برطانیہ میں اسائیلم کے لئے استعمال کیے جانے والے ہتھکنڈے
حیرت کی بات ہے کہ پاکستان میں جِن باتوں اور جِن افراد سے نفرت کی جاتی ہے یہاں مغرب میں اُنہی باتوں کی بُنیاد پر ہمارے مُسلمان ( سُنی و شیعہ ) اسائیلم یعنی جان کا خطرہ بتا کر پناہ لیتے ہیں یہ باتیں کون سی ہیں آگے چل کر بتاتا ہُوں لیکن کیا اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم لوگ مُنافقت کے پہلے درجے پر نہ سہی لیکن پہلے چند نمبروں پر ضُرور براجمان ہیں۔
دو ہزار چار سے لے کر دو ہزار دس گیارہ تک یورپ اور بالخصوص برطانیہ کی ویزا پالیسیز خاص طور پر سٹوڈینٹ ویزا پالیسی بُہت آسان تھی اُن سالوں کے دوران لاکھوں طالبعلم برطانیہ پڑھنے کے لئے آئے جہاں بُہت سارے جینوئین طالبعلم تھے وہیں بُہت سارے جعلی بھی تھے، جعلی بھی دو طرح کے ہوسکتے ہیں ایک وُہ جو پاکستان کے کمزور چیک اینڈ بیلینس سسٹم کو استعمال کرکے جعلی ڈگریز دِکھا کر یہاں آئے اور دُوسرے جینوئین طالبعلم جو اصل ڈگریز دِکھا کر برطانیہ آئے اور واپس نہیں گئے۔
اصل ڈگریز والے طالبعلم بھی یہاں کم از کم دو مزید کیٹگریز میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں ایک جو پہلے دِن سے یہیں سیٹل ہونے کا پلان کرکے آئے تھے اور دُوسرے جو آئے تو پڑھنے ہی تھے لیکن اپنے ہی پاکستانی افراد کے بنائے گئے دو دو تین تین کمروں کے کالجز میں پھنس کر رِہ گئے تھے۔
یہ کالجز اُن طالبعلموں سے فی کس کم از کم چار پانچ ہزار پاؤنڈز لیتے اور اُن کو (Confirmation of Acceptance for Studies ) یعنی CAS لیٹر جاری کرتے جو کہ سُٹوڈینٹس مزید آگے ہوم آفس کو ویزا حاصل کرنے کے لئے بھیجتے اور ہوم آفس باقی تمام شرائط پُوری ہونے جیسا کہ بینک سٹیٹمینٹ، پچھلے کورس کا ریکارڈ، آئیلٹس یا اِسی طرح کے دیگر لینگوئیج ٹیسٹ کے بعد کورس کی مُدت سے دو تین ماہ زائد مُدت کا ویزا جاری کردیتا جِس کو Leave to Remain کہتے ہیں۔
اب یہاں تک تو سارا معاملہ بڑا سادہ اور آسان دِکھائی دیتا ہے کہ اگر کالجز دو، دو یا تین تین کمروں میں بھی بنے ہُوئے تھے تو بھی انٹرنیشنل سُٹوڈینٹس کو ویزا تو جاری ہو ہی رہا تھا۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کالج کی عمارت سے فرق نہیں پڑتا اگر وہاں پر حقیقی تعلیم دی جارہی ہو یا طالبعلم اُس کالج میں اپنی حاضری یقینی بنا رہے ہوں۔ اب ایسا تو ہوتا نہیں تھا تو ہوم آفس اپنی اینفورسمینٹ فورس (یُوکے بی اے ) جیسے پاکستان کی (ایف آئی اے ) سمجھ لیں وُہ کالج پر چھاپہ مارتے، تحقیقات کرتے اور کالج کو پہلے معطل اور پھر مُستقل بین کردیا جاتا جبکہ اُس کالج کے تمام طالبعلموں کو ایک لیٹر جاری کیا جاتا جو کرٹیلنگ لیٹر Curtailing letter ہوتا کہ آپ کا ویزا ختم کردیا گیا ہے اب آپ کے پاس محدُود وقت ( تقریباً دو مہینے ) ہے آپ نئے کالج میں داخلہ لیں اور دوبارہ ویزا اپلائی کریں۔ یعنی نیا کالج، نیا کیس ( سی اے ایس ) اور پھر نئی ویزا فیس، وکیل کی فیس وغیرہ۔
اب اکثر طالبعلم دوبارہ وُہی غلطی کرتے اور دیسیوں ( پاکستانی، انڈین اور بنگالی ) کے کالجز میں داخلہ لے لیتے اور پھر وُہی کہانی۔ یہ طالبعلم کم تنخواہوں پر اور چُھپ چُھپا کر کام کرتے تھے اور گھر والوں سے یا دوستوں سے قرض لے کر بمعہ اپنی تھوڑی بُہت سیونگ کے ویزا اپلائی کرتے اور یہ ایک نہ رُکنے والا سلسلہ تھا۔ یہاں پر مُستقل قیام کے چند ہی راستے ہیں جیسا کہ ایچ ایس ایم پی ویزا یا (Tier 1 ) جو اپریل 2011 سے ختم ہو چُکا ہے، ٹائیر 2 یا ورک پرمٹ ابھی بھی جاری ہوتے ہیں لیکن اکثر ورک پرمٹس کے نام پر پیسہ بٹورا جاتا ہے جبکہ ورک پرمٹس کی بُنیاد پر اب مُستقل رہائش کا راستہ بھی بند ہوگیا ہے، یعنی ورک پرمٹ والا ہمیشہ ورک پرمٹ پر ہی رہے گا جو کہ زیادہ سے زیادہ پانچ سے چھے سال ورک پرمٹ پر یہاں رِہ سکتا ہے۔ مکمل معلومات ذرا تفصیلی ہیں۔
باقی شادی کا ویزا یعنی پاکستان سے شادی کے ویزے پر آنا یا یہاں ہی برطانوی یا یورپیئن سپاؤز کی بُنیاد پر مُستقل قیام، یورپی یونین کے کِسی شہری کے ساتھ بلڈ ریلیشن وغیرہ لیکن اب یہ یورپین بلڈ ریلیشن کا بھی کام ختم سمجھیں کہ برطانیہ یورپی یونین چھوڑ چُکا تو یہ سلسلہ بھی یورپی یونین کے باقی ممالک تک محدُود ہوگیا ہے۔ ایک اور راستہ ہے بزنس ویزا لیکن وُہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے لیکن بزنس ویزا دو بندے مِل کر بھی حاصل کرسکتے ہیں یعنی بزنس پارٹنر بن کر اِس میں فیملی سمیت ویزا لگتا ہے۔
اب بچتا ہے آخری حل، اسائیلم کلیم یعنی جان جانے کے خوف کی بُنیاد پر اِنسانی حقوق کے تحت مُستقل قیام۔ اُس میں سیاسی پناہ، مذہبی امتیاز وغیرہ شامِل ہیں اور یہ اسائیلم باقاعدہ یُو این او کے انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت دِیا جاتا ہے لیکن باقاعدہ انٹرویوز اور جو بھی مُمکن پیپر ورک ہوتا ہے اُس کی ہر مُمکن تحقیق کرنے کے بعد ہی یہ اسائیلم مِل پاتا ہے۔
یہاں پر ہمارے پاکستانی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے آپ کو ہم جِنس پرست یعنی لڑکے ”گے“ ظاہر کرواتے ہیں اور لڑکیاں ”لیزبیئن“ اور اِسی بُنیاد پر مُستقل قیام کی درخواست دیتے ہیں جو کہ کئی افراد کو مِل بھی جاتا ہے لیکن یہ لوگ کم از کم چھے سے سات سال یعنی پاسپورٹ مِلنے تک پاکستان یا جو بھی اِن کا پیرینٹ کنٹری ہے وہاں نہیں جاسکتے کیونکہ اُسی مُلک میں ایگزیکیوشن یا جان کا خطرہ بتا کر تو یہ لوگ یہاں پناہ کی درخواست دیتے ہیں تو جانا نامُمکن بھی ہوتا ہے اور اجازت بھی نہیں ہوتی اِن میں سے زیادہ تر لوگ مُسلمان ممالک جیسا کہ پاکستان وغیرہ سے ہوتے ہیں۔
اب مزید کئی اور طرح کے اسائیلم کو ڈسکس کیے بغیر ایک اور اسائیلم ہے مذہبی بُنیادوں پر یعنی کئی لوگ یہاں آکر خُود کو جعلی طور پر قادیانی رجسٹر کرواتے ہیں اور پھر پناہ کی درخواست دیتے ہیں، بالخصوص یہ لوگ پاکستانی ہوتے ہیں، پاکستان میں رِہ کر یا سوشل میڈیا پر مذہب کے خِلاف لکھنا اور اپنے آپ پر کِسی بڑی اکثریت سے اگر قتل کا فتویٰ وغیرہ مِل جائے تب بھی آپ کا قیام پکا ہے، شاید کئی لوگ اِسی چکر میں ایسا کرتے ہیں یعنی مذہب کے خِلاف لکھتے ہیں بہرحال کُل مِلا کر بات یہ ہے کہ ہمارے صالحین صفت نوجوان جو پاکستان میں ہم جنس پرستی کے نام پر ہی کانوں کو توبہ توبہ کرتے ہُوئے ہاتھ لگاتے تھے یا لڑکیاں، ہماری خُود کو ستّی ساوتری ظاہر کروانے والی لڑکیاں یہاں خُود کو ہم جنس پرست ظاہر کرواتیں کیوں؟ بس مُستقل قیام کے لئے اور بعض لوگ تو اپنا مذہب ہی سِرے سے تبدیل کرلیتے ہیں، ایسی چند ہستیاں فیس بُک پر بھی موجود ہیں اور کافی مشہور بھی ہیں لیکن سب کو اُن کے حالات نہیں پتہ۔
یہاں میں یہ بات واضح کردُوں کہ ذاتی طور پر میں ہم جنس پرستی کو پسند نہیں کرتا لیکن جو لوگ ہم جنس پرست ہیں مُجھے اُن سے بھی کوئی ذاتی یا مذہبی بُنیادوں پر اِیشو نہیں ہے اور جو لوگ مذہب تبدیل کرتے ہیں یا قادیانی، احمدی گروپ اپنے آپ کو شو کرواتے ہیں نہ ہی اُن سے بھی کیونکہ ہر بندہ اپنے قول و فعل کا خُود ہی جوابدہ اور ذمہ دار بھی ہے میرا کہنے کا مطلب یا مقصد صِرف یہ ہے کہ اگر آپ یہاں عیسائی، قادیانی، احمدی یا ہم جنس بن کر قیام پذیر ہورہے ہیں تو یہ آپ کی چوائس ہے لیکن یہی اخلاقی جُرات وہاں پاکستان میں بھی رکھیں کہ پاکستان میں رہتے ہُوئے بھی ایسے افراد کو بُرا بھلا مَت کہیں یا اگر آپ اِتنے ہی کٹر مذہبی ہیں تو یہاں قیام کے لئے پھر یہ راستہ کیوں چُن رہے ہیں؟
یہاں موجود وکیل، سٹڈی کنسلٹنٹ وغیرہ سب پروفیشنل ہوتے ہیں، یعنی یہ اُن کی روزی روٹی کا کام ہے، تو آپ اُن سے ہمدردی وغیرہ جیسی توقع نہ رکھیں کیونکہ وُہ اپنا کام کررہے ہیں جو بھی مشورہ آپ کو دِیا جاتا ہے وُہ آپ کے حالات کے مُطابق ہوتا ہے اور آپ کی جیب کے مُطابق بھی۔ وکیل کا کام آپ کو فِیس لے کر مشورہ دینا ہوتا ہے اور آپ کے حالات کے مُطابق کیس تیار کرنا باقی ویزا تو گورنمنٹ نے دینا ہے وُہ دے یا نہ دے۔
اِن سب کے عِلاوہ یہاں پر آنے والے پاکستانی، انڈین، سری لنکن، بنگالی، افریقی وغیرہ جو جعلی شادیاں کرتے ہیں یعنی میرج اوو کنوینیس اور سسٹم کو ابیوز کرتے ہیں وُہ کہانی پھر سہی۔


