تین ہفتوں کی خوشخبری


گزشتہ دو سال کے دوران بے شمار خوشخبریاں سنائی گئیں اور آج پھر قوم کو تین ہفتے مزید انتطار کرنے کا کہا گیا ہے۔ ابھی ہم 200 ارب ڈالر ملک میں آجائیں گے کی خوشخبری کی بات نہیں کریں گے۔ وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنانے کا معاملہ بھی یاد نہیں دلائیں گے۔ قوم کو خوشخبریوں کا ایک عظیم پیکیج سب نے مل جل کر دیا تھا، کچھ نے دشمن قوتوں کو ووٹ کی طاقت سے شکست دینے کا کہا تھا کچھ عزت اور ذلت اللہ تعالی کے اختیار میں ہے کا ذکر کرتے پائے گا۔

کچھ نے الیکشن کے بعد کے وقت کو تبدیلی کا سال کہا تھا۔ اس ملک میں ہر روز پانچ سو ارب روپیہ کی منی لانڈرنگ ہوتی تھی وہ ختم کرنے کی خوشخبری سنائی گئی تھی۔ اس ملک میں طاقت ور مافیا والے ماہانہ ایک ہزار ارب روپیہ کی کرپشن کرتے تھے وہ ختم کرنے کی خوشخبری دی گئی تھی۔ قوم کو ایک خوبصورت ٹرک کی جلتی بجھتی لائٹ کے پیچھے لگایا گیا تھا کہ پاکستان کشکول لے کر بھیک نہیں مانگے گا بلکہ اتنے پیسے آئیں گے تمام بیرونی قرضے اتار دیے جائیں گے اور پاکستان دنیا کو قرض دینے والے ملکوں میں شامل ہو جائے گا۔

اس بد نصیب قوم کو خوشخبری سنائی گئی تھی پاکستان میں دودھ اور شہید کی نہریں بہنے لگیں گی، بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا لیکن یہ بالکل نہیں بتایا گیا تھا کہ بھارتی وزیراعظم کو بار بار فون کیا جائے گا اور بات کرنے کی بھیک مانگی جائے گی۔

ہمیں نہیں خبر تین ہفتوں میں کون سا جادو گر آئے گا جو خزانوں اور ڈالروں سے بھری زنبیل خالی کرے گا اور پوری قوم خوش ہو جائے گی۔ جو فراڈ مسلسل کیا گیا وہ اب بھی جاری ہے۔ رواں مالی سال کے ٹیکسوں میں تین سو ارب روپیہ کا خسارہ ہو چکا ہے۔ ٹیکسٹائل کے شعبہ میں ریفنڈ روک لئے گئے ہیں۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کمی کر دی گئی ہے، کاروبار تباہ ہو گئے ہیں۔ حصص بازار میں ویرانیاں چھا گئی ہیں۔ روپیہ کی قدر میں چالیس فیصد کمی ہو چکی ہے اور اب روپیہ کی قیمت 160 روپیہ ہونے کی خوشخبری بھی سنائی جا رہی ہے۔ تجارتی خسارہ ہر ماہ دو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ ادائیگیوں کے توازن میں نادہندگی کے خدشات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے تین ارب ڈالر کی فراہمی کے معاملہ پر یوٹرن ہو چکا ہے۔ سعودی موخر ادائیگیوں پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سے مکرتے نظر آرہے ہیں۔

ہمیں نہیں خبر یہ خوشخبری کہاں سے آئے گی۔ تبدیلی کے پلے تو کچھ تھا ہی نہیں اس نے تو بے نقاب ہونا ہی تھا یہاں تو تبدیلی لانے والے بھی پھنس گئے ہیں۔ کھیر بنائی تھی اب دلیہ بن گیا ہے۔ ہر جگہ جوابدہی ہوتی ہے اور سوالات کے جوابات بھی دینے ہوتے ہیں۔ ملکی معیشت جس طرف جا رہی ہے وہ ملک ریاض کی 460 ارب روپیہ کی ڈیل سے بہتر ہونے والی نہیں۔ تبدیلی لانے والے اگر سوچتے ہیں آصف علی زرداری اور شریف فیملی سے چار پیسے مل جائیں گے اور ریٹائرمنٹ تک مسائل حل ہو جائیں گے سب خام خیالی ہے۔ مسائل صرف اندرونی نہیں بیرونی بھی ہیں مکار دشمن بھارت موقع کے انتطار میں ہے۔

ہم نہیں سمجھتے تین ہفتوں میں کوئی خوشخبری ملے گی جو شخص خوشخبری سنا رہا ہے وہ تو پاناما ڈرامہ کے آغاز سے قوم کو خوشخبریاں سنا رہا ہے اور پھر ڈھٹائی سے یوٹرن لے کر اس کو بھی عظمت میں شامل کر لیتا ہے، جو شخص تین ہفتوں کی امید دلا رہا ہے اس کی اوقات اور اس کا ویژن صرف مرغیوں اور کٹے کی معیشت کی خوشخبری ہے اور بس۔

تین ہفتوں میں کیا امریکی پاکستان پرنٹنگ پریس کو ڈالر چھاپنے کی خصوصی اجازت دے دیں گے، ۔ پاکسانی برامدات میں اچانک اربوں ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا، بیرون ملک پاکستانی سچ مچ 200 ارب ڈالر ملک میں لے آئیں گے، سکندر اعظم کا جو خزانہ جہلم کے قریب چھپایا گیا تھا وہ تلاش کر لیا جائے گا، عالمی مالیاتی ادارے اپنے قرضے معاف کر دیں گے، پاکستان میں تیل کا ایسا کنواں دریافت ہو جائے گا جس کی پیداوار ایک لاکھ بیرل روزانہ ہو گی یا پھر آسمانوں سے کوئی فرشتہ اترے گا جو ملک کے تمام مسائل حل کر دے گا۔

ہم سمجھتے ہیں جو خوشخبریاں قوم کو پہلے دی جا چکی ہیں تین ہفتوں کی خوشخبری ان میں ایک ننھا منا اضافہ ہے اور بس

Facebook Comments HS