روس کی ایک جھلک: سلمیٰ اعوان کی آنکھ سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سفرنامے نثری آمد و آورد کا ایک حسین امتزاج ہیں۔ مسا فر اپنے بیرون کو بیان کرتا ہے مگر اندرونی احساسات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے سفرنامہ محض معلومات کی ٹوکری نہیں انسانی احساس کی آمیزش سے ایک جغرافیا ئی حد کا دو سر ی حد سے اتصال ہے۔ وسیع مکان کے ایک مکین کا دوسرے سے تعارف ہے۔ اس تعارف میں سفر نا مہ نگار کی ذات کا بیانیہ بھی ہے اور حال کا منظرنامہ بھی۔ دونوں ملیں تو تسکین جمال کا باعث ہیں۔ سفر نا مہ نگاری اگرچہ خالص تخلیقی ادب سے ذرا ہٹ کر ہے کہ یہ تخلیق در تخلیق کے زمرے میں ہے۔ یہ موجود کو بیان کرنے کا نام ہے۔ تاہم بیان کرنے والے کا طرز بیان اسے ایک نئی جہت دیتا ہے۔

سفرنامو ں کا تنوع ہی ان کی قبولیت عا مہ کا سبب ہے۔ یہاں آزاد کی انشا پروازی، حسن نظا می کا جذ ب دوروں، قا ضی عبدالغفا ر کی حیر ت، ابن انشا کی بذلہ سنجی، شفیق الر حمن کا رومانو ی طنز و تحیر، رضا علی عابدی کی رجعت پسندی، حکیم سعید کی سادگی اور معصومانہ حیرت، ممتاز مفتی کی مستی، مستنصر کی رومانو ی داستان سرائی، ا ختر ممونکا کا خانہ بدوشانہ فقر و فاقہ، عبدا لماجد دریا آ با دی کی نثری آزاد روی، مختار مسعو د کی نکتہ دانی اور کنایہ نویسی، جعفر تھا نیسری کا صبر و ر ضا اور بیگم اختر ریاض ا لدین کی بے ساختگی، ہر اظہاریہ ملتا ہے۔ سفر نامہ نگاروں کے اسلوب اور شخصی حرکیات نے اس صنف کو ایک خوبصو رت اور ترو تازہ ظاہر اور سند ِ قبو لیت عطاکی ہے۔

سفر نا موں کے حو الے سے یورپ اور عر ب مما لک خا ص طو ر پر حجاز مقدس کی طر ف سیلاینیوں کا میلا ن زیادہ رہا ہے۔ ایک ملک مگر ہمشہ سے کم توجہ لے سکا ہے اور اس سے پہلے اور بعد میں بہرحال روس ہی ہے۔ روس کے حوالے سے نمایاں طو ر پر دو سفر نا مے نظر سے گز ر ے ہیں ایک محتر مہ شاکرہ ہا شمی کا رو س کے ”تعا قب میں“ اور دو سرا سلمیٰ اعوان کا روس کی ایک جھلک۔ اگر چہ ابن انشا اور چند ایک اور لکھاریوں نے بھی اجمالی طور پر روس کا سیاحتی تذ کرہ کیا ہے۔ مگر سلمیٰ ا عوان کا سفر نا مہ اس سلسلے کے ضخیم ترین سفر ناموں میں سے ایک ہے۔

اس سفر نا مہ کے تین پہلو ہیں۔ ایک شخص جو مسافر کی اندرونی کیفیا ت کا غماز ہے دوسرا سیاحتی و ثقا فتی اور تیسرا لسانی۔ سلمیٰ اعوان نے اردو میں جو لسانی تجربات کیے ہیں وہ ان کے ا ظہاریے کو منفرد بناتے ہیں۔ وہ اردو کے کئی متروک ا لفا ظ کو استعمال کرتی ہیں جنہیں قاری کبھی تو پنجابی لفظیا ت کا حصہ سمجھتا ہے۔ حالانکہ وہ خالص اردو الفا ظ ہیں۔ سلمیٰ اعو ان کا اند از بیا ن بے ساختہ اور برجستہ ہے۔ جو کبھی تو خو د کلا می Monologue کی حد کو جا پہنچتا ہے۔ ا پنے آس پاس کو دیکھتے و قت وہ روایتی نقطہ نظر نہیں اپناتی ہیں بلکہ ایک خا لص ذاتی ذہنی تجربے کو ذاتی تبصرے سے آلو دہ کیے بغیر بیان کرتی چلی جاتی ہیں۔ قاری ان کے اظہار کی انگلی پکڑے کب یہا ں سے وہاں منتقل ہو جاتا ہے، کب لمحہ موجو د سے تا ر یخ کے دھندلکو ں میں کھو جاتا ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں چلتا۔

روایتی سیاحتی تجربا ت سے بغاوت کیے بغیر سلمیٰ اعو ان ا پنے سفر نا مے کو جہاں روس کی حا ضر معا شر ت کا جا گتا مر قع بنا دیتی ہیں وہاں روس کے ثقا فتی، ادبی اور سما جی پس منظر کو بیا ن کیے بغیر بھی نہیں ر ہتی۔ یہ آ میزہ کا ری وہ اس چابکد ستی سے کرتی ہیں کہ قا ری ایک لحظہ کی رکاوٹ کے بغیر ان کا شر یک سفر ہو جا تا ہے۔ استاد ہو نے کے ناطے تعلیم و ابلا غ کا دامن ان کے ہا تھ سے سفر و حضر میں کہیں نہیں چھو ٹتا۔

ان کے سفر ناموں میں کئی مقامات پر یہ ا ظہار نمایاں ملتا ہے۔ روس بہت متنوع ثقافتی پس منظر رکھتا ہے۔ اس سرزمین نے انقلابات زمانہ کو بارہا برداشت کیا ہے۔ یہاں سرمایہ داری اور اشراکیت استحصال اور انسانی مساوات کے درمیان تاریخی جنگ لڑی گئی۔ ادیبوں، شاعروں اور اہل جمال کا بہت بڑا طبقہ اس جنگ کا ہراول دستہ تھا۔ ان نامی اور گمنام شہیدوں کا تعارف اردو زبان میں بہت کم ادیبوں نے کرایا ہے۔ اشتراکی دور میں وطن عزیز میں مخالفانہ جذبات زیادہ ہونے اور افغانستان پر روسی قبضے نے اس تنہائی اور بے تعلقی کو مزید ہوا دی۔

چنانچہ نصف صدی کا دورانیہ ایسا تھا کہ روسی ثقافت کو خاطر خواہ تعارف نہ مل سکا۔ ایسے میں سلمیٰ اعوان کا سفر نامہ ادبی دنیا میں ہوا کے خنک جھونکے سے کم نہیں کہ اس نے جہاں اہل علم اور صاحبان ذوق کے تجسس کی تسکین کی ہے۔ وہاں سے منفرد طرز بیان سے اسے دو آتشہ کردیا ہے۔ مختلف شہروں کی سیر جہاں انفرادی تجربات کی حامل ہے۔ وہاں تاریخی تجربہ کاری بھی یک گونہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ سلمیٰ اعوان اپنے سفری تجربے کو داخلیت کا رنگ بیان دینے میں یدطولیٰ رکھتی ہیں۔ اس طرح ہمیں جہاں عجائب خانوں اور مزاحمتی ادب کی یادگارں کا تذکرہ ان کے تجریاتی نقطہ نظر کے ساتھ پڑھنے کو ملتا ہے، وہیں لمحہ وجود بھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتا اور ہمیں کشاں کشاں روسی طلسم ہوشریا کی جانب کھینچے لئے جاتا ہے۔

میں سمجھتا ہو ں کہ ”روس کی ایک جھلک“ نے دور حا ضر یں سفر نا مہ نگا ری کو نئی تا ز گی اور نئی جہت عطا کی ہے۔ ا یسے سفر نا مے ہی آ نے والے ڈ یجیٹل دور میں اس صنف کو ز ند ہ ر کھیں گے جو ز ند ہ ہو اور ز ند گی کے تحفے سے بھر پو ر ہو ں۔ اور اس سلسلے مین مذ کو رہ با لا سفر نا مہ یقینا صف ا ول میں شما ر ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عقیل ظفر کی دیگر تحریریں
عقیل ظفر کی دیگر تحریریں