شیخ رشید صاحب! اپنے نام کا بھرم رکھیو
میں آپ کو جبین سیاست پر داغ رسوائی کہوں گا نہ ہی سیاسی شعبدہ بازاور مقتدر حلقوں کا خایہ بردار۔ سیاسی نجومی قرار دوں گا نہ ہی ابن الوقت۔ میں تو اس الزام سے بھی متفق نہیں کہ آپ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں اورآپ کا محور سیاست ذاتی مفاد ہے۔ آپ ہمیشہ اسی حاکم وقت کی قصیدہ گوئی میں رطلب اللسان رہے جس کا آفتاب اقتدار سیاسی افق پر جھلملاتا رہا۔ آپ نے اصغر خان جیسے اصول پسند سیاستدان کو اپنا امام سیاست تسلیم کیامگر یہ سیاسی رفاقت قطرہ شبنم سے بھی زیادہ ناپائیدار ثابت ہوئی اور آپ ان کے آبگینہ اعتبار کو چورچور کرکے راہی اقلیم جفا ہوئے۔
وادی سیاست میں پرخار روش کی بجائے آپ نے اس ڈگر کا انتخاب کیا جو اقتدار کی غلام گردشوں سے ہمکنار ہوئی۔ آپ نواز شریف کے حلقہ ارادت میں آئے ان کی سیاسی معیت میں آپ کو اورنگ وزارت نصیب ہوا اور جب تک آپ سائبان حکمرانی کی نرم چھاؤں میں رہے آپ سابق وزیراعظم کے گن گاتے رہے ان کی تعریفوں کے ایسے پل باندھے جس کی گواہ آج بھی آپ کی اپنی سرگزشت ”فرزند پاکستان“ ہے۔ نواز شریف کا قافلہ سیاست کوچہ اقتدار سے نکل کر سوئے دار آیاتو قید وبند اور زندان کی بجائے آپ کی ناقہ بے زمام جنرل (ر) پرویز مشرف کی چراگاہ میں سیر ہونے لگی۔
Read more

