یکم اپریل کو جنم لینے والوں کی مسکراہٹ کے کیا کہنے، دنیا کو الو بنا کر خوب مسکراتے ہیں۔ ہمارے ممدوح بھی خود پر لکھی گئی نظمیں پڑھ پڑھ کے مسکراتے اور مسکرا مسکرا کر فیس بک وال پر شئیر کرتے پائے جاتے ہیں! دنیا کی ہر زبان میں لکھنے والی ناری نے ان پر ایک نہ ایک نظم ضرور لکھ رکھی ہے۔ مگر بھرم رکھ لیا اردو زبان کا، ہماری قراہ العین شعیب نے کہ ان کی نظم ”سفید بالوں والا بدھا“ سب سے دلکش ہے۔ ہم ہوتے تو ”د“ کی بجائے ”ڈال“ لکھ کر حقیقت حال بیان کر دیتے! پر یہ امر مانع ہوا کہ یہ حضرت کہیں ”بوڑھوں کا گیت“ سنانے نہ بیٹھ جائیں!
لگے ہاتھوں بتاتے چلیں کنجوسی تو ان پر ختم ہے جب لاہور آتے ہیں ہمارے ہی پلے سے دعوت کھاتے ہیں اوراپنا پلہ جھاڑ کر دکھاتے ہیں کہ خالی ہے! مجال ہے جو اپنے پیسوں کو کبھی ہوا لگوائیں۔ ”زرد پتوں کی شال“ اڑ جانے کا خدشہ ہے شاید۔ حضرت ہائیکو کا مجموعہ ہے کائے کو (کیوں ) اڑے گا! حد تو یہ ہے ”ملبے سے ملی چیزیں“ سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں تو دعوتوں کا گلہ کیا کریں!
Read more