امریکہ کے ’ڈو مور‘ پر تابعداری سے عمل کرتی تحریک انصاف کی حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 153
  •  

وزیر اعظم عمران خان کے نورتن پوری گرم جوشی سے مسلم لیگ کے مقید تاحیات قائد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی کردار کشی پر مامور ہیں۔ یہ کام میڈیا کی زینت بنے رہنے کے مرض میں مبتلا وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے علاوہ وزیر خزانہ اسد عمر بھی پوری تندہی سے انجام دینے میں مصروف ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں حال ہی میں ملک کی محبت سے بھرے انتہائی ’درمندانہ‘ بیان میں اسد عمر نے بلاول بھٹو زرداری کو مشوردہ دیا ہے کہ ’آپ مجھے جتنا چاہے برا بھلا کہہ لیں لیکن ایسے بیانات نہ دیں جو دشمن ملک بھارت میں خبروں کی زینت بنیں‘ ۔ قومی سیاسی مباحثہ میں زبان بندی کا حکم صادر کرنے کے اس نادر ’فرمان شاہی‘ کی مثال تلاش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں وزیر وفاقی کابینہ میں اپنی جگہ بنائے رکھنے اور عمران خان کا چہیتا بنے رہنے کے لئے مسلسل ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔ لیکن ان کی کارکردگی اور متنازعہ کردار کی وجہ سے اسی تسلسل سے یہ خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں کہ کہ ان کی وزارت اب گئی کہ کل۔ شیخ رشید کو خاص طور سے بلاول بھٹو زرداری پر اس لئے بھی غصہ ہے کہ بلاول نے نہایت صاف دلی سے وزیر اعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی کابینہ کے ان وزیروں کو علیحدہ کریں جن کے ماضی میں کالعدم تنظیموں سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چئیر مین کا یہ مشورہ اس وقت پاکستان کو عالمی سطح پر درپیش صورت حال کی روشنی میں مفید اور قابل قدرسمجھا جانا چاہیے کیوں کہ مالی بے قاعدگی کو کنٹرول کرنے کے عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف سے لے کر آئی ایم ایف سمیت تمام عالمی ادارے منی لانڈرنگ اور کالعدم تنظیموں کی مالی صلاحیت کو کنٹرول کرنے کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں۔ جبکہ مغربی دارالحکومتوں میں پاکستان پر انتہاپسند تنظیموں کی بیخ کنی کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

اس تناظر میں بلاول بھٹو زرداری کا مشورہ حب الوطنی پر مبنی اور ذمہ دارانہ سیاست کا مظاہرہ ہے کہ حکومت نے اگر قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے، اور وہ اس قومی منصوبہ پر گزشتہ چار برس کے دوران مکمل عمل نہ کرنے کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ڈال کر اب ہر قسم کے ایسے گروہ کے خلاف سخت اقدامات کرنا چاہتی ہے تو اس کا آغاز اسے اپنے ’گھر‘ سے ہی کرنا چاہیے۔ یعنی جب تک حکومت میں ایسے افراد وزرا کے عہدوں پر فائز ہوں گے جو ماضی قریب میں کسی نہ کسی ضرورت، مقصد یا نظریہ کی بنیاد پر کالعدم تنظیموں اور ان کے ’شعلہ بیان لیڈروں‘ کا ساتھ دیتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر ’قومی وقار‘ کا احیا کرنے کا اعلان کرتے رہے ہیں، انہیں کابینہ میں جگہ دے کر ملک کی کوئی بھی حکومت دنیا کے کسی بھی جانبدار یا غیر جانبدار ملک کو اس بات کا یقین نہیں دلوا سکتی کہ وہ اس بار واقعی اس بوجھ سے نجات حاصل کرنے کا عزم کرچکی ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے اس کے راستے کا پتھر بنا ہؤا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کامیاب خارجہ پالیسی کا پرچار کرنے اور قوم کو یہ بتانے کا کوئی موقع سے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے کہ دنیا میں پاکستان کی سفارتی تنہائی کا مؤثر طریقے سے خاتمہ ہو رہا ہے۔ دوست ملک قریب آرہے ہیں اور جو ملک فاصلے پر چلے گئے تھے، ان کی غلط فہمیاں دور ہورہی ہیں اور پاکستان کے لئے عالمی منظر نامہ پر حالات مکمل طور سے ساز گار ہیں۔ وزیر خارجہ اگر عوام کو خارجہ تعلقات کے حوالے سے مسحور کن تصویر دکھانے میں اس قدر مہارت رکھتے ہیں تو وہ وزیر اعظم کو بھی اس بات پر ضرور قائل کرتے ہوں گے کہ انہوں نے وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے کے فوری بعد ایسے اقدامات کیے ہیں کہ سابقہ حکومتوں کا سارا ملبہ آہستہ آہستہ صاف ہورہا ہے اور ملک کے لئے سفارتی رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے جاں نثار اپنے محبوب قائد کے بارے میں اس تاثر کو قوی کرتے ہیں کہ عمران خان کی شخصیت اور سحر میں مبتلا عالمی لیڈر اب پاکستان کے بارے میں ماضی میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو بھول کر دل اور خزانے کھول کر نئی ایماندار قیادت کے ذریعے تعمیر نو کے منصوبوں میں پوری طرح معاونت کررہے ہیں۔ یہ قصیدہ گوئی یہیں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایسے قصے بھی عام کیے جاتے ہیں کہ کس طرح بیرون ملک سفر کے دوران جب بعض لوگوں کو جب پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک پاکستانی بھائی سے لین دین کررہے ہیں تو وہ عمران خان کی توصیف کے علاوہ ایسے عظیم الشان لیڈر کی وجہ سے انہیں خصوصی رعایت یا سہولت کا حق داربھی سمجھتے ہیں۔

اس سے پیشتر کہ پاکستان کی نیک نامی کے بارے میں اس تصویر کے رنگ حقائق کی تپش سے ماند پڑنے لگتے کہ گزشتہ ماہ کے دوران پلوامہ کا سانحہ اور اس کے بعد بھارت کے ساتھ فضائی جھڑپ کا واقعہ رونما ہو گیا۔ اس میں ایک طرف بھارتی طیارے پاکستان میں ان اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے جو وہ حاصل کرلینے کا دعویٰ کررہے ہیں اور دوسری طرف پاک فضائیہ نے ملکی دفاع میں اپنی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کرکے دنیا کو حیران کیا اور دشمن کے دانت کھٹے کردیے۔

بھارت کا ایک مگ۔ 21 گرا لیا گیا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کرلیا گیا۔ پھر اسے رہا کرکے پاکستان کی انسان دوستی اور عظمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان نے ثابت کیاکہ وہ واقعی ایک بڑے لیڈر ہیں۔ اگرچہ بعد میں سامنے آنے والی خبروں نے اس خوش کن تصویر کے رنگ پھیکے کردیے کہ کس طرح امریکہ کے جرنیلوں نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر یہ واضح کردیا تھا کہ اگر ابھے نندن کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو بھارت کے ساتھ تنازعہ شدت اختیار کرسکتا ہے اور کشیدگی کم کرنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

البتہ بھارت کے ساتھ چپقلش اور اس کے بعد پچاس برس میں پہلی بار ہونے والی فضائی جھڑپ میں پاکستان کی بالادستی نے قومی عظمت کا ایسا ماحول پیدا کردیا تھا کہ عمران خان کی حکومت کو خود بھی اپنی کمزوریوں اور عالمی ناکامیوں کا ادراک کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ان میں آئی ایم ایف سے قرض لینے کے معاملہ سے لے کر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکلوانے کی ناکام کوشش سر فہرست ہے۔ البتہ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز کروانے میں ’کامیاب کردار‘ ادا کرنے پر حکومت نے خود اپنی ہی قصیدہ گوئی کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔

بھارت میں انتہا پسند وزیر اعظم نریندر مودی نے پلوامہ کے بعد بالاکوٹ پر ناکام حملہ کو بھی اپنی شاندار کامیابی بتایا اور تین سو دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا جھوٹ عالمی تردید کے باوجود انتخابی جلسوں میں فروخت کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح ابھے نندن کی رہائی پاکستان کی طرف سے خیر سگالی کا اظہار نہیں سمجھی گئی بلکہ اسے عمران خان کی مجبوری اور نریندر مودی کی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ کے لئے استعمال کیا گیا۔

پاکستانی حکومت نے ان حالات میں یہ سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ بھارت جیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ دگرگوں تعلقات کی صورت حال سے نمٹنے اور انتہا پسند گروہوں کے حوالے سے پاکستان پر ڈالے جانے والے دباؤ کو کم کرنے کے لئے قومی اتحاد و اشتراک کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے انتخابات کے دوران پیدا ہونے والی دوریوں کو ختم کرکے ایسا ماحول پیدا کیاجائے جس میں قومی یک جہتی سامنے آسکے اور حقیقی معنوں میں یہ تاثر پیدا ہو کہ پاکستانی قوم انتہا پسندی کے خلاف متحد و متفق ہے۔ اس کی بجائے نعروں کا سہارالے کر اپوزیشن کے خلاف سیاسی محاذ آرائی کو شدید کیا گیا ہے۔

سیاسی حالات کا جائزہ لینے والا کوئی بھی شخص بتا سکتا ہے کہ یہ صورت حال وسیع تر قومی مفاد کے برعکس اور غیر ذمہ دارانہ سیاسی رویہ کی کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومت قومی ایکشن پلان پر اپوزیشن سے مشاورت کرنے کا اعلان بھی یوں کرتی ہے جیسے یہ اس پر کوئی بہت بڑا احسان کررہی ہو۔ بھارت کی جارحیت کے خلاف قومی رائے اور اپوزیشن کے دو ٹوک مؤقف کو عمران خان اور حکومت کی کامیابی کے طور پر پیش کیاجارہا ہے۔ یہ تاثر قوی کیا گیا ہے کہ اس وقت حکومت اور فوج چونکہ ایک ہی پیج پر ہیں، اس لئے قومی مفاد کا بہتر تحفظ ہورہا ہے۔

جبکہ ماضی میں حکومتوں نے فوج کے ساتھ اختلافات پیدا کرکے حالات خراب کیے تھے۔ قومی میڈیا جو اس وقت ملکی تاریخ کے بد ترین معاشی اور صحافتی بحران کا سامنا کررہا ہے اور ’سیلف سینسر شپ‘ یا ’قومی مفاد‘ کا بہترین خیال رکھنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اس وقت حکومت کے بیانیہ کا پرچار کرنے میں پیش پیش ہے جس کی وجہ سے حالات کی درست تصویر مزید دھندلا چکی ہے۔ کسی جمہوری انتظام میں عوام سے حقائق کو چھپانا یا انہیں مسخ کرکے پیش کرنا خوش آئیند نہیں ہو سکتا۔ اس وقت ملک کے سب ادارے یہ کام بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔

اس کا ایک مظاہرہ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو کے ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امریکہ کو لاحق خطرات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی ایٹمی پروگرام کے پھیلاؤ کو امریکہ کو لاحق بڑے خطروں میں شامل کیا ہے۔ پاکستان میں جوہری پروگرام کو ’مقدس گائے‘ کا درجہ دیا گیا ہے جو ملکی سلامتی کے لئے ناگزیر قرار دیا جاتا ہے۔ اس پر بحث کرنے یا معلومات حاصل کرنے کی کوئی بھی کوشش قومی مفاد کے خلاف ہی نہیں ریاست سے غداری بھی شمار ہو سکتی ہے۔ لیکن امریکہ کے وزیر خارجہ جب ایک پبلک انٹرویو میں اس بارے میں بات کرتے ہیں تو پاکستان کا کوئی ذمہ دار ان پہلوؤں سے آگاہ کرنے یا امریکہ کی جانبداری کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

اگرچہ سینیٹر رضا ربانی نے اس انٹرویو پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے اور قوم کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن حکومت اعتماد سازی کی بجائے کردار کشی کی پالیسی پر پوری طرح عمل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے تاکہ مضبوط مرکز، ایک پارٹی کی حکمرانی اور قومی یک جہتی کے ناکام تصور کو نافذ کرنے کے نئے منصوبہ کے لئے ماحول سازگار بنایا جائے۔ بھارت کے ساتھ چپقلش سے پیدا ہونے والی جذباتی صورت حال کو سوچے سمجھے انداز میں ان مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

اسی انٹرویو میں مائک پومیو نے پلوامہ حملہ کو پاکستان کی طرف سے آئے ہوئے عناصر کا کام کہہ کر بھارتی مؤقف کی تائد کی ہے اور واضح کیا ہے کہ امریکہ پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مسلسل مطالبہ کررہا ہے اور انتہا پسند گروہوں کے خاتمہ کے لئے دباؤ ڈالتا رہے گا۔ پومیو کا یہ انٹرویو حکومت کی سفارتی ناکامی اور پاکستان کی عالمی تنہائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پومیو کے الزامات کے بعد عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو بتانا چاہیے کہ ’ڈو مور‘ کا مطالبہ سننے سے انکارکرنے والی حکومت، اب تک امریکی دباؤ میں کون کون سے فیصلے کرچکی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 153
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1123 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali