عمران خان کا آئینی ترمیم کا شوق


فیض اپنی پنجابی نظم میں اللہ میاں سے یوں گلہ گزار ہیں :’’ربّا سچیا توں سے آکھیا سی ‘ جا اوئے بندیا جگ دا شاہ ایں تو‘‘۔ پھر اسی مضمون کو سائیں اختر لہوری نے یوں مکمل کیا:’’اللہ میاں تھلے آ‘ اپنی دنیا ویہندا جا‘‘۔ اک روز یہی سائیں اختر لہوری چندہ برائے تعمیر مسجد والی صندوقچی دیکھ کر بول اٹھے تھے :’’مینوں گھر تے دے نئیں سکیا‘ اپنا گھر تے آپ بنا ‘‘۔ شاعری شاعروں کی اللہ میاں سے نوک جھونک سے بھری پڑی ہے۔ میرے شہر گوجرانوالہ کے میجر شہزاد نیئر کی سنیے:

دو چار سوالات ہیں پھر مجھ کو اجازت

میں سیر کی خاطر تو فلک پر نہیں آیا

علامہ اقبالؒ اس شاعرانہ بے تکلفی کا جواز بھی پیش کرتے ہیں۔

 گستاخی و بیباکی رمزیں ہیں محبت کی

ہر شوق نہیں گستاخ ہر جذب نہیں بیباک

سید عبدالحمید عدم ؔ سے اللہ تعالیٰ کے قیامت کے دن کے انتظامات بارے تبصرہ سن لیجئے۔ کچھ نہ کہئے گا۔ سیدوں کا ادب واجب ہے۔

قیامت کی گرمی میں کوثر کے چھینٹے

جوانی کے رخ پہ حیا کا پسینہ

شاعرکا نام نامعلوم ، پچھلے ہی دنوں ڈی ایچ اے لاہور ایک محفل میں امجد اسلام امجد کی زبانی یہ شعر سنا تھا۔ حافظہ میں محفوظ رہ گیا ہے۔ یہ ’’احسن تقویم ‘‘ حالات کا کتنا ستایا لگتا ہے ؟

میرے بعد کن سے وہ باز آ گیا ہے

بڑے شوق سے مجھ کو پیدا کیا تھا

ان ساری خرافات کا دانش کدہ فرنگ سے یوں جواب آیا ہے۔ تھامس پین کے مطابق مذہب کا سب سے بڑا جرم غربت کو خدا کی پیدا کردہ کیفیت قرار دینا ہے۔ اب آپ کو شاعر سے اختلاف کا حق ضرورہے۔ لیکن ذرا سوچ کر بتائیے کہ اس کا موقف جاندار کتنا ہے ؟

رزق پتھر میں بھیجنے والے

میرے بچوں کی فیس رہتی ہے

تو کیا رزاق نے بچوں کی اسکول کی فیس نہیں بھجوائی ؟ اس قادر و عادل سے بھلا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟ امجد اسلام امجد یہ گتھی یوں سلجھاتے ہیں :

خدا کا رزق تو ہر گز زمیں پہ کم نہیں یارو

مگر یہ کاٹنے والے مگر یہ بانٹنے والے

بیشک اللہ تعالیٰ کے زمین پر پیدا کردہ وسائل انسانی ضرورتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ لیکن کچھ لوگ کسی طرح اپنی ضرورتوں سے زیادہ پر قابض ہو جاتے ہیں۔ ریاست مدینہ میں پہلی مرتبہ انسانیت نے مہاجرین اور انصار کے درمیان برادرانہ اخوت کا مظاہرہ دیکھا تھا جب وسائل آپس میں برابر تقسیم کر لئے گئے تھے۔ یہ خیالات اور سوالات کالم نگار کے دل و دماغ میں کلبلانے لگے جب اس نے عمران خان کا ’’احساس اور کفالت ‘‘ پروگرام کی تقریب میں خطاب پڑھا۔ انہوں نے بھٹو سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر اعلان کیا ہے۔ ’روٹی ، کپڑا ، مکان کے ساتھ صحت اور تعلیم بھی ایک شہری کا بنیادی حق ہوگا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں آئین میں ترمیم کرنے کے عزم کا بھی اعلان کیا ہے۔

ریاست مدینہ کا ذکر عمران خان کی زبان پر اکثر رہتا ہے۔ وہ اس موقعہ پر بھی اس کا ذکر بھولے نہیں۔ کالم نگار سوچ رہا ہے کہ ریاست مدینہ کے تصور سے قانون حجر کو کسی طرح بھی نکالا نہیں جا سکتا۔ یہی ریاست مدینہ کی بنیادی روح ہے۔ قانون حجر کے مطابق کوئی شہری اپنے حلال ذرائع سے کمائے ہوئے رزق کو بھی اس طرح خرچ نہیں کر سکتا جس میں دوسرے شہریوں کی دل آزاری کا سامان ہو۔ پھر زمین کا مالک اللہ ہے۔ وہ لوگ جن کے نام سرکار کے کاغذات مال کے خانہ ملکیت میں درج ہیں ، محض اس زمین کے امانت دار ہیں۔ کسی امانت دار کے حقوق غیر محدود نہیں ہوتے۔ کیا ریاست کے لئے ضروری نہیں کہ وہ یہ تعین کر ے کہ ایک شہری کتنی زمین اپنے رہائشی استعمال میں لا سکتا ہے؟ تبھی سرکار کیلئے ممکن ہوگا کہ وہ اپنے تمام شہریوں کی رہائشی ضرورت پوری کر سکے۔ ورنہ عمران خان بیشک آئینی ترمیم کا شوق پورا کر کے دیکھ لیں۔ کچھ بھی تو نہیں ہوگا۔

رہائشی پلاٹ بدستور عام آدمی کی دسترس سے باہر رہیں گے۔ 12 ہزار ماہوار تنخواہ۔ پانچ مرلہ پلاٹ کی کم از کم قیمت 20 لاکھ روپے۔ مکان اتنی اہم ضرورت ہے کہ معروف اسلامی مورخ طبری کے مطابق ساتویں ہجری میں مسجد نبوی میں توسیع کی ضرورت محسوس کی گئی۔ حضورؐ نے مسجد کے ہمسائیہ میں رہنے والے ایک انصاری سے فرمایا۔ اگر تم سے ہو سکے تو اپنی تھوڑی سی زمین مسجد کی توسیع کیلئے بہشت میں ایک مکان کے عوض ہمیں بیچ دو۔ اس نے یہ کہتے ہوئے صاف جواب دے دیاکہ وہ عیال دار آدمی ہے اور اس کے پاس اور کوئی جگہ بھی نہیں۔ مکان دانہ گندم کی طرح ہی اہم انسانی ضرورت ہے۔ کسی مردے کا قبر کے بغیر گزارہ ممکن ہے لیکن کسی زندہ آدمی کا گھر کے بغیر ممکن نہیں۔ اب انسان غاروں میں رہنے کا عادی نہیں رہا۔

حکومت کی جانب سے اس کاروبار پر بے پناہ حدود و قیود مقرر ہیں۔ لیکن بے پناہ شرح منافع کے باعث اس کاروبار سے وابستہ لوگ اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ وہ ان قوانین کی بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ عدلیہ ، سیاسی جماعتیں اور قانون نافذ کرنے والے سبھی ادارے ان کے آگے سرجھکائے دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ گوجرانوالہ میں ایک سر پھرے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ اینٹی کرپشن نے ان سے باز پرس کی کوشش کی تھی۔ اب وہ اپنی اس حرکت پر نادم شہر میں لوگوں سے منہ چھپاتے نظر آتے ہیں۔

Facebook Comments HS