پہنچی وہیں پہ خاک: خشونت اور کلدیپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 45
  •  

2007 ء کے شروع میں بھارت سے میرے ایک دوست خواجہ افتخار احمد صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا کہ اپریل کے ماہ میں دہلی میں ایک عالمی کانفرنس منعقد کرنے جا رہے ہیں، آپ نے اس میں پاکستان سے ایک گروپ لے کر آنا ہے اور آپ پاکستان سے نامزد کیے گئے مندوبین کی قیادت کریں گے۔ اس گروپ میں میری طرف سے جن لوگوں کو نامزد کیا گیا، اُن میں موجودہ وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی، ڈاکٹر انور سجاد، خطیب بادشاہی مسجد لاہور مولانا عبدالخبیر آزاد، فاروق طارق، رانا احتشام ربانی، ریما گوئندی اور دیگر لوگ شامل تھے۔

اس کانفرنس کے دوران معروف بھارتی ادیب و صحافی کلدیپ نیئر کو جب ہماری آمد کا علم ہوا تو انہوں نے مجھ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیاکہ میں پاکستان سے آئے آپ تمام دوستوں کو ڈنر پر مدعو کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ڈنر ایک یادگار محفل تھی، جس میں پاک بھارت تعلقات، برصغیر میں ملٹرائزیشن اور پاکستان میں جمہوریت سر فہرست موضوعات تھے۔

کلدیپ نیئر صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات نہیں تھی، جب میری اُن سے پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے یہ کہہ کر چونکا دیا:

”ہاں گوئندی، سیالکوٹ میں بڑے نمایاں خاندانوں میں سرفہرست تھے۔ اور میرے اجداد کے آپ کے خاندان سے دہائیوں نہیں صدیوں سے تعلقات ہیں۔ بَن جاجواہ کے سکھ گوئندی اور متراں والی کے مسلمان گوئندی، متراں والی والے گوئندی بیسویں صدی کے آغاز میں لوئر جہلم کینال بننے پر نئے شہر (سرگودھا) کو آباد کرنے سرگودھا چلے گئے۔ “

کلدیپ نیئر سے یہ ملاقات اسّی کی دہائی کے ایک سفر میں ہوئی۔ ملاقات کے آغاز میں انہوں نے اپنی کتابوں کی شیلف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ”گوئندی صاحب! آپ کی یہ کتاب“ میرا لہو ذولفقار علی بھٹو کی سیاست و شہادت ”دلچسپ کتاب ہے۔ میرے لیے یہ بات بھی دلچسپی کا باعث بنی جو آپ نے کتاب میں لکھا ہے کہ بھٹو، راجپوتوں کا یہ قبیلہ دو اڑھائی صدیاں پہلے انبالہ کے ایک گاؤں بھٹو کلاں سے ہجرت کر کے سندھ جا آباد ہوا۔ “

ایک جوشیلے اور جستجو سے بھرپور نوجوان کی حیثیت میں دنیا کے ایک معروف صحافی سے پہلی مرتبہ ملاقات اور اپنی کتاب کو ان کے مطالعے کی نظر دیکھ کر جو خوشی ہوئی، وہ بیان سے باہر ہے۔

مجھے یاد ہے جب ”میرا لہو“ چھپ کر آئی تولاہور کے معروف ترقی پسند پبلشنگ ہاؤس جس کے سربراہ جناب رؤف ملک تھے، اُن کے منیجر جناب مصطفی وحید مرحوم نے مجھے ڈھونڈ کر فون کیا اور ہر آئے روز بڑی تعداد میں مجھے سے میری پہلی کتاب بڑی تعداد میں خریدتے۔

ایک روز انہوں نے پندرہ کتابوں کا آرڈر دیا اور کہا کہ یہ بھارت کے دفتر خارجہ نے منگوائی ہیں۔

”میرا لہو“ میں تاشقند معاہدہ، شملہ معاہدہ، 1965 ء کی پاک بھارت جنگ، 1971 ء کی جنگ، مشرقی پاکستا ن کی علیحدگی کا کافی ذکر ہے۔ تاشقند معاہدے کے ذکر پر اس باب میں جناب کلدیپ نیئرصاحب کی طرف سے اپنی کتاب ”The Critical Year“ میں کیے گئے اپنے ذکر کا حوالہ دیا گیا ہے۔

میں نے دنیا میں جہاں گردی کے لیے پہلا دروازہ واہگہ سرحد سے کھولا تھا۔ میری جہاں گردی کا یہ در کیا کھلا، اب بھارت کے بڑے بڑے دانشوروں کے دروازوں تک میرے قدموں کو رسائی ہو گئی، جن میں ذوالفقار علی بھٹو کے دوست پیلو مودی، معروف اداکار آئی ایس جوہر، شبانہ اعظمی کے والد کیفی اعظمی سے لے کر دنیا بھر میں شہرت پانے والے انڈر ورلڈ کے حاجی مستان مرزا شامل ہیں۔ اسی جہاں گردی میں، میں کلدیپ نیئر کے ہاں بھی جا پہنچا، جاننے اور جستجو کے جذبات کے ساتھ۔ اور یوں 1947 ء میں ٹوٹے رابطوں کے بعد، کلدیپ نیئر اپنی ماں دھرتی سے آئے ایک نوجوان سے مل کر بہت خوش ہوئے۔

بعد میں نوّے کی دہائی میں کلدیپ نیئر، پاک بھارت تعلقات میں ایک سرگرم شخصیت کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے لگے، اور ان کے کالم بھی پاکستانی اخبارات میں چھپنے لگے۔ اور ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران میں نے انہیں ایک مرتبہ پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام تناظر میں بھی بلایا۔ یہ انٹرویو آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے اور پھر ایک پرائیویٹ چینل میں متعدد بار فون کال پررابطہ کر کے اُن سے مختلف اوقات میں ان کا نکتہ نظر آن ائیر کیا۔

چند سال قبل جب خشونت سنگھ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تو ان کے آبائی گاؤں ہڈالی سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی ادیب جناب محمد علی اسد بھٹی نے مجھے فون کیا کہ ہم نے اپنے گاؤں کے سپوت خشونت سنگھ کا ریفرنس رکھا ہے، آپ نے تشریف لانی ہے۔

محمد علی اسد بھٹی بھی کمال کی شخصیت ہیں۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود وہ ادبی سرگرمیاں برپا کرنے میں یکتا ہیں۔ اور اپنی سرگرمیوں کے سبب خشونت سنگھ کے بھی بہت قریب تھے۔

اس تقریب کے سلسلے میں، میں ہڈالی میں اس سکول میں پہنچا جہاں خشونت سنگھ نے بچپن میں تعلیم حاصل کی تھی اور جنرل ضیا الحق کے دور میں انہوں نے اس سکول کا دورہ بھی کیا۔ یہ ایک بھر پور تقریب تھی اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر بھی وہاں موجود تھے۔ میں جب تقریر کرنے سٹیج پر آیا تویکایک تقریر کے دوران ہی میں نے کلدیپ نیئر صاحب کو فون کردیا۔

انہوں نے فون اٹھایا، میں نے انہیں کہا کہ میں اس وقت خشونت سنگھ صاحب کے گاؤں اُن کے سکول میں ان کی یاد میں منعقدکی جانے والی تعزیتی تقریب میں موجود ہوں، آپ اپنے دوست خشونت سنگھ کے لیے مقامی لوگوں سے خطاب کریں۔

کلدیب نیئر نے گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیا۔

”خشونت سنگھ میرے دوست اور لاہور میں طالب علمی کے زمانہ میں استاد بھی رہے۔ “

اور پھر وہ پندرہ بیس منٹ ہڈالی کے لوگوں سے اس گاؤں کے سپوت کے حوالے سے بولتے چلے گئے۔ خشونت سنگھ کی وصیت تھی کہ انہیں سکھ رسم کے مطابق جلایا نہ جائے بلکہ ان کا جسد خاکی ہڈالی کی خاک میں دفن کردیا جائے جہاں انہوں نے جنم لیا تھا۔

خشونت سنگھ کے اہل خانہ نے اُن کی وصیت کے مطابق اُن کے جسد خاکی کو ان کے گاؤں ہڈالی میں دفن تو نہ کیا، البتہ ان کی ارتھی کی راکھ کو ایک تختی کے مصالحے میں ڈالا اور پھر یہ تختی ہڈالی کے ایک سکول کی دیوار پر لگا دی گئی، جس پر لکھا ہے :

In memory of

Sardar Khushwant Singh

( 1915۔ 2014 )

A SIKH، A SCHOLAR AND A SON OF HADALI (Punjab)

”This is where my roots are۔ I have nourished them with my tears of nostalgia۔ “

تقریب کے دوران محمد علی اسد بھٹی نے کہا کہ جانے سے پہلے میری ایک بات سن کر جائیے گا۔

جب یہ تقریب ختم ہوئی تو محمد علی اسد میرے پاس آئے اور کان میں کہنے لگے کہ میرے پاس آپ کی ایک امانت ہے۔ پھر انہوں نے ہاتھ سے چلنے والی آٹا پیسنے والی سیاہ پتھر سے بنی ایک وزنی چکی میرے حوالے کر دی۔ یہ وہ چکی تھی جسے خشونت سنگھ کی ماں گھما گھما کر آٹا پیستیں۔ خشونت سنگھ، ہڈالی میں اگنے والی گندم سے بنی روٹی کو کھا کر پلے بڑھے اور یہ گندم اسی چکی میں آٹا بنتی اور تندور سے روٹی۔

خشونت سنگھ کی ماں کی سیاہ پتھر سے بنی یہ چکی اب میرے ڈرائنگ روم میں تاریخ کی ایک نشانی کے طور پر سجی ہے۔

کلدیپ نیئر نے صحافت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، مگر سفارت کاری اور عملی سیاست کے میدان میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ مختلف موضوعات پر پندرہ کتابیں لکھیں، اپنی سوانح عمری ”Beyond the Lines“ کے اردو ترجمہ کی اشاعت کے لیے اُن کی خواہش تھی کہ اسے میں اپنے اشاعتی ادارے کے تحت شائع کروں۔ افسوس، سستی شہرت کے حصول کے لیے میرے چند ہم وطن دوستوں نے اس کتاب کا کلدیپ نیئر کے مطابق، برعکس اردو ترجمہ شائع کیا، جس پر ان کو بہت دکھ تھا۔ سیالکوٹ کی تاریخی بستی میں جنم لینے والی یہ تاریخ ساز شخصیت 23 اگست 2018 ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئی۔

خشونت سنگھ کی طرح کلدیپ نیئر کی بھی خواہش تھی کہ ان کی ارتھی کی راکھ، لاہور کے ساتھ بہنے والے دریائے راوی میں گرا دی جائے۔

یونانیوں کے ہائڈروٹیسHydraotes، سنسکرت کے ارواتی اور قدیم ویدمیں پروشانی دریا میں، کلدیپ نیئر کے جسد خاکی کی راکھ کو میرے ایک دوست کرامت علی ہندوستان سے واہگہ سرحد پار پاکستان لے آئے۔ کلدیپ نیئر جو پہلے 1947 ء میں اس دھرتی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، پھر بھارت کے شہری کی حیثیت سے دنیا بھر میں نام کمایا اور زندگی کے آخری برسوں میں پاک بھارت تعلقات کے نمایاں عوامی سفیر کے طور پر سرگرم رہے۔ کبھی انہیں جلد ہی ویزا مل جاتا، کبھی رکاوٹوں سے اور کبھی ویزا مسترد ہی کردیا جاتا۔

اب ان کی جسدِ خاکی کی راکھ، سرحدوں، ویزوں، قانون و ضابطوں کے جھنجھٹ سے آزاد ہوچکی تھی۔

پھرکرامت علی، اعتزاز احسن اور فاروق طارق، اُن کی پوتی مندرا نیئراور اُن کے شریک حیات ریتش نندا نے ایک ناؤ میں بیٹھ کر سیالکوٹ کے اس سپوت کی راکھ کو راوی بُرد کردیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 45
  •