دراصل عالمی یومِ خواتین ہی فحاشی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آٹھ مارچ کو پاکستان کے کئی شہروں میں عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پر ریلیاں نکالی گئیں۔ میں بہت کم کسی ریلی میں جاتا ہوں مگر کراچی میں فرئیر ہال کے سبزہ زار پر ہونے والے جلسے میں یوں شریک ہونا پڑا کیونکہ ’’ذرا ہٹ کے ’’ کے لیے عورت مارچ میں کیا ہوتا ہے کے موضوع پر پروگرام کرنا تھا۔ وہاں جو اسٹیج بنایا گیا اس پر عورتوں کا ایک گروپ ایک ہی رنگ کے لباس میں ترانے گا رہا تھا۔ وقفے میں بار بار فیض صاحب کا ’’ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ اقبال بانو کی آواز میں چل جاتا تھا۔

اسٹیج کے سامنے جو ہجوم تھا اس میں خواتین کے حقوق کی کئی سرکردہ تنظیموں کے جانے پہچانے چہروں کے ساتھ ساتھ خواتین مزدور، گھریلو ملازمائیں، خواتین سیاسی ورکرز، خواتین صحافی، خواتین اساتذہ، خواتین بیورو کریٹس، پولیس والیاں، خواتین سینیٹری ورکرز، تجاوزات کی صفائی سے متاثر ہونے والی ہندو خوانچہ فروش خواتین، لیاری کی گلیوں میں تعلیم دینے اور حاصل کرنے والی لڑکیاں، لیڈی ہیلتھ ورکرز، خواجہ سراؤں کے نمایندے، برگر بچے بچیاں، کنبے اور بہت سے مرد کہ جن میں کئی سینئیر صحافی، بینکرز، کارپوریٹ سیکٹر اور فلاحی انجمنوں سے تعلق رکھنے والے اور عام لوگ شامل تھے۔ غرض کل ملا کے ایک رنگارنگ قسم کی طبقاتی فضا تھی۔

اسٹیج سے جن خواتین نے تقاریر کیں وہ کوئی پروفیشنل ہستیاں نہیں تھیں۔ اقلیتی خواتین نے اپنے مسائل بیان کیے، تجاوزات کی صفائی سے متاثر ہونے والی بے روزگار خواتین کی نمایندہ نے خطاب کیا، ایک خواجہ سرا مقرر تھا، ڈومیسٹک ورکرز کی دو خواتین نے تقریر کی، صنم ماروی نے صوفی گائیکی سے مجمع لوٹ لیا۔ میرے اردگرد جو لڑکے لڑکیاں پلے کارڈز اٹھائے گھوم رہے تھے ان میں سے بعض پر لکھے نعرے یا ون لائنر بہت دلچسپ تھے۔ اپنا کھانا خود گرم کرو، اپنا موزہ خود ڈھونڈو، اب تمہاری دھونس نہیں چلے گی، میں عورت نہیں انسان ہوں، افضل کوہستانی کو کس جرم میں قتل کیا گیا، اپنی مردانگی اپنے پاس رکھو۔

ایک پلے کارڈ پر لکھا تھا میرا جسم میری مرضی۔ میں نے اس خاتون سے پوچھا اس کا کیا مطلب ہے ؟کہنے لگی اس کا مطلب ہے میرا جسم تمہاری گھورتی نظروں کی ملکیت نہیں ہے، میرا جسم تمہاری ماؤں بہنوں کے جسم سے مختلف نہیں۔ مجھ سے بھی پوچھ لو کہ کب اور کتنے بچے ہوں۔ یہ فیصلہ کرنا صرف تمہارا اختیار نہیں۔ تمہارے جسم کو جیسے کام کے بعد آرام چاہیے، ویسے ہی میرے جسم کو بھی چاہیے۔ میرا جسم صرف تمہاری خواہشات پوری کرنے یا مار کھانے کے لیے نہیں بنا۔ اس پر میرا تم سے زیادہ حق ہے۔ اور بتاؤں؟ میں نے کہا بس فی الحال اتنا کافی ہے۔

شام ڈھلے میں واپس ہو لیا۔ خبروں سے پتہ چلا کہ سندھ میں کراچی سے بھی بڑا مجمع اور ریلی حیدرآباد میں نکلی۔ جس میں دیہی خواتین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حیدرآباد کے منتظمین کی یہ شکایت بجا ہے کہ نام نہاد مین اسٹریم میڈیا نے ان کی ریلی کو ویسی کوریج نہیں دی جو صوبائی دارالحکومتوں میں نکلنے والی ریلیوں کو ملی۔

یومِ خواتین گذر گیا۔ دو دن بعد سوشل میڈیا پر ایک ڈیجیٹل عالم کی ایک وڈیو نمودار ہوئی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ یومِ خواتین کی یہ ریلیاں کتنی اسلام دشمن، فحش اور مشرقی اقدار کے خلاف تھیں۔ اس کے گزشتہ روز اسی سوشل میڈیا پر دو چار اور وڈیو کلپ بھی نظر آئے۔ جن سے یہ تو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ خواتین کی کس ریلی کے ہیں۔ البتہ ایک تیس سیکنڈ کی وڈیو میں ایک معمر شخص جو وھیل چئیر پر بیٹھا تھا ایک لڑکی ( غالباً صحافی ) سے مائیکروفون پر کہہ رہا تھا کہ خواتین کی آزادی تب تک مکمل نہیں ہو گی جب تک نکاح کی روایت ختم نہیں ہوتی۔ نکاح انگریزوں کی ایجاد ہے۔ ایسی گفتگو کے بعد مائیکرو فون ہٹ گیا۔ جس نے وڈیو پوسٹ کی وہ یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ اس طرح کی ریلیوں میں جو شریک ہوئے وہ سب اسی قماش کے تھے۔

میرا خیال تھا کہ یہ گیم صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود ہے اور رہے گی۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ہر قماش کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ مگر میرا خیال غلط تھا۔ دن بدن معاملہ سنگین ہوتا چلا گیا۔ زبان جارحانہ سے گالیانہ اور پھر خطرناک حد تک دھمکیانہ ہوتی چلی گئی۔ لیاری کے کچھ علاقوں میں چند مقامی خواتین کے نام پمفلٹ بھی چھاپے گئے۔ کچھ مساجدسے شعلہ بار تقاریر شروع ہوئیں۔ کئی خواتین کو سنگین نتائج کی وارننگز اور گالیاں ایس ایم ایس، وٹس ایپ کے ذریعے ملنی شروع ہوئیں۔

سندھ اسمبلی میں ایک رکن نے عورت ریلی کی مذمت میں قرار داد پیش کرنے کی کوشش کی مگر اجازت نہیں ملی۔ البتہ خیبر پختون خوا اسمبلی بازی لے گئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ کتنے پارلمینٹرینز یا ارکانِ صوبائی اسمبلی نے کسی بھی ریلی میں بذاتِ خود شرکت کی۔ مگر ان تک یہ پیغام بہرحال نہیں پہنچ سکا کہ ان ریلیوں میں کن کن طبقات کے زن و مرد شریک ہوئے۔ اسٹیج سے کیا تقاریر ہوئیں یا کون سے مطالبات ہوئے یا کن موضوعات پر روشنی ڈالی گئی۔

مگر اسمبلی میں جو قرار داد متفقہ طور پر منظور ہوئی اس سے پتہ چلا کہ ان ریلیوں کو غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والوں نے ہماری اقدار کو تار تار کرنے کے لیے منظم کیا ان میں فحش نعرے لگے، فحش پلے کارڈز اٹھائے گئے اور فحش گفتگو ہوئی۔ کسی کو یاد نہیں رہا کہ یومِ خواتین پاکستان میں ایجاد نہیں ہوا بلکہ اقوامِ متحدہ کے تحت دنیا بھر میں انیس سو پچھتر سے منایا جا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کی ریلیاں صرف پاکستان کے چند شہروں میں نہیں دنیا بھر میں ہوئیں۔ پاکستان میں اس دن کی مناسبت سے ہمیشہ سیمینار و چھوٹی موٹی تقاریب ہوتی چلی آ رہی ہیں مگر ریلیوں کا رواج گزشتہ دو سال سے بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ برس بھی یہی خواتین تھیں جو ان ریلیوں میں شامل تھیں۔ مگر اس سال یہ خواتین اور ان کا پیغام یکایک ’’فحش اور اقدار دشمن’’ کیسے ہو گیا؟

جو لوگ ان ریلیوں میں شریک ہوئے انھوں نے وہ فحاشی کیوں محسوس نہیں کی جو شریک نہ ہونے والوں کو نظر آ گئی؟ کیا شرکا کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی تھیں؟ کیا ان میں اتنی غیرت نہیں تھی جتنی شریک نہ ہونے والوں میں ہے۔ کیا شرکا پاکستانی معاشرے میں نہیں رہتے ؟ کیا انھیں نہیں معلوم کہ ہم کس حد تک جا سکتے ہیں کس حد تک نہیں؟ براہِ کرم یہ سوالات کرنے اور جوابات ڈھونڈنے کی کوشش مت کیجیے۔ کیونکہ مصالحہ کم پڑ جائے گا۔

چلیے ان ریلیوں میں اشرافیہ کی خواتین شرکا اور منتظمین مغرب زدہ اور ایجنڈے کے ایجنٹ سہی مگر ڈومیسٹک ورکرز، اقلیتیں، خواتین وکلا، خواتین صحافی، خواتین بیورو کریٹس کو بھی یہ سب کچھ کیوں دکھائی نہیں دیا۔ میڈیا جو ہر مرچ مصالحے والی خبر کو چار چاند لگا دیتا ہے اسی میڈیا کے بیشتر چینلز اور اخبارات کو ان ریلیوں کے نام پر کھیلے جانے والے ’’گھناؤنے کھیل‘‘ کی خبر کیوں نہیں ہوئی ؟ صرف ایک آدھ چینل اور اخبار کو یہ ایکسکلوسیو جھلکیاں اور روداد کیسے مل گئی؟

مگر اس بات کو ضرور سراہنا چاہیے کہ خیبر پختون خوا اسمبلی میں اس مسئلے پر مکمل یکجہتی پائی گئی۔ مذمتی قرار داد جمعیت علمائے اسلام کی خاتون رکن نے پیش کی اور پی ٹی آئی نے مکمل حمایت کی۔ کسی نے کسی کو پہلے کی طرح یہودی ایجنٹ نہیں کہا۔ کسی نے کسی کو یاد نہیں دلایا کہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد دھرنے میں شامل خواتین کے بارے میں کس کس جید شخصیت نے ماضی میں فروغِ فحاشی کے دھرنے سمیت کیا کیا معنی خیز اور رسیلے تبصرے کیے تھے۔ کم ازکم کوئی تو ایک موضوع ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر آ گئیں۔

مگر اسی اسمبلی کے فلور سے ایک دعاِ مغفرت افضل کوہستانی کے لیے بھی کہ جس نے کوہستان میں پانچ لڑکیوں اور تین لڑکوں کے غیرتی قتل کا بھانڈا پھوڑا اور اس کے عوض خود بھی قتل ہو گیا۔ ایک قرار دادِ مذمت بہاولپور کے اس پروفیسر کے قاتل طالبِ علم کے لیے بھی جو اپنے ہی استاد کے لیے مستغیث، جج اور جلاد بن گیا۔ اس نے ’’ طلبا و طالبات کی ویل کم پارٹی کی بے غیرتی‘‘ جو ابھی ہونا باقی تھی اس کے جرم میں پروفیسر خالد حمید کو اپنے تئیں پیشگی ’’جہنم رسید’’ کر دیا۔

یونہی ایک بات ذہن میں آ رہی ہے۔ اگر جیسنڈا آرڈرن نیوزی لینڈ کے بجائے پاکستان کی وزیرِ اعظم ہوتی تو کیا کر لیتی ؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •