موت سے سرگوشیاں کرنے والے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 240
  •  

نسترن فوت ہو گئیں

نسترن خانم فوت ہو گئیں

ہماری عزیز دوست نسترن خانم فوت ہو گئیں

نسترن کو پچھلے چند ماہ سے ایک تخلیقی بارش اورایک ادبی طوفان کا سامنا تھا۔ کبھی وہ صبح کے وقت اپنی سوچوں میں ڈوب جاتیں ’کبھی وہ شام کے وقت خیالوں کی دنیا میں کھو جاتیں اور کبھی وہ دن رات لکھتی رہتیں۔ انہوں نے چند مہنیوں میں چند سو صفحات لکھ ڈالے۔ وہ کیا لکھ رہی تھیں؟ کیا وہ ایک ناول تھا؟ کیا وہ آپ بیتی تھی؟ کیا وہ جگ بیتی تھی؟ کیا وہ ہمارے عہد کا نوحہ تھا؟ کیا وہ انسانیت کا مرثیہ تھا؟ انہیں شاید خود بھی اس کا اندازہ نہیں تھا۔

پھر 21 مارچ عیدِ نوروز کی آدھی رات کو وہ تنہائی کی چادر اوڑھ کر چپکے سے سیر کے لیے گئیں اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں۔ ان کی موت بھی ان کی زندگی کی طرح ایک پہیلی بن گئی۔ ایک بجھارت بن گئی۔ ایک راز بن گئی۔ نسترن سراپا راز تھیں۔ وہ ادھ کھلا پھول تھیں۔ وہ نامکمل نغمہ تھیں۔ وہ ادھوری کہانی تھیں اور اب وہ ادھوری کہانی کبھی بھی پوری نہ ہوگی کبھی بھی مکمل نہ ہوگی۔

آخری بار جب میری نسترن سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ سویڈن کے سفر سے لوٹ کر آئی تھیں۔ وہاں ان کی چند انقلابیوں سے ملاقات ہوئی تھی جنہوں نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کے آبا و اجداد ایرانی نہیں کرد تھے۔ نسترن کا اپنی نئی شناخت سے تعارف ہوا تھا جس نے ان کے من میں ایک ہلچل مچا دی تھی۔ ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ وہ کرد تحریک میں شامل بھی ہونا چاہتی تھیں لیکن خوفزدہ بھی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ کسی سیاسی تحریک میں شامل ہونے والوں کے ساتھ کیا بیتتی ہے۔ ان کا کیا انجام ہوتا ہے؟

نسترن کا بچپن اور جوانی ایران میں گزرے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی شاہ کے زمانے میں ایران رہا تھا اور ہمدان شہر کے ایک ایسے بچوں کے کلینک میں کام کرتا رہا تھا جس کی کھڑکی سے معروف طبیب بو علی سینا کا مزار دکھائی دیتا تھا۔ اس زمانے میں میں فارسی بھی بول لیتا تھا۔ نسترن کی خواہش تھی کہ میں انہیں ان کی کہانی لکھنے میں مدد کروں۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ میں ان کا ایک تفصیلی انٹرویو لے سکتا ہوں اس طرح ان کے خیالات ’جذبات اور نطریات صفحہِ قرطاس پر آ جائیں گے۔ انہیں میرا خیال پسند آیا تھا اور انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے فون کر کے انٹرویو کا دن مقرر کریں گی۔ میں ان کی فون کال کا انتظار کرتا رہا۔ ان کا تو فون نہیں آیا لیکن ایک مشترکہ دوست کا فون آیا کہ وہ رات کی تاریکی میں گئیں اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں۔

نسترن ایک باغی عورت تھیں۔ وہ ہر ظلم ’ہر ستم اور ہر نا انصافی کے خلاف ڈٹ جاتی تھیں۔ وہ چے گویرا کی طرح بے خوف تھیں۔ بے خطر تھیِں۔ نڈر تھیں۔ بہادر تھیں۔ بعض کا خیال تھا کہ وہ حد سے زیادہ بہادر تھیں اور انہیں خطرہ تھا کہ کہیں ان کے بے خوفی ان کے لیے ہی نقصان دہ ثابت نہ ہو۔ فیڈیل کاسٹرو کہا کرتے تھے کہ چے گویرا کے اندر ایک خطرناکDEATH WISH ہے۔ کاسٹرو نے بہت کوشش کی لیکن چے گویرا موت سے سرگوشیاں کرتے رہے اور پھر اس سے بغل گیر ہو گئے۔ نسترن کے دوستوں کو کیا خبر تھی کہ وہ بھی ایک رات۔

میں بہت سے ایسے شاعروں ’ادیبوں اور انقلابی دانشوروں کو جانتا ہوں جنہیں اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ ہر رشتے اور ہر خاندان‘ ہر ملک اور ہر معاشرے میں ایک ایسی حد ایسی سرحد ہوتی ہے جسے پار کرنے والے کو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس حد کو پار کرنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ وہ قیمت کیا ہے؟ اس کا فیصلہ اس دور کے اصحابِ بست و کشاد کرتے ہیں۔

ایک وہ زمانہ تھا جب میں بھی اس حد کو پار کرتا تھا اور موت سے سرگوشیاں کرتا تھا لیکن پھر میری زندگی میں چند ایسے واقعات وقوع پذیر ہوئے جن کے بعد مجھے اپنی سوچ ’اپنے رویے اور اپنی شخصیت پر نظرِ ثانی کرنے کا موقع ملا۔ میں یہاں صرف ایک واقعہ پیش کرتا ہوں تا کہ آپ کو اس سوچ‘ اس کیفیت اور اس مسئلے کی سنجیدگی کا احساس ہو۔

یہ سن 2000 کی بات ہے جب میں سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال مغل کا انٹرویو لینے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں گیا تھا۔ جیل کے گارڈ کو جب پتہ چلا کہ میرا انٹرویو دو سے تین گھنٹوں کے دورانیے کا ہوگا تو وہ مجھے جاوید اقبال کے پھانسی گھاٹ کے کمرے میں چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ میں نے جاوید اقبال سے کہا کہ میں اس کا تفصیلی انٹرویو لینے کینیڈا سے آیا ہوں۔ وہ راضی ہو گیا لیکن چند منٹوں کی گفگتو کے بعد ہی کہنے لگا کہ آپ مجھے اپنا ہاتھ پکڑائیں۔

اس لمحے مجھے اینتھنی ہاپکنز کی فلم SILENCE OF THE LAMBS کا دہشت اور وحشت والا سین یاد آ گیا۔ میں نے ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے اپنے آپ سے پوچھا ’کیا یہ مجھے نقصان پہنچائے گا؟ ‘ میری من سے جواب آیا ’نہیں‘ ۔ مجھے یہ بھی اندازہ تھا کہ اگر میں نے اسے ہاتھ نہ پکڑایا اور اسے اپنے اعتماد میں نہ لیا تو وہ خلوصِ دل سے انٹرویو نہں دے گا۔ اس نے میرا دایاں ہاتھ پکڑا اور میری انگشتِ شہادت سے اپنے ماتھے اور جبڑے کو چھوا جہاں اس کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔

پھر کہنے لگا پولیس نے میرے ساتھ تشدد کیا ہے۔ اگر میں اس کی ہڈیاں نہ چھوتا تو مجھے اس کی کیفیت کی سنگینی کا اندازہ نہ ہوتا۔ ان چند لمحوں کے تبادلے کے بعد اس نے پوری کہانی سنائی۔ پھر میں اس کے گھر گیا اور اس کے بھائیوں ’بھتیجوں اور ہمسایوں کے انٹرویو لیے۔ اس کے بعد میں نے جاوید اقبال اور سیریل کلرز کی نفسیات کے بارے میں انگریزی میں ایک کتاب لکھی جس کا ترجمہ‘ اپنا قاتل ’کے نام سے لاہور میں مشعل پبلشرز نے چھاپا ہے۔

جب میں جاوید اقبال مغل کے انٹرویو کے بعد گھر آیا تو مجھے احساس ہوا کہ میں موت سے سرگوشی اور ایک سو بچوں کے قاتل سے ہاتھ ملا کر آیا ہوں۔

میرے انٹرویو کے کچھ عرصہ بعد اسی کمرے میں آدھی رات کو جاوید اقبال مغل کی لاش پائی گئی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اس نے چھت سے رسی باندھ کر اور پھندے سے لٹک کر خود کشی کر لی ہے۔ میں نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کمرے کی چھت کم از کم بیس فٹ اونچی تھی جہاں تک اس کی رسائی نہ تھی۔ میں فورنزک رپورٹ کا انتظار کرتا رہا جس میں لکھا تھا کہ اس کے جسم پر تشدد کے سترہ نشان تھے۔ جاوید اقبال مغل کو رات کی تاریکی میں پراسرار طریقے سے قتل کر دیا گیا تھا کیونکہ اس کے سینے میں چند راز تھے جو اصحابَ اختیار کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے تھے۔ انہوں نے جاوید اقبال کو قتل کر کے سوچا ہوگا۔ خس کم جہاں پاک۔

جاوید اقبال مغل کی کہانی طویل ہے۔ یہاں میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایک زمانے میں میرے اندر بھی خطرے سے کھیلنے کی خواہش ہوتی تھی۔ جب مجھے اس کا احساس ہوا تو میں نے اپنے گرد دوستوں کا ایک حلقہ بنایا جن سے اب میں مشورہ کرتا ہوں اور دوسروں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اپنے مخلص دوستوں سے مشورہ کیا کریں کیونکہ ایسے دوست ایک نظریاتی ’سماجی اور نفسیاتی باڈی گارڈ کا کام کرتے ہیں۔

جب ہم شاعروں ’ادیبوں اور انقلابی دانشوروں کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا کہ وہ فرسودہ روایات کو توڑنا بھی چاہتے اور نئی روایات کو جنم بھی دینا چاہتے ہیں۔ اس طویل اور جانگسل سفر میں بعض کامیاب ہوتے ہیں اور بعض ناکام۔ بعض ہیرو بن جاتے ہیں بعض ولن۔ بعض اپنی منزل کے نشان کو چوم لیتے ہیں اور بعض راستے کی گرد بن جاتے ہیں۔ بعض خود کشی کر لیتے ہیں۔ بعض جیل چلے جاتے ہیں۔ بعض پراسرا طریقے سے غائب ہو جاتے ہیں۔ بعض ملک بدر ہو جاتے ہیں اور بعض سولی پر چڑھا دیے جاتے ہیں۔ منیر نیازی نے اس طویل بحث کو ایک مصرعے میں سمیٹا ہے

 کج شہر دے لوگ وی ظالم سن

 کج سانوں مرن دا شوق وی سی

ہر قوم کے جرنلسٹ شہر کے ظالموں کی اور ماہرینِ نفسیات مرنے کا شوق رکھنے والوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ عارف عبدالمتینؔ کا شعر ہے

میری عظمت کا نشاں، میری تباہی کی دلیل

میں نے حالات کے سانچوں میں نہ ڈھالا خود کو

ماہرینِ نفسیات جانتے ہیں کہ انسانی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی اس کی سب سے بڑی خامی بھی بن سکتی ہے۔ بہت سے عام ادیب جانتے ہیں کہ کیا کہنا ہے کیا لکھنا ہے لیکن چند ہی دانا ادیب یہ جانتے ہیں کہ کیا نہیں کہنا، کیا نہیں لکھنا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 240
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 198 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail