نیب کا تماشائے احتساب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بالآخر وزیراعظم عمران خان بھی اس سیاہ قانون کے خلاف لب کشائی پر مجبور ہوئے جو ایک آمر کے ذہن رسا اور دست ہنر کی تخلیق ہے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کھل کر اپنا مافی الضمیر بیان کیا اوراس امر کا اعتراف بھی کہ قومی احتساب بیورو سے خائف افسرشاہی سرکاری امور کی انجام دہی سے گریزاں ہے۔ وزیراعظم نے بین السطور نیب کو واضح پیغام بھی دیا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ و تادیب بھی کی کہ و ہ بڑے مالیاتی سکینڈل اورکرپشن کیسوں پر توجہ مرکوز کرے۔

عمران خان پہلے وزیراعظم نہیں جنہوں نے نیب کی کارکردگی کے بارے میں لب کھولے، بلکہ ان سے قبل بھی مسند اقتدار پر متمکن ہر منتخب وزیراعظم نیب سے نالاں ہی نظر آیا۔ اہل سیاست کی یہ شکوہ سنجی سندجواز سے عاری نہیں۔ کیونکہ بساط سیاست پر بہ حیلہ احتساب جو ڈھونگ رچا ہے، اس کے نظارے میں چشم محو تماشا ہے تو عقل محو حیرت ہے۔ یہ چند ماہ و سال کا قصہ نہیں، بلکہ کم و بیش دو دہائیوں کا فسانہ ہے۔ 1999 ء کے اواخر میں جب بیسویں صدی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی تو خنجر بدست عفریت استبداد نے قبائے جمہوری کوتار تار کیا۔

حاکم وقت نے احتساب کی صدائے دلپذیر بلند کی اور قومی احتساب بیوروکی داغ بیل ڈالی۔ اس وقت تو اس قانون کی غرض وغایت لٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی اور لٹیروں کا مواخذہ و محاسبہ ٹھہری لیکن مرور ایام کے ساتھ اس شتر بے مہار ادارے کے قیام کا اصل منشا ومقصد آشکاراہوا اس قانون کی آڑ میں وہ طلسماتی عصا غاصب وقت کے ہتھے آیا جس نے ہر ناممکن کو ممکن اور ناشدنی کو شدنی بنایا۔ پھر چشم فلک نے یہ تماشا بھی دیکھا کہ یہی دستورسیاسی حریفوں کی سرکوبی میں بھی ممد و معاون ثابت ہوا اور سابق سپہ لارکے لیے خارزار سیاست کو گلزاربنانے میں بھی سودمند۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کی مطلق العنانیت کو پیراہن جمہوریت کی عطا بھی اسی ادارے کی کرشمہ سازی رہی۔ سیاسی حریفوں کو رام کرکے ایسے حلیف بنایا کہ سابق آمر کا سفینہ اقتدار نوبرس تک پرسکون پانیوں میں رواں دواں رہا۔ جمہوریت کوپنجہ آمریت سے خلاصی ملی اورملک واپس آئینی ڈگر پر گامزن ہوا تو پہلے پیپلزپارٹی اور پھر نواز لیگ کی حکومت کو اس کالے قانون کی تنسیخ کا خیال تک نہ آیا۔ ن لیگ کی حکومت میں اقتدار کے دائمی اور عارضی شراکت داروں کے درمیان قربتیں فرقتوں میں ڈھلیں تو حکومت کو اس دستور سیاہ میں ردوبدل کا ہوش آیا۔

لیکن اس وقت تک انا کی چڑیاں مصلحت کا کھیت چگ چکی تھیں۔ احتساب کے نام پر قومی رہنماؤں کی تحقیر و تضحیک کا جو ڈول ڈالا گیا وہ ہنوز جاری ہے بلکہ وقت کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ نیب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی تاثر ابھرکر سامنے آتا ہے کہ اس قانون کاجو خالق ہے وہی آج تک مالک ہے۔ اسی غیر مرئی آقا کے رمزو ایماء پرشمشیر احتساب حرکت میں آتی ہے، قیاس اور مفروضوں پر مبنی مقدمات تیار کیے جاتے ہیں اور پھر تفتیش کے پردے میں تذلیل و رسوائی کی وہ داستانیں رقم کی جاتی ہیں جنہیں ملاحظہ کرکے روح انسانیت کانپ اٹھتی ہے۔

نیب عقوبت خانوں پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا نالہ و شیون ہو یا دوران حراست انسانیت سوزایذا رسانیوں پر کامران مجاہد کی جرات گفتاری، پروفیسر جاوید اقبال کی ”ہوئے مر کے ہم جو رسوا“ کی عملی تفسیر بنی لاش ہویا بریگیڈئر اسد منیرکا رسی سے جھولتا لاشہ۔ یہ تمام واقعات اسی ایک طرزعمل کی غمازی کررہے ہیں کہ نیب کا اسلوب تفتیش انسانیت سے عاری ہے۔ کرپشن کے الزام میں ہر نئی گرفتاری کے ساتھ یہ تاثر مزید مستحکم ہوتاجاتا ہے کہ نیب کا وظیفہ احتساب کم اور انتقام زیادہ ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں پر تحریک انصاف کے وزراء کے شادیانے بجانے کی ریت نے بھی نیب نیازی گٹھ جوڑکے بیانیے کو تقویت دی۔ نواز شریف اور آصف علی زر داری سے متعلق شعلہ بیانی، سیاسی قائدین سے قومی دولت کی واپسی اور خیبرپختونخوا میں ناظم عجائب گھر ڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری پرردعمل، وزیراعظم کے ایسے اقدامات ہیں جن سے قومی احتساب بیورو کی آزادی، غیرجانبداری اور شفافیت پر حرف آیا۔ ، بلوچستان میگا کرپشن، بابر اعوان کیس، مالم جبہ اراضی اور ہیلی کاپٹر سکینڈل کی تفتیش اور چھان بین کی سست روی نیب کی کارکردگی کا منہ چھڑارہی ہے۔

ملک کے ہر ذی شعور شہری کو یہ باور ہے کہ وطن عزیز میں احتساب محض ایک ڈھونگ، تماشا اور شکنجہ انتقام ہے۔ اگر جمہورکی دولت لوٹنے والوں کا حقیقی احتساب مطلوب ہے تو پھر یہ ناٹک ختم کرنا ہوگا۔ ملک میں آئین اور انسانی حقوق سے ہم آہنگ ایسے قانون کی تخلیق ناگزیر ہے جو صرف سیاستدانوں کو تختہ مشق بنانے کی بجائے ان اداروں سے بھی بازپرس کا جگر اور تاب رکھے جنہیں گاؤ مقدس کا درجہ حاصل ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طارق آفاق کی دیگر تحریریں
طارق آفاق کی دیگر تحریریں
––>