ناول فلم یا کتاب پر لکھنے کا عزم…مگر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوارکی صبح اخبارات کا پلندہ اٹھاکر بستر کو لوٹا اور اس کالم کے لئے موضوعات کی تلاش شروع کی۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے بیک پیج پر ایک مصری صحافی کی تصویر سمیت دو کالمی خبر تھی۔ 65برس کے طویل انتظار کے بعد 85سالہ شخص نے بچپن کی محبت سے شادی کی۔

اس خبر کی تفصیلات کو بہت اشتیاق سے پڑھتے ہوئے یاد آیا کہ ایک بار میںنے Long Formصحافت کا ذکر کیا تھا۔اس نوعیت کی صحافت فقط پرنٹ میڈیا کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اپنے بنیادی میڈیم کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے خود کو امید دلائی تھی کہ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں کاغذ پر چھپا ہوا مواد شاید روزانہ اخبار کی صورت میں آنے والے دنوں میں قاری کو میسر نہ رہے۔

اخبار نے مگر Long Formمیں خبروں اور واقعات کو بتانے کا جو ہنر سکھایا ہے وہ Digital Mediaکی بھی ضرورت رہے گا۔ امید بندھی کہ جب تک زندگی ہے اس ہنر کو استعمال کرتے ہوئے رزق کمایا جاسکتا ہے۔اس امید کی یاد کے ساتھ ہی لاطینی امریکہ کے شہرئہ آفاق ناول نگار گبرائل گارسیامارکوز کی یاد آگئی۔

اس کے دوست اور مداح پیار سے اسے ’’گابو‘‘ پکارتے تھے۔ اس نے ادب کا نوبل انعام لینے کے بہت عرصے بعد ایک ضخیم ناول بہت مہارت سے لکھا تھا۔ اس ناول کو میں اُردومیں ’’ہیضے کے موسم میں عشق‘‘ کا عنوان دوں گا۔گابو کے اس ناول میں ایک ڈاکٹر کی کہانی تھی جس نے تمام عمر فقط ایک ہی خاتون کے عشق میں گزاردی۔

دُنیاوی حوالوں سے وہ بہت کامیاب وخوش حال رہا۔اپنی محبت کو مگر بھلا نہیں پایا۔ منیرنیازی کے اس شعر والی کیفیت میں مبتلا رہا جس میں شاعر نے ’’جس نے میرے دل کو درد دیا اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں‘‘ کا اعتراف کیا تھا۔ مذکورہ ناول کی یاد آئی تو یہ خیال بھی آیا کہ اس کالم میں کئی روز قبل یہ عہد بھی باندھا تھا کہ ہفتے میں کم از کم ایک بار کسی فلم، ناول یا کتاب کے بارے میں تفصیل سے لکھا جائے۔

روزمرہّ سیاست کے بکھیڑوں کو بھلانے کی خواہش۔ نئے موضوعات کی طلب جنہیں زیر بحث لاتے ہوئے نئے سوالات اٹھائے جائیں۔ ان کے جوابات دریافت ہوسکیں تو کچھ قرار نصیب ہو۔ موضوعات کی تازگی اور تنوع طبیعت میں مسرت پیدا کرے۔ مصری صحافی کی طویل برس انتظار کے بعد ہوئی شادی کی خبر دیکھنے کے بعد گابو کے لکھے ناول کو یاد کرتے ہوئے احساس ہوا کہ یہ دونوں معاملات بنیادی طورپر اس رویے پر مبنی ہیں جسے انگریزی میں کسی ایک شخص ،موضوع یا مقصد کے بارے میں Obsessedیا Hookہو جانا کہتے ہیں۔

ہمارے ہاں اس کیفیت کو کسی معاملے پر ’’سوئی اڑ جانا‘‘ کہتے ہیں۔ ’’سوئی اڑجانا‘‘ مگر Hookہوجانے کا تمسخر اُڑانا ہے۔ ’’سوئی اڑجانا‘‘ ذہن میں کوندا تو فوراََ خیال آیا کہ عملی صحافت تو 1975سے شروع کی تھی۔ رپورٹنگ جرائم کے بارے میں کرتا تھا۔ کالموں کے موضوعات مگر ثقافتی تقریبات ہوتیں۔ ان کی بدولت شاعری،مصوری، کتابوں اور ڈرامے کے فن سے دلچسپی اور وابستگی برقرار رہی۔

1984میں لیکن بھارت میں عام انتخابات ہوگئے۔ ان کی کوریج کے لئے پہلی بار اس ملک گیا۔ وہاں سے لوٹا تو ہمارے ہاں آٹھ برس کے طویل مارشل لاء کے بعد ’’غیر جماعتی‘‘ انتخابات ہوئے۔ انہیں بھارت میں سیکھے تجربات کی بدولت نئے زاویوں سے دیکھ کر رپورٹنگ کی۔

ان انتخابات کے نتیجے میں جو اسمبلی قائم ہوئی اس کے بارے میں پریس گیلری والا کالم لکھنا شروع کیا۔ بتدریج غور وفکر کا صرف ایک موضوع ہی ذہن میں اٹک گیا اور وہ تھا ملکی سیاست۔ ملکی سیاست پر توجہ نے ایوان ہائے اقتدار میں ہوئی سازشوں اور سرگرشیوں کا کھوج لگانے کی عادت بھی ڈالی۔

دریں اثناء ’’ذائقہ بدلنے کے لئے‘‘ پاکستان کے امریکہ، بھارت اور افغانستان سے جڑے معاملات پو توجہ دینا پڑی۔ یہ معاملات بھی وسیع تر تناظر میں ہماری سیاست میں اتھل پتھل کا سبب سنتے رہے ہیں۔ بہت غور کے بعد دل دہلا دینے والا انکشاف یہ ہوا ہے کہ میرا ذہن تو فقط سیاسی موضوعات پر Hook ہو چکا ہے۔ مصری صحافی کی شادی والی خبر تصویر سمیت خیالات کی جو رو چلی تھی اس کالم میں روانی کے ساتھ بیان کرنے والی صلاحیت ہی موجود نہیں رہی۔

اپنی کوتاہی فن کو دریافت کرتے ہوئے بہت سنجیدگی سے سوچاکہ گزشتہ چند دنوں سے بیدار ذہن کے ساتھ میں نے کن معاملات پر سب سے زیادہ غور کیا ہے۔ اس سوال کا دیانت دارانہ جواب ہے کہ سیاست اور صرف سیاست۔ فقط سیاست پر Hookہوئے ذہن کی حقیقت جانتے ہوئے مزید دُکھ اس وجہ سے بھی ہوا کہ اس محاذ پر حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ والی بات ہے۔ موضوعات محدود اور ان کے بارے میں گفتگو کی تکرار۔

سیاست دانوں کی سوئی بھی کہیں اڑ چکی ہے۔ وزیراعظم فقط کرپشن کے موضوع سے Hooked ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ نون کو اپنے اسیر قائد کی فکر لاحق ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو ’’غدار‘‘ کہلائے جانے پر غصہ آگیا ہے۔ کولھو کے بیل کی طرح تینوں صرف ان موضوعات کے گرد آنکھوں پر کھوپے چڑھائے گھوم رہے ہیں۔

اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں ہم صحافیوں سے توقع ہے کہ ان میں سے کسی کے بیانیے کو ’’اپنا‘‘ بنا کر فروغ دینا شروع ہو جائیں۔ طبیعت اس طرف لیکن مائل نہیں ہو پا رہی اور مصری صحافی کی تصویر سمیت خبر پڑھ کر جوخیالات کی رو ذہن میں چلی تھی وہ بھی بیان نہ ہو پائی۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •