ہمارے ہاں ظلم کے خلاف ویسا کیوں نہیں ہوتا؟


نیوزی لینڈ میں سینکڑوں لوگوں کے ساتھ ہوا ظلم دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ منظر جب میری آنکھوں کے سامنے آیا تو مجھ جیسے کمزور دل آدمی ہوش و حواس کھو بیٹھے، ذہن یہ ماننے سے مکمل انکار کیے ہوئے تھا کہ ایسا ظلم کبھی نہیں ہو سکتا لیکن ظلم کرنے والوں نے ظلم کیا۔ اُس ظلم کے خلاف نیوزی لینڈ کے قومی اداروں اور خاص کر کے وزیرا عظم نے جس دکھ کا اظہار کیا اور جو ردِ عمل دیا اُس سے غمزدہ لوگوں کا غم ذرا سا کم ہوا۔

وزیرِ اعظم اور قومی اداروں کے سربراہان نے خود مظلوم افراد کے گھر جا کر ان کے غم کو بانٹنے کی کوشش کی، پہلے سب لوگوں سے معافی مانگی کہ ہماری ذمہ داری تھی کہ اس ریاست میں بستے لوگوں کی جان و مال و عزت کی حفاظت کرتے مگر ہماری کوششوں کے باوجود اس سانحہ کی وجہ سے ہم نا کام ہوئے اور یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ آئندہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوگا جس میں انسانی جانوں کو کوئی خظرہ ہو۔ اس سانحہ کے فورا بعد اسلحہ کے قانون میں ترمیم کی۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ عوام کا مظلوم افراد کے ساتھ جو انسان دوست رویہ رہا اُس کی مثال بھی کہیں نہیں ملتی۔ سب اقلیتیں یکجا ہو کر مسلم کمیونٹی کے دکھ میں شریک ہوئیں اور مسلم کمیونٹی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اپنی اپنی عبادت گاہوں کو اُس روز اور اُس سے اگلے روز مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا یہی نہیں بلکہ وہاں کی دوسری اقلیتوں کے لوگ مسجد کے باہر آ کر کھڑے ہوئے کہ آپ کے ہم آپ کے محافظ ہیں۔ وہ لوگ جو مسجد کے باہر آ کر کھڑے ہوئے ان میں عورتیں، بچے، بوڑھے اور جوان سب شامل تھے۔ دنیا نے یہ دیکھا کہ اُس سانحے کے بعد اُس ملک کا ہر فرد غم زدہ تھا۔ دوسروں کے غم میں ایسے غم میں مبتلا ہو جانا اس کی بھی مثال آج کے دور میں کہیں نہیں ملتی۔

مجھے لکھنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی لیکن اپنے ملک کے لوگوں کے بار بار پوچھے گئے سوالات نے مجھے تھوڑی ہمت دی کہ کچھ لکھوسکوں۔ ہمارے ملک کے لوگ بارہا یہ کہہ رہے اور لکھ رہے کہ،

ہمارے ہاں بھی تو کئی ظلم ہوتے ہیں لیکن باقی کے لوگ ویسے غمزدہ کیوں نہیں ہوتے؟

ہمارے ملک کے سربراہان مظلوم افراد کے گھر جا کر ان کا دکھ کیوں نہیں بانٹتے؟

ہمارے ہاں اقلیتیں یکجا کیوں نہیں ہوتی؟

ہمارے ہاں غم بھی کئی قسم کے کیوں ہیں جو صرف متعلقہ افراد کو ہی ہوتے ہیں، یعنی مسلم کا غم مسلم کو ہی ہو، غیر مسلم کا غم غیر مسلم کو ہی ہو اور اسی طرح ہمارے ملک میں باقی سب اقلیتوں کے غم بھی الگ الگ ہیں جو صرف انہیں کو ہی محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں؟

ان سب اور کچھ اس طرح کے مزید سوالات پہ میری عرض سن لیجے۔ صرف دو باتیں عرض کروں گا اُمید کرتا ہوں کہ آپ اصل بات تک ضرور پہنچیں گے۔

پہلی بات :

نیوزی لینڈ میں بستے لوگ دوسروں کے احساس کے ساتھ جیتے ہیں، وہاں اپنے لیے جینا نہیں دوسروں کے لیے جینا فخر سمجھا جاتا ہے۔ ان سب لوگوں کا غم میں مبتلا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس ملک کا ہرفرد اس ملک میں بستے سبھی لوگوں کے لیے پیار و محبت کا جذبہ رکھتا ہے۔ اس پیار و محبت کا تعلق کسی ذات، کسی نسل، کسی قومیت یا کسی مذہب سے نہیں بلکہ انسانیت سے جڑا ہے۔ اب اسی بات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہم انفرادی طور پر جائزہ لیں تو ہمیں ٹھیک طرح سے معلوم پڑے گا اور ہمیں ٹھیک طرح سے ان سب سوالات کے جوابات آسانی سے مل جائیں گے۔ ہمارے ہاں پیار و محبت اور نفرت کی کیا سطح ہے وہ بھی ٹھیک سے معلوم پڑ جائے گا۔

دوسری بات :

جہاں برسوں سے بلکہ صدیوں سے امن قائم ہو، جس ماحول میں انسانوں کے علاوہ خدا کی باقی مخلوق کا بھی احساس کیا جاتا ہو، اُس ماحول میں امن کے خلاف کوئی معمولی حادثہ بھی ہو جانا اُس ماحول والوں کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ اب ذرا اپنے ہاں بھی صورتِ حال کا چیدہ چیدہ جائزہ لیجیے تو اصل بات خوب سمجھ آ جائے گی۔ جس ماحول میں امن کی بدترین صورت ہو، جس ماحول میں دوسری مخلوق تو دور دوسرے انسانوں کے بارے سوچنا ختم ہو چکا ہو، جس ماحول میں ہر روز ظلم و ستم ہوتے ہوں، جس ماحول میں آہ و فغاں، سسکیاں، چیخیں ہر روز سنائی دیتی ہوں، جس ماحول میں کوئی ایسا دن نہ گزرتا ہو جس میں انسانوں کا خوں نہ بہایا جاتا ہو تو اُس اُس ماحول میں باقیوں کو کیسا غم؟ اور کیسا احساس ہو؟ بھلا ایسے ماحول میں دوسروں کی فکر کیونکر ہو، حضور! ایسے ماحول میں اپنی فکر ہی کر لینا بڑی عقلمندی و بڑی جرات مندی ہے۔ خدا کرے ہمیں بھی اصل معنوں میں جینے کا ہنر آ جائے۔

Facebook Comments HS