’’انقلابی‘‘ تقاریر سے مسئلہ حل نہیں ہو گا

’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ والی پریشانی میرے اور آپ جیسے عامیوں کو لاحق ہوا کرتی ہے۔حکومتوں کو مگر ملک چلانا ہوتے ہیں۔معیشت اس ضمن میں کلیدی کردار کی حامل ہے۔معاشی بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے کبھی کڑے فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔بسااوقات ’’اصولوں پر سمجھوتہ‘‘ بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ ’’سمجھوتے‘‘ کو لیکن ہمارے ہاں ہنگامی…

Read more

مودی کی مقبولیت میں کمی اور وزیر خارجہ کے خدشات

بہت ہی ذاتی مصروفیات نے مجھے بھارت میں جاری انتخابی عمل پر مکمل توجہ دینے کا موقعہ نہیں دیا۔ میرے کئی ساتھی بھی لیکن اسے نظرانداز کئے ہوئے ہیں اور میں اسے مناسب نہیں سمجھتا۔ بہت دیانت داری سے اصرار کررہا ہوں کہ اس بارنریندرمودی ’’اچھے دنوں‘‘ اور ’’وکاس(ترقی)‘‘ وغیرہ کے نام پر اپنی ہندوانتہا…

Read more

اسد عمر کی ’’فراغت‘‘ …

آج سے تقریباً تین ماہ قبل میرے ایک کاروباری دوست نے Whatsapp فون کے ذریعے ’’خبر‘‘ دی کہ اسد عمر کو وزارتِ خزانہ سے ہٹایا جا رہا ہے۔ میرا یہ دوست سیاست میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔ تحریک انصاف کو ووٹ البتہ دیتا رہا۔ نواز حکومت سے وہ بنیادی طورپر اس وجہ سے ناراض رہا…

Read more

اپوزیشن دیوار سے لگ گئی‘ حکومت کی ستے خیراں

’ڈیل یا ڈھیل‘‘ کی سرگوشیاں کئی ہفتے چلیں۔ دریں اثناء نواز شریف صاحب کو خرابی صحت کی بنیاد پر چھ ہفتوں کی رہائی نصیب ہوئی۔ ان کی ضمانت ہو جانے کے بعد تاثر یہ فروغ پانے لگا کہ شہباز شریف کی Pragmaticتصور ہوئی حکمت عملی Deliver کرنا شروع ہو گئی ہے۔ اس حکمت عملی کی…

Read more

فی الوقت معاشی مشکلات کا حل ڈھونڈنے کی ضرورت

سوشل میڈیا پر ہمارے کئی جید دانشور ان دنوں یہ طے کرنے میں مصروف ہیں کہ پاکستان کی بقاء اور خوش حالی کے لئے صدارتی نظام بہتر ہے یا پارلیمانی نظام۔ فرض کیا بالآخر یہ طے ہوبھی جائے کہ پارلیمانی نظام قطعاََ بے سود ہے جب بھی صدارتی نظام کو لاگو کرنے کے لئے ایک…

Read more

فضل الرحمان کی دھرنے کی تیاریاں

مولانا فضل الرحمن کی اسلام آباد میں دھرنے کے ذریعے موجودہ حکومت گرانے کی خواہش محض دھمکی نہیں۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں ہوئے ’’ملین مارچ‘‘ کے ذریعے وہ اس کی تیاری میں جتے نظر آرہے ہیں۔ ریگولر اور سوشل میڈیا نے اگرچہ ان تیاریوں کو تقریباً نظرانداز کیا ہے۔ مولانا…

Read more

جو نظام میسر ہے، فی الحال اسی پر گزارا کریں

سوشل میڈیا کی بدولت مجھ سے رابطے میں رہنے والے کئی دوستوں کا اصرار ہے کہ Whatsapp گروپس کے ذریعے لوگوں کی رائے بنانے کے دعوے دار ان دنوں بہت شدومد سے ملک میں صدارتی نظام متعارف کروانے کی راہ بنارہے ہیں۔ انہیں حیرت ہے کہ میں اس ’’مہم‘‘ کے بارے میں بے خبر نظر…

Read more

معیشت: عوام کب تک سزا برداشت کریں گے؟

گزشتہ دو دنوں میں چند نئے لوگوں سے شناسائی نصیب ہوئی۔ مختلف کاروباری شعبوں میں وہ امریکہ جیسے ممالک میں بھی اپنا مقام بنانے میں کامیاب رہے۔ بنیادی طورپر غیر سیاسی لوگ ہیں۔ عمران حکومت سے مگر خیر کی توقع رکھتے ہیں۔

اس توقع کے باوجود وہ وزیر خزانہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کا خیال ہے کہ اسد عمر کی سربراہی میں پاکستان کی معیشت ایک طے شدہ سمت کی طرف رواں نظر نہیں آرہی۔ سمت طے ہوئی نظر آئے تو سفرمیں درپیش متوقع یا غیر متوقع پریشانیوں سے دل نہیں گھبراتا۔ اپنے محدود علم کے باعث ان کی باتوں کو غور سے سنتے ہوئے معیشت کے نئے پہلو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔ علم معاشیات کی باریکیاں نہ جانتے ہوئے بھی فقط عام لوگوں سے ہوئی گفتگو کی بنیاد پر اس کالم میں تواتر کے ساتھ اس پریشانی اور اداسی کا ذکر کرتا رہا ہوں جو عمران خان صاحب کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد متوسط طبقے کی مختلف سطحوں سے تعلق رکھنے والوں پر نازل ہوئی نظر آرہی ہیں۔

Read more

بھارتی حملہ: کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

نسلوں سے ”اپنے حلقے“ کی بنیاد پر سیاست کرنے والے اتوار کے دن ووٹروں کی شادی/غمی والے معاملات سے تعلق جوڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہنگامی صورتوں میں بھی ہم صحافیوں کو ان سے رابطہ کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ 24 گھنٹے قبل کا اتوار مگراس تناظر میں مجھے غیر معمولی محسوس ہوا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس روز اپنے آبائی شہر ملتان میں تقریباً دن چڑھتے ہی ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کے ذریعے قوم اور عالمی برادری کو واضح الفاظ میں خبردار کردیا گیا کہ پاکستان کو ٹھوس ذرائع کی بنیاد پر حاصل ہوئی معلومات عندیہ دے رہی ہیں کہ 16 اپریل سے 20 اپریل کے درمیان بھارت ہمارے خلاف کسی جارحانہ حملے کی تیاری کررہا ہے۔ یقینی بات ہے کہ ایسا ہوا تو پاکستان کی جانب سے مؤثر جواب آئے گا۔

Read more

مسلم لیگ ن کا حتمی بیانیہ!

گزشتہ مہینے سے ہر ہفتے کی دوراتیں اور تین دن لاہور میں گزارنا ضروری ہوگیا ہے۔ میں وہاں رزق کمانے جاتا ہوں تماشے دیکھنے نہیں۔ احتساب بیورو نے اگرچہ جمعہ اورہفتے کے روز حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے بہانے ٹی وی سکرینوں کو پُررونق بنائے رکھا۔ سوشل میڈیا پر اس قصے سے متعلق ویڈیوز بھی وائرل ہوتی رہیں۔ کئی برسوں سے کاہل ہوئے میرے ذہن وجسم کو بڑھاپے کی طرف تیزی سے بڑھتی عمر نے سفر کی وجہ سے مگر نڈھال کیا ہوا تھا۔

جمائیاں لیتا رہا۔ اُکتاکر ٹی وی بند کردیا۔ ٹویٹر پر ہوئی بحث کو دیکھنے کی جانب بھی طبیعت مائل نہ ہوئی۔ زندگی کے بیشتر برس مسلط رہی رپورٹر والی جبلت نے ایک لمحے کو بھی مجبور نہ کیا کہ کسی نہ کسی طرح ”جائے واردات“ پر پہنچ کر نیب بمقابلہ حمزہ شریف والا ”دنگل“ اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے۔ ہوٹل کے کمروں میں اکیلے بیٹھنے سے وحشت ہوتی ہے۔ فون جیب میں رکھ کر دھابوں کو ڈھونڈتا رہا۔ کڑک چائے طلب کی تو جوتے پالش کرنے والے آگئے۔

Read more