حماد حسن۔ تقدیس حرف کا ثناگر

کالم نگاری اقلیم صحافت کی وہ تنگنائے ہے جسے عبور کرتے ہوئے اچھے اچھوں کا زہرہ آب ہوجاتا ہے۔ فنی لوازمات کا التزام برتتے ہوئے کالم کی تخلیق جس جگرکاوی کی متقاضی ہے وہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں۔ خون جگر کے بغیر کالم کا نقش ناتمام اور رنگ بے کیف ہوتا ہے۔…

Read more

شیخ رشید صاحب! اپنے نام کا بھرم رکھیو

میں آپ کو جبین سیاست پر داغ رسوائی کہوں گا نہ ہی سیاسی شعبدہ بازاور مقتدر حلقوں کا خایہ بردار۔ سیاسی نجومی قرار دوں گا نہ ہی ابن الوقت۔ میں تو اس الزام سے بھی متفق نہیں کہ آپ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں اورآپ کا محور سیاست ذاتی مفاد ہے۔ آپ ہمیشہ اسی حاکم وقت کی قصیدہ گوئی میں رطلب اللسان رہے جس کا آفتاب اقتدار سیاسی افق پر جھلملاتا رہا۔ آپ نے اصغر خان جیسے اصول پسند سیاستدان کو اپنا امام سیاست تسلیم کیامگر یہ سیاسی رفاقت قطرہ شبنم سے بھی زیادہ ناپائیدار ثابت ہوئی اور آپ ان کے آبگینہ اعتبار کو چورچور کرکے راہی اقلیم جفا ہوئے۔

وادی سیاست میں پرخار روش کی بجائے آپ نے اس ڈگر کا انتخاب کیا جو اقتدار کی غلام گردشوں سے ہمکنار ہوئی۔ آپ نواز شریف کے حلقہ ارادت میں آئے ان کی سیاسی معیت میں آپ کو اورنگ وزارت نصیب ہوا اور جب تک آپ سائبان حکمرانی کی نرم چھاؤں میں رہے آپ سابق وزیراعظم کے گن گاتے رہے ان کی تعریفوں کے ایسے پل باندھے جس کی گواہ آج بھی آپ کی اپنی سرگزشت ”فرزند پاکستان“ ہے۔ نواز شریف کا قافلہ سیاست کوچہ اقتدار سے نکل کر سوئے دار آیاتو قید وبند اور زندان کی بجائے آپ کی ناقہ بے زمام جنرل (ر) پرویز مشرف کی چراگاہ میں سیر ہونے لگی۔

Read more

نیب کا تماشائے احتساب

بالآخر وزیراعظم عمران خان بھی اس سیاہ قانون کے خلاف لب کشائی پر مجبور ہوئے جو ایک آمر کے ذہن رسا اور دست ہنر کی تخلیق ہے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران انہوں نے کھل کر اپنا مافی الضمیر بیان کیا اوراس امر کا اعتراف بھی کہ قومی احتساب بیورو سے خائف افسرشاہی سرکاری امور کی انجام دہی سے گریزاں ہے۔ وزیراعظم نے بین السطور نیب کو واضح پیغام بھی دیا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ و تادیب بھی کی کہ و ہ بڑے مالیاتی سکینڈل اورکرپشن کیسوں پر توجہ مرکوز کرے۔

عمران خان پہلے وزیراعظم نہیں جنہوں نے نیب کی کارکردگی کے بارے میں لب کھولے، بلکہ ان سے قبل بھی مسند اقتدار پر متمکن ہر منتخب وزیراعظم نیب سے نالاں ہی نظر آیا۔ اہل سیاست کی یہ شکوہ سنجی سندجواز سے عاری نہیں۔ کیونکہ بساط سیاست پر بہ حیلہ احتساب جو ڈھونگ رچا ہے، اس کے نظارے میں چشم محو تماشا ہے تو عقل محو حیرت ہے۔ یہ چند ماہ و سال کا قصہ نہیں، بلکہ کم و بیش دو دہائیوں کا فسانہ ہے۔ 1999 ء کے اواخر میں جب بیسویں صدی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی تو خنجر بدست عفریت استبداد نے قبائے جمہوری کوتار تار کیا۔

Read more