اساتذہ کے قتل پر ایک طرح کا اطمینان ہوتا ہے، کبھی سوچا کہ کیوں؟


درس گاہوں کی پیداواری صلاحیت اس وقت صفر پر کھڑی ہے۔ اس کی وجہ تنقیدی مطالعے پر عائد پابندی ہے جسے ریاست کی تائید حاصل ہے۔ تنقیدی مطالعے سے محروم ذہن بسم اللہ کا گنبد ہوتا ہے جو مزاج میں گھٹن پیدا کرتا ہے۔ ٹھہرا ہوا پانی ہوتا ہے جو جوہڑ بن کر سماج میں تعفن پیدا کرتا ہے۔ تنقیدی مطالعہ ہی بتاتا ہے کہ فرسودگی کی وہ برف کتنی جمی ہوئی ہے جس میں ارتقا کا پہیہ گھوم تو رہا ہے مگر آگے کی طرف بڑھ نہیں رہا۔ ریاست کیوں چاہے گی کہ کسی ذہن پر یہ راز کھلے کہ جو نصاب اسے پڑھایا جا رہا ہے وہ تقدیس کے غلاف میں لپٹی ہوئی نفرت اور تعصب کی دستاویز ہے۔ جسے یہ بات سمجھ آجائے وہ نہیں چاہے گا کہ میرا شاگرد اور بیٹا اس نصاب سے دوچار ہو۔ یہ ایسی خواہش ہے جسے پالنے کی صورت میں فریب خوردہ نظام کی بنیادیں متاثر ہوتی ہیں۔ کہنے والے یونہی نہیں کہتے کہ طے شدہ معاملات پر کلام نہیں کرنا چاہیے۔ قانون آپ کو خواہش پالنے سے روک سکتا ہے اور نہ کلام کرنے سے۔ ظاہر ہے ایسی کوئی روک لگانے کے لیے قانون سازی بھی ممکن نہیں ہے۔ ریاستی اشرافیہ نے برسوں پہلے اس کا حل توہین مذہب کے قانون کی صورت میں دریافت کرلیا ہے۔ جس کی سوچ دائرے سے باہر نکلے، توہینِ مذہب کے فیتے سے اس کی گردن ناپ لو۔

ایک جابرِ روسیاہ نے یہ قانون سیاسی مخالفین کا گھیراؤ کرنے کے لیے بنایا تھا۔ عرش کے نمائندے عدالت لگا کر مخالفین کے بیانات کی ازخود تشریح کرکے فیصلے صادر کرتے تھے۔ جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرلے گا دنیا وآخرت سنور جائے گی۔ جو انحراف کرے گا وہ جان لے کہ اس نے مذہب کی گستاخی کر دی ہے۔ اسی کی دہائی میں قائم ہونے والی یہ میزان آج یوں تو ہر اس مقام پر نصب ہے جہاں شعور کی خیرات بٹتی ہو مگر درس گاہوں کے باہر پورے اہتمام کے ساتھ قائم کر دی گئی ہے۔ جو استاد شاگرد کو تازہ زمانے کی خبر دے گا اس کے کہے کو میزان پہ پرکھا جائے گا۔ آپ کے کہے اور لکھے کی تشریح کیا ہے، یہ آپ کریں گے۔ تشریح وہی معتبر ہوگی جودور افتادہ دیہات سے آئے ہوئے کسی شاگرد کی فکر پر نصب میزان کرے گی۔ درس گاہ میں داخل ہونے سے پہلے استادکے لیے ضروری ہے کہ گلستان کی ہر شاخ پر لٹکی میزان کو مطمئن کرے۔ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اطمینان کا سامان کیجیے۔ اپنی جان کے دشمن ہیں توہین مذہب کا کفن احتیاطاً ہمراہ لیتے جائیے!

انور سن رائے کے ناول کی حالیہ اشاعت پر کراچی کی اطراف میں رہنے والے ایک کامریڈ کو دکھ ہواتھا۔ کرنل عطا کی آب بیتی کے حوالے سے پبلشرز کی تجویز سن کر اسلام آباد کے اطراف میں بیٹھا ایک مولائی دکھی تھا۔ کامریڈ کا دکھ کام آ گیا کہ ”چیخ“ میں ہراساں کیے گئے حروف نے اپنا حجاب چاک کر کے سکھ کا سانس لے لیا۔ اور مولائی کی خیرہو کہ کرنل عطا کی آپ بیتی شائع کرنے کی اس نے ہامی بھرلی۔ کراچی کے کامریڈ کا کہنا تھا، ناول سے گالیاں حذف کرنا بددیانتی تو ہے ہی، نری بدذوقی بھی ہے۔ اسلام آباد کے مولائی نے کہا، اگر یہ پتھر بھاری ہے تو ہاتھ ہی نہیں لگانا چاہیے، اٹھانا ہے تو پھر پبلشر کا حق نہیں کہ وہ متن میں بددیانتی کا ارتکاب کرے۔

کامریڈ اور مولائی میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں ناخواندہ عالم ہیں۔ ان کے پاس آلودہ سند نہیں ہے، مگر یہ مستند ہیں۔ ان کے حوالوں میں فرسودہ نصاب نہیں ہے، مگر کتاب ہے۔ فرسودہ نصاب اوراس کے اثرات کے جو شکار ہوئے وہ پروفیسر حافظ سعید ہوگئے۔ غزوہ ہند والے لال بجھکڑ ہو گئے! جو بچ نکلے مشال خان کے والد بزرگوار ہوگئے۔ عبدالستار ایدھی ہو گئے!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2