بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا الیکشن جیتنے کے لئے پاگل پن
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی الیکشن جیتنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے میں مصروف ہیں۔ اس کا جنگی جنون اتنا ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے لئے کچھ بھی کرنا ہو کرنے کے لئے تیار ہے چاہے وہ انسانی جانوں کا نقصان ہو چاہے اپنے ملک میں یا کسی دوسرے ملک میں۔ حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم کی ایما پر پاکستان پر جیش محمد کے کیمپ کے نام پر حملہ کیا گیا اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی اور اس کو ایسے پیش کیا گیا جیسے نہ جانے بہت بڑی سلطنت کو فتح کرلیا ہو۔
تاہم بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اس واقعے کے بعد منہ کی کھانی پڑی اور دوسرے ملکوں سے بھی لعن طعن کا سامنہ ہی رہا کیونکہ پاکستان کے شہر بالا کوٹ میں جو خلاف ورزی کی گئی اس میں کچھ تھا ہی نہیں بس پاکستان کی ساخت کو نقصان پہنچانا مقصد تھا جو کہ کامیاب نہ ہوسکا۔ دوسری جانب پاکستان آرمی نے بھی اگلے ہی روز بھر پور جواب دیا اور اس کے دو طیاروں کو مار گرایا اور ساتھ ہی اس کے ونگ کمانڈر کو حراست میں بھی لیا گیا جو عوام کے ہاتھوں مرنے والا تھا تاہم اس کو پاک آرمی کی جانب سے بچالیا گیا۔
اس صورتحال کے بعد ونگ کمانڈر ابھی نندن کو امن اور خیر سگالی کے باعث واپس بھارتی حکومت کے حوالے کردیا گیا جو کہ پاکستان کی جانب سے ایک اچھا اقدام تھا۔ بیسشک فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جلد بازی میں کیا گیا لیکن اس فیصلے سے دوسرے ملکوں میں مثبت پیغام گیا۔ پھر بھی نریندر مودی کا جنگی جنون دماغ سے اترا ہی نہیں اور الیکشن جیتنے کے عوض بھارتی میڈیا کو بھی خرید لیا جو پاکستان کے خلاف آگ ہی اگلتا دکھائی دے رہا ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم کو الیکشن ہارنے کا اتنا ڈر ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں کیونکہ حال ہی میں نریندر مودی کو 5 ریاستوں میں ناکامی کا سامنہ کرنا پڑا ہے جس کے باعث یہ پاگل پن سر پر سوار کرلیا ہے اور یہ سوچ لیا ہے کہ انسانی جانوں اور دسرے ملکوں کو نقصان پہنچا کر شاید عوام کو اپنی جیب کرلیں۔ لیکن ایسا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ دوسری جانب نریندر مودی کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو دنیا جانتی ہے کہ نریندر مودی کیا تھا یہ وہ شخص ہے جسے امریکا و کینیڈا جسیے ملکوں نے میں داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی۔
پابندی کی وجہ اس کی شدت پسندانہ فطرت اور گجرات میں قتلِ عام تھا۔ ساری دنیا مودی کو دہشت گرد کہتی تھی۔ آج کا بھارتی لیڈر ماضی میں دہشتگردی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ وقت بڑا ظالم ہے، مودی کے جرائم پر پردہ ڈال گیا لیکن جاننے والے جانتے ہیں مودی دراصل ایک انتہا پسند ہے جسے سوائے نفرت کرنے کے کچھ نہیں آتا۔ مودی نے ہمیشہ نفرت کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ مودی کی پالیسیوں سے اب اس کا اپنا ملک اسی آگ میں جلنا شروع ہوگیا ہے۔
اور بھارت کے اپنے اندراس بات نے زور پکڑنا شروع کردیا ہے کہ جب پاکستان نے دوستی کا ہاتھ بڑھائے رکھا ہوا ہے تو آخر ہم کس لئے جنگ مسلط کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ جبکہ بھارت میں اپوزشین پارٹیز بھی مودی کے اس طرح کے اقدام کو غلط قرار دے رہی ہیں اور پلوامہ میں ہونے والی کی تحقیات تک کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔ نریندر مودی نہ اب بھی نہ سنی اور ایسا ہی الکشن جیتنے کے لئے جنگی جنون سوار رہا تو آنے والے وقت میں عوام کے ہاتھوں ہار کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔


