انگلستان کا ڈوور کاسل اور انگلش چینل

چند سال پہلے گرمیوں کے ایک چمکدار اور سُنہری دِن کو میں اور چند دوست ڈوور Dover کے ساحل پر پُہنچے، دوستوں کا مقصد انجوائے کرنا تھا جبکہ میرا مقصد انگلش چینل ( سمندر کے اِس حصے کو انگلش چینل کہا جاتا ہے ) کو تاریخی، سٹرٹِیجک اور جنگی اعتبار سے دیکھنا تھا۔ یہ وُہ جگہ ہے جہاں سے فرانس محض اکیس میل دُور ہے، رات کو یہاں سے فرانس کے شہر Calais کی روشنیاں صاف دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ دفاعی اعتبار سے انگلینڈ داخل ہونے کی چابی ہے۔ قبل ازمسیح وقت میں جُولیس سیزر Julius Caesar بھی اپنے فوجی قافلوں کے ساتھ یہاں ہی آیا تھا۔ اُس وقت جُولیس سیزر کے وقت کا رومن لائیٹ ٹاور ابھی بھی یہاں مشرقی سمت میں موجود ہے۔ اِس کو فاروس Pharos کہا جاتا ہے۔ انگلینڈ پر جتنے بھی بیرونی حملے ہُوئے ہیں سب کے سب یہاں سے ہی ہُوئے ہیں۔

ڈوور کا ساحل انگلینڈ کے خُوبصورت ترین ساحِلوں میں شُمار ہوتا ہے، آپ جب بھی یہاں آئیں عُموماً سمندر آپ کو گرم جوشی دِکھاتا مِلے گا۔ سیگلز Seagulls کی قیں قیں جو سمندر کے ساتھ ازلوں سے جُڑی ہے وُہ بھی یہاں پانیوں پر بکثرت نظر آتے ہیں اور دیگر کئی اقسام کے پرندے بھی اپنی سرگرمیوں میں مگن ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں یہ ساحِل بُہت مصروف اور سیاحوں سے بھرا ہوتا ہے، آپ کِسی بھی دِن آئیں لوگ یہاں ہنستے کھیلتے اور وقت کو بہترین انداز سے گُزارتے نظر آئیں گے۔ پہاڑوں کے اُوپر کھیت بنے ہیں جہاں اُس وقت گندم کی فصل تیار تھی۔

Read more

برطانیہ میں اسائیلم کے لئے استعمال کیے جانے والے ہتھکنڈے

حیرت کی بات ہے کہ پاکستان میں جِن باتوں اور جِن افراد سے نفرت کی جاتی ہے یہاں مغرب میں اُنہی باتوں کی بُنیاد پر ہمارے مُسلمان ( سُنی و شیعہ ) اسائیلم یعنی جان کا خطرہ بتا کر پناہ لیتے ہیں یہ باتیں کون سی ہیں آگے چل کر بتاتا ہُوں لیکن کیا اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم لوگ مُنافقت کے پہلے درجے پر نہ سہی لیکن پہلے چند نمبروں پر ضُرور براجمان ہیں۔دو ہزار چار سے لے کر دو ہزار دس گیارہ تک یورپ اور بالخصوص برطانیہ کی ویزا پالیسیز خاص طور پر سٹوڈینٹ ویزا پالیسی بُہت آسان تھی اُن سالوں کے دوران لاکھوں طالبعلم برطانیہ پڑھنے کے لئے آئے جہاں بُہت سارے جینوئین طالبعلم تھے وہیں بُہت سارے جعلی بھی تھے،

Read more

کیا سرعام سزا دینے سے جرائم کم ہو سکتے ہیں؟

جیسا معاشرہ ہوتا ہے ویسے ہی جرائم ہوتے ہیں۔ بقول والٹئیر
”ایک معاشرہ اپنے حِصے کا مجرم پا لیتا ہے۔ “

”A society gets a criminal it deserves۔ “
Voltaire۔

اب آپ خود ہی سوچ لیں کہ جِس بھی طرح کے جرائم ہمارے معاشرے میں ہوتے ہیں کہیں ہم ایسے ہی جرائم اور ایسے ہی مجرموں کے حقدار تو نہیں کیونکہ مجرم کہیں اور سے نہیں بلکہ معاشرے سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اِسی گھٹن، نا اِنصافی، عدم مساوات و دیگر ایسی خرابیوں سے جنم لیتے ہیں۔ آپ اِن خرابیوں کو کم کرلیں جرائم میں خاتمہ نہ سہی کمی ضرور آئے گی۔

Read more

دلبیر سنگھ کی شراب اور تابوت

انگلینڈ بالخصوص لندن میں برفباری زیادہ نہیں ہوتی لیکن بعض سردیوں کی راتیں ایسی ہوتی ہیں جب بہت برف پڑتی ہے، یوں بھی انگلینڈ کا موسم بے اعتبار اور ہرجائی سا ہے ایسی ہی ایک رات کو بہت تیز برفباری تھی جو وقفے وقفے سے ساری رات ہی جاری رہی۔ مجھے ٹھنڈ اور برفباری یوں تو بہت پسند ہے لیکن جانے کیوں اس صبح جب میں سوکر اٹھا تو باہر ہر چیز کو سفید چادر اوڑھے دیکھ کر باہر نِکلنے کا دِل نہ کِیا یا یوں کہوں کہ شاید ہِمت نہ پڑی لیکن آج اگر میں چھٹی کر بھی لیتا تو بھی ایک گھریلو کام کے سِلسلے میں باہر تو جانا ہی تھا۔ چار و ناچار اٹھا اور تیار ہوکر باہر نِکلا۔

Read more

لاوارث جانوں کو بھی زندہ رہنے کا حق ہے

جب پہلی بار میں نے اُس کو سڑک پر ایک گاڑی کی ٹکر کھا کر لہولہان دیکھا تھا تو تب میں مری سے واپس آرہا تھا، میں نے فیض آباد پنڈی کے قریب مری روڈ پر جب اُس کو مرتے دیکھا تو وہاں ہی رُک گیا، بائیک کو سڑک کے کنارے کھڑا کیا اور بھاگ کر سامنے کی دُکان سے پانی کی ایک بوتل لایا اور اُس کے پاس بیٹھ کر اُس کو پانی پِلانے کی ناکام کوشش کی، شاید پانی کے چند قطرے اُس کے حلق سے نیچے اُترے بھی ہوں۔

معلُوم نہیں کُچھ یاد نہیں یا شاید میں یاد نہیں کرنا چاہتا، میرے اردگرد چند لوگ اور بھی دیکھا دیکھی رُک گئے تھے اور بس تماش بینی کا کردار ادا کررہے تھے۔ اُس کی دم توڑتی آنکھوں میں عجیب سی کُچھ معدُوم ہوتی چمک سی تھی جیسے چراغ بُجھنے سے پہلے اُس کی لو بھڑکتی ہے۔ اُس کا چہرہ لہولہان تھا اور جِسم کُچلا ہُوا۔ اُس نے سر اُٹھا کر مُجھے دیکھا آخری ہچکی لِی اور مر گئی۔ اُس کی آنکھوں میں کُچھ تھا ایک دُکھ جیسے ایک شِکوہ۔

Read more

اجی سرفراز تو بے گناہ ہے

چند ماہ قبل ایک نوجوان انگریز لڑکی شراب کے نشے میں دُھت تھی ہوسکتا ہے شراب کے ساتھ ساتھ کوئی ہلکی پُھلکی ڈوز ڈرگ کی بھی لے رکھی ہو ایک پاکستانی کے فاسٹ فُوڈ ریسٹورینٹ پر پِزا ( پِٹزا ) کا آرڈر دینے آئی، وِیک اینڈ تھا اور رَش معمول سے ذرا زیادہ بھی۔ اُس کا آرڈر سَرو کرتے تھوڑا وقت بھی لگ گیا اور کُچھ شاید وُہ جلدی میں بھی تھی کہ لگی غُصے کا اِظہار کرنے اور ٹِل پر کھڑے سٹاف جو کہ ایک پاکستانی ہی تھا کو ”پاکی“ کہا اُس نے ایک بار نظرانداز کردِیا لیکن چند ہی مِنٹس بعد اُس نے پھر یہی کہا تو اُس پاکستانی لڑکے نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور دونوں میں تلخ کلامی بھی ہوگئی اور وُہ لڑکی اپنا آرڈر لے کر روانہ ہوگئی۔

اُس کے رویے کی شکایت پولیس میں درج کرا دِی گئی۔ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ میں عُموماً آواز کی ریکارڈنگ نہیں ہوتی لیکن پولیس اِس نتیجے پر پُہنچی کہ کوئی آرگومینٹ ہُوا ہے جو کہ خُوشگوار ہرگِز نہیں تھا اور یہ بھی معلُوم ہُوا کہ وُہ لڑکی ایک پولیس افسر تھی۔ پولیس کے پاس لڑکے کے بیان کے عِلاوہ کوئی ثُبوت نہیں تھا کہ اُس نے نسلی تعصب پر مبنی لفظ یا الفاظ کہے ہیں لیکن اُسی لڑکی کے ایک کولیگ نے جو خُود بھی پولیس افسر تھا اور اُسی کی نسل سے تھا یعنی گورا تھا اُس کے خِلاف گواہی دِی کہ یہ پہلے بھی ایسے ایک دو بار کر چُکی ہے، عدالت نے اُس پولیس افسر لڑکی کو نہ صِرف جُرمانہ کیا بلکہ پولیس کی نوکری سے بھی برخاست کردِیا۔

Read more

لیپوٹا کے سائنسدان، بغداد کے علما اور ہمارے دانشور

گلیورز ٹریولز میں جب گلیورز لِلیپٹ کے چھوٹے قد کے بڑے مغرور بونوں سے اپنی جان چُھڑا کر کے اصلی بڑے قد کے بڑے اِنسانوں کے سامنے خُود کو چھوٹا پاتا ہے اور جان لیتا ہے کہ وُہ اور اُس کی نسلِ انسانی کِس قدر چھوٹی مخلوق ہے تو پریشان رہتا ہے۔ اِن تمام چکروں سے نکلنے کے کُچھ ہی عرصہ بعد گلیورز دوبارہ سمندری سفر پر نِکل کھڑا ہوتا ہے، اب کی بار وُہ جاپان اور لیپوٹا کی سرزمین دیکھنے نِکل پڑتا ہے، قصہ مُختصر کِسی طرح دھکے کھاتا، ذلیل ہوتا وہاں پُہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہاں کے رہائشی موسیقی اور ریاضی پر ایسی بحث کررہے ہوتے ہیں اور ایسی ایسی ایجادات کے چکر میں ہوتے ہیں جِن کا فائدہ کم از کم اِنسانوں کو ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔

مثلا وہاں کے لوگوں کے اپنے معاشرے سے زیادہ سُورج چاند کی فکر لاحق ہوتی ہے کہ آج سُورج کا رنگ گہرا سُرخ تھا کہیں پھٹ ہی نہ جائے اور وُہ ریاضی کے مسائل میں ایسے گُم ہوتے ہیں کہ اُس جزیرے کے اُمرا نے باقاعدہ مُلازم رکھے ہوتے ہیں جو اپنے ماسٹر کو چلتے ہُوئے خبردار کرسکیں کہ وُہ ریاضی کے مسائل حل کرتا ہُوا کِسی گڑھے میں ہی نہ گِر جائے۔

Read more

ایک عورت کا مقدمہ اور مذہبی لیڈر

لوگوں کا ہجوم بہت غصے میں تھا وہ اس عورت کو جِس پر مذہب اور خدا کی توہین کا اِلزام تھا پکڑ کر لا رہے تھے اور مار بھی رہے تھے، عورت اب اِس تشدد سے اِس قدر نڈھال ہو چکی تھی کہ اپنے بچاؤ سے بھی قاصِر تھی اور نیم مردہ تھی۔ ہجوم مذہبی نعرے لگاتا ہوا اس کو جرگے ( عوامی عدالت ) میں لے آیا جہاں مذہبی رہنما اور پیشوا بیٹھے تھے اور اس عورت کی زِندگی موت کا فیصلہ بس ہونے کو ہی تھا۔ لوگوں کے غصیلے نعرے اس عورت کی قِسمت کا لِکھا فیصلے سے پہلے ہی سنا رہے تھے۔ موت اب اس کا مقدر تھی ایک بھیانک اور دردناک موت۔

Read more

ٹیگور کے 1896 سے 1996 تک

اگر آپ کِسی خُوبصورت پہاڑی عِلاقے میں ہوں ، صُبح کو آپ جب سو کر اُٹھیں اور اپنے کمرے کی کھڑکی کھولیں اور سامنے پہاڑوں سے آتی ہُوئی ٹھنڈی اور مِیٹھی ہوا آپ کے چہرے کو چُھو کر اِس پر اپنی محبت کی مُہر ثَبت کرے ، یا آپ پُر سُکون بیٹھے ہوں کِسی بھی…

Read more

کبھی ہم بھی خُوبصورت تھے

پاکستان اور ہم سب ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے ، کبھی یہاں پر بھی پرندے ( سیاح ) موسموں کے حساب سے آتے تھے ، رہتے تھے انجوائے کرتے تھے اور پھر چلے جاتے ۔ پھر کبھی ہمارا کراچی ایسا بھی تھا جیسا آج دُبئی ہے ، دُنیا کی ہر پرواز وہاں آتی ہے ،…

Read more