مجھے معاف کردیں کہ میں عورت ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورتوں کے ناقص ہونے کا قصہ کہاں سے شروع کروں، وھاں سے جہاں پیدا ہوتے ہی اچھا بننے کے لیے ایک عورت کو، خاموش رہنے کا درس دیا جاتا ہے، جتنی خاموش اتنی ہی اچھی۔ کھیل بھی وہ جس میں گھر گھر کھیلا جائے، وہ کھیل میں بھی گھر سنبھالے گڑیا کو سجائے اور مہمانوں کی چائے بنائے پھر تھوڑا سا بڑی ہو جائے تو شرافت، خاندان کی ناک اور تمام تر عزت کا بوجھ اس ناقص العقل عورت پر۔ اچھی لڑکی کی پہچان، کم سن، کم گو، کم عقل اور فیصلہ کی صلاحیت جتنی کم اتنا ہی اچھی سمجھی جاتی ہے۔

تھوڑا سا جوان ہونے پر صرف اور صرف نیک نصیب کی دعا پانے والی عورت، جب کے یہاں نصیب سے مراد صرف اور صرف ایک اچھی شادی ہے۔ اس کی خوشی تو صرف اور صرف دوسروں کی طرف سے ملنے والی تعریف اور دوسروں کو خوش کرنے میں ہے۔ ایک دفعہ پھر اپنے آپ کو ثابت کرنے میں زندگی گزار دیتی ہے۔ کیسے ہنسنا ہے، آواز کتنی ہو، کتنا بولنا ہے، کیسے کھانا ہے غرض کہ ہر چیز کی ناپ تول کا پیمانہ طے ہے۔ کمال کی بات ہوگی اور اصل معراج ہوگی اگر آپ عقل استعمال کرنا ہی بند کردیں اور صرف فیشن، ہانڈی روٹی اور نوکروں کے مسائل کے بارے میں بات کریں، کیونکہ اچھی عورتیں صرف اور صرف گھریلو امور پر بات کرتی ہیں۔ بہت دل کرے تو چغلیاں کرلیں افاقہ ہوگا۔ ہرگز ہرگز انٹلکچوئل بننے کی کوشش مت کریں۔ کمال تو یہ ہے کہ ایک ماہر غلام کی طرح اس کمتری کا سبق بیشتر عورتوں کو ازبر ہوچکا ہے اور وہ گاہے بگاہے اپنے اردگرد موجود خواتین کو بھی یہ بھی سبق پڑھاتی رہتی ہیں۔

ایک بات یاد رکھیں آپ ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بال مونڈنے، مار پڑنے اور وحشیانہ تشدد کے جواب میں سب سے بڑا گناہ اس عورت کا آزادانہ طرز زندگی ہے۔ اگر آپ معاشرے کے سسٹم کو فالو نہیں کرتی تو پھر چاہے تکہ بوٹی بن جائے یا پھر ریپ ہو، ان سب جرائم کی وجہ اور سبب وہ عورت خود ہے۔ ریپ ہوجائے یا سڑک پر کوئی بدتمیزی کردے بہر حال قصور اور ذمہ داری عورت کی ہے۔ آپ اس وقت سڑک پر یا بازار، محلے میں کیا کر رہی تھیں۔ یہ سڑک، بازار، محلہ اور پارک صرف اور صرف مردوں کے لیے ہے۔ یقین نہ آئے تو لاہور کے ماڈرن ترین علاقے میں صرف واک کر کے دیکھ لیں، نظریں آپ کا کہاں اور کتنا جائزہ لیں گی اندازہ ہو جائے گا۔

عورتوں کے بارے میں تجزیہ نگاری پر ہمارے مشہور و معروف کالم نویس نے تو کمال ہی کردیا۔ موصوف فرماتے ہیں کہ جن عورتوں کو گھر میں کھانا گرم کرنا عذاب لگ رہا تھا وہ اب دھوپ میں سڑنے کے لیے تیا رہیں کیونکہ اب وہ بخوشی دربدر پھریں گی، کے ایف سی کی ہوم ڈلیوری سروس کے لیے یہ وہ آوارہ عورتیں ہیں جو رزق حلال کی خاطر سڑک پر کام کرنے موٹر سائیکل پر آگئیں، غالبا موصوف کے مطابق ان کو برقع پہن کر شرافت سے بھیک مانگنی چاہیے تھی۔

ان عورتوں کو گھروں میں چین نہیں ملا اور نہ عزت راس آئی ان نامور کالم نگار نے سولہ آنے درست بات فرمائی کیونکہ ہانڈی گرم کرنے کے علاوہ زندگی کا کوئی اور مقصد نہیں، رہی رزق حلال کمانے کی بات تو وہ ان نافرمانبردار عورتوں کے بس کی بات نہیں۔ گھر سے باہر پیر نکالنے کا شوق اس پیر کی جوتی کے دماغ کا کیڑا ہے۔ ، مفت خور کہیں کی۔ یہ جو کمانے کا اور کیریر کا بھوت ہے یہ سب دربدر کی خاک چھاننے کا بھوت ہے۔ کمانا، روزی روٹی اور عزت معاش یہ عورت کے بس کی بات نہیں اور خاص طور سے اگر کرنا ہے تو صرف اس صورت میں کہ جب بھوک سے فاقے ہو رہے ہوں۔ یہ خوامخواہ کے کیریر کے چونچلے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر اس کیریر کے شوق میں اگر کسی نے ہراسمنٹ کردی تو دو سو جوتے کھانے کی بھی تیاری رکھیں، کیونکہ عورت اپنے ساتھ ہونے والے ہر حادثے کی خود ذمہ دار ہے۔

روٹی فری کی، کپڑا فری میں اور اگر صاحب حیثیت ہیں تو پھر فری کی گاڑی اور شاپنگ بھی۔ اس لیے صرف اس بات پر اترانا کہ آپ نے گھر سنبھال لیا، جوانی نذر کردی بچوں کی پرورش کی اور اپنے کیریر اور شوق چھوڑ دیے، اس قدر بکواس کی ضرورت نہیں۔ مفت خور اور ناشکری عورت۔

یہ الگ بات ہے کہ آکسفیم کے اعداد و شمار کے مطابق صرف گھر کی فری سپروائزری اور کام کرنے کی انڈسٹری کی 40 ٹریلین ہوتی، بالفرض اگر خاتون خانہ کو گھر کے کام کی اجرت ملے تو دنیا کی تین بڑی انڈسٹری میں سے ایک انڈسٹری یہ بھی ہوتی۔ افسوس صد افسوس کے ہم نے سارا زور سسٹم کی خامیاں چھپانے پر لگا دیا، ساری پابندیاں اپنی بیوی، بیٹی اور بہو کے لیے سنبھال کر رکھ لیں۔ ایک دفعہ بھی کوشش نہیں کی ایک متوازن سسٹم رکھیں۔

ایسا سسٹم جہاں کسی کی لیڈری ثابت کرنے کے لیے کوئی روز ذلیل مت ہو، جہاں برابری کا مطلب بے راہروری نہیں بلکہ عزت نفس کی برابری ہو۔ مفت خوری کے طعنے کے بجائے باہمی رضامندی سے ڈیوٹیاں نبھائی جائیں۔ ہر کامیاب عورت کی کامیابی کا ہار اس کو ملے نہ کہ طعنوں کی بوچھاڑ۔ عورت مارج کے ہر بورڈ کا ڈائی سیکشن کرنے والے اپنے دماغ کا بھی معائنہ کر لیں کیونکہ وہ بورڈ معاشرے سے شکایتیں تھیں، کتنی نسلوں تک حوا کی بیٹی صرف مفت خور، بے غیرت اور بے شرم کہلائے گی۔ میں عورت پیدا ہوگئی مجھے معاف کردیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •