ایک پاکستانی لڑکی کے عربوں اور ترکوں کے بارے میں تاثرات


عربوں کی زندگی ہماری زندگی سے بڑی مختلف ہوتی ہے اس بات کا احساس مجھے ان کے درمیان رہ کے ہوا۔ وہاں پر پاکستان کو اور پاکستانیوں کو کس طرح دیکھا جاتا ہے یہ بات بھی عیاں ہوئی۔ ایک بات ان میں یکساں تھی اور وہ عاجزی کی کمی۔ مجھے وہاں 15 گھنٹے گزارنے کے بعد معلوم ہوا کہ اللہ نے زیادہ تر پیغمبر عرب میں ہی کیوں بھیجے۔ سعودی عرب جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا قومی لباس ثوب ہے پر انہوں نے اسے بھی کس حد تک فیشن کی نذر کردیا ہے یہ ان کے ثوب کی بناوٹ سے ظاہر ہوجاتا ہے۔

عربی بہت حد تک برانڈ کونشیس ہوتے ہیں۔ ان کے پرفیوم سے لے کر ان کے ہاتھ میں موجود گھڑی تک سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میں بھی ان تمام گھنٹوں میں اپنی اور ان کی قوم میں فرق دیکھا۔ اس کے علاوہ ہم میں بس اسلام ہی سانجھی چیز ہے۔ چونکہ میں نے واہاں ایک لمبا وقت گزارا اس لیے میں نے لاؤنج کی ساری جگہ دیکھ لی۔ بوریت کی وجہ سے کبھی لیپ ٹاپ کھولتی کبھی کتاب پڑھتی۔ اس دوران رضوان میرے پاس آیا اور ایک مسکراہٹ کہ ساتھ بولا اب ٹھیک ہیں آپ؟

میں نے ہاں میں جواب دیا اور ساتھ ہی پوچھا کہ میں کس طرح گھر والوں سے رابطہ کر سکتی ہوں۔ اس نے مجھے اپنا فون دیا اور کہا کہ آپ اپنے گھر بتا دیں مگر فلائٹ کا بتائیں گی تو وہ پریشان ہوجائیں گے۔ بات تو ٹھیک تھی اگر یہ بات ان سے کروں گی تو پریشان تو ہوں گے۔ میں فون تھاما اور شکریہ ادا کیا مگر جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے کیوں کہ اس وقت اس نے فرشتہ جیسا کردار ادا کیا تھا میرے لیے۔ میں نے والد کا نمبر ملایا اور تیسری گھنٹی پرانہوں نے فون اٹھا لیا جیسے وہ میرے ہی فون کا انتظار کررہے ہوں میں نے ان کے ہیلو بولنے کے بعد ایک ہی سانس میں بولا ہیلو پاپا میں فروا بات کر رہی ہوں!

”فروا! کیسی ہو بیٹا؟ کہاں ہوں؟ پہنچ گئی ترکی؟ ْ ایک ساتھ اتنے سارے سوال یقیناً اس بات کا ثبوت تھے کہ ان کو میری کتنی فکر تھی! دل تو کہ رہا تھا کہ سب بول دوں کہ کیسے میں نے فلائٹ مس کردی اور میں گھر کو کس قدر یاد کر رہی ہوں پر اپنے بہتے خاموش آنسوؤں اور جذبات پر قابو پایا اور مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ میں ٹھیک ہوں فکر کی کوئی بات نہیں ہے! میری فلائٹ لیٹ ہوگئی ہے پر اب تھوڑا ہی وقت باقی ہے میں اب بھی جدہ میں ہوں مگر جلد ہی ترکی کے لیے نکل جاؤں گی۔

انہوں نے کئی سوالات کرنا چاہے مگر میں نے ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کہا کہ مجھے جانا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اب تم کب فون کرو گی؟ میں نے کہا جلد ہی۔ آپ بے فکر رہیں! میں ترکی پہنچ کر آپ کو اطلاع کردوں گی۔ اس کے بعد میں نے اللہ حافظ کہا اور پھر فون بند ہوگیا۔

فون تو بند ہوگیا مگر یوں لگا کہ دل بھی حرکت بھول گیا۔ ماں باپ کتنی بڑی رحمت ہوتے ہیں یہ احساس مجھے اس وقت ہوا۔ گھر میں ذرا سا کچھ ہوجائے اور ماں باپ گھر نا ہوں تو میں پورا گھر سر پر اٹھا لیتی ہوں بار بار فون کرتی ہوں مگر یہاں تو کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکتی۔ اس سوچ میں کھوئی ہوئی تھی کہ رضوان آیا اور سامنے کھڑا ہوگیا۔ ان سے ملیں! یہ ریم ہیں! میری دوست۔ میں نے نگاہ اٹھا کہ دیکھا تو ایک خوبصورت لڑکی میرے سامنے سیاہ برقع پہنے کھڑی تھی اس کا قد درمیانہ تھا اور مسکراہٹ دلکش۔

میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور سلام کیا، اس نے بھی پر جوش انداز میں ہاتھ ملتے ہوئے جواب دیا۔ ریم ایک عربی لڑکی تھی اور اب تک ملنے والی تمام لڑکیوں سے وہ مختلف بھی تھی۔ انتہائی خوش اخلاق تھی۔ اس کے بعد میں جانے تک تقریباً سارا وقت اس کے ہی ہمراہ رہی۔ اس کے اچھے اخلاق نے میرے دل میں گھر کر لیا مگر باقی تمام وقت میں جس تکلیف میں رہی اور جس طرح عربوں نے ٹریٹ کیا میں وہ نہیں بھولی نہ ہی شاید بھول پاؤں گی۔

شام کے ساڑھے سات ہو رہے تھے اور بوڑدنگ ہو چکی تھی میں نے ان 15 گھنٹوں میں جہاں عربوں کا دوغلا پن اور تکبرانہ رویہ دیکھا وہیں ریم جیسے لڑکی بھی دیکھی۔ رضوان اور ریم سے الودہ ہوئی اور جہاز کی طرف چل دی۔ اپنا بیک پیک کیبن میں رکھا سیٹ نمبر دیکھا اور بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد جہاز نے اڑان بھری۔ اس سفر نے مجھے شروعات میں ہی بہت کچھ سکھا دیا تھا مگر ابھی تو اور سیکھنا ہے۔ ابھی تو میں نے عربوں کے رویے کو دیکھا اور سمجھا ہے ابھی تو ترک باقی ہیں۔ اس خیال میں نے سارا سفر کاٹ لیا کہ ترکی کیسا ملک ہوگا؟ کیا وہاں کے لوگ بھی پاکستانی لوگوں سے وہی سلوک رکھتے ہوں گے جو میں نے جدہ میں دیکھا یا پھر مختلف ہوگا؟

جہاز میں اب آخری اعلان ہورہا تھا۔ ہم ترکی پہنچ گئے تھے۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نظارہ انتہائی خوبصورت رات تھا میں جیسے زمیں پر ہزاروں جگنو موجود ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے زمین اور ہماری دوری کم ہوتی گئی۔ جہاز لینڈ ہوگیا۔ میں نے بھی تمام مسافروں کی طرح اپنا بیگ اٹھایا اور باہر کی طرف چل پڑی۔ باہر ایک بڑی بس پہلے سے ہی موجود تھی اور شاید اسی بس سے ہم نے اتاترک ائیرپورٹ کے اندر جانا تھا۔ میں بھی سب کے ساتھ اس بس میں چڑھ گئی۔

بس نے ہمیں ائیرپورٹ کے ایک دروازے کے سامنے اتارا اس کے باہر ایک شخص موجود تھا جس نے ہمیں اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا۔ میں اندر داخل ہوئی تو سامنے چیکنگ پوانٹ تھا۔ وہاں پر چیکنگ ہوئی اور پھر میں لاونج میں آگئی۔ جیسے ہی میں لاونج میں داخل ہوئی تو یوں لگا کہ میں کسے اور ہی دنیا میں ہوں۔ میرے چاروں جانب کے لوگوں کا رنگ انتہائی صاف اور آنکھیں بے حد خوبصورت تھیں۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہ زمیں کے ہیں ہی نہیں کسی کی آنکھوں کا رنگ نیلا کسی کی سبز تو کسی کا گرے تھا۔

میں نے آج تک جو کچھ ترکش ڈراموں سے اخذ کیا تھا یہ سب اس سے بھی کئی گنا حسین تھا۔ ترکی کے لوگ ایسے ہیں جیسے کتابوں کے قصے۔ میں لائن میں تھی اور نمبر آنے پر میں نے اپنا پاسپورٹ آگے کیا، کاؤنٹر پر بیٹھی اس لڑکی نے ترکش زبان میں کچھ کہا اور پاسپورٹ پر ٹھپا لگایا۔ اس کے بعد مین ساتھ والی لائن سے ہوتی ہوئی لاونج کے اندر داخل ہوئی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اتاترک ائیرپورٹ انتہا کا خوبصورت ائیرپورٹ ہے۔

یہ ائیرپورٹ جدہ ائیرپورٹ سے 10 گنا وسیع تھا۔ میں یادگار کے طور پر وہاں کی کچھ تصاویر لیں اور پھر بیلٹ کی طرف چل پڑی۔ وہاں پر پہلے سے کافی لوگ موجود تھے۔ میں بھی سب کی طرح وہاں موجود رہی مگر وقت جیسے جیسے گزرتا گیا سب جاتے رہے کیوں کہ ان کو ان کا سامان مل گیا تھا مگر میں وہاں پونے دو گھنٹے کھڑی رہی یہاں تک کہ اب تو بلٹ بھی بند ہوگئی تھی اور وہاں رات کا ایک بج رہا تھا۔ میرا سامان بلٹ پر نہیں تھا میں نے ارد گرد کے لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی مگر یہاں تو سعودی عرب سے بھی زیادہ برا حال تھا۔

ہائے میں کہاں پھنس گئی۔ یہاں میں کس سے پوچھوں کہ میرا سامان کہاں ہے؟ میں سامان کی عدم موجودگی کی وجہ سے پریشان ہوگئی اور یہاں وہاں پھرنے لگی اتنی دیر میں وہاں پر ائیرپورٹ افسر موجود تھا جو میری سمت کی جانب ہی آرہا تھا میں نے اس کو روکا۔ ایکسکیوزمی کین یو ہلپ می؟ آئی کے ناٹ فائنڈ مائے لگیج؟ اس نے میری جانب دیکھا اور کہا کم ود می۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چلتی گئی اور پھر ہم ایک کمرے کے آگے آکے رک گئے۔

اس کمرے کے باہر واضح لکھا تھا لگیج مسنگ کمپلینٹ آفس۔ ہم اندر گئے اور اس نے سامنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گو! میں سامنے بیٹھے افسر کے پاس گئی جو کمپیوٹر پر کچھ کام کر رہا تھا۔ میں نے اس وہی بات کہی جو پچھلے افسر سے کہی تھا اس نے مجھ سے میرا پاسپورٹ اور ٹکٹ مانگا پھر اس نے فون اٹھایا اور کہیں ترکش زبان میں بات کرنے لگا پھر فون بند کیا اور بولا یو مسڈ یور فلائٹ میں نے یس کہتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا پھر اس نے کہا سوری یور لگیج از ان جدہ دے آف لوڈڈ دیٹ ! اس کا یہ کہنا تھا میرے پسینے چھوٹ گئے۔ ! اب کیا ہوگا؟ کیا مصیبت ہے فروا۔ تیرے پاس تو کپڑے بھی نہیں ہیں۔ یاخدایا! میں کیا کروں گی۔

Facebook Comments HS