لیون کا قصائی اور نیب
بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کا کفن میں لپٹا وجود کیا چند دنوں میں ایک ماضی کے قصے کی مانند رہ جائے گا کہ جن کو یاد کر کے کبھی کبھی کالموں کا پیٹ بھرا جائے گا یا اس واقعہ کی بدولت یہ واضح ہو گیا ہے کہ نیب کا ادارہ اس سرخ نشان کو عبور کر چکا ہے کہ جس کے بعد مستقبل کی تاریخ میں آج کی تاریخ صرف ندامت بن کر زندہ ہو گی کہ جس ندامت کی حیثیت صرف بے حیثیت ہو گی۔ اداروں کو اس انداز میں چلانے اور برقرار رکھنے کے کہ جس کی وجہ سے لوگ خود کشی تک پر مجبور ہو جائیں وقتی طور پر تو طاقتوروں کے لئے طاقت کے اس مظاہرے پر سوائے خوش ہونے اور اس کو اپنی کامیابی قرار دینے کے اور کچھ نہیں ہوتا لیکن حقیقت میں بہت کچھ اور بھی ہوتا ہے۔
جرمنی میں ہٹلر کی حکومت دوسری جنگ عظیم میں وقتی طور پر کامیابیاں سمیٹ رہی تھی۔ فرانس کے وسیع علاقے پر قبضہ کر چکنے کے باوجود فرانس کے شہر لیون میں فرانس کی مقامی آبادی کی مزاحمت بہت زیادہ تھی۔ برسبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ ان مزاحمت کاروں سے میری اپنی بھی لیون میں ملاقاتیں رہیں اور درد کہانیاں جن پر بیتیں ان سے سنیں۔ اس مزاحمت کو کچلنے کے لئے جرمنی کی اسوقت کی انٹیلی جنس گسٹاپو نے اپنے ایک نوجوان افسر کلازباربی کو 1942 ء میں فرانس بھیجا اور لیون میں گسٹاپو کا سربراہ مقرر کر دیا۔
ہوٹل ٹرمینس کو اس نے اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا اور جرمن قبضے کے مخالفین کو چن چن کر وہاں لایا جانے لگا جن کو کلاز باربی اپنے ہاتھوں سے اذیت دے دے کر موت کے گھاٹ اتارتا رہا۔ اس دوران اس نے فرانس کی مزاحمت کے ہیرو جین مولن کو گرفتار کیا اور تین ہفتے اذیتیں دے دے کر 8 جولائی 1943 ء کو مار ڈالا۔ اس نے 1942 ء سے 1944 ء کے درمیان وہاں 4000 افراد کو قتل جبکہ ہزاروں کو بدترین تشدد اور جبری جلا وطنی پر مجبور کر دیا۔
اس دوران اس کے علم میں آیا کہ جنوبی فرانس میں ایک علاقے میں 4 سے 17 سال کے 44 بچے موجود ہیں کہ جو ہٹلر کی حکومت کے خوف سے شناخت بدل کر ایک مہاجر گروہ کے طور پر رہ رہے ہیں۔ یہ پناہ گزین کیمپ مائرن زلاٹن اور سبین چلا رہے تھے۔ اس نے وہاں ریڈ کی 44 بچے اور ان کا خیال رکھنے والے 7 بڑی عمر کے افراد کو گرفتار کیا۔ مائرن زلاٹن اور 2 نوعمر بچوں کو ڈرانسی کیمپ بھیج کر گولیوں سے اڑا دیا گیا۔ جبکہ باقی دیگر گیس کا شکار بنا دیے گئے۔
صرف سبین واحد بچہ تھا جو اس قتل عام میں زندہ رہا۔ ان تمام واقعات نے کلاز باربی کو لیون کے قصائی کے طور پر مشہور کر دیا لیکن اس سب کے باوجود لیون کا قصائی جرمنی کے لئے لیون کو قبضے میں نہ رکھ سکا۔ داستان ابھی باقی ہے لیکن ایک لمحے کے لئے دوسری جنگ عظیم سے پرواز کرتے ہوئے دوبارہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کے جنازے میں چلتے ہیں۔ کیا خود کشیوں تک لے جانے والے حالات کے بعد یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس کو مستقبل میں ایک بہتر اقدام کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
خیال رہے کہ بریگیڈیئر اسد منیر کا واقعہ کوئی تنہا ایسا واقعہ نہیں کہ جو اچانک ہو گیا اور ویسے ایسا نہیں ہوتا۔ جس دن بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کی خودکشی کا معاملہ سامنے آیا تو ایک دوست سے گفتگو ہو رہی تھی تو اس نے کہا کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر خودکشی تک کیوں چلے گئے۔ جواب صاف تھا۔ کیونکہ ان کے بریگیڈیئر کے آگے (ر) لگ چکا تھا۔ اب جو چاہو سو کر لو۔ وہ اس بد تہذیبی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ لہٰذا کفن پوش ہو گئے۔ ورنہ نیب سے وابستہ ایسے واقعات روزمرہ میں سننے میں آتے ہیں اور واقعات بھی صرف ان سے سنائی دیتے ہیں کہ جن کی رسائی کسی نہ کسی طرح میڈیا تک موجود ہوتی ہے۔ ورنہ جس 25 سالہ افسر نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کو تھپڑ مارنے کا کہا اس نے یہ صرف ان کے ساتھ ہی نہیں کیا ہو گا۔ جس نے حاجی ندیم کو باندھ کر ان کے خاندان کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا اسے صرف حاجی ندیم کے ساتھ ہی یہ نہیں کیا۔ سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے چیف ایگزیکٹو جاوید اقبال کا سانحہ۔
چاول کے چند دانے پوری دیگ کا ذائقہ بیان کر دیتے ہیں۔ پھر یہ کون سی ڈھکی چھپی بات ہے کہ نیب یہ تمام کارروائیاں سیاسی انجینئرنگ کی غرض سے استعمال ہو رہی ہیں۔ گذشتہ انتخابات سے قبل نواز شریف اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا نیب نے اعلامیہ جاری کر دیا اور اس کی بنیاد صرف ایک اخباری خبر تھی۔ جب کچھ نہ نکلا تو پھر کوئی اعلامیہ اظہار معذرت کا جاری کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔
انتخابات سے قبل ایسا شوشہ کیوں چھوڑا سب جانتے ہیں۔ شہباز شریف کو ایسے مقدمات میں گرفتار کیا کہ جن پر سوائے نیب کی جگ ہنسائی کے اور کچھ برآمد نہیں ہوا۔ بلاول بھٹو جب ذرا حکومت کے لتے لیتے ہیں تو جواب میں نوٹس وصول ہو جاتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق، کامران مائیکل اور خواجہ سلمان رفیق ایک اور درد ناک مثال ہیں۔ آغاز سراج درانی کی توہین کر کے پیغام صاف ہے کہ جب چاہے جو چاہے کر سکتے ہیں۔ راجہ قمر الاسلام کا کیس سب کے سامنے ہے۔
یہ صرف وہ مثالیں ہیں جو عوام تک آ پہنچی ورنہ ان گنت تاجر پیشہ اور سرکاری افسران، افسران تو افسران ان کے ڈرائیور تک ایسے ہی بد ترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا جسمانی قتل اگر نہیں بھی ممکن ہو رہا تو ان کی شخصیت کا قتل ضرور کیا جا رہا ہے۔ متعدد کہانیاں جو ابھی تک پس پردہ ہیں لیکن ایک دن سامنے ضرور آئیں گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا سارا کچھ اسی طرح چلتے رہنا چاہیے اور اس کو درست کرنے کی ذمہ داری کس پر ہے۔
اگر قانون کی زبان میں بات کی جائے تو یقینا پارلیمنٹ اس قانون کو درست کرنے کا ذمہ دار اور مجاز ادارہ ہے اور اس کو ماضی میں بھی اس کو ٹھیک کرنا چاہیے تھا اور مستقبل میں بھی اس کو ٹھیک کرنا چاہیے تھا لیکن ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ سب کتابی باتیں ہیں کہ پارلیمنٹ یہ سب کچھ کر سکتی ہے۔ جب پارلیمنٹ کی بالا دستی کی بات کی کہ پارلیمنٹ سب کچھ کر سکتی ہے تو نتیجتاً بستر مرگ پر پڑی بیوی کی تیمار داری بھی ممکن نہیں رہنے دی گئی۔
ایسے حالات میں یہ تصور کرنا کہ پارلیمنٹ نے آزادانہ طور پر اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی درست تجزیہ نہیں ہو گا۔ بات بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کی خودکشی سے کلاز باربی کی داستان تک پہنچی تھی۔ یہ سب کرنے کے باوجود جنگ عظیم دوئم کے بعد وہ امریکی ایجنٹ بنا۔ مختلف نام سے بولیویا رہا وہاں فوج میں اثر و رسوخ پیدا کیا مگر 1971 ء میں فرانس کو علم ہو گیا کہ وہ کہاں ہیں۔ بولیویا کی فوجی سرکار نے اس کی فرانس حوالگی سے کورا انکار کر دیا مگر 1980 ء میں فوجی سرکار چلتی بنی۔
1983 ء میں اس کو فرانس کے حوالے کر دیا۔ 1987 ء میں عمر قید کی سزا ہو گئی۔ جبکہ 1991 ء میں وہ فرانس کی قید میں کینسر سے ہلاک ہو گیا۔ مرتے دم تک جرمنی کے ٹکڑے ہونے کے باوجود یہی کہتا رہا کہ جو کیا تھا ٹھیک کیا لیکن عبرت کی موت مرا۔ یہ جو کچھ آج نیب قوانین کے نام پر ہو رہا ہے کیا کسی کو لیون کے قصائی کی مانند ٹائٹل چاہیے۔ ٹائٹل مل بھی گیا تو کلاز باربی کی موت فرانس کی جیل میں ہی ہوئی۔ ہاں یہ درست ہے کہ اس کی سزا اور موت جرمنی کا نقصان پورا نہیں کر سکی۔


