فیس بک پر خواتین کا انباکس یا پینڈورا باکس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 678
  •  

فیس بک اکاونٹ کھولا تو میاں بولے ”تصویر کی جگہ پودے یا درخت کی ڈی پی لگا دو“۔ ہم نے کہا ”میاں پچھلے گیارہ سال سے مخلوط تعلیم کے ادارے میں پڑھا رہی ہوں پردہ نہیں کرتی تو فیس بک پر کیوں کروں؟ میں کوئی درخت ہوں کیا، جو ڈی پی میں گڑی رہوں! “ کچھ افاقہ نہ ہوا تو بہ بانگ دہل میاں کو بتا کر انھیں بلاک کیا! لکم دینکم ولی الدین۔ ان کے لیے ان کا دین اور ہمارے لیے ہمارا دین! بھلے مانس تھے چپ کر رہے۔ پھر معترض نہ ہوئے۔

ایک دن سسرال میں فیس بکی شاعری کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی تو ساس اور نند پہنچیں ابا جی کے پاس۔ ہاتھ لہرا کر گویا ہوئیں ”اس نے فیس بک چلا رکھی ہے“ کولیگ نے سنا تو ہنس ہنس کر دوہری ہوگئیں ”فیس بک چلا رکھی ہے چکلا تو نہیں! “

پر حقیقت یہی ہے کہ خواتین فیس بک پر مع اپنی شناخت کے موجود ہوں اور پھر شاعرہ بھی ہوں تو عام ذہنیت یہی ہے۔ گویا چکلا کھول رکھا ہے! تصویر لگائیں تو معتوب! حضرت! کیا دنیا بھر میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ اوراسناد پر تصویر چسپاں کرنا ضروری نہیں؟ پھر یہ جو میری فیس بک وال ہے یہ بھی تو میری شناخت ہے۔ اس پر اپنی شکل شریف ٹانک دی تو کیا برا کیا؟ ہم ڈی پی لگائیں تو ضرورت رشتہ کا اشتہار یا اشتہار حسن! آپ لگائیں اور آئے روز بدلیں تو جسٹ فور چینج! کیا ہمیں جسٹ فور چینج کا چونچال کرنے کا حق نہیں! سارے چونچال آپ کے اور ہمارے حصے صرف وبال!

سب سے بڑا مسئلہ ہے خواتین کا ان باکس۔ جسے کھولیں تو پینڈورا باکس سے کم نہیں۔ جس کا جی چاہے ان باکس میں گھسے، جس کا جی چاہے بولڈ نظم کو دعوت عشق سمجھے اور ان باکس میں ہمارے سارے دکھ سمیٹنے کی قسمیں کھائے۔ کھسماں نوں کھائے ایسی ذہنیت! (جہنم میں جائے ایسی ذہنیت) پر کیا کیجیے کہ ان باکس کو تو گویا حضرات نے ”جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہوئے“ (جہاں بندہ نہ بندے کی ذات ہو) کے مصداق سمجھ رکھا ہے! بچپن میں ہم لوگ ڈور بیل بجا کر بھاگ جایا کرتے تھے مگر یہ تو شباب کیا پچپن میں بھی ”پڑے ہیں ان باکس میں کوئی ہمیں بھگائے کیوں! “ سمجھے بیٹھے ہیں۔

”السلام علیکم۔ کیسی ہیں؟ سنیں مس۔ ایڈ می۔ لکنگ سویٹ“ تو عام کار پردازیاں ہیں۔ فون نمبر، واٹس ایپ کے وٹے پھینکنے سے لے کر مردانہ قوت کی نمائش تک کے مظاہرے عام ہیں۔ خواتین ڈر کی ماری چپ سادھے بیٹھی رہتی ہیں۔ بلاک کا آپشن استعمال کرتے کرتے ”انگلیاں فگار اپنی بورڈ خونچکاں اپنا“ کی نوبت آپہنچتی ہے۔ مگر یہ سلسلہ شیطان کی آنت جتنا دراز رہتا ہے! کیا علاج ہو اس کا؟ کہ سائیبر کرائم والوں کو رپورٹ کریں تو ادھر یہ کیفیت ہے ”اس کے بعد اک لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور! “ اس گھور اندھیرے میں کہان جائیں یہ بیبیاں؟

مشورہ آتا ہے گھر سنبھالیں، بچے سنبھالیں! اے حضرت! تمھاری بیبیاں کیا سونے کی ڈوئی ہلاتی ہیں ہانڈی میں جو ہم نہیں ہلاتے؟ پر اعتماد ہیں ہم۔ اپنے ہونے کا ادراک ہے۔ معاشی طور پر مستحکم ہیں۔ ہانڈی بھی خود پکاتے ہیں گھر بھر تمھاری بیبیوں سے اچھا سنبھالتے ہیں۔ خدا نے تخلیقی صلاحیت بخشی ہے۔ شاعری کرتے ہیں تو کیا فیس بک کے ذریعے لوگوں تک نہ پہنچائیں؟

کل جانے کس لہر میں اپنی کمزور چہرے والی مریضانہ وضع کی تصویر وال پر پوسٹ کر کے کیپشن دے بیٹھی ”مریض محبت۔ “ فیس بک کے دوستوں نے حسب معمول کمنٹ دیے۔ خیر خواہ اور طالبعلم جو حقیقی زندگی میں جانتے تھے انھوں نے کریش ڈائٹنگ چھوڑنے کا مشورہ دیا اور صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ صاحبان ذوق نے مصرع مکمل کیا۔ ہلکے پھلکے مزاح کے پیرائے میں کمنٹ اور جواب کمنٹ کا سلسلہ چلتا رہا۔ اسی اثنا میں ایک ”حکیم صاحب“ ان باکس میں تشریف لائے اور اندرونی علاج کی بشارت کے ساتھ فون نمبر اور واٹس ایپ نمبر کی پہلی ڈوز دی۔ ہم کہ ٹھہرے اجنبی۔ سو سکرین شاٹ لے کر پوسٹ کر دیے اس کی دیوار پر اور اپنی پر بھی۔

#EXPOSEINBOXHARRASMENT
کی مہم کی نوید سنائی فیس بکی دوستوں کو۔ بیش تر نے بہادری کی داد دی۔ ہمارا مقصد محض حفظ ماتقدم تھا۔ نیز مستقبل کے معالجین پر ان باکس کے دروازے بند کرنا مقصود تھے۔ مگر وہی ڈھاک کے تین پات نما نصیحتیں کہ بلاک کی آپشن ہے نا۔ بیٹا در گزر کریں۔ تماشا مت بنائیں۔ ہائے بے چارہ اتنی رسوائی پر خودکشی کر گیا تو۔ سوچا واقعی ساڈے گل ای پھا نہ پے جائے (ہمارے ذمے ہی نہ پڑ جائے)۔ ہونہار بروا ہے۔ باپ دادا کی ناموس ڈبو رہا ہے تو بیٹے کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر بھلے مانس باپ اور اس کے خاندان کی ناک کیوں کاٹیں!

پھر خدا کسی کا پردہ رکھنے والے کا بھی پردہ رکھتا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ہمارے ڈیلیٹ کرنے سے پہلے ”کسی“ نے فیس بک کو اس پوسٹ کے رپورٹ کر دی۔ سو اے فیس کے کل مومنین و مومنات، کل صالحین و صالحات ہمارے حق میں بھی دعا کرنا کہ جس طرح خدا نے اس غریب کے ان باکس کے سکرین شاٹس والی پوسٹ فیس بک کی انتظامیہ سے ڈیلیٹ کرا کے اس کا پردہ رکھا اور اسے سیدھی راہ پر لگایا۔ اسی طرح خدا ہم سب کے پردے رکھے آمین و ثم آمین۔ اب بولو گی کوئی بی بی۔

#EXPOSEINBOXHARRASEMENT
نا جی نا۔ چل بی بی! جا کر ناک کی سیدھ میں شاعری لگاوال پر۔ لگا عینک کالی اور کر بلاک ان باکسی کمینوں کو اور تیرا کوئی حل نہیں! رہے کام ان باکس کے کمینوں کا!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 678
  •  
عارفہ شہزاد کی دیگر تحریریں
عارفہ شہزاد کی دیگر تحریریں