بلاول بھٹو زرداری کی "جارحانہ سفارت کاری”

پاکستان پیپلز پارٹی کے جواں سال رہ نما بلاول بھٹو زرداری سے عرصہ ہوا ملاقات نہیں ہوئی۔ فون پر بات کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔ ان سے براہ راست ملاقات کے بغیر بلاول کی حالیہ سیاست کے بارے میں اپنے صحافیانہ تجربے کی بنیاد پر محض قیاس آرائی ہی کر سکتا ہوں۔ اس ضمن میں مزید بڑھنے سے قبل یہ وضاحت پیش کرنا لازمی ہے کہ اگر موصوف سے ملاقات نہیں ہوئی تو اس کا ذمہ دار عملی صحافت

Read more

"جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے”

گزرے ہفتے کے آخری کالم میں ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر ایک واقعہ بیان کیا تھا۔ مقصد اس کا یہ حقیقت اجاگر کرنا تھا کہ حبس کے اس موسم میں آئے بجلی کے بل غریب پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت کو زندگی سے بیزارکر چکے ہیں۔ سفید پوشی اور خودداری بھلا کر ان بلوں کو ادا کرنے کے لئے وہ نرم دل واقفان ڈھونڈ رہے ہیں جو کسی نوعیت کی مالی معاونت فراہم کر سکیں۔ اسی تناظر میں ایک خودکشی

Read more

200 سے اوپر حشر اٹھاتا بجلی کا ایک یونٹ

مرتے دم تک یہ واقعہ میرے لئے بھلانا بہت مشکل ہے۔ 45 سے پچاس سال کے درمیان عمر والا ایک شخص جو نہایت دیانتداری اور خودداری کے ساتھ گھروں میں کھانا پکاتا ہے چند روز قبل میرے کمرے میں آیا۔ وہاں داخل ہونے سے پہلے اسے یقین تھا کہ میرے سوا اس کمرے میں کوئی اور موجود نہیں اور نہ ہی کسی کے آنے کا امکان ہے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سلام کے بعد میرے ہاتھ میں

Read more

ٹرمپ، فیلڈ مارشل ملاقات: ’’عاشقان‘‘حقائق سمجھنے سے قاصر

امریکہ میں مقیم عاشقان عمران خان کو اپنے گھر تک محدود ہوا یہ قلم گھسیٹ دیوانوں کی طرح اس کالم کے ذریعے سمجھاتا رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے پاکستان میں ’’اصل جمہوریت‘‘ کی بحالی کے لئے اپنے قائد کی رہائی یقینی بنانے کی توقع نہ باندھیں۔ مجھے مگر نہایت رعونت سے یہ بتایا گیا کہ جو عاشقان اپنے محبوب کی رہائی کے لئے متحرک ہیں وہ امریکہ کے سیاسی نظام اور اس پر اثرورسوخ کی حامل قوتوں اور افراد کو

Read more

تذکرہ کچھ ذاتی پریشانی کا

وضع داری ہی نہیں جس اندازِ صحافت کا میں عادی ہوں  اس کی اخلاقیات کا بھی تقاضہ ہے کہ اخبار کے لئے لکھے کالموں میں ذاتی پریشانیوں کے ذکر سے گریزاختیار کیا جائے۔ مذکورہ تقاضے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہاتھ میں قلم پکڑے تقریباََ 20منٹ گزرگئے۔ پہلا لفظ بھی نہ لکھ پایا۔ اچانک مگر یہ خیال آیا کہ جس پریشانی نے مجھے منگل کی صبح دس بجے سے دوپہر کے تقریباََ اڑھائی بجے تک گھیرے رکھا ویسی پریشانی کا

Read more

اسرائیل کے ایران پر چڑھ دوڑنے کا پس منظر

پیر کی صبح چھپا کالم وہ پس منظر اجاگر کرنے کی نذر ہو گیا جس کا مقصد بنیادی طورپر یہ ثابت کرنا تھا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ’’خودسری‘‘ کے عالم میں ایران پر حملہ نہیں کیا ہے۔ خود کو ’’امن کا پیغامبر‘‘ ثابت کرنے کو تلا امریکی صدر ٹرمپ اس کے حملے والے فیصلے کا حامی تھا۔ ’’ڈیپ سٹیٹ‘‘ اور ’’خواہ مخواہ کی جنگوں‘‘کی دیوانگی سے مخالفت کرتے ہوئے حیران کن انداز میں ایک بار پھرعوام

Read more

نیتن یاہو نے ٹرمپ کی رضا مندی کے ساتھ ایران پر حملہ کیا

اسرائیل پر ایران کے حملے کی تفصیلات بتانے والے ان دنوں سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ اس کے مختلف پلیٹ فارموں پر سرسری نگاہ ڈالوں تو حیران ہوجاتا ہوں۔ کبھی سوچابھی نہیں تھا کہ ایران اور اسرائیل کے باہمی معاملات سمجھنے والے اتنی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ اس جنگ کے مضمرات اور ممکنہ نتائج کے بارے میں اپنی ’دانش‘ بگھارنے سے قبل اسرائیل-ایران جنگ کو لیکن میں ایک مختلف حوالے سے بیان کرنا چاہتا ہوں اور حوالہ ہے

Read more

’’مْنّی‘‘ سے زیادہ بدنام ہمارے سیاستدان

خواجہ آصف صاحب کے ساتھ 1990 کی دہائی میں بے تکلف شناسائی کا آغاز ہوا تھا۔ بتدریج وہ ’’وزیر سے وزیرتر‘‘ ہوتے چلے گئے اور میں بدنصیب دو ٹکے کا قلم گھسیٹ ہی رہا۔ اب ان سے ٹیلی فون پر بھی گفتگو کا موقعہ نصیب نہیں ہوتا۔ عالمی میڈیا سے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں چند باتیں کہیں جو پاکستان کے وزیر دفاع سے ادا نہیں ہونا چاہیے تھیں۔ شناسائی کے سلسلے

Read more

عید کی چھٹیوں میں "نیو آئی کون” اور "دی گولڈن روڈ” کا مطالعہ

عمر کے آخری حصے میں بھی سفید پوشی برقررار رکھنے کے لئے روز کی روٹی روز کمانے کو مجبور مجھ جیسے لوگ اکثر خود کو آزمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گماں ہوتا ہے کہ خود پر بخوشی نازل کیا ’’امتحان‘‘ ذہن کو چست اور جسم کو زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل رکھے گا۔ حتمی طور پر اگرچہ یہ کہہ نہیں سکتا کہ خود کو ایسے امتحانوں سے گزارنا بھی چاہیے یا نہیں۔ صوفی تبسم صاحب کا وہ

Read more

بھارت کی پاکستان کے”دفاعی نظام” کو مفلوج بنانے کی تیاری

مایوسی پھیلانا میرا شیوہ نہیں۔ اخبارات نچوڑ کر کام کی بات نکالنا مگر میرا پیشہ ورانہ فرض ہے۔ ٹی وی  اور یوٹیوب پر چلائے پروگراموں سے بھی ’’اندر کی بات‘‘ نکالنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی سے بھارت کی اندرونی سیاست پر میں بطور صحافی 1984ء  سے نگاہ رکھنے کو مجبور ہوا۔ اب اس ملک گئے پندرہ برس گزر چکے ہیں۔ شاید عمر کے باقی رہ گئے حصے میں آئندہ کبھی جا نہ سکوں۔ حال ہی میں

Read more

چین سے منسوب "زرعی دہشت گردی”

چینی ٹیکنالوجی نے حالیہ پاک- بھارت جنگ کے دوران یورپی ٹیکنالوجی کو شرم ناک انداز میں غیر موثر ثابت کیا۔ بطور پاکستانی میرے لئے یہ خوشی کی خبر تھی۔ عالمی امور کا طالب علم ہوتے ہوئے مگر جی کو یہ دھڑکا بھی لگا رہا کہ چین کو مذکورہ واقعے کے بعد کسی نہ کسی طرح رسوا کرنے کی کوشش ہو گی۔ یہ توقع اگرچہ میں امریکہ سے نہیں ’’کسی اور ملک‘‘ سے باندھ رہا تھا کیونکہ صدر ٹرمپ چین سے

Read more

وزیراعظم کی نشست میں چند”آف دی ریکارڈ” باتیں

قومی ترانے کے خالق مگر مشرقی پنجاب کے جالندھر سے تعلق رکھنے والے حفیظ کو ’’اہل زبان‘‘ شاعر نہیں مانتے تھے۔ اسی باعث انہیں خود کو بقول ان ہی کے ’’بہت زور‘‘ لگا کر خود کو شاعر منوانا پڑا۔ صحافی کو شاعر کی طرح شناخت سے زیادہ اپنی ’’اوقات‘‘ منوانے کے لئے بہت زور لگانا پڑتا ہے۔ میرا اس حوالے سے تکالگ گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1975ء میں اسلام آباد آگیا تھا۔ فیض احمد

Read more

فرحت اللہ بابر کے ساتھ میری "جَلن”

محکمہ اطلاعات سے وابستگی اور بعد ازاں پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی ترجمانی کے باوجود فرحت اللہ بابر صاحب خاموش طبع مگر شفیق و خلیق آدمی ہیں۔ ان سے ناراض ہونے کے لئے آپ کو سو بہانے ڈھونڈنا پڑیں گے۔ میں البتہ ان سے جل گیا  ہوں۔ کسی دور میں متحرک رہے ہر رپورٹر کی طرح میں نے بھی مختلف حکومتوں  اور سیاسی رہ نمائوں کے مشاہدے کے بعد بقول غالب کچھ یادیں ’’الگ باندھ رکھی ہیں‘‘۔ سوچا تھا

Read more

کینیا کا مشہور ناول نگار نگوگی واتھیونگو

بیرونِ ملک مقیم میرے بھائیوں سے بھی بڑھ کر ایک دوست بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں رہتے ہوئے بھارتی اخبارات تک رسائی بہت مشکل ہے۔ میری پیشہ وارانہ ضرورتوں کا احساس کرتے ہوئے وہ لمحہ بہ لمحہ واٹس ایپ کے ذریعے بھارت کی تازہ ترین خبروں سے آگاہ رکھتے ہیں اور ان ہی کی بدولت گزری جمعرات کی سہ پہر مجھے اطلاع ملی کہ بھارتی سینا کے پتی یوپی اور مدھیہ پردیش کی سرحد پر واقع ایک پہاڑی مقام

Read more

آذری احسان فراموش نہیں

آذربائیجان کی ترقی، خوش حالی اور کامرانیوں کی خبریں پڑھتاہوں تو بہت کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ہمارے قصے کہانیوں میں کوہ قاف کہلاتے پراسرار پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ ملک ہر اعتبار سے بہت خوب صورت ہے۔ وہاں جانے کا اتفاق پہلی بار 1994ء کے موسم سرما میں ہوا۔ ان  دنوں فوجی اعتبار سے اس ملک سے طاقتور آرمینیا نے آذربائیجان کے سرحدی علاقے ناگورنوقرہ باغ پر حملہ کر کے نسلوں  سے آباد آذری آبادی کو وہاں سے

Read more

دو ہمسایہ ایٹمی طاقتیں ہمہ وقت حالتِ جنگ میں

دو ملکوں کے درمیان جنگ تو دور کی بات ہے مجھے گلی محلے میں ایک دوسرے کا گریبان پکڑے افراد کو دیکھ کر بھی خوف آتا ہے۔ ایسے رویے کے ساتھ ’’امن پسندی‘‘ کا ڈرامہ رچایا جا سکتا ہے۔ سچی بات مگر یہ ہے کہ میں ایک بزدل اور خوفزدہ آدمی ہوں۔ جنگوں سے گھبراہٹ کے باوجود مگر صحافتی ذمہ داریوں کی وجہ سے افغانستان،عراق اور لبنان میں برسرزمین جاکر وہاں جاری رہی قیامتوں کا مشاہدہ کیا۔ پاکستان اور بھارت

Read more

مْودی کا سودا بِک کیوں نہیں رہا

پاکستان کے خلاف چار دنوں تک جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود بھارت ایک بھی ایسا ہدف حاصل نہیں کر پایا جو اس کی ’’فتح‘‘ کا یقین دلائے۔ بہاولپور، مرید کے اور مظفر آباد میں چند مساجد و مدارس کو ’’دہشت گردوں کی تربیت گاہیں‘‘ ٹھہرا کر دور مار میزائلوں سے زمین بوس کر دینا ’’دہشت گردی‘‘ ختم نہیں کر سکتا۔ ’’دہشت گردی‘‘ کی تمنا بنیادی طور پر انسانی دل و دماغ میں مچلتی ہے۔ وہ دیگر جذبات پر

Read more

بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ جیتنے کی قیمت بھگتنے کو تیار رہیں

جنگ جیت کربھی اقتصادی اعتبار سے اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ سالانہ بجٹ کی طرف بڑھتے ہوئے پاکستان ان دنوں مذکورہ بالا حقیقت کا سامنا کر رہا ہے۔ سچ کو ملفوف انداز میں بیان کرنے کا عادی ہوا ذہن مگر اس کا ذکر کرنے سے گھبرا رہا ہے۔ خدشہ لاحق ہے کہ اس جنگ کی بدولت رونما  ہوئے اقتصادی سوالات کا ذکر کرتے ہوئے جو 6 مئی کی رات سے 10 مئی کی سہ پہر تک جاری رہی

Read more

جنگ بندی: ٹرمپ کا دعویٰ ماننا بھارت کی مجبوری

گزرے ہفتے جمعہ کی صبح کو جو کالم چھپا تو اس میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ ’’مذاق‘‘ زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رکھا جا سکتا جس کے ذریعے دنیا کی واحد سپر طاقت کہلاتے ملک کا صدر عالمی میڈیا اور رہ نمائوں کے سامنے فخریہ انداز میں دہراتا رہے کہ اس نے پاکستان اور بھارت کے مابین ’’ایٹمی جنگ‘‘ رکوائی ہے۔ بھارت کا وزیر اعظم امریکی صدر کے مذکورہ دعویٰ کے بارے میں ابھی تک ناراض ہوئی ساس کی

Read more

جنوبی افریقہ میں”گوروں کے قتلِ عام” کی کہانی

عالمی سیاست کا ادنیٰ شاہد ہوتے ہوئے میں ہرگز سمجھ نہیں پا رہا کہ یہ ’’مذاق‘‘ کب تک چلے گا۔ ’’مذاق‘‘ کا لفظ کچھ سوچ کر لکھا ہے۔ دو ملکوں میں ’’ایٹمی جنگ‘‘ کے امکان معمول کی بات نہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت ہی نہیں جنوبی اور وسطی ایشیا  کے وسیع تر علاقے بھی متاثر ہو سکتے تھے۔ قحط سالی سے بچت تو شاید کسی بھی ملک کے لئے ممکن ہی نہ رہتی۔ مذکورہ بالا تناظر کو

Read more

فیلڈ مارشل کے اعزاز کے حقیقی مستحق عاصم منیر

سوشل میڈیا پر رچائے ہیجانی تماشے سے مرعوب ہوئے افراد روایتی اخبارات کے لئے مجھ جیسے لکھنے والوں سے بھی یہ امید باندھ لیتے ہیں کہ وہ ہر معاملے کو ’’حق و صداقت‘‘ کے پیمانے میں تولیں۔ جو بات درست نظر آئے اس کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں۔ ’’سچ‘‘ کی خاطر نوکری تو کیا جان سے بھی جانا پڑے تو ’’فکر ناٹ‘‘۔ پڑھنے والوں کو ’’سواد‘‘ تو آجائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’قدم بڑھائو ہم…‘‘

Read more

افغانی”کام کا بندہ” ابراہیم صدر

چند دن قبل برطانوی نشریاتی ادارے(بی بی سی) کی ویب سائٹ پر ایک خبر چھپی تھی۔ اس کی سرخی میں دعویٰ تھا کہ افغانستان کے ’’امیر المومنین‘‘ کے ایک ’’قریبی شخص‘‘ نے بھارت کا خفیہ دورہ کیا ہے۔ سنسنی خیز سرخی کے باوجود میں یہ خبر پڑھنے کو مائل نہ ہوا۔ پاکستان کی بھارت کے ساتھ جنگی جھڑپیں ان دنوں سنگین سے سنگین تر ہو رہی تھیں۔ سنسنی خیز خبروں سے لطف اٹھانے کی مہلت میسر نہ تھی۔ مذکورہ خبر

Read more

افغان، بھارت روابط! بھارت کی نئی جنگی حکمتِ عملی؟

6 اور 7 مئی کی درمیانی رات سے 10مئی کی دوپہر تک جنگی جھڑپیں تو بھارت اور پاکستان کے مابین جاری رہیں۔ میری تمام تر توجہ کا  مرکز لیکن امریکی صدر ٹرمپ رہا۔ 7 مئی کے روز اسے جب پاکستان کے تین اہم شہروں میں واقع مساجد اور مدارس پر میزائل حملوں کی خبر ملی تو کیمروں کے روبرو کندھا  اچکاتے ہوئے موصوف نے کمال بے اعتنائی سے اس خیال کا اظہار کیا کہ مذکورہ حملوں کے ذریعے بھارت نے

Read more

ششی تھرور کا دورئہ امریکا اور اقوامِ متحدہ

امریکی صدر کی کہی بات چند ہی برس قبل تک تقریباً حرفِ آخر تصور ہوتی تھی۔ عراق اور افغانستان پر جنگیں مسلط کرنے کے لیے دنیا کی واحد سپرطاقت نے لیکن جو جواز گھڑے انھوں نے امریکی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور پھر آ گئے ڈونلڈٹرمپ۔ موصوف کی شخصیت نے امریکی صدر کے رعب داب کو بے تحاشا جھٹکے دیے ہیں۔ یہ کہنے کے باوجود تسلیم کرنا ہو گا کہ اقتصادی ہی نہیں بلکہ فوجی اعتبار سے بھی

Read more

مودی کی ترکی اور آذربائیجان کے خلاف یاوہ گوئی

جنگی جنون میں تاریخ کو بھلادینا کوئی ہندوتوا کے پجاریوں سے سیکھے۔ بغیر کسی ثبوت کے پہلگام میں ہوئی دہشت گردی کا بدلہ پاکستان سے لینے کے لئے مودی سرکار نے  6اور  7 مئی کی رات ہم پر جنگ مسلط کردی۔ چین کی ٹیکنالوجی ہمیں دفاعی اعتبار سے محفوظ بنانے میں اکسیر کی صورت ثابت ہوئی تو چند برادر ممالک نے اخلاقی اور نفسیاتی مدد سے ہمارا حوصلہ بڑھایا۔ سعودی عرب نے خاموش سفارت کاری کو مہارت سے استعمال کرتے

Read more

چار روزہ جنگ کے بعد مودی کی مایوسی

نریندر مودی نے پیر کے روز اپنی قوم سے خطاب کیا۔ اس کے عین ایک روز بعد بھارتی پنجاب کے قلب میں واقع آدم پور ایئربیس پہنچ گئے۔ وہاں موجود فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے کسی ’’پیپر میں کم نمبر‘‘آنے کو معمول کی بات ٹھہرایا۔ بعدازاں ایک ٹویٹ بھی لکھا جس میں اس امر پر زور دیا کہ اصل توجہ حتمی نتائج پر مبذول رکھنا چاہیے۔ ’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘‘ قسم کا پیغام دہراتے دکھائی

Read more

مودی کا اپنی "قوم پرست خودمختاری” کا ڈرامہ

نوجوان نسل کو تاریخ کے حوالے دینا پسند نہیں۔ دو ہمسائے مگر جب ایٹمی جنگ کے دہانے کے بہت قریب پہنچ کر رک جائیں تو ذہن میں جمع ہوئے تاریخی واقعات بھلائے نہیں جا سکتے۔ حالت اضطراب میں ان کے حوالے دینا بلکہ مزید ضروری ہو جاتا ہے۔ کئی روز خاموش رہنے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کی شام اپنی قوم سے خطاب کیا۔ موصوف کا خطاب شروع ہونے سے تقریباََ ڈیڑھ گھنٹے قبل دنیا کی

Read more

جنگ بندی، گودی میڈیا:کھسیانی بلی

ڈھٹائی کی بھی حد ہوتی ہے۔ بھارتی حکومت مگر اصرار کئے چلے جا رہی ہے کہ پانچ دنوں تک پھیلے ’’تخت یا تختہ‘‘ دِکھتے تنائو کے بعد پاکستان اور بھارت ’’ازخود‘‘ جنگ بندی کو آمادہ ہو گئے۔ کسی تیسرے ملک خصوصاََ امریکہ نے اس ضمن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے مودی سرکار حیران کن حماقت سے اس حقیقت کو نظرانداز کردیتی ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کی پاکستان اور بھارت کے کئی شہروں اور جنگی

Read more

پاکستان بھارت جنگ کے ایک اور راؤنڈ کا عندیہ

عسکری امور کے ’’ماہرین‘‘ اور بین الاقوامی امور کے حوالے سے مجھ  جیسے ’’عقلِ کل‘‘ دو ملکوں کے درمیان کشیدگی یا جنگ کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ ہماری ’’عالمانہ‘‘ گفتگو میں خلقِ خدا کے دلوں میں اْبلتے جذبات کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ محض نصابی معیار سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ جنگ میں ملوث فریقین کے مابین ’’حساب‘‘ کب برابر ہو گا اور امن کے لئے مذاکرات کی گنجائش کب نکلے گی۔ کسی اور کو دوش

Read more

کیا کہا مودی کے دیرینہ یار ٹرمپ نے؟

لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال میں تفصیلات کا ذکر ذہن کو الجھا دیتا ہے۔ پاک-بھارت تنائو جب حالتِ جنگ میں داخل ہوجائے تو مجھ ایسے قلم گھسیٹ کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ بال ٹو بال کمنٹری کے بجائے سوکالڈ بگ پکچر پر نظر رکھی جائے اور اس پر کڑی نگاہ رکھنے کی بدولت یہ لکھنے کو مجبور ہوں کہ مودی سرکار نے پہل گام میں ہوئی دہشت گردی کے 15 دن گزر جانے کے بعد پاکستان کی شہری

Read more

بھارت کا آبی جنگ کا محض "جھاکا”

پیدائشی بزدل ہونے کے علاوہ افغانستان، عراق اور لبنان پر مسلط ہوئی جنگوں کا برسرزمین جا کر مشاہدہ کرنے کے بعد میں دنیا کے کسی بھی خطے میں جنگ کے امکانات اجاگر ہوتے ہی گھبرا جاتا ہوں۔ بھارت اور پاکستان تو ویسے ہی ایک دوسرے کے قریبی ہمسائے ہیں۔ گزشتہ ماہ کی 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کی پہل گام تحصیل میں واقع بائی سرن وادی پر ایک سفاکانہ حملہ ہوا۔ دہشت گردوں نے مذکورہ حملے کے دوران 26 کے

Read more

امریکہ کا بھارت کو حیران و پریشان کرنے والا مشورہ

غالب کا ’’ہم کہاں کے دانا تھے…؟‘‘ والا سوال عرصہ ہوا اپنی جبلت کا حصہ بنا لیا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے میرا نہ ہونے کے برابر ’’نصرت جاوید آفیشل‘‘ کے نام سے چلایا یوٹیوب چینل بند ہوا تو خیال آیا کہ کسی نہ کسی کے دل میں کہیں نہ کہیں میرے بیان کردہ خیالات اب بھی کانٹے کی طرح چبھ جاتے ہیں۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیت مجھ کو میسر نہیں۔ وہ مل بھی گئی تو شاید یہ

Read more

پاکستان کے خلاف ایک اور جنگ سے ہٹتی مودی کی نئی حکمتِ عملی

عقلِ کل ہونے کا میں دعوے دار کبھی نہیں رہا۔ غلطی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ یہ اعتراف کرنے کو لہٰذا مجبور ہوں کہ میری سوچ کے برعکس بھارت کا وزیر اعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیر کے پہل گام میں ہوئے دہشت گردی کے واقعے کا سارا الزام پاکستان پر دھرنے کے بعد اب ہمیں فوری طور پر ’’سبق‘‘ سکھانے کے اقدامات لینے سے کترا رہا ہے۔ موصوف کا اس ضمن میں اپنایا انداز اگرچہ نہایت مکارانہ ہے۔ بھارت میں

Read more

باقاعدہ جنگ کی طرف دھکیلتے مودی کے اقدامات

مجھے خبر نہیں کہ جمعرات کی صبح جب یہ کالم اخبار میں چھپے گا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ جنگ شروع ہو چکی ہو گی یا نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے پہل گام میں 22 اپریل 2025ء کے دن ہوئی دہشت گردی کی واردات کے بعد سے اس جنگ کے امکانات کا مستقل ذکر کرنا شروع ہو گیا تھا۔ میرے خدشات کو البتہ ان دوستوں نے نہایت شدت سے رد کیا جو ہمارے ریاستی فیصلہ سازوں سے مسلسل رابطے

Read more

ہندوتوا کی بالا دستی کا ورثہ چھوڑنے کا متمنی نریندر مودی۔

اس واقعہ کو تقریباََ آٹھ ماہ گزر چکے ہیں۔ چند دوستوں کی مہربانی سے ایک ایسے صاحب کے ساتھ ملاقات ہو گئی جو ہمارے کئی مشہور برانڈز کے لئے گہری تحقیق کے بعد اشتہاری مہم تیار کرتے ہیں۔ اشتہاری مہم تیار کرنے والی کمپنیاں اس امر کو ترجیح دیتی ہیں کہ جو ’’سودا‘‘ بیچنا ہے وہ نوجوان نسل میں زیادہ سے زیادہ مقبول ہو۔ ان کے دل جیت لینے کے لئے جو شے مارکیٹ میں فروخت کے لئے متعارف کروائی

Read more

"گودی میڈیا” کے "بودی اینکرز” کی چیخ و پکار سے گھبرائے مودی

ابھی تک نامعلوم دہشت گردوں کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں منگل کی سہ پہر 26 کے قریب سیاحوں کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی بھارتی میڈیا کے پھیپھڑوں کا زور لگا کر ریٹنگز جمع کرنے والے اینکرخواتین و حضرات نے مذکورہ واقعہ کا ذمہ دار حسب ر وایت پاکستان کو ٹھہرا دیا ہے۔ اس کے علاوہ بارہا یہ خبر بھی اچھالی گئی کہ دہشت گرد سیاحوں میں سے ’’ہندو‘‘ مرد تلاش کر کے انہیں گولیوں سے بھونتے رہے۔

Read more

پہلگام واقعہ! عقل و دلائل پر حاوی ہوتا ہیجان

محض اتفاق ہے کہ سن 2000ء کے مارچ کی 20 تاریخ کو میں دلی کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھا۔ اس وقت خبر آئی کہ مقبوضہ کشمیر کے تاریخی شہر اننت ناگ کے قریب واقع ایک قصبے میں 35 سکھوں کو قتل کردیا گیا ہے۔ وحشیانہ قتل عام پر مبنی یہ دہشت گردی ان دنوں کے امریکی صدر کلنٹن کے دورہ بھارت سے چند ہی دن قبل ہوئی۔ کشمیری قیادت کے بھارت نواز حلقے بھی نئی دلی میں میرے

Read more

ذہانت پر ”دیدہ وروں“ کی اجارہ داری

سیاست کے بارے میں ان دنوں ایک لفظ لکھنے کو بھی دل مائل نہیں ہوتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جسے 1970 ء کی دہائی سے ”سیاست“ سمجھتا رہا وطن عزیز میں عرصہ ہوا ختم ہو چکی ہے۔ 1980 ء کی دہائی کے وسط میں جنرل ضیاء نے حبیب جالب کے بتائے ”یہ جو دس کروڑ ہیں۔ جہل کا نچوڑ ہیں“ یعنی گلی محلوں میں رینگتے ”عوام“ کے منتخب نمائندوں کو غیر جماعتی انتخاب کے نتیجے میں اقتدار و

Read more

اوورسیز پاکستانیوں کی پاکستان میں مشکلات

برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد گزشتہ ہفتے حکومت پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد آئی۔ ان کے بارے میں تاثر تھا کہ اکثریت کو حکومت نے قومی خزانے سے ہوائی جہاز کے ٹکٹ فراہم کئے تھے۔ یہاں قیام کے لئے مہنگے ترین ہوٹل بھی بک کروائے گئے۔ اس کے علاوہ عمومی تاثر یہ بھی تھا کہ اسلام آباد بلائے پاکستانیوں کو درحقیقت پاکستان میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے بلوایا گیا ہے۔

Read more

بلوچستان پر خاموشی آخر کب تک؟

جعفر ایکسپریس پر ہوئے حملے کے بعد سے بلوچستان کے بارے میں لکھنے سے پہلے سوبار سوچنا پڑتا ہے۔ وجہ اس کی ریاست یا انتہا پسندوں کا خوف نہیں۔ ذہن کو مفلوج بنانے کا سبب دونوں فریقین کا تعصب ہے۔ ریاست کے طاقتور ادارے بلوچستان کے ہر مسئلہ کی وجہ فقط بیرونی مداخلت اور سازش کو ٹھہراتے ہیں۔ مقصد جس کا قدرتی وسائل سے مالامال اس صوبے کی چین جیسے دوستوں کی مدد سے ترقی اور خوشحالی کو روکنا ہے۔

Read more

عوام سے "ٹیکس وصولی” کا آسان ترین نسخہ

یہ عاجز کالم نگار نہیں بلکہ شہباز شریف صاحب اور ان کے معاونین اپریل 2022ء سے مسلسل یہ پیغام دہرارہے تھے کہ پٹرول کے پاکستانی صارف کو اس جنس کی اتنی قیمت ادا کرنا چاہیے جو عالمی منڈی میں رائج ہے۔ عالمی منڈی سے مہنگے داموں تیل اٹھاکر اسے صاف کرنے کے بعد پٹرول پمپوں تک پہنچانے کے باوجود اسے قومی خزانے سے جاری ہوئی امدادی رقوم کے ذریعے ’’سستا‘‘ بیچنا معاشی اصولوں کی احمقانہ خلاف ورزی ہے۔ ایسی حماقتوں

Read more

وزیراعظم کے دربار میں بیٹھے ”نورتن“

بزدلی کے طعنے میری ڈھیٹ ہڈی کو اب اشتعال نہیں دلاتے۔ اپنے خیالات سرکار کی اجازت سے شائع ہونے والے اخبار میں چھپنے کے قابل بنانے کے لئے لکھنے والے کے لئے احتیاط لازمی ہے۔ خلوص سے اپنائی احتیاط بتدریج آپ کو بہت کچھ کہہ دینے کا ہنر سکھا دیتی ہے۔ عمر تمام یہ ہنر سیکھنے کی نذر کردی۔ ہنر پر کامل گرفت مگر نصیب نہ ہوئی۔ اسی باعث صحافتی عمر کا چوتھائی حصہ بے روزگاری کی اذیت میں گزار

Read more

ریاست کے طاقتور ادارے کا تشکیل کردہ ”حکومتی بندوبست“

محض سوشل میڈیا ہی نہیں روزمرہّ زندگی کے تجربات اور مشکلات نے بھی ہمارے عوام کی بے پناہ اکثریت کو اعلیٰ متوسط طبقے کے انتہائی پڑھے لکھے افراد سے کہیں زیادہ باشعور اور دور اندیش بنا دیا ہے۔ ان کے دلوں میں ابلتے غصے کو تھوڑا برداشت کرنے کے بعد قومی مسائل کے بارے میں ان کے خیالات غور سے سنیں تو اپنے موجودہ سیاستدانوں کے رویے پر حیرت ہوتی ہے۔ 1970 ء کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی ایوب

Read more

تذکرہ قمرالزمان کائرہ کی سجائی شادی کی تقریب کا

اتوار کی سہ پہر پیپلز پارٹی کے متحرک رہ نما اور سابق وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ صاحب نے اپنے بچوں کی شادی کے حوالے سے اپنے آبائی شہر لالہ موسیٰ میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کر رکھا تھا۔ دوست نواز اور پرخلوص محبت بانٹنے کے عادی کائرہ صاحب کے بے شمار چاہنے والے اس تقریب میں موجود تھے۔ میں بھی دوستوں کی مہربانی سے بہت سہل انداز میں وہاں پہنچ گیا۔ اسلام آباد سے لاہور کی جانب سفر

Read more

ٹرمپ اور "کالی گولا” میں مماثلت

پرخلوص دوست سنجیدگی سے سمجھا رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ میں امریکی صدر کے رویے کے بارے میں تبصرہ آرائی کرتے ہوئے ’’احتیاط‘‘ سے کام لوں۔ اس کے ملک کی وزارتِ خارجہ متنبہ کرچکی ہے کہ امریکی ویزا جاری کرنے سے قبل اس کے خواہش مندشخص کے موبائل فون کی ’’تلاشی‘‘ ہو گی۔ دیکھا جائے گا کہ وہ دنیا کی سپرطاقت کہلاتے ملک کے بارے میں فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ پر کیا لکھتا ہے۔ میں تو ایک

Read more

موبائل فون کے "تخریبی امکانات”

چند دن قبل اس کالم میں نیٹ فلیکس کے لئے تیار ہوئے ایک ڈرامائی سلسلے کا ذکر کیا تھا۔ اس کا مرکزی کردار سکول کا ایک طالب علم ہے۔ مناسب طبقے کا رکھ رکھائو والا مہذب بچہ دِکھتا ہے۔ والدین کی مناسب نگہبانی نہ ہونے کی وجہ سے مگر وہ ٹیلی فون پر قائم ہوئے ان گروہوں کے مابین ہوئی گفتگو میں سنجیدگی سے حصہ لینا شروع ہو گیا جو عورتوں کو بدی کی علامت تصور کرتے ہیں۔ ان گروہوں

Read more

اپنی زنجیریں ہمیں خود توڑنا ہوں گی

پاکستان جیسے ملک کبھی ’’تیسری دنیا‘‘ کا حصہ تصور ہوتے تھے۔ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں تقریباََ اکثریت کی حامل یہ دنیا خود کو سرمایہ دار اور کمیونسٹ کیمپوں سے الگ سمجھتی تھی۔ سامراج کی غلامی سے آزادی کے بعد بھی لیکن ان ممالک کی حکمران اشرافیہ کو سرد جنگ کے دوران مذکورہ بالا کیمپوں میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا ضروری تھا۔ یہ ساتھ ملک میں ’’استحکام اور خوشحالی‘‘ کی خاطر جائز ٹھہرایا جاتا۔ ہماری حکمران اشرافیہ

Read more

پیکا ایکٹ اور صحافی سے "بلھے شاہ” ہونے کی توقع؟

پیکا قانون جب متعارف کروایا جا رہا تھا تو مجھ جیسے بزدل بہت فکر مند رہے۔ یہ قانون تیار اور اسے عجلت میں پارلیمان سے منظور کروانے کے بعد لاگو کرنے والے مگر تسلیاں دیتے رہے۔ تواتر سے یہ بیان کرتے رہے کہ مذکورہ قانون سے ’’اصل صحافیوں‘‘ کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ اپنی زندگیاں پیشہ ورانہ صحافت کی نذر کرنے والوں کو تو بلکہ خوش ہو جانا چاہیے کہ ایسا قانون لاگو ہونے جا رہا ہے جو موبائل فون کی

Read more

امریکہ کو بوجھ محسوس ہوتا یورپ

معاملہ اگر امریکہ کے ”قومی سلامتی امور“ تک ہی محدود ہوتا تو یہ کالم لکھنے کی مجھے ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ امریکی نائب صدر کی ایک ایسے گروپ میں (اب برسرِعام) ہوئی گفتگو جس کے شرکاء میں امریکہ ہی کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع، سی آئی اے چیف اور دفاعی اور سلامتی امور کے دیگر اعلیٰ ترین عہدے دار بھی شامل تھے درحقیقت دنیا کی واحد سپر طاقت کہلاتے ملک کے حتمی فیصلہ سازوں کی حقیقی سوچ کا اظہار ہے۔

Read more

جعفر ایکسپریس کا اغوا اور ہماری ’آزاد‘ صحافت

گزرے جمعہ کی شام سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں امن وامان کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ حکومت مقابلہ کر رہی ہے بلوچ یکجہتی کونسل کی جانب سے برپا کیے احتجاج کا۔ مذکورہ تنظیم کی پہچان ماہ رنگ بلوچ ہیں۔ ’مسنگ پرسنز‘ کے معاملہ کو کئی برسوں سے اٹھانے کی وجہ سے یہ خاتون بلوچ نوجوانوں کے وسیع تر حلقوں میں مقبول سے مقبول تر ہو چکی ہیں۔ آخری خبریں آنے تک انھیں گرفتار بھی کیا جا چکا تھا۔ وجہ

Read more

عاشقانِ عمران کے لئے امریکی وزارتِ خارجہ سے آیا پیغام

کبھی کبھار مجھے شدت سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم خود اذیتی کے مریض بن چکے ہیں۔ میرے اس خیال کو تقویت ان عاشقان عمران کے رویے سے بھی ملی جو ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کی بے پناہ اکثریت وہاں کئی برسوں سے رہتے ہوئے بھی اس گماں میں مبتلا ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں جمہوری نظام کا فروغ چاہتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حکومتی بندوبست کے ہاتھوں ان کے رہ نما کے

Read more

"مائینس عمران گیم” کی ناکام کوشش

حکمران جماعت ہی نہیں اس کے اتحادیوں کے کئی رہ نما بھی مصر رہتے ہیں کہ پیکا نامی قانون کی حمایت میں ووٹ ڈال کر انہوں نے درحقیقت صحافت کو توانا تر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسے سوشل میڈیا پر چھائی یاوہ گوئی سے بچ کر اپنے اصل کام یعنی ’’خبر‘‘ کی تلاش کی راہ پر ڈٹے رہنے میں کمک فراہم کی ہے۔ ’’کھرے صحافیوں‘‘ کو اس قانون سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ گھبراہٹ مگر ہم صحافیوں کی گھٹی

Read more

روایتی صحافت کی تباہی

امریکی صدر ٹرمپ نے بالآخر ’’وائس آف امریکہ‘‘ کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے واشنگٹن میں موجود دفاتر کو تالے لگا کر ملازمین کو فی الوقت دو ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے امریکہ ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے بے تحاشہ ممالک میں صحافی ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار ہوں گے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وائس آف امریکہ کی بندش دنیا میں صحافت کے شعبے

Read more

بیرون ملک بیٹھے ” بیانیہ ساز”

کوئٹہ سے پشاور جاتے ہوئے 450 مسافروں سے بھری ’’جعفر ایکسپریس‘‘ کے وادی بولان کے بلند قامت پہاڑوں پر بچھائی سرنگ کے قریب دہشت گردوں کے ہاتھوں اغواء کے بعد میں ایک پل بھی چین سے نہیں بیٹھا۔ عرصہ ہوا عملی رپورٹنگ سے ریٹائر ہونے کے باوجود اپنے موبائل فون میں موجود نمبروں میں سے ہر اس نمبر سے رابطہ کیا جو میری دانست میں ہماری تاریخ میں پہلی بار ہوئی ایک انوکھی واردات کے بارے میں کچھ بتا سکتا

Read more

افغان دہشت گرد کی امریکہ حوالگی کے بعد جعفر ایکسپریس دہشت گردی

بدھ کی صبح 10 بج کر 26 منٹ پر یہ کالم لکھنا شروع کیا ہے۔ رات بھر سو نہیں سکا۔ ٹیلی فون کی بیٹری دو مرتبہ چارج کرنے کے بعد دیوانوں کی طرح یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا کہ دہشت گردوں کے قبضے میں آئے 100 سے زائد مغوی رہا ہوئے ہیں یا نہیں۔ امید باندھ رکھی تھی کہ خیر کی خبر آتے ہی قلم اٹھا لوں گا۔ جس خبر کا منتظر تھا وہ مگر آئی نہیں۔ بلوچستان کے

Read more

چیئرمین سینٹ کی رولنگ،”سانپ کے منہ میں چھچھوندر”

یہ کالم جب انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارموں پر پوسٹ ہو جائے تو اس کے نیچے عموماََ عاشقان عمران کی گالیاں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ گالی دینے سے پرہیز کے عادی پرانی وضع کے اس صحافی کو صرف یاد دلانے پر اکتفا کرتے ہیں کہ زمانہ بدل چکا ہے۔ میرا فرسودہ اور مفلوج ہوا ذہن عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کی وجہ سے بدلتے وقت کی ضروریات اور حرکیات سمجھنے کے قابل نہیں رہا۔ بہتر یہی ہے

Read more

ٹرمپ سادہ دِکھتا ہے مگر بھولا ہرگز نہیں

عمر بڑھنے کے ساتھ ذہن کو پیکا کے قانون نے بھی مفلوج بنا رکھا ہے۔ ’’صحافت‘‘ کے قابل رہ گیا ہوتا تو اس خبر کاعمر رفتہ کی لگن کے ساتھ پیچھا کرتا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے کینیڈا جیسے ہمسائے اور اتحادی کو بھی ناراض کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو 397 ملین ڈالر کی خطیر رقم دینے کا فیصلہ کیوں کیا۔ مذکورہ فیصلہ گزرے ماہ کی 25 تاریخ کو ہمارے سامنے آیا۔ مقصد اس فیصلے کا پاکستان

Read more

عاشقانِ عمران کی ٹرمپ سے عبث توقعات

خود کو تھکانے اور آپ کو اْکتا دینے کی حد تک بارہا اس کالم کے ذریعے امریکہ میں مقیم عاشقان عمران کو نہایت خلوص اور عاجزی سے سمجھاتا رہا ہوں کہ ریاستوں کے دیگر ریاستوں کے ساتھ تعلقات طویل المدت مفادات پر مبنی ہوتے ہیں اور پاکستانی ریاست 1950ء کی دہائی سے امریکی ریاست کی اتحادی ہونے کی حد تک ’’دوست‘‘ بن چکی ہے۔ پاکستان میں جمہوری نظام کو مضبوط ومستحکم بنانا ان دو ممالک کے مابین دوستی کا اصل

Read more

محکموں سے ابھی تک محروم نئے وفاقی وزراء اور "حقیقی صحافت”

ربّ کریم سے فریاد ہے کہ جب یہ کالم چھپے تو معاملہ حل ہو چکا ہو۔ منگل کی صبح تک اگرچہ حل نہیں ہوا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج سے چند روز قبل وفاقی کابینہ میں توسیع ہوئی تھی۔ نئے وزیروں نے حلف بھی اٹھالیا۔ محکمے لیکن انہیں ابھی تک الاٹ نہیں ہوئے۔ وزراء کی حلف برداری کے چند روز گزرجانے کے باوجود ان کے لئے محکموں کی تلاش حیران کن واقعہ ہے۔ اچھے وقتوں میں جب ’’صحافت‘‘ زندہ

Read more

بے عزتی زلنسکی کی ہوئی یا ٹرمپ کی؟

کیمروں کے سامنے بٹھا کر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے نائب صدر کی معاونت سے یوکرین کے صدر زلنسکی کی جو بے عزتی کی ہے وہ دنیا بھر میں زیر بحث ہے۔ اس حوالے سے میرے بھی کچھ ’’دانشورانہ‘‘ خیالات ہیں۔ ان کے تمام تر پہلوئوں کے اظہار کے لئے مگر ایک کالم کافی نہیں۔ کلیدی نکتہ جس پر لوگوں نے توجہ نہیں دی میری دانست میں زلنسکی کی نہیں بلکہ بائیڈن کی بے عزتی تھی۔ ٹرمپ کو صدارتی انتخاب

Read more

ہوٹل میں اپوزیشن کا "قومی کنونشن” روکنے کی حکومتی ضد

منگل کی دوپہر سے مسلسل سوچ رہا ہوں۔ جمعرات کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھتے وقت تک مگر یہ جاننے میں ناکام رہا کہ حکومت اسلام آباد میں اپوزیشن کا دو روزہ کنونشن روکنے کی ضد میں مبتلا کیوں رہی۔ وسیع تر تناظرمیں سوچیں تو تحریک انصاف 8 فروری 2024ء کے روز ہوئے انتخاب کے نتیجے میں واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت میں ابھرنے کے باوجود وفاق میں حکومت بنانے کی کوشش کرتی دکھائی ہی نہ دی۔ محض یہ

Read more

غیر محفوظ موبائل ڈیٹا کی قباحتیں

امریکہ میں ٹرمپ کے وائٹ ہائوس لوٹ آنے کے بعد دنیا کسی بھی صورت ویسی نہیں رہے گی جس کے ہم کئی دہائیوں سے عادی ہو چکے ہیں۔ ’’نئی دنیا‘‘ کا آغاز کئی دانشوروں کی نگاہ میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد ہوا تھا۔ سرد جنگ ختم ہوئی تو دنیا نظر بظاہر سکڑ کر ’’عالمی گائوں‘‘ میں تبدیل ہو گئی اور پھر ہر جا پھیل گئے موبائل فون۔ ان میں فیس بک اور واٹس ایپ جیسی ایپس نصب ہوئیں تو

Read more

ہماری کرکٹ کے "بادشاہ”۔

کرکٹ سے مکمل عدم دلچسپی کے باوجود ہفتے کی دوپہر دوبئی میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہوا ایک روزہ میچ پہلی گیند سے آخری گیند تک دیکھا ہے۔ بھارت یہ میچ جیت گیا۔ اس کی جیت سے میں ہرگز اداس نہیں ہوا۔ کسی بھی کھیل میں ہار یا جیت فقط ایک فریق کا مقدر ہی ہو سکتی ہے۔ بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کون کس دھج سے ہارا یا جیتا۔ اس تناظر میں میچ کا جائزہ لیتے ہوئے

Read more

دَورِ حاضر کے "سامراج”۔

روایتی ہو یا سوشل میڈیا۔ ’’صحافت‘‘ کا بنیادی کام ہمارے ہاں ان دنوں محض چسکہ فروشی رہ گیا ہے۔ ٹی وی کے ’’کرنٹ افیئرز‘‘ کے لئے مختص پروگراموں پر توجہ ڈالیں تو وہ ایک ہی موضوع کے بارے میں فکر مند سنائی دیتے ہیں اور وہ موضوع ہے شیر افضل مروت صاحب کے تحریک انصاف کے چند سرکردہ رہ نمائوں سے اختلافات۔ مذکورہ اختلافات کے نت نئے پہلواجاگر کرتے ہوئے طے یہ کر نے کی بھی کوشش ہورہی ہے کہ

Read more

"شعور کا بہاؤ” شیخ رشید سے شیر افضل مروت تک

ریٹنگز کے حصول کو بے قرار ٹی وی اینکروں کو ان دنوں شیر افضل مروت ویسے ہی مطلوب ہیں جیسے کسی زمانے میں ’’غریب کی چھت‘‘ کے بارے میں منافقانہ ٹسوے بہانے والے راولپنڈی کے ترجمان عصر ہوا کرتے تھے۔ 2008ء میں کافی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد پیپلز پارٹی چند دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی خاطر نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ نے اسے

Read more

ٹرمپ سے پاکستان میں "خالص جمہوریت” بحال کرانے کی توقع؟

امریکہ میں کئی برسوں سے آباد خوش حال پاکستانیوں کی یہ امید جان کر حیرت ہوتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر امریکہ ہوتے ہوئے دنیا کی واحد سپرطاقت کے دبائو سے ہمارے ملک میں ’’خالص جمہوریت‘‘ بحال کروائی جاسکتی ہے۔ بات اگرچہ اب بحالی جمہوریت تک ہی محدود نہیں رہی۔ امید بلکہ یہ بھی باندھی جارہی ہے کہ امریکہ کے ’’جمہوریت نواز‘‘ اراکین پارلیمان کی کاوشوں سے ہماری ریاست کے طاقتور مگر ’’جمہوریت دشمن‘‘ عہدے داروں کو ’’پابندیوں‘‘ کی

Read more

’زی جنریشن‘ انسانوں کی آخری نسل؟

میرا تعلق اس نسل سے ہے جسے سوشل میڈیا پر چھائے نوجوان حقارت سے ”بے بی بومرز“ پکارتے ہیں۔ یہ نسل ان افراد پر مشتمل ہے جو 1946ء سے لے کر 1964ء کے درمیانی سالوں میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ نسل معدوم ہورہی ہے۔ ان میں سے شاید ہی کوئی نوکری وغیرہ کرتا ہو۔ صحافت کو پیشہ بنانے کی وجہ سے میں بدنصیب مگر اس وقت تک کام کرنے کو مجبور ہوں جب تک ہاتھ میں جنبش آنکھوں میں دم

Read more

"آزاد عدلیہ” دیکھنے کی تمنّا؟

کسی اور دھندے سے کہیں زیادہ صحافت کے لئے ’’برکت‘‘ واقعتا حرکت میں ہے اور پیر کے روز میرے کئی ساتھی یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ ان کے لئے ’’برکت‘‘ لوٹنے ہی والی ہے۔ اپریل 2007ء کے ایک دن اس وقت کے فوجی صدر مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اپنے ہاں طلب کر لیا تھا۔ موصوف کو خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی موجودگی میں چند فائلیں دکھا کر استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا گیا۔ افتخار چودھری

Read more

عمران خاں کی رہائی کے لئے امریکی سینیٹر جووِلسن کی منطق

امریکہ سے اپنے قائد کی رہائی کے لئے پاکستان پر دبائو کی توقع باندھنے والے عاشقان عمران خان گزشتہ ہفتے سے خوش ہیں۔ چند دن قبل جنوبی کرولینا سے کانگریس کے لئے منتخب ہوئے جوولسن نے صدر پاکستان اور وزیر اعظم کے علاوہ آرمی چیف کو بھی ایک خط لکھا۔ اس خط میں پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے موصوف نے دعویٰ کیا کہ ان دو ممالک کے مابین دوستی کے رشتے ان دنوں مضبوط تر

Read more

دورِ حاضر کا "انقلابی” ٹرمپ

ایک بات طے ہو گئی اور وہ یہ کہ ٹرمپ بھولا نہیں بلکہ بہت کائیاں شخص ہے۔ اس کے دل میں کئی دنوں سے جو بے تحاشہ منصوبے پل رہے ہیں۔ وہ ان منصوبوں کو محض خواب کی صورت نہیں دیکھتا۔ انہیں عملی جامہ پہنانے کی تیاری بھی کی ہوتی ہے۔ نظر بظاہر لیکن وہ ایک موڈی انسان دِکھتا ہے۔ دل میں جو آیا بول دیا اور اس کی کہی بات پر عمل نہ ہو تو اسے بھول گیا۔ ایسے

Read more

پانچ فروری کے دن میری سینہ کوبی

پانچ فروری کا دن میں غصے میں بھنائے ہوئے گزاردیتا ہوں۔ ہمارے ہاں اس روز سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔ سرکار کی جانب سے سرکاری ملازمین کو اس روز چھٹی دینے کا مقصد در حقیقت انہیں اس امر کے لئے اْکسانا اور سہولت پہنچانا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے کشمیر پر قبضے کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں اور جلوسوں میں حصہ لیں۔ کشمیر کے نام پر ایک روز کی چھٹی حاصل کرنے والوں میں سے کتنے فی صد افراد

Read more

مشینی ذہانت سے مایوسی اور قحط سالی کا عذاب

علم کے سمندر سے جوبھی نئی لہر ابھرے نہایت لگن سے میں اس کا پیچھا کرتا ہوں۔ گزشتہ چند برسوں سے اے آئی کا بہت ذکر ہے۔ یہ Artificial Intelligence کا مخفف ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب اس کا چرچا شروع ہوا تو میرے نہایت مہربان شعیب بن عزیز صاحب نے اس کی بدولت میرا کچا چٹھا نکالنا چاہا۔ سردیوں کی شاموں میں اداس بیٹھ کر ’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘ جیسا مصرعہ نکالنے والے

Read more

صحافی اب ریاست کا چوتھا ستون نہیں رہے

اسلام آباد کے نوجوان صحافیوں کی اکثریت بہت مایوس ہے۔ انہیں قوی امید تھی کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے نہایت ”عجلت“ میں منظور کروائے پیکا قوانین کو صدر آصف علی زرداری لاگو نہیں ہونے دیں گے۔ توثیقی دستخط کرنے کے بجائے انہیں نظرثانی کے لئے پارلیمان کو واپس بھجوادیں گے۔ دریں اثنا صحافیوں کے ایک گروپ سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اپنے تحفظات کو تحریری طور پر بیان کرے۔ ان پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے پیکا قوانین

Read more

پیکا ترمیمی بل! کئی نامی گرامی صحافیوں کے رسوا ہونے کا امکان

اس کالم کے چند باقاعدہ قاری حیران ہیں۔ سمجھ نہیں پا رہے کہ میں حال ہی میں نظر بظاہر ”عجلت“ میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور کروائے ان قوانین کے بارے میں کچھ لکھ کیوں نہیں رہا جن کے خلاف ملک بھر میں میری برادری سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ ’آزادی صحافت‘ کی جدوجہد سے ایسی بے اعتنائی میں نے کبھی برتی نہیں۔ اب کی بار خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔ مزید بڑھنے سے قبل نہایت عاجزی مگر

Read more

ٹرمپ کا ”زرخیز تخلیقی ذہن“

قابل مذمت نہیں بلکہ رحم کے مستحق ہیں امریکہ میں بسے وہ مسلمان جو، بائیڈن سے ناراض ہو گئے تھے۔ اسرائیل کے غزہ پر حملے کے بعد انہیں امید تھی کہ خارجہ امور کے حوالے سے امریکہ کا یہ سب سے تجربہ کار صدر اپنے اثر و رسوخ کو مہارت سے استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی روک سکتا ہے۔ بائیڈن کو مگر غزہ سے زیادہ یوکرین کو روس سے بچانے کی فکر لاحق رہی۔ اسرائیل کا وزیر اعظم

Read more

علی امین گنڈا پور کا ’نوشتہ دیوار‘ انجام

علی امین گنڈاپور سے کبھی سرِ راہ تعارفی ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ انہیں فقط ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی کلپس کی بدولت جانتا ہوں۔ اپنے حلیئے، رویے اور بول چال سے وہ ایک روایات شکن سیاستدان نظر آتے ہیں۔ عمران خان کے وفادار اور ان کی خاطر جان دینے کو ہمہ وقت تیار۔ ذات کے اس رپورٹر کو لیکن فروری 2024ء کے انتخاب کے قریب موصوف کے بارے میں انتہائی قابل اعتماد ذرائع کی مہربانی سے

Read more

کراچی کی پولیس کا چینی سرمایہ کاروں سے ”حْسنِ سلوک“

”فیک نیوز“ کا زمانہ ہے۔ نامی گرامی اخبارات (جنہیں Xکا مالک ایلان مسک حقارت سے Legacy Mediaپکارتا ہے ) میں چھپی ہوئی ”خبر“ پر بھی اعتبار کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ بذات خود اگرچہ اسی صنف کے میڈیا کی چاکری میں گزار دی ہے۔ پروف ریڈنگ سے شروع ہو کر ٹیلی پرنٹر سے آئی خبروں کے اردو ترجمے کے بعد رپورٹنگ کی جانب منتقل ہوا۔ اپنی خبر ٹائپ کر کے نیوز روم کے حوالے کرتا تو خبر کی صداقت ثابت

Read more

تحریکِ انصاف نے اب کرنا کیا ہے ؟

کئی دوست ذات کے رپورٹر سے ”کالم نگار“ ہوئے اس خطا کار سے خفا ہیں۔ انہیں گلہ ہے کہ مقامی سیاست کے بارے میں ”چوندی چوندی“ خبریں ڈھونڈ کر ان پر تبصرہ آرائی کے بجائے میں کئی دنوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاﺅس واپسی کے بارے میں مختلف زاویوں سے لکھتے ہوئے ”ڈنگ ٹپا“ رہا ہوں۔ شکوہ دوستوں کا بجا ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخاب پر توجہ مگر میں نے بلاجواز مرکوز نہیں رکھی۔ فی الوقت دنیا کی واحد

Read more

صیہونی میڈیا سے مغلوب ہوئی امریکی اشرافیہ

انسان ہونے کی وجہ سے بے شمار خطاﺅں کا مرتکب ہوا ہوں۔ مذہبی جذبات بھڑکانے سے مگر ہمیشہ پرہیز کیا۔ فساد خلق سے واقعتا خوف آتا ہے۔ اسی باعث بدھ کی صبح چھپے کالم میں امریکی صدر ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کا ذکر کرتے ہوئے جان بوجھ کر ان وجوہات کو نظرانداز کردیا جو امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی مسلمان عالم دین کو بھی اس تقریب میں دعائیہ کلمات ادا کرنے کا موقع فراہم کرسکتی تھیں۔ محض یہ

Read more

ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس لَوٹنے کے بعد

گزشتہ کئی مہینوں سے امریکہ میں پاکستان چھوڑ کر مقیم ہوئے ہم سے کہیں زیادہ ذہین و فطین افراد ہمیں بتائے چلے جا رہے تھے کہ بالآخر اس ملک کے عوام مسلم اْمہ کے ایک خیر خواہ کو اپنا صدر منتخب کرنے جا رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلم دوستی کی امید باندھتے ہوئے امریکہ میں مقیم عاشقان عمران اس امر پر بھی مصر رہے کہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے یا اس دن سے کئی ہفتے قبل ہی نو

Read more

ٹرمپ واقعی "من باتوں میں موہ لیتا ہے”

جوانی سے ”سرخ انقلاب“ کے خواب دیکھنے والے مجھ جیسے پاکستانیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ مختلف وجوہات کی بنا پر پسند نہیں۔ اپنے دل و دماغ میں کئی دہائیوں سے برف کی مانند منجمد ہوئے تعصبات کے باوجود میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ حالیہ امریکی تاریخ میں ری پبلکن جماعت کے ٹکٹ پر ٹرمپ واحد شخص ہے جو ریکارڈ بناتی اکثریت کی حمایت سے اس ملک کا صدر منتخب ہوا ہے۔ اس کے انتخاب کے بعد میں ٹوہ

Read more

امریکہ میں مقیم "عاشقانِ عمران” کی محدود سوچ

عاجزی وانکساری میرے ساتھی رﺅف کلاسرا کی امتیازی صفت ہے۔ وہ ”دانشوری“ کا دعویٰ بھی نہیں کرتا۔ کبھی کبھار مگر روانی میں ایسا فقرہ کہہ ڈالتا ہے جو سوچنے کو مجبور کردیتا ہے۔ نئے سال کے آغاز کی صبح ہم لاہور کے ایک مشہور ہوٹل میں ناشتے کی میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ گفتگو کا رخ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی جانب مڑ گیا۔ ان کے ذکر کے دوران رﺅف نے ایک دوست کے حوالے سے حیرت کا اظہار کیا

Read more

پاکستان کے لئے اجنبی ہوئی ملالہ

آج بھی 9 اکتوبر 2012ء کا دن میرے دل پر زخم کی طرح نقش ہے۔ سوات کی بیٹی ملالہ یوسف زئی اس روز سکول کی وین میں بیٹھی ہوئی تھی۔ دہشت گردوں نے اس کی جان لینے کی کوشش کی۔ ان کا حملہ ناکام ہوا مگر ملالہ کو صحت یاب ہونے میں بہت دیر لگی۔ خوف سے گھبرائی پاکستانی حکومت اسے ملک میں رکھنا برداشت نہ کرپائی۔ اسے برطانیہ منتقل کرنا پڑا۔ صحت یابی کے بعد اسی ملک سے ملالہ

Read more

لگڑ بگڑ "گویے” کی اوقات

انسانوں سے نفرت کے میں قابل ہی نہیں۔ جو افراد کسی نہ کسی وجہ سے ناقابل برداشت ہوجائیں تو ان سے کنارہ کش ہو جاتا ہوں۔ عمران حکومت کے زوال کے بعد مگر ہماری ریاست کے دائمی اور طاقت ور ادارے میں بیٹھے چند سرپرستوں کی مہربانی سے امریکہ پہنچ جانے کے بعد خود کو صوفی پکارتے سلمان احمد نامی مسخرے نے جو رویہ اختیار کررکھا ہے مجھے اشتعال دلاتا رہتا ہے۔ بہت برداشت کر لینے کے بعد میں نے

Read more

اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی ٹرمپ کے خطرناک عزائم

1970 ء کی دہائی میں جب میں جوان ہو رہا تھا تو سوشلزم کے بہت چرچے تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ ایسا نظام ہو گا جہاں امیر و غریب کا فرق مٹ جائے گا۔ دنیا بھر کے انسان جب مساوی سطح تک پہنچ جائیں گے تو بالآخر قوم پرستی پر مبنی ممالک کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ مساوی دنیا گویا ایک ہی ملک بن جائے گی جہاں مقامی آبادیاں اپنے تئیں چھوٹے چھوٹے گروہوں تک محدود ہوئی

Read more

طالبان کی پنجابیوں سے نفرت

اس کالم کے باقاعدہ قاری جانتے ہیں کہ امریکی افواج کی افغانستان سے ذلت آمیز روانگی سے قبل میں دہائی مچانا شروع ہوگیا تھا کہ ”فاتح“ کی حیثیت میں کابل لوٹے طالبان پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کریں گے۔ اپنی بات سمجھانے کے لئے تفصیل کے ساتھ چند ذاتی تجربات کا ذکر بھی کیا جو افغانستان کے متعدد سفر کے دوران میرے مشاہدے میں آئے۔ طالبان کی کابل واپسی سے قبل جب بھی افغانستان گیا تو وہاں کے شہروں خاص

Read more

امریکی صحافی باب وُڈورڈ کی کتاب کے انکشافات

جب سے ہوش سنبھالا اور سیاسی امور کے بارے میں سوچنے کے قابل ہوا تو دنیا میں ’جمہوری نظام‘ کی حتمی علامت تصور ہوتے امریکا کو وطن عزیز کے حوالے سے ہمیشہ اس نظام کے خلاف کھڑا ہی محسوس کیا۔ میٹرک کا امتحان دینے کے بعد میں ان طلبہ میں شامل تھا جو تقریباً روزانہ کی بنیاد پر لاہور میں مال روڈ کے کسی مقام سے ایوب خان کی حکومت کے خلاف جلوس نکالنے کی کوشش کرتے۔ ہماری کاوشیں اکثر

Read more

امریکہ کے پیدائشی مسلمان شہریوں کی بھی ممکنہ کم بختی

ٹرمپ اور اس کی جماعت کو نہایت چاﺅ اور ضد کے ساتھ نومبر 2024ء میں ہوئے انتخابات کے ذریعے اقتدار میں واپس لانے والے محض تارکین وطن کے دشمن ہی نہیں۔ مسلمان بھی ان کی نگاہ میں امریکی سرزمین پر ناقابل برداشت ہیں۔ اسی باعث وہ امید باندھے ہوئے ہیں کہ 20 جنوری کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی ٹرمپ صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے چند ایسے احکامات جاری کرے گا جو نشان زد ہوئے غیر ملکیوں کو

Read more

جمہوریت کی کوئی بہتر صورت نصیب ہونے کا امکان

نیا سال مبارک ہو۔ سب کا بھلا سب کی خیر مانگتے ہوئے بھی لیکن مجھے اس سال حالات بہتر ہونے کی زیادہ امید نہیں ہے۔ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کے ساتھ ہم ایک پروگرام میں بندھ چکے ہیں۔ مقصد اس پروگرام کا ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچا لینے کے بعد استحکام و خوشحالی کی راہ پر ڈالنا ہے۔ مذکورہ اہداف کے حصول کے لئے حکومت پاکستان کو ”جگوں“ کی طرح تقریباً ہر پاکستانی سے ٹیکس وصول کرنا

Read more

خود کو محصور محسوس کرتے کرّم کے مکینوں کا دْکھ۔

ہمارے ہاں نومبر اور دسمبر کے مہینے شادی کا سیزن ہوتے ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد میں کئی برسوں تک شادیوں کے فنکشن میں نہیں جاتا تھا۔ یہاں کے باسیوں سے شناسائی تھی آشنائی نہیں۔ صحافت میں لیکن ثقافتی امور پر لکھنے کے بعد ایوان ہائے اقتدار سے ٹھوس خبروں کی تلاش شروع کی تو ’’ذرائع‘‘ درکار تھے۔ جن کو فقط خبر کے لئے ذریعہ بنانے کے لئے استعمال کرنا چاہا وہ بتدریج فیملی کے اراکین

Read more

ہمارے کاٹھے انگریزوں کو بھاتی’جذبہ‘ اور’جنون‘ کی علامتیں

پاکستان کے غریب اور پسماندہ عوام کو ”حقیقی آزادی“ اور ”جمہوری حقوق“ دلوانے ان دنوں کچھ لوگ امریکہ میں پناہ گزین ہوئے سوشل میڈیا کے محاذ پر جارحانہ پیش قدمیوں میں مصروف ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں سلمان احمد نامی ایک شخص بھی شامل ہے۔ خود کو وہ ”صوفی“ قرار دیتا ہے۔ سنا ہے جوانی میں کسی بینڈ میں بھی شامل تھا جس نے بڑے غلام علی خان، پٹیالہ گھرانے کے استاد امانت علی وفتح علی خان کے علاوہ شام

Read more

حکمرانوں کی بے نیازی کا یہ عالم؟

کھلے دل سے تسلیم کرنا ہو گا کہ فروری 2024 ء کے بعد سے جو ”بندوبستِ حکومت“ متعارف کروایا گیا ہے وہ عوام کو مفلوج اور ناکارہ دکھائی دے رہا ہے۔ مذکورہ نظام کی بدولت ہماری معیشت یقیناً دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہے۔ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کے ساتھ ہماری معیشت کی بحالی کے بعد اسے آگے بڑھانے کے معاملات بھی طے ہو گئے۔ شاید ان ہی معاملات کی بدولت ہماری سٹاک ایکس چینج میں ریکارڈ توڑ بڑھوتی

Read more

کمال کو پہنچی ’مصنوعی ذہانت‘

عمر کے آخری حصے میں پہنچ کر آپ یقینا نئی چیزیں سیکھنے کے قابل نہیں رہتے۔ ”آتش“ نوجوانی سے ادھیڑ عمری میں داخل ہوتے ہوئے بھی تھوڑی کوشش کے باوجود اردو میں ٹائپ کرنے کے قابل نہ ہوپایا۔ آج بھی ہاتھ سے لکھ کر ٹائپ ہونے بھجواتا ہوں۔ کالم ٹائپ ہوجائے تو واٹس ایپ کے ذریعے اس کی نقل وصول کر کے پروف ریڈنگ کے بعد دفتر بھجوا دیتا ہوں۔ عمر کی وجہ سے نئی چیزیں سیکھنے کے قابل نہ

Read more

افغانستان اور شام میں پیدا ہونے والی ہلچل

نقشے پر نگاہ ڈالیں تو افغانستان شام سے بہت دور نظر آتا ہے۔ ان دو ممالک کی ثقافت میں اسلام کے علاوہ مشترک باتیں ڈھونڈنا بھی بہت مشکل ہے۔ 1980ء کی دہائی نے مگر جغرافیائی اور ثقافتی شناختیں بھلاکر عرب دنیا کے تقریباً ہر ملک کے نوجوانوں کی اکثریت کو ’افغان جہاد‘ کی جانب متوجہ کیا۔ لطیفہ یہ بھی ہوا کہ مذکورہ ’جہاد‘ کو سرکاری سطح پر سب سے زیادہ مصر کی حکومت نے پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال

Read more

حکمرانی کے راز

عددی اعتبار سے بات کریں تو مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی قوت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کی اپنی ذات بھی اس تناظر میں فروری 2024 ء میں ہوئے انتخاب کی بدولت کمزور دکھائی دی۔ ڈیرہ اسماعیل خان ان کا آبائی حلقہ ہے۔ 1970 ء کے تاریخی انتخابات کے دوران یہ واحد شہر تھا جہاں سے ذوالفقار علی بھٹو ان کے مرحوم والد مولانا مفتی محمود کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔ جنرل ضیاء کے فضائی حادثے میں انتقال

Read more

اسد خاندان کی طویل حکمرانی کا خاتمہ

جس سفاکیت کے ساتھ حافظ الاسد اور اس کے خاندان نے شام پر 1970ء سے اپنی بادشاہی مسلط رکھی تھی اس کا دفاع کسی بھی صاحبِ دل کے لئے ممکن نہیں۔ مذکورہ خاندان کے خلاف 1980ء کی دہائی سے مزاحمت کی کئی۔ تحاریک چلیں۔ ان سب کو نہایت بربریت سے کچل دیا گیا۔ فضائی بمباری سے کئی تاریخی مقامات کے نشان تک مٹادیے گئے۔ مزاحمت کے مرکز ہوئے قصبات وہاں کے باسیوں سمیت نیست و نابود ہو گئے۔ بذاتِ خود

Read more

دمشق پر باغیوں کا قبضہ

  1984 میں اپنی وفات سے چند ہفتے قبل فیض احمد فیض اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ اتفاق سے وہ جتنے دن یہاں قیام پذیر رہے میری ان سے روزانہ اور طویل ملاقاتیں رہیں۔ ان ملاقاتوں کی بدولت میں نے بہت کچھ سیکھا۔ ان کے انتقال کے بعد اکثر یہ سوچتا رہا کہ شاید دنیا سے رخصت ہونے سے قبل وہ اپنے دل میں چھپائے خیالات برملا بیان کردینا چاہ رہے تھے۔ بہرحال اسلام آباد تشریف لانے کے پہلے دن

Read more

’پراوین‘ کی لکھی کہانی پر غور کریں

ایک بارپھر آپ سے التجا کر رہا ہوں کہ انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارموں نے ہمیں خود ستائشی یا دوسروں کی ذلت سے لطف اٹھانے کی جس علت میں مبتلا کررکھا ہے کبھی کبھار اسے بھلا کر عالمی سطح پر ابھرتی نئی گیم پر بھی نگاہ ڈال دیا کریں۔ ”عالمی سطح“ کا ذکر ہو تو ہم جیسا ملک امریکہ میں ہوئی تبدیلیوں پر اپنی بقا کے لئے توجہ دینے کو مجبور ہوتا ہے۔ ہماری بڑھک بازیوں اور قومی حمیت کے

Read more

جنوبی کوریا میں مارشل لاء کا حشر

گزشتہ کئی برسوں سے انٹرنیٹ نے ہمارے ذہنوں میں کشادگی لانے کے بجائے ہمیں کنوئیں کے مینڈکوں میں بدل دیا ہے۔ بین الاقوامی حالات سمجھنے کی ذرہ برابر کوشش نہیں ہوتی وگرنہ دیگر ملکوں کا بغور جائزہ ہمیں اپنے حالات کو بہتر انداز میں جاننے کی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔ بہرحال کنوئیں کے مینڈک ہوئے میرے ذہن کو جب منگل کی شب یہ خبر ملی کہ جنوبی کوریا کے صدر نے اپنے ملک میں مارشل لاءکا اعلان کردیا ہے تو

Read more

سٹاک ایکسچینج کی برق رفتار بڑھوتی اور ’فیل گڈ‘

گزشتہ چند دنوں سے اخبارات کی شہ سرخیاں اور ٹی وی چینلوں پر مسلسل چلائے ٹکر یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ پاکستان کا سٹاک ایکس چینج ریکارڈ توڑ برق رفتاری کے ساتھ ملک میں سرمایہ کاری کے امکانات اجاگرکررہا ہے۔ میڈیا میں گھسے بدخواہ اور مایوسی پھیلانے کے عادی صحافی مگر اس ”مثبت“ خبر کو نظرانداز کررہے ہیں۔ میرا شماربھی شاید اس قنوطی گروہ میں ہونا چاہیے۔ یہ سوچنے کے بعد جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ پیر

Read more