پنجاب کا مقدمہ

”پنجاب کا مقدمہ“ نامی یہ کتاب مرحوم محمد حنیف رامے نے لکھی ہے۔ یہ کتاب 1985 میں شائع ہوئی ہے۔ حنیف رامے صاحب نے یہ کتاب پنجابی قوم پرست کی نقطہ نظر سے لکھی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں پنجاب کے عوام کی طرف سے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔ یقینا انہوں نے جس…

Read more

پیپلز پارٹی اور پشتون: کل اور آج

کچھ دوست اعتراض کررہے ہیں کہ آپ پشتون آج بلاول کو سپورٹ کررہے ہیں حالانکہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگا کر بنگال کو پاکستان سے الگ کیا تھا۔ اس ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان اور سرحد (کے۔ پی۔ کے ) میں NAP کا حکومت تھوڑ کر پشتونوں کے ساتھ ظلم کیا تھا۔ اسی طرح بلاول کی ماں محترمہ بینظر بھٹو نے 2007 کے الیکشن مہم کے دوران کہا تھا کہ حکومت میں آکر وزیرستان کا آپریشن کرے گی جو پشتونوں کے حق میں نہیں تھا۔ اسی طرح وہ اعتراض کررہے ہیں کہ راٶانور کو بلاول کے ابو یعنی زرداری نے بہادر بچہ کہا تھا اور آج تک ان کے پشت پناہی کے وجہ سے راٶانور کو پھانسی نہیں ملی۔

Read more

قوموں کا عروج و زوال

پچھلے دنوں فیسبوک پہ ایک ویڈیو دیکھی جس میں ترکی کے ایک جہاز کے عملہ کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جہاز میں پرائمری سکول کے ایک استاد سفر کررہے ہیں۔ معلوم ہونے پر جہاز کے پائلٹ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے جہاز میں ایک استاد سفر کررہے ہیں۔ اعلان سنتے ہی سارے لوگ احتراما کھڑے ہوجاتے ہیں اور جہاز کا عملہ پھول لاکے استاد کو پیش کرتا ہیں۔ اس احترام کو دیکھ کر استاد کے آنکھوں میں خوشی سے آنسو آجاتے ہیں۔

Read more

اسلام یا کچھ اور۔۔۔

پچھلے دنوں ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پرکاش نامی ایک طالب علم نے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط لکھا جس میں ان کو اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں کئے گٸے وعدے یاد دلائے اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے بارے میں لکھا۔ پرکاش نے اپنے خط میں بتایا کہ…

Read more

باچاخان پر اعتراضات اور ان کے جوابات

باچاخان صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا اہ) سے تعلق رکھنے والے تحریک آزادی کے نامور مجاھد تھے۔ جنہوں نے عدم تشدد کو اپنا اسلحہ بناکہ برطانوی سامرج کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی۔ باچاخان پر کچھ اعتراضات ہیں جن کی میں جواب دینے کی کوشش کروں گا۔باچاخان پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ سیکولر نظریات کے حامل تھے جن کو اسلامی روایات کے خلاف گردانا جاتا ہے۔ سیکولر نظریات کے بارے میں ترقی پسند لوگوں کی رائے ہیں کہ جو لوگ قوم کی ترقی کے لئے کام کریں گے وہ لوگ دین سے بے زار ہوں گے جبکہ دینی جماعت کے لوگ سیکولرزم کو لادینیت اور دھریت (ایتھیزم) سے جوڑتے ہیں۔ یہ دونوں انتہإپسندانہ سوچ کے لوگ سیکولرزم کو مذہب کے برعکس گردانتے ہیں۔ جبکہ جیکب ہولیک جنہوں نے سیکولرزم کی اصلاح متعارف کی ہے نے اس لفظ کو مذہب کے خلاف تردیدوتنقید کے لئے استعمال نہیں کیا، نہ ہی کوئی الگ مذہب لے کر آئے ہیں اور نہ ہی کسی مذہب کے سچائی پہ سوال اٹھاتے ہیں۔ جیکب ہولیک کے نزدیک سیکولرزم انسانی سوچ کی آزادی ہے۔

Read more