زنداں کی قیدی عورتیں اور آٹھ مارچ سے رہائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان خواتین کی جدو جہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اپنے ایک چھوٹے سے حق کے لئے بھی اسے بہت ساری قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ پھر کہیں جا کر کسی کو اس کا حق ملتا ہے تو کہیں اسے بری عورت کا لقب دے کرموت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اچھی عورت، ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کا کوئی حق نہیں اور اچھی بہنیں بھی وہی ہیں جو بھائیوں کی محبت میں وارثت میں بھی حصہ طلب نہ کریں۔

پاکستانی عورت کومذہب اور سماج کے نام پر ہر طرح کے ظلم کا سامنا ہے مگر وہ پھر بھی ڈٹی کھڑی ہے۔ جبکہ مذہب کسی کوبھی عورت کا حق مارنے کی اجازت نہیں دیتا مگر صد افسوس کہ اسے نشانہ مذہبی احکامات کی ملائیت زدہ تشریح کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے۔ جس میں اہم ترین اسے تعلیم اور شعورسے دور رکھنا ہے۔ سوال یہ ہے آخر کب تک عورت کو جاہل رکھ کر اس کا استحصال کیا جائے گا اور اسے استعمال کیا جائے گا؟

کہتے ہیں عورت کی دشمن عورت ہوتی ہے اور یہ ہوائی بھی کسی مرد نے اڑائی اور پھر یہ ایک سوچ بن گئی۔ جسے ساس بہو اور نند بھاوج اور سوکن کی مثالیں دے کے پختہ کیا گیا۔ تاہم میرا خیال ہے کہ عورت کی سب سے بڑی مددگار عورت کو ہونا چاہیے کیونکہ عورت ہی دوسری عورت کے احساسات کو محسوس کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی عورتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان میں شعور کی آبیاری میں خواتین ہی آگے ہیں۔ اس لیے عورت کے مسائل کو آگے لانا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی ان خواتین پر ڈالی جائے جو سماج کے ماحول کو سمجھتی ہیں اور اس کی مروجہ سوچ و فکر کے درمیان میں سے راستہ نکالتی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر اور اس قبیل کی دیگر خواتین اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ اگریہ خواتین متحرک نہ ہوتیں تو مجھ سمیت جو چند ایک آزاد فضا میں سانس لے رہی ہیں، نہ لے پاتیں۔

عورت ایک سچائی ہے اور سچ کو سانس نہ لینے دیا جائے تو وہ گھٹن بن کر عذاب بن جاتا ہے اس لیے معاشرے کو عورت کے وجود کو ایک سچائی کے طور پر سمجھنا ہو گا، اسی طرح اس کے مسائل اور عذاب کم ہوں گے ورنہ نہیں۔ اس کے لیے قوانین سازی اور ان قوانین کا نفاذ تو اہم ہے ہی مگرعورت کی زندگی اور حقوق کے لیے ہمیں ایک دن کے مارچ کی سوچ سے سے آگے نکلنا ہو گا۔ اس مارچ سے رہائی بہت ضروری ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ان اہم دنوں میں مطلب پرست ٹولے سامنے آتے ہیں جو عورت کے حقیقی کردار اور حقوق کی بحالی میں مصروف مخلص اور درددل رکھنے والی خواتین کے کام، خدمات اورکردار کی حق تلفی کر جاتے ہیں۔ رواں سال کے عورت مارچ میں خواتین کے ان اداروں کوبھی برا تسلیم کر لیا گیا ہے جو ایک طویل عرصے سے عورت کی بقاء کی جنگ اور بحالی میں مصروف ہیں۔

رواں سال جب لاہور سمیت مختلف شہروں کی سڑکوں پر عورت کا آزادی مارچ جاری تھا، اور کافی متنازعہ بینر زجو آج بھی مختلف پلیٹ فارمز پر زیر بحث ہیں۔ وہیں، میں پنجاب کی جیلوں میں قید خواتین اور بچوں کی فلاح وبہبود میں مصروف معروف فلاحی ادارے ’رہائی فاونڈیشن‘ کے بینرتلے سینٹرل جیل گوجرانوالہ کے دورے پر تھی۔ اس پینل پر رہائی فاونڈیشن کے روح رواں، فرح ہاشمی، عدیل نیاز شیخ اور مجھ سمیت پاکستان کی بزنس تائی کون اور سوشل ورکر توشیبا سرور، این جی سیکٹر میں خواتین کو عملی میدان میں کامیاب کرانے کے اور ہنر مند بنانے میں متحرک مریم خان او ر ادبی دنیا کا درخشاں ستارہ شاعرہ اور سوشل ورکر فریدہ خانم شامل تھیں۔

واضح رہے کہ رہائی فاونڈیشن کے اس وقت پنجاب کی مختلف جیلوں میں چودہ سکول کام کر رہے ہیں جہاں جیلوں میں قید بچوں کوتعلیم و تربیت دی جاتی ہے اور خواتین کو ہنرمند بنانے کے لیے شارٹ کورسز کرائے جاتے ہیں۔ اہم ترین پہلو یہ ہے کہ رہائی فاونڈیشن کسی حکومتی سرپرستی کے بغیر اپنی کامیابی کا یہ سفر جاری رکھے ہوئے ہیں جو یقیناًقابل ستائش ہے۔ جیل وہ جگہ ہے جہاں مجرموں کو رکھا جاتا ہے جن پرجرم ثابت ہو جائے مگر صد افسوس کہ پاکستانی جیلوں میں 78 فیصد قیدی ایسے ہیں جن پر جرم ثابت نہیں ہوا، کیس چل رہاہے۔ جس وجہ سے جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ظاہر ہے کہ اخراجات بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ پھرجیل اصلاحات کا ڈرامہ رچایا جاتاہے اور پیسہ بڑوں کے پیٹوں میں چلا جاتا ہے۔ عدلیہ کو اس حوالے سے جامع اصلاحات کا منصوبہ سامنے لانا ہو گا تاکہ جیلوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پایا جا سکے۔ جرم ثابت ہونے تک کم از کم خواتین کو ان منحوس دیواروں سے دور رکھا جائے، محض شک کی بنیاد پر جیلیں بھرناظلم کے سواء کچھ نہیں۔

گوجرانوالہ جیل کا دورہ مجھ جیسے جذباتی لوگوں کے لیے ایک مدت تک روح کا بوجھ ثابت ہوتے ہیں۔ قیدی خواتین نے مختلف ایشوز پر خاکے پیش کیے۔ کہیں اپنی کہانیوں کو ان خاکوں سے اجاگر کیا تو کہیں اشعار کی صورت نوحے سنائے۔ اس ظلم اور زیادتی کے جس سے انکار پر جیل کی سلاخیں ان کا مقدر بنی۔ ان خاکوں کا اسکرپٹ رائٹر کوئی نہیں تھا، کوئی پروڈیوسر اور ہدایت کار بھی نہیں تھا۔ بس ظلم کا بیانیہ تھا جو ہم نے دیکھا، سنا اور روح کی گہرائیوں تک محسوس کیا۔ عادی مجرموں کے اپنے چہرے اور انداز ہوتے ہیں، یہ بھی دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ مجھے عورت کے ساتھ جڑا لفظ ”مجرم اور بری عورت“ بہت برا لگتا ہے۔ عورت کے منہ پر یہ کالک اس کا جذباتی رویہ ملتا ہے یا پھر مردوں کی ہوس۔

تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورت شکار ہو جائے تو پھروہ معاف بھی نہیں کرتی اور کسی سماجی دباؤ اور مذہبی حکم کی پروا بھی نہیں کرتی۔ مظلوم سے ظالم صرف ایک سوچ بناتی ہے اور بغاوت پر اکساتی ہے اور بغاوتیں ہیرو بھی بناتی ہیں مجرم بھی۔ فرق صرف سوچ اور ماحول کے اثرات کا ہے۔ زنداں میں قید یہ حوا کی بیٹیاں، کسی دوسرے سیاروں کی مخلوق نہیں، یہ ہمارے ہی ارد گرد رہنے والی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ جو کہیں مظلوم ہیں تو کہیں ظالم مگر قانون کو انہیں بطور عورت اور ماں کے اتنی رعایت دینی چاہیے کہ جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے وہ اپنے گھروں میں یا پھر دارالامان میں رہیں۔

عورت دن سے زیادہ احترام چاہتی ہے، اپنی زندگی میں شامل تمام رشتوں سے اورجب وہ معاشی تحفظ کے لیے خود سرگرم ہو تو معاشرے میں موجود مردوں سے۔ جیل میں موجود مظلوم خواتین کی فلاح وبہبود کو بہتر بنیادوں پر استوار کیا جائے، رہائی فاونڈیشن جیسے اداروں کو سماجی اور حکومتی سطح پر سپورٹ کیا جائے۔ عورت کے احترام، اور حقوق کی آواز کو کو آٹھ مارچ کی مخصوص تھکی ہوئی سوچ سے نکال کر سال کے 365 تک پھیلایا جائے۔ یہ دن ہر لیول پر منایا جائے، اس شعور کے ساتھ کہ عورت دن نہیں احترام چاہتی ہے، ہر روز، ہر لمحہ اور ہر سطح پر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •