اس کے پیکج میں خیرات شامل نہیں تھی


وہ دونوں مجھے حیرت سے دیکھتے رہے اور روتے رہے۔ ان کا سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ گھر کے چار آدمی یہاں چھت کے نیچے دب کر مرگئے تھے۔ رزاق کی بیوی اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے ماموں کے گھر بالاکوٹ گئی تھی۔ وہاں وہ دونوں بھی پورے خاندان کے ساتھ موت کا شکار ہوگئے۔ اب ذوالفقار اور اس کا چھوٹا بیٹا اس جگہ اکیلے رہ گئے تھے۔ دوسرے دن بڑی مشکل سے انہوں نے لاشوں کو نکالا تھا اور گھر کے ساتھ ایک قطار میں قبریں بنا کرہی دفن کردیاتھا۔ ساتھ ہی احمد ماں اور بہن کی تلاش میں بالاکوٹ گیا تو پتہ چلا کہ وہاں بھی کچھ نہیں رہا۔

اب وہ یہ کہتے ہیں کہ میں یہ جگہ چھوڑ کر نیچے چلا جاؤں، کسی کیمپ میں رہوں، امداد لوں، لنگر کا کھانا کھاؤں اور فقیر بن کر زندگی گزاردوں۔ میں نے آج تک ہاتھ نہیں پھیلایا کسی کے سامنے۔ لوگ اس گھر میں کھانے آتے تھے، خیرات دینے نہیں آتے تھے۔ میں ہر بقرعید پر اپنا جانور قربان کرتا تھا، دوسروں کے گھروں سے قربانی کا گوشت مانگ کر نہیں لاتا تھا۔ میں کیسے جاسکتا ہوں نیچے، کبھی بھی نہیں جاؤں گا۔

مجھے اس کی بات سمجھ میں آرہی تھی۔ یہ پہاڑی کا ٹکڑا اور اس کے آس پاس کی زمینیں اس کے درخت، درختوں میں بہتا ہوا جھرنا، جھرنے کی موسیقی، پرندوں کی چہچاہٹ، جانوروں کی چراگاہ، سینکڑوں سالوں سے چلنے والی دوستی، دشمنیاں اور بزرگوں کی قبریں جن میں چار تازہ قبریں بھی شامل ہوگئی تھیں۔ یہ سب کچھ اس کا تھا ایک پیکج کا حصہ۔ اس پیکج میں بارش تھی، طوفان تھا، تیز ہوائیں تھیں، پہاڑوں کا ہلنا تھا، مٹی کا گرنا تھا اور شاید زلزلہ بھی اسی پیکج کی ایک شق تھی۔ وہ ان سب کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا، کیسے جاتا، کیوں جاتا، فقیر بننے کے لئے۔ اپنے بزرگوں کی قبر سے دور، اپنے سماج سے الگ، اپنے ماحول سے جدا اور اپنے ان پڑوسیوں کے بغیر جن کی دوستی دشمنی اس کی زندگی کا حصہ تھے۔

تین رات دو دن میں وہیں رہا۔ ہم نے مل جل کر دو چھوٹے کمرے بنانے اور ساتھ میں ایک باورچی خانہ بھی بنایا۔ فضل نے کہا کہ وہ چھت کی شیٹ بعد میں لے آئے گا۔ فی الحال اتنا ہوگیا تھا کہ آنے والی سردی میں ہواؤں سے بچاجاسکے گا اور برف باری کے بعد برف کے پگھلنے کی سردی سے لکڑیاں جلا کر محفوظ رہا جاسکے گا۔

صبح صبح بی بی سی کی خبریں سن کر اور پہاڑیوں کا تگڑا سا ناشتہ کرکے میں واپس پہاڑوں کی پگڈنڈیوں سے اُترتا ہوا بڑی سڑک پر آگیا، یہ سوچتا ہوا کہ کسی طرح سے کچھ ٹین کی شیٹ کا انتظام کرکے بھیجوں تاکہ چھت تو پڑ سکے۔

دس دن کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن والوں کا فون آیا کہ ذوالفقار نے ان سے شیٹ مفت میں لینے سے انکار کردیا تھا۔ بڑی حجت کے بعد ان شیٹوں کا تحفہ قبول کیا ان دونوں باپ بیٹوں نے۔ وہ بھی اس شرط پر کہ وہ ان کے دو بکرے لے جائیں اور ایک دن لنگر میں ان کا ہی گوشت پکائیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ زلزلہ آیا ہے ان کے علاقے میں مگر وہ خیرات کے حقدار نہیں ہیں۔ امداد کسی حقدار کو پہنچادیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2