اسلام یا کچھ اور۔۔۔


پچھلے دنوں ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پرکاش نامی ایک طالب علم نے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط لکھا جس میں ان کو اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں کئے گٸے وعدے یاد دلائے اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے بارے میں لکھا۔ پرکاش نے اپنے خط میں بتایا کہ کیسے 50 سالہ مسلمان بااثر مرد 15 سالہ ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے بزور مسلمان کر دیتے ہیں اور ان سے شادی کرتے ہیں۔ اس دفعہ ہولی کے دنوں میں ہونے والے دو ایسے اغوا کاریوں کے بارے میں لکھا۔ پرکاش نامی یہ طالب علم ایک سوال بھی کرتا ہے کہ اگر یہ مذہبی تبدیلی اسلام کے لئے ہیں اور کسی کے اپنے مفاد کے لئے نہیں تو آج تک ایسا واقعہ بڑی عمر کی ہندو عورتوں کے ساتھ کیوں نہیں ہوا؟
اسی طرح کا ایک کیس کچھ دن پہلے بھی سامنے آیا جب ایک صاٸمہ نامی عیساٸی خاتون جوکہ شادی شدہ تھی اور تین بچوں کی ماں تھی کو خالد نامی ایک مسلمان مرد نے اغوا کیا۔ پہلے تین دن تک اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا رہا اور پھر اسے جبرا مسلمان کر کے اس کے عیساٸیت کے نکاح کو حرام کہہ کر خود ان سے نکاح کر ڈالا۔ حکومت اور پولیس سے بیزار ہو کے صاٸمہ اور ان کے شوہر نویداقبال نے سوشل میڈیا پہ آ کے عوام کو اپنی فریاد سناٸی اور ان سے مدد کی درخواست کی۔

نویداقبال نے بھی پرکاش کی طرح لوگوں سے ایک سوال کیا, کہ اب عدالت اس کی بیوی کے مسلمان نکاح کو صحیح کہہ کر ان کو واپس نہیں کر رہی۔ کیا ان کے سولہ سالہ عیساٸی نکاح کا اس سولہ دن نکاح کے سامنے کوٸی حیثیت نہیں جو کہ جبراً کیا گیا ہے؟

یقینا پرکاش اور نوید دونوں کے سوال ضمیر کو جھنجوڑنے اور سوچ میں مبتلا کرنے والے ہیں۔

اب تیسرا کیس ایک مذہبی جماعت کے لیڈر کا آتا ہے جس نے پچھلے دنوں ہونے والے عورت مارچ کے ردعمل میں نہ صرف انتہاٸی سخت الفاظ استعمال کیے بلکہ اپنے جماعت کے کارکنوں کو حکم دیا کہ اگر پھر کبھی ایسی سرگرمی ہو تو بزور بازو ان کو روکا جائے کیونکہ یہ اسلام کے منافی ہے اور معاشرے میں بےحیاٸی پیدا کرتی ہے۔
اب ہم ان تینوں کیسز کو لے کے اس پر بات کرتے ہیں۔ پہلے تو ہم اس مذہبی جماعت کے رھنما کی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسی سرگرمیاں اسلام کی منافی ہیں اور اس کی روک تھام ہونی چاہٸیے، چاہے وہ کیسے بھی ہو۔ لیکن ہم اسی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ کیا اوپر والے دو کیسز اسلام کے منافی نہیں؟ کیا اسلام اقلیتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ اگر نہیں تو جناب ایسے واقعات پہ آج تک آپ چپ کیوں ہیں۔ اگر آپ کا مقصد سیاسی نہیں بلکہ صحیح اسلامی ہیں تو اپنے آج تک ان کے بارے میں کسی بڑے فورم پہ آواز کیوں نہیں اٹھاٸی؟ اپنے کارکنوں کو ایسے غیر اسلامی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے کیوں نہیں کہا؟
میں بھی معاشرے میں پھیلنے والے بےحیاٸی کے حق میں نہیں ہوں اور ایسےچیزوں کو اسلام کے خلاف مانتا ہوں۔ لیکن اگر مجھے ایک انسانی حقوق کے لئے ہونے والے مارچ میں چند متنازع نعرے نظر آٸیں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پہ ہونے والے انسانی حقوق کا استحصال نظر نہ آٸے تو یقینا میرا مقصد اسلام نہیں، کچھ اور ہے۔

Facebook Comments HS