اٹھارویں ترمیم کا قضیہ اور عمران خان کی مجبوری
اب جلسہ عام میں اٹھارویں ترمیم پر اپنی بے چینی اور تشویش کا اظہار کرنے کے بعد اپوزیشن لیڈروں کو عبرت ناک انجام کی دھمکی دیتے ہوئے عمران خان نے شاید اس ترمیم کو ختم کرنے کے لئے پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن بھونڈے انداز میں کی جانے والی یہ کوشش اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اپوزیشن سے کسی معاملہ پر تعاون کے لئے احترام اور مواصلت کا رشتہ استوار کرنا پڑتا ہے لیکن عمران خان سمجھتے ہیں کہ وہ جس طرح کرکٹ کیپٹن کے طور پر کیرئیر تباہ کرنے کا خوف پیدا کرکے کھلاڑیوں کو اطاعت گزاری پر مجبور کرتے تھے یا کھیل کے دوران مرضی کے فیصلے نافذ کرنے کا اختیار رکھتے تھے، شاید سیاست میں بھی انہی ہتھکنڈوں سے کام چل جائے گا۔
بدنصیبی سے عمران خان کا آئیڈیل بھی عمران خان ہی ہے۔ وہ پاکستان کے سیاسی و معاشی معاملات کو بھی کرکٹ کا میدان سمجھتے ہیں۔ وہ یہ دعوی کرتے رہتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے کرکٹ میں کامیابی حاصل کی تھی، اسی طرح وہ ملک کی اصلاح بھی کرلیں گے۔ ایسا کرتے ہوئے البتہ وہ ان لاتعداد ناکامیوں کا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں جن کا سامنا انہوں نے 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے تک اور اس کے دوران کیا تھا۔ یوں بھی سیاست، کھیل کا میدان نہیں ہے۔ اس میں کسی ایک ٹیم کی عزت و وقار کا معاملہ نہیں ہوتا بلکہ ایک قوم کے مفادات کا تحفظ مطلوب ہوتا ہے۔ اسی لئے کوئی بھی لیڈر منتخب ہونے کے بعد یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ وہ کسی نظام میں بلا تخصیص سب عوام کا قائد ہے اور اس کی حکومت سب کے مفادات کا تحفظ کرنے کی پابند رہے گی۔
اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے یہ جان لینا ضروری ہے کہ اس میں صرف صدر کے اختیار کو محدود کر کے غیرضروری طور پر حکومتیں معطل کرنے کا راستہ ہی نہیں روکا گیا تھا بلکہ اس کے تحت کی جانے والی جامع ترمیموں کے ذریعے صوبوں کو وسیع مالی، انتظامی اور قانونی اختیارات دیے گئے تھے۔ پاکستان میں صوبوں کے درمیان بداعتمادی کی وجہ سے عام طور سے چھوٹے صوبوں کو وسائل کی تقسیم اور اختیارات کے استعمال کے معاملہ پر پنجاب سے شکوے و شکایات رہتی ہیں۔
اٹھارویں ترمیم کے تحت کسی حد تک ان شکایات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ کسی بھی جمہوری انتظام میں اختیارات کا ارتکاز عام طور سے چھوٹے اور دور دراز علاقوں کے لوگوں میں احساس محرومی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی تقسیم کو مختلف علاقوں میں سیاسی حمایت حاصل رہتی ہے۔ اس قسم کی ایک مضبوط تحریک جنوبی پنجاب کو خود مختار صوبہ بنانے کی صورت میں موجود رہی ہے۔
گزشتہ سال انتخابات میں کامیابی کے لئے تحریک انصاف نے کامیابی کی صورت میں جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اگرچہ اسے ابھی تک اس وعدہ کو وفا کرنے کے لئے اقدام کرنے کی فرصت نہیں ملی۔ تاہم چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام اور وسائل اور اختیارات کو زیادہ سے زیادہ علاقائی یونٹس کو منتقل کرنے کا طریقہ جمہوریت کو مضبوط کرنے اور نظم مملکت پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے برعکس اگر مضبوط مرکز اور وسائل کے ارتکاز کی بات کی جائے گی تو اس سے چھوٹے صوبوں کے علاوہ دور دراز علاقوں میں مسائل کا شکار لوگوں کی شکایات رفع نہیں ہوسکیں گی اور غلط فہمیوں اور دوریوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ بھی اختیارات کو مرکزیت دینے کے رویہ کے خلاف احتجاج کے نتیجہ میں ہی وقوع پذیر ہؤا تھا۔
عمران خان نے سندھ کے علاقے گھوٹکی میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسی ترمیم کے خلاف بات کی ہے جس کے تحت ایسے محروم لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس وقت ملک میں اٹھارویں ترمیم ختم کر کے نئی الجھنیں اور سیاسی پیچیدگیاں پیدا کرنے کی بجائے، اس ترمیم میں کیے گئے فیصلوں پر پوری طرح عمل درآمد کے لئے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن عمران خان چونکہ خود کو ملک کا واحد دیانت دار شخص سمجھتے ہیں، اس کے علاوہ وہ اس گمان میں بھی مبتلا ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی اس ملک کے مسائل حل نہیں کرسکتا، اسی لئے اب وہ کسی نہ کسی طور مطلق العنانیت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ہر معاملہ میں خود حرف آخر بننا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ رویہ تحریک انصاف کے علاوہ ملک کے لئے بھی انتشار اور مشکلات کا سبب بنے گا۔
عمران خان شاید یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنی خوبیوں کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے لیکن بہتر ہو گا کہ وہ جان لیں کہ ان کی حمایت کی ایک وجہ دوسری دونوں بڑی سیاسی قوتوں سے اسٹبلشمنٹ کی ناراضگی یا مایوسی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ کوئی ٹھوس سیاسی بنیاد نہ ہونے سبب عمران خان سے ’نمٹنا‘ دوسرے جہاں دیدہ اور طاقتور سیاسی لیڈروں کی نسبت آسان ہوگا۔ اب عمران خان اگر صوبائی اختیارات کی قیمت پر مرکز کو طاقت ور کرنا چاہتے ہیں تو وہ ایک طرف ملک میں جمہوری احیا کا راستہ روکنے کا باعث ہوں گے تو دوسری طرف ان اقدامات کے بعد سب سے پہلے خود ان کا سیاسی مستقبل داؤ پر ہو گا۔
جمہوری لیڈر کے طور پر عمران خان طاقت ور اسٹبلشمنٹ کی کٹھ پتلی بن کر کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس مقصد کے لئے انہیں ملک کی دیگر سیاسی قوتوں کی حمایت اور احترام حاصل کرنا ہوگا۔

