چڑیوں کی لمبی اڈاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے گھر میں چڑیوں کا بسیرا تھا۔ ان کی چہچہاہٹ ہماری زندگی کا حصہ تھی۔ ہمارے کچے کمرے کی چھت پہ چڑھے شہتیر اور لکڑی کے ’بالوں‘ کے ساتھ دریچوں میں چڑیوں نے اپنے گھروندے بسائے ہوئے تھے۔ نہ جانے کہاں سے سوکھے تنکے اٹھا لاتیں اور اپنے گھونسلے بناتیں۔ کمرے میں تنکے بکھرے رہتے تھے جس پر امی بڑبڑاتی اور کہتی تھیں کہ یہ چڑیاں کم بخت کہیں اور ٹھکانا کیوں نہیں بنا لیتیں۔

جب ان کے بچے انڈوں سے نکل آتے تو پھر چڑیوں کا سارا سارا دن چکر کاٹتے گزر جاتا۔ باہر جاتیں اور کوئی دانہ چاول اٹھا لاتیں۔ ایک دم گھونسلے میں ماں کا انتظار کرتے بچے زور زور سے چلانے لگتے۔ وہ اپنے منہ اتنے کھولتے کہ سر سے پاؤں تک چونچ بن جاتے۔ ان کی ماں نہ جانے کس بچے کے منہ میں دانہ ڈالتی اور کس کو اگلے چکر تک کا انتظار اور دلاسہ دے جاتی۔

اگر کوئی ’بوٹ‘ (چڑیا کا بچہ) گھونسلے سے پھسل کر باہر گر جاتا تو ہم دوبارہ اسے گھونسلے میں رکھتے مگر وہ کم ہی ٹکتا تھا۔ پھر سے دھڑام نیچے آ گرتا۔ ابو ہمیں کہتے ”پتر، آہلنے وچوں ڈگے بوٹ، مڑ آہلنے نئیں رہندے“۔ گھونسلوں سے گرے بچے اکثر مر جاتے تھے۔ وہ نہ تو اڑنے کو پر رکھتے تھے اور نہ کھانے پینے کا ڈھنگ۔ ہم دل میں دعا مانگتے کہ چوگا لینے کے لیے شور مچاتے یہ بوٹ کبھی نہ گریں۔

وہ بچے جب ’اڈار‘ ہو جاتے تو چھوٹی چھوٹی اڑانیں بھرتے۔ گرتے، سمبھلتے وہ شاخ شاخ پھرتے۔ چڑیا ان کی خوراک کا انتظام بھی کرتی اور ان کو خوراک تلاش کرنے، اڑان بھرنے اور جیون گزارنے کی ٹریننگ بھی کرواتی رہتی۔

ہمارے کمرے میں، چھت کے قریب پچھلی دیوار کے ساتھ اینٹوں کی ’کنس‘ تھی جس پہ پراتیں، تھال، ڈونگے، گاگریں، چھنے اور دیگر بڑے برتن سجے رہتے تھے۔ کنس کے دائیں کونے میں پیتل کی بڑی کڑاہی پڑی رہتی تھی جو سال بھر میں ایک آدھ بار استعمال ہوتی ہو گی۔ چڑیاں اس کڑاہی کی اوٹ میں بھی تنکے جوڑ کر اپنا گھر بنا لیتی تھیں۔

گاؤں میں ہر طرف درخت ہوتے تھے۔ ہر گھر کے صحن میں، کھیتوں کے ’بنوں‘ پر، نالوں راجباہوں پہ اور غیر آباد زمینوں پہ نیم، کیکر، شیشم، بیری، پیپل، لسوڑی، شہتوت، بکائن، شریہنہ اور گوندنی کے درخت ہوتے تھے۔ چڑیوں کو بیٹھنے سستانے کے لیے شاخوں کی کمی نہ تھی۔ فصلیں تھیں تو دانہ دنکا عام ملتا تھا۔ چڑیوں کے ڈار ہر سو اڑتے پھرتے اور آسمان پہ طرح طرح کے ڈیزائن بناتے جاتے۔ صحن میں تندور کے پاس رکھی کپاس کی چھڑیوں پہ ان گنت چڑیاں بیٹھی رہتیں۔ سورج ڈوبتے وقت اتنا شور مچاتیں کہ آسمان سر پہ اٹھا لیتیں۔ گویا سورج کے ڈوبنے پہ آہ و بکا کر رہی ہوں۔

نیم کے نیچے نلکا لگا ہوا تھا۔ نلکے کے آگے ’کھاڈے‘ میں ٹھہرے پانی میں چڑیاں نہاتیں اور نل پہ بیٹھ کر ننھی ننھی چونچوں سے پانی کی بوندوں کی چسکیاں لیتی رہتیں۔ مٹی میں بیٹھ کر بھی پروں کی صفائی ستھرائی کرتیں اور گرم دوپہروں کو سبز پتوں سے لدی شاخوں میں دبکی ہانپتی رہتی تھیں۔

چڑیوں کو پکڑنے کے لیے ہم ’پھاہی‘ لگاتے تھے۔ امی سخت خفا ہوتی تھیں لیکن کبھی کبھار ہم بچے ضد کر کے اس شرط پہ اجازت لے لیتے تھے کہ کسی چڑیا کا ایک پر بھی نہ ٹوٹے گا۔ چھڑیوں کی بنی ٹوکری الٹی رکھ دیتے۔ دو اڑھائی فٹ لمبی چھڑی ایک طرف ٹوکری کے نیچے اٹکا دیتے۔ بان کی لمبی رسی یا دھاگا چھڑی سے باندھ کر ایک سرا ہاتھ میں پکڑے تھوڑی دور کسی اوٹ میں دبک کر بیٹھ جاتے۔ ٹوکری کے آس پاس اور نیچے دانے چاول بکھیر دیتے۔

چڑیاں دانے چگتے چگتے جب ٹوکری کے نیچے چلی جاتیں تو رسی کو جھٹکا دے کر ٹوکری گرا دیتے۔ ٹوکری کے اوپر بڑا کھیس ڈال کر ایک ایک کر کے چڑیوں کو پکڑتے۔ کچھ ہاتھوں میں سے پھر سے اڑ جاتیں کچھ کو ہم دبوچ لیتے۔ سفید کپڑوں کو لگانے والے نیل یا زردہ چاول پکانے کے لیے رکھے پیلے رنگ کو ہم پانی میں گھول لیتے اور چڑیوں کے پر نیلے پیلے رنگ دیتے۔ ایک دو بار چڑیا کے سینے پر دھاگے کا بنا پھول سوئی سے پرو دیا۔ جب نیلے یا زرد پروں والی چڑیا کو اگلے ایک دو دنوں میں دیکھ پاتے تو ایک انجانی سی خوشی ہوتی تھی۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم سائیکل کی پرانی ٹیوب کاٹ کر غلیل تیار کرتے۔ مٹی گوندھ کر گول گول بنٹے بنا کر دھوپ میں سوکھا لیتے اور انہیں غلیل میں ڈال کر پرندوں کے نشانے باندھتے۔ چڑیوں پہ باندھے تقریبا سبھی نشانے خطا ہو جاتے تھے۔ اگر کبھی کسی چڑیا کو بنٹا چھو جاتا تو ننھی سی جان تڑپنے لگتی۔ زخمی چڑیا کو ہم جلدی سے مرچیں رگڑنے والی دوری کے نیچے رکھ دیتے تھے تا کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔ تھوڑی دیر بعد دوری اٹھاتے تو چڑیا پھررر اڑ جاتی یا پھر وہ مردہ حالت میں ملتی۔

مجھے یاد ہے ایک بار مری چڑیا کو زمین میں دفن کیا تھا۔ مٹی سے چھوٹی سے قبر بنائی۔ پانی کا چھڑکاؤ کیا اور قبر پہ پتے نچھاور کیے۔ والد صاحب نے دیکھ کر کہا تھا ’زندہ جانداروں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس کے مرنے کے بعد آپ کی محبت جاگی تو کیا جاگی! ‘ ۔

امی جب مٹی کی پرات میں آٹا گوندھنے لگتیں تو چڑیاں آس پاس اکٹھی ہونے لگتیں۔ وہ چڑیوں کو آٹا یا بچی ہوئی روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال دیتیں تو چڑیاں ان کے پاس رکھے پانی کے ڈول اور نمک کے ڈبے تک جا پہنچتیں۔ ہم حیراں ہوتے تھے کہ یہ چڑیاں امی سے ڈرتی کیوں نہیں۔ امی کہتی کہ چڑیوں کو چوگا ڈالو تو اتنی ہی قریب آتی ہیں۔ پھاہی لگانے اور غلیل لے کر ان کی تاک میں بیٹھے رہنے سے بیچاری دور نہ بھاگیں تو اور کیا کریں۔

چڑیاں نہ صرف ہمارے گاؤں اور گھر کی باسی تھیں بلکہ وہ ہماری کہانیوں، کہاوتوں، گیت اور نظموں کا بھی حصہ تھیں۔ چڑیوں کے لشکر کبھی کسانوں کے کھیت چگ جاتے ہوں گے۔ پل بھر میں چڑیوں کی فوج گندم، باجرہ اور جوار کی پکی فصل چٹ کر جاتی ہو گی۔ کسان فصل کے پاس ’منھے‘ پہ بیٹھ کر راکھی کرتے ہوں گے۔ تب چڑیوں اور کسانوں کی ان بن رہتی ہو گی۔ تبھی ہماری زبان میں ’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘ ایسے فقرے در آئے ہوں گے۔ بچپن میں سنی کہانیوں میں ایک کہانی چڑیا کی یہ بھی تھی جو امی ہمیں سنایا کرتی تھیں۔

’ایک چڑیا ٹاہلی کے درخت پہ رہتی تھی۔ اس کے بچے چھوٹے تھے۔ چڑیا بچوں کے لیے باجرے کے دانے چونچ میں بھر لاتی اور انہیں کھلاتی۔ کسان نے جال لگا کر چڑیا کو پکڑ لیا اور قید کر لیا۔ چڑیا اپنے بچوں کو یاد کر کے روتی رہتی تھی

’ٹاہلی میرے بچڑے لک ٹنوں ٹنوں

مینہ آیا تے ڈب جاسن لک ٹنوں ٹنوں

ہنیر آیا تے اڈ جاسن لک ٹنوں ٹنوں۔ ’

چڑیا کی آہ و زاری سن کر کسان کا دل پسیج جاتا ہے اور وہ اسے آزاد کر دیتا ہے۔ چڑیا اپنے بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی جیون گزارنے لگتی ہے۔ ’

جب کبھی ریڈیو، ٹی وی یا لاؤڈ اسپیکر پہ یہ گانا بجتا

’ساڈا چڑیاں دا چنبا وے بابل اساں اڈ جانا

ساڈی لمی اڈاری وے اساں مڑ نئیں آنا ’

تو ہم حیران ہوتے تھے کہ ابو امی اور تایا کی آنکھوں میں آنسو کیوں امڈ آتے ہیں۔ بھلا چڑیوں کے اڑنے میں بھی کوئی رونے والی بات ہے؟

باپ کے گھر میں سب کچھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے وداع ہوتی بیٹی کے دکھ بھرے دل کی آواز، اور اس کی لمبی اڈاری سے باپ کے پگھلتے دل سے ہم تب واقف نہ تھے۔ اب یہ گیت سن کے دل بھر آتا ہے۔ ہم سب لوگ باپ کے گھر میں پلتی بیٹی جیسے ہیں جو اس جیون بگھیا سے چڑیوں کے چنبے کی طرح دور اڑ جاتے ہیں۔ لوٹ کر نہیں آتے۔

وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ کچے کمرے کی جگہ پکی اینٹوں کے کمرے بنے۔ گارڈر ٹی آئرن کی پکی چھتیں بن گئیں تو چڑیوں کو چند تنکے رکھنے کی بھی جگہ میسر نہ آئی۔ گاؤں میں بجلی آئی تو کمروں میں سیلنگ فین گھومنے لگے۔ معصوم چڑیوں کے سر پنکھوں سے کٹنے لگے۔ یوں وہ کمروں سے نکل گئیں۔

غیر آباد زمین تیزی سے آباد ہونے لگی۔ زیادہ پیداوار کی غرض سے کھیتون سے درختوں کا صفایا ہوتا چلا گیا۔ فصلوں پہ زہر کا چھڑکاؤ کیا جانے لگا۔ بیج کو زہر آلود کر کے بونے کا رواج عام ہوا۔ یوں چڑیوں کو زندگی بخشنے والا چوگا ان کے لیے موت بن گیا۔

اب دھیرے دھیرے چڑیوں کے ڈار چھوٹے ہوتے چلے گئے۔ اب ڈوبتا سورج چڑیوں کی آواز کو ترس گیا ہے۔ چوگے کے لیے شور مچاتے بوٹ کی آواز سنے ایک زمانہ ہو گیا۔

امی چڑیوں کو یاد کر کے اداس سی ہو جاتی ہیں۔ کہتی ہیں کم بختوں کی کتنی رونق ہوتی تھی گھر میں۔ نہ جانے کس دیس ٹھکانا کر لیا انہوں نے۔

(نہ صرف ہمارے گاؤں میں چڑیاں کم ہو گئیں بلکہ پوری دنیا میں ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ ان کی نسل معدومیت کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔ بیس مارچ چڑیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس خوبصورت مخلوق کا خیال رکھیں )

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 40 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti