کارزارِ سیاست سے گرچہ کچھ زیادہ خوش فہمیاں وابستہ نہیں، لیکن حالیہ چند سالوں میں دشنام طرازی، بہتان تراشی، فحش و لغو گفتگو اور بداخلاقی کے جس معیار پر ہماری سیاست پہنچ چکی ہے، اس کے بعد کسی شریف خاندانی آدمی کے لئے سیاست میں قدم رکھنا خاصا دشوار ہو چکا ہے۔ یہ موضوع ایک بارپھر زیربحث اس لئے ہے کہ دو روز قبل وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کو ”بلاول صاحبہ“ کہا، واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ چہرے پر مخصوص تمسخرانہ تاثرات کے ساتھ کپتان عوام کے ردِعمل سے خوب محظوظ ہوئے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ غلطی سے کہہ دیا، دروغ گوئی ہے۔
سیاست کے ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے یاد نہیں پڑتا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے پہلے پاکستانی سیاست میں مخالفین کے لئے اخلاق سے عاری القابات اور فحش الفاظ کا استعمال کیا گیا ہو۔ ایوب خان کی فاطمہ جناح سے دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ قائداعظم کی ہمشیرہ واضح طور پر فیلڈ مارشل کے اقتدار کے لئے خطرہ تھیں۔ ایوب خان نے انہیں امریکی اور انڈین ایجنٹ تک کہا لیکن کبھی بدزبانی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ اور تو اور جب سڑکوں پر ایوب کتا ہائے ہائے کے نعرے لگے تو برداشت نہ کر سکے اور استعفیٰ دے کے چلتے بنے۔
Read more