عمران خان کے قطر سے واپس آتے ہی۔۔۔
جنابِ وزیراعظم!
امید ہے آپ قطر میں قیام کے دوران بخیریت ہوں گے۔ میں کہ ایک بھولا بھالا پاکستانی شہری آپ کے کہے ہر لفظ پر یقین رکھتا ہوں، آپ کے ہر فیصلے سے خیر کا پہلو ڈھونڈ لیتا ہوں اور آپ کے ہر دورے کو پاکستان کے لئے مفید سمجھتا ہوں، ایک بار پھر یہ امید رکھتا ہوں کہ آپ اس دورے کے دوران وطنِ عزیز کے لئے معرکے پر معرکے سر کر رہے ہوں گے۔ اس دورے کے دوران آپ کے امیرِ قطر سے خصوصی مراسم بھی بنے ہوں گے جو یقیناً ہم پاکستانیوں کے لئے کسی خوشخبری سے کم نہیں۔
یقین مانیں آپ کی کامیابیوں کی خبریں پڑھ کر بھوک نہیں لگتی، دیس میں کوئی بیمار بھی نہیں پڑتا۔ نیک گمان ہے کہ درگاہِ بنی گالہ کی خیر وبرکت سے بیس کروڑ پاکستانی آسودہ حال ہیں۔ بس ایک پریشانی درپیش ہے۔ قطر کے دورے کے پہلے دو تین روز تو میڈیا دھڑا دھڑ آپ کے دورے کی خبریں دیتا رہا، لیکن دو ڈھائی ماہ کا عرصہ گزرا ہے کہ قطر سے کوئی خیر خبر نہیں۔ بسی اسی وجہ سے خاکسار کو تشویش لاحق ہے۔
میں کہ ایک بھولا بھالا پاکستانی شہری۔ آپ کے کہے ہر لفظ پر یقین رکھتا ہوں۔ مثلاً جب ساہیوال میں انسانیت سوز واقعہ ہوا، اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ننھے بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ، بڑی بہن اور باپ کے دوست ذیشان کو گولیوں سے بھون ڈالا، تو ماں جیسی ریاست کی منتظم کے طور پر آپ کے بیان سے بڑی امیدیں بندھی تھیں۔ یقین تھا اور ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت انصاف کا بول بالا کرے گی۔ مثلاً جب آپ نے کہا کہ معصوم بچے جن کے سامنے ان کے والدین کو قتل کیا گیا، انہیں دیکھ کر آپ صدمے میں ہیں، یقین مانیں یہ سن کر دل میں آپ کے لئے دیومالائی جذبات مزید شدت اختیار کر گئے۔
پھر جب آپ نے یہ کہا کہ قطر سے واپسی پر آپ خود اس معاملے کی انکوائری کریں گے اور قاتلوں کو قرار واقعی سزا دیں گے۔ یقین مانیں کہ قاتل بیچارے تھر تھر کانپنے لگے۔ اور ہم کہ اس اسلامی فلاحی ریاست کے بکریوں جیسے بے زبان باسی، آپ کے کہے ہر لفظ پر ایمان لے آئے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے ہی آپ قطر سے واپس آئیں گے، فوراً اس معاملے کی انکوائری کر کے قاتلوں کو پھانسی دلوائیں گے۔
قطر سے آپ کی واپسی کا منتظر
ایک پاکستانی شہری
امید ہے احباب اس بھولے بھالے شہری جتنے سادہ لوح نہیں کہ ابھی تک وزیراعظم کی قطر سے واپسی کا انتظار کر رہے ہوں۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ہماری قومی یادداشت کے اجزائے کیمیا ایک خصوصی تحقیق کا موضوع ہو سکتے ہیں۔ کیسے ہم ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے ہیں، اور چند دنوں کے بعد ایک اور ٹرک کے پیچھے۔ کیسے کسی ایک معاملے کو اٹھاتے ہیں کہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا اور چند دنوں بعد کوئی اس کا نام لیوا نہیں ہوتا۔
کیا کسی کو یاد ہے کہ ساہیوال میں مرنے والوں کے لئے کتنے پروگرام کیے گئے، کتنے کالم لکھے گئے، کتنی نظمیں کہی گئیں، کتنے آنسو ٹپکے اور پھر ہم سب کچھ بھول گئے۔ کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ کیسے کسی ایک واقعے پر پوری قوم اکٹھی ہو جاتی ہے، اور اس جیسے کتنے ہی اور واقعے ہو جاتے ہیں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ مثلاً قصور میں زینب قتل کیس کا شور اٹھا، پھر اس کے بعد اگلے ایک ماہ میں کتنے ہی ملتے جلتے واقعے ہوئے جن میں کسی کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، لیکن نہ تو ویسا قومی ردعمل دیکھنے میں آیا، اور نہ ہی ان واقعات میں ملزمان پکڑے گئے۔ سانحہ ساہیوال سے زیادہ آسان انکوائری ممکن نہیں تھی۔ قتل کے کسی بھی واقعے کی انکوائری پیچیدہ ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو قتل کی ویڈیو موجود تھی۔ مقتولین کے بے گناہ ہونے کے ثبوت موجود تھے۔ پولیس اہکاروں کے ضابطے کی خلاف ورزی کے واضح ثبوت موجود تھے۔ اس سے آسان انکوائری کیا ہو سکتی تھی؟
لیکن چونکہ انکوائری اپنے ہی پیٹی بند بھائی کر رہے تھے، اس لئے سب سے آسان حل یہ تھا کہ معاملے کو طول دیا جائے جس کو دو فائدے تھے، ایک تو نسیان کی ماری قوم کو یاد ہی نہ رہے، دوسرا شواہد بدلنے میں آسانی ہو۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ جے آئی ٹی کا پورا زور مقتول ذیشان کو دہشت گرد ثابت کرنے پر ہے۔ جے آئی ٹی کے سامنے بھی پولیس اہکاروں کا یہی بیان ہے کہ انہوں نے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، لیکن ذیشان نے فائرنگ کر دی اور مجبوراً انہیں بھی فائرنگ کرنی پڑی، اور گاڑی کے شیشے کالے ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں چل سکا کہ گاڑی میں کون کون ہے۔
اب برا ہو ان تصویروں اور ویڈیوز کا جن میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہکاروں نے گاڑی روکی، بچوں کو گاڑی سے اتارا، اور بڑی تسلی سے فائرنگ کی۔ گاڑی کے شیشے بھی کالے نہیں تھے۔ مقتولین رحم کی بھیک مانگتے رہے، لیکن بندوق والوں کے سینے میں چونکہ دل کی جگہ ایک کالا پتھر نصب ہوتا ہے، اس لیے رحم کی بھیک مانگنے والی زبانیں چند لمحوں میں ہی خاموش ہو گئیں۔ ایک لمحے کو مان لیجیے کہ ذیشان دہشت گرد تھا، تو کیا کسی دہشت گرد کو گرفتار کرنے کا یہ قانونی ضابطہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے، خواہ وہ سرنڈر ہی کیوں نہ کر رہا ہو؟
مان لیجیے کہ اس نے فائرنگ بھی کی تھی۔ لیکن جب آپ نے گاڑی روک لی تھی، تسلی سے بچوں کو گاڑی سے اتار لیا تھا، پھر فائرنگ کا کیا جواز تھا؟ چلیں یہ بھی مان لیں کہ فائرنگ کا جواز تھا، ذیشان کو قتل کرنا ان کا قانونی فرض ہو گا، خلیل، اس کی بیوی اور بیٹی کو کس قانون کے تحت قتل کیا گیا؟ اور اگر یہ انصاف تھا تو یقین مانئے کہ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ عمیر، منیبہ اور ہادیہ کو بھی مار دیا جاتا۔ ان کو کیوں ایسی دہشت ناک کارروائی دیکھنے کے لئے اور پھر زمانے کے سرد گرم سہنے کے لئے زندہ چھوڑ دیا گیا؟ ایک ایب نارمل زندگی گزارنے کے لئے چھوڑنے سے بہتر تھا کہ ان کو بھی مار دیا جاتا۔
میرے وزیراعظم صاحب!
اس ماں کے جیسی ریاست میں جو ہمارے نصابی بیانئے کے مطابق ایک اسلامی فلاحی ریاست ہے، کیا انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے؟ جب آپ نے کہا تھا کہ ان بچوں کی پرورش ریاست کی ذمہ داری ہو گی، تو کیا آپ کی ریاست نے ذمہ داری پوری کی؟ آپ کے وزیراطلاعات نے دو کروڑ روپے کا اعلان کیا تھا، کیا وہ لواحقین کو ملے؟ خان صاحب آپ اپوزیشن کے دنوں میں ہالینڈ کے وزیراعظم کے سائیکل پر دفتر آنے کا کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے، اور سادگی کے بھاشن دیا کرتے تھے۔
سادگی کے نام پر جو ڈرامہ آپ کی حکومت نے برپا کیا، اسے بھی ہم قبول کرتے ہیں۔ لیکن اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو دیکھ کر آپ کو ذرا بھی شرم نہیں آئی؟ کیا ماں کے جیسی ریاست کو نیوزی لینڈ جیسا ہونا چاہیے کہ آپ کے نئے پاکستان جیسا؟ تین ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، اور شواہد بدل دیے جانے کے بعد ثابت ہونے کی امید بھی نہیں۔ اور آپ قطر سے ابھی تک واپس ہی نہیں آئے؟
آپ یا آپ کے کسی وزیر کو مقتولین کے گھر جا کر تعزیت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ آپ کے شہزادہ وسیم اکرم المعروف عثمان بزدار صاحب نے ہسپتال جاکر جو بھنڈ کیا وہ بھی قوم نے دیکھ لیا۔ خان صاحب مثالیں آپ حضرت عمرؓ کی دیا کرتے تھے۔ لابنگ فرموں کی وساطت سے حضرت عمر کے نام پر کانفرنس میں خطاب کرنے سے انقلاب نہیں برپا ہوتے۔ اس کے لئے سینے میں دل ہونا چاہیے جو قرآن و حدیث کے حوالے دینے والے عمران خان سے زیادہ جیسنڈا آرڈرن کے سینے میں ہے۔
ساہیوال کا واقعہ ہوا پرانا۔ اب کہاں انصاف ہو گا اور کیسے ہوگا۔ جس ڈی آئی جی کو آپ نے معطل کیا تھا وہ بھی بحال ہو چکا ہے، عنقریب معطل اہلکار بھی اپنی ڈیوٹیوں پر بحال ہوں گے، اور معطلی کے عرصے کی تنخواہ بھی وصول کریں گے۔ آپ سے بس اتنی گزارش ہے کہ انصاف نہیں کر سکتے نہ کریں۔ لیکن جیسے ہی قطر سے واپس آئیں، اپنی تقریروں میں قرآن و حدیث کے حوالے دینے بند کر دیں۔


