کرائسسٹ چرچ اور پرتھ، دو مقام ایک لوگ


جمعہ یونیورسٹی کے جمنیزیم میں ہورہا ہے۔ یہ چار باسکٹ بال کے کورٹوں کے درمیان میں صفوں پر نمازی بیٹھے ہیں۔ سو گز پیچھے مسلم طالبات کی بھی دو صفیں ہیں۔ چار سو سے پانچ سو تک کا مجمع ہے، ایسا ہی جیسا کرائسسٹ چرچ میں تھا۔ مگر یہ کون لوگ ہیں، زمین پر بیٹھے، سامنے کھڑے باریش ریاضی کے استاد کا خطبہ سن رہے ہیں۔ استاد جو آج سے کئی دہائیاں قبل فجی سے اسی یونیورسٹی میں ریاضی پڑھنے آیا تھا، اور پھر اسی یونیورسٹی کا ہو کر رہ گیا۔

اس کی آواز تھر تھرا رہی ہے، ابھی تک اس نے کرائسسٹ چرچ میں مسجد پر حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ مگر سب کو پتا ہے، ایسے ہی جیسے ہم صفوں پر بیٹھے ہیں، وہ بیٹھے تھے۔ ہماری طرح مختلف علاقوں سے آئے۔ کیا کوئی سکیورٹی کا انتظام ہے، کچھ نہیں۔ دروازہ کھلتا ہے۔ ایسے ہی دروازہ کھلا ہوگا اور وہ قاتل داخل ہوا ہوگا۔ نیکروں میں دو کھلاڑی طالبات اندر داخل ہو گئی ہیں۔ انہیں باسکٹ بال کھیلنا ہے۔ مگر یہ جمنزیم ابھی پندرہ منٹ مزید نماز کے لیے بک ہے، وہ واپس مڑ جاتی ہیں۔

صفوں پر بیٹھے ملک ملک کے طالبعلموں کی نگاہیں نیچی ہیں، دل غمزدہ ہیں، آنکھیں پر نم ہیں۔ ہم کرائسسٹ چرچ کے نمازیوں کا جانتے تھے، ہم ان سب کو جانتے تھے۔ سب کو جانتے، بغیر ملے جانتے تھے۔ امام کہہ رہا ہے، مسجد ہم سے آباد رہے گی، یہ مسجد ہمارا نشان ہے، ہم یہاں آئیں گے، تمام خوف اور پریشانی کے باوجود، یہ مسجد آباد رہے گی۔ ہم فرق ہیں۔ اور سن لو کہ ہرتکلیف کے بعد آسانی ہے اور جان لو کہ ہرتکلیف کے بعد آسانی ہے۔

پرتھ ریلوے اسٹیشن کے سامنے چوک میں شام کو لوگ اکٹھے ہوں گے۔ دعوت ِ عام ہے، آئیے غم میں شریک ہوں۔ غم، کیا یہ صرف مسلمانوں کا غم ہے۔ نہیں، یہ غم سب کا غم ہے۔ یہ انسانیت کا غم ہے۔ میں گھر سے نکل کر جارہا ہوں۔ کیا لباس پہنوں؟ یونیورسٹی تو ہمیشہ پینٹ قمیض پہنی ہے، مگر یہاں میں شلوار قمیض پہن کر جاونگا۔ میں مسلمان ہوں، خون بہتا ہے، اور بہاؤ کی وجہ ایک ہی ہے، کہ میں فرق ہوں۔ مگر میں کھڑا ہوں، میرا ایک تشخص ہے۔

تمہیں کہیں یہ نہ لگے کہ میں فرق نہیں، میں فرق ہوں۔ یہ شلوار قمیض، یہ پشاوری چپل سب استعارے ہیں، مختصر سے استعارے کہ میں فرق ہوں۔ بڑا استعارہ میرا مذہب ہے اور چوک میں کھڑے ہجوم میں میرے ساتھ وہ لڑکی کھڑی ہے جسے میں نے ہمیشہ ننگے سر ہی دیکھا۔ وہ ساتھ کھڑی ہے، مگر آج فرق ہے۔ آج وہ حجاب اوڑھے ہے۔ وہ اپنی شناخت کو لوٹی ہے۔ تمہیں مجھے پہچاننے میں مشکل نہ ہو، ہاں میں مسلمان ہوں۔

پھولوں کے گلدستے پڑے ہیں، بے بہا، رنگ برنگے، اپنی اپنی خوشبو لیے، اپنا اپنا تشخص لیے، اس ہجوم میں شامل لوگوں کی مانند۔ کندھوں پر بچے کو اٹھائے وہ گورا ہے، اس کے ساتھ ہی پرام میں اپنے دو بچے لائی ایک سفید فام عورت۔ بھری آنکھوں کے ساتھ کھڑی وہ آسڑیلین لڑکی ہے جو پھولوں کے ساتھ زمین پر دیا جلارہی ہے۔ ویل چیئر میں آئی وہ ادھیڑ عمر سفید عورت ہے، جس نے اپنی معذوری کے باوجود اس یاد میں شرکت کو اہم جانا، اس کی آنکھیں سرخ ہیں۔

مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے، دنیا کے مختلف علاقوں کے نقش اور شباہتیں لیے۔ میرے ساتھ والا کچھ پڑھ رہا ہے، اس کے ہونٹ ہل رہے ہیں، بے شک ہم اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ایک سفید فام میرے پاس آتا ہے، کہتا ہے کہ مجھے افسوس ہے، بہت افسوس۔ اس کی آواز میں اخلاص ہے، اس کے ہونٹ کپکپا رہے ہیں۔

ہجوم سے اب نیوزی لینڈ کے ماؤری قبیلے کا ایک فرد خطاب کر رہا ہے۔ یہ ہماری زمین ہے، ہم صدیوں سے یہاں کے باسی ہیں۔ انگریزوں کے آنے سے کہیں پہلے کے رہائشی ہیں۔ خوش آمدید، آپ یہاں خوش آمدید ہیں۔ اے مسلمانو، تم اپنے فرق کے ساتھ یہاں خوش آمدید ہو۔ ہم تمہارے غم میں شریک ہیں وہ اپنی مقامی زبان میں کہتا ہے۔

کی آ کاہا، کی آ ٹوا، کی آ مناوانی

Kia kaha، kia toa، kia manawanui

حوصلہ مندو، بہادرو، یہ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔

ہم کھڑے ہیں، ہم غم آمیز، نم آلود، پر سکون، ہم کھڑے ہیں۔ مذہب ہمارے ساتھ ہے، ایمان ہمیں طاقت دیتا ہے۔ اس بیوہ کا صبر ہمیں طاقت دیتا ہے جو ایک لمحے میں محبت کرتے شوہر اور جوان تابع فرمان بیٹا کھو دیتی ہے، مگر کھڑی ہے، کسی چٹان کی مانند، کسی گہرے سمندر کی مثل، پرسکون، قرار کے ساتھ۔ اس کا ٹھہراؤ ہمیں طاقت دیتا ہے۔

ہم فرق ہیں، جان لو کہ ہم فرق ہیں۔

اور جان لو کہ ہر تکلیف کے بعد آسانی ہے، ہرتکلیف کے بعد آسانی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینئرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے۔ آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں، اس بنا پر کہانیوں کی ایک کتاب "اوراقِ منتشر" کے نام سے شائع کی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ ضرار شہید کے نام پر قائم ضرار شہید ہسپتال، برکی روڈ لاہور کے ذریعے سے فلاحی کاموں سے وابستہ ہیں۔

atif-mansoor has 82 posts and counting.See all posts by atif-mansoor