ لیکن خود ایسے اقدامات کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے جو کیا ایک انصاف پسند حکمران اور خادم قوم و ملک کو ایسا ہی کرنا چاہیے تھا۔ مصیبت کے وقت میں پورے قد کے ساتھ جرأت اور بہادری کے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی عظمت کا ثبوت دیا ہے۔

مسلمانوں کے رنگ میں رنگین ہو کر ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر خوبصورت روایت کو جنم دیا ہے۔ اس اخلاقی جرأت کو ہم اسلامی اخلاقیات کا پرتو کہ سکتے ہیں جس پر آج غیر مسلم عمل پیرا ہیں۔ لیکن ہماری منافقت کیوں ہمیں اپنے ہی مسلمان بھائیوں، مسیحی اور احمدی بھائیوں کے اندھا دھند قتل پر رسمی مذمت کے الفاظ بھی ہمارے منہ سے نکلنے نہیں دیتی۔ ہم ایسے اخلاق اپنانے کی جرأ ت کیوں نہیں کر سکتے۔ کیا واقعی ہمیں صرف سرحد پار اور سات سمندر پار ہی گرتا خون، خون دکھائی دیتا ہے۔ یہی خون اپنے شہر گاؤں گلی محلے میں بہتا ہوا ارزاں اور بے وقعت دکھائی کیوں دیتا ہے؟ ہم افسوس کرنے سے قبل یہ پوچھتے ہیں کہ مرنے والے کون تھے؟ ۔ ہمارے والے تھے یا دوسرے والے۔ مسجد احمدیوں کی تھی یا شیعہ سنی وہابی اور بریلوی کی تھی۔

یادش بخیر سانحہ گڑھی شاہوں پر احمدیوں سے افسوس کرتے ہوئے سیاسی رہنما کے منہ سے ”احمدی ہمارے بھائی ہیں“ کے الفاظ ادا ہو گئے۔ تو خدائی فوجدار لٹھ اٹھا کر اس کے پیچھے پڑ گئے۔ فسخ نکاح کی وعید سنا ڈالی۔ دین و ایمان کے ضائع ہونے کی خبر دے دی تھی۔ اور جب ایک صاحب عظمت ہمت کر کے گڑھی شاہو میں ہمدردی کے دو بول بولنے کے لئے پہنچ گیا تو اس کا قصور بھی کبھی معاف نہ کیا گیا۔

مجھے جستجو ہوئی کہ اصل بیماری کی جڑ تک پہنچے والے حامد میر خود تو منافقت کی اس بیماری سے مبرا ہوں گے۔ سمندر پار دہشت گردی کی مذمت کرنے والے ہیں تو اپنے ملک میں احمدیوں کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی زیادہ دکھائی دیتی ہوگی۔ ان کا خون بھی انہیں قیمتی دکھائی دیتا ہو گا۔ اسی شد و مد کے ساتھ ان کے قتل ناحق کی مذمت انہوں نے کی ہو گی۔ لیکن تلاش بسیار کے بعد بھی ایسا بیان تلاش کرنا حسرت ہی رہی۔ واقعی ”ہمارا اصل قصور ہماری منافقت ہے۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •