صادق ہدایت: افسانوی کرداروں کی موت سے اپنی خودکشی تک
خاندانی ذمہ داریوں سے بچنے کے سبب شادی بھی نہیں کی۔ صادق ہدایت کا تصور یہ تھا کہ انسان بنیادی طور پر تنہا رہنے والی مخلوق ہے۔ اسے جبرا اجتماع میں بھیج کر سماجی قیدی بنا دیا گیا ہے۔ اسے اپنی قید سے رہائی کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے اگرچہ خودکشی کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ ہدایت کا افسانہ سگ ولگرد (The Stray Dog) اس کے احساس تنہائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسے پرندوں کی یہ عادت بیحد پسندتھی کہ موت کی حالت طاری ہونے سے قبل وہ گوشہ تنہائی میں چلے جاتے ہیں اور اس حالت میں مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہدایت کی اپنے وطن سے دور فرانس میں خودکشی بھی شاید اسی تصور کی آئینہ دار تھی۔
موت کا شدّت سے خیال بھی اسے زندگی کی رعنائی اور چہل پہل سے دور لے گیا۔ اس کے افسانوں میں موت کا تصور جابجا دکھائی دیتا ہے۔ بوف کور میں بوف (الّو) وہ پرندہ ہے جو بدشگونی، تباہی اور مرگ کا استعارہ بن کر سامنے آتا ہے۔ صادق ہدایت اپنے سکول کے ایاّم سے ہی ندائے اموات نامی رسالہ پبلش کرتا تھا جو تصوّر موت سے اس کی خصوصی دلچسپی کا مظہر ہے۔ مزید یہ کہ اس رسالے کے آرم پر ملک الموت کی فرضی تصویر بھی موجود تھی۔
بنابریں، اس کی نگاہ میں اگر کوئی چیز زندگی کی تلخیوں اور مصائب و آلام سے نجات دے سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف موت ہے۔ اس طرح ہدایت نہ فقط اپنے ناولوں کے کرداروں کو موت سے درگیر رکھتا ہے بلکہ اکثر اپنی ذات کو بھی موت کے منہ میں دھکیلنے کی کوشش کرتا ہے۔ کئی بار خودکشی کی کوشش کی لیکن موت کے منہ سے بچ نکلا؛ آخرکار 4 اپریل 1951 ء کو پیرس (فرانس) میں موت نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔
دنیا کے بارے میں شدید بدبینی اور بدگمانی تیسرا عامل تھا جو اسے قنوطیت کی جانب لے گیا اور جس کی جڑیں اس کی تحریروں میں بہت گہری ہیں۔ کائنات کی ہر چیز کے بارے میں بدگمان تھا یہاں تک کہ اپنے جیسے انسانوں کو بھی فریبی اور حقیر تصور کرتا تھا۔ زندگی اس کی نظر میں بے وقعت اور بے سود چیز تھی۔ ناول زندہ بگور بھی ایک ایرانی طالب علم کی داستان پر مبنی ہے جو زندگی کے جھمیلوں سے اکتا کر خودکشی میں راہ نجات پاتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہدایت اپنے معاصر ادیبوں کے برعکس زندگی کا قصیدہ لکھنے کے بجائے اس کا نوحہ خوان نظر آتا ہے۔
عام تاثر یہی ہے کہ وہ ایران کے مخدوش حالات کے سبب قنوطیت کا شکار ہوا لیکن کچھ نقاّد اس تصور کو ردّ کرتے ہیں ؛ ان کی نظر میں صادق ہدایت کی دنیا سے بے اعتنائی اور بدگمانی دراصل اس کے فلسفیانہ نکتہ نظر کی وجہ سے تھی۔ یعنی وہ اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ اس کائنات میں رہتے ہوئے انسان کے لئے راہ نجات موجود نہیں مگر یہ کہ وہ اس قید سے اپنے آپ کو آزاد کرلے۔
یہ رائے بھی بعید از قیاس نہیں کہ دور جوانی میں یورپ کے سفر اور وہاں قیام نے ہدایت کے افکار پر گہرے نقوش مرتّب کیے ہوں۔ اس کی نظر میں مغربی تجدّد اور ایرانی روایت گرائی و قدامت پسندی کے مابین طولانی فاصلوں کی ایک دیوار حائل تھی۔ وہ ایرانی کلچر کو خرافات کا مجموعہ اور روایتی سماج کو زوال کا شکار گمان کرتا تھا۔ دوسری جانب اسے پہلوی دور آمریت میں معاشرتی اصلاح کی کوئی سبیل بھی نظر نہیں آتی تھی۔ یہ وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے صادق ہدایت قنوطیت کے راستے پر چل کر فارسی ادب میں نہیلزم کے علمبردار کے طور پر سامنے آیا۔
نہیلزم کی ادبی تحریک دراصل پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکا اور یورپ سے مشرقی دنیا میں داخل ہوئی تھی۔ ایران میں صادق چوبک، محمود دولت آبادی اور صادق ہدایت جیسے ادیبوں نے اسے پروان چڑھایا۔ ہدایت نے قنوطیت کے زیراثر، مذہبی اور اخلاقی مفاہیم کے ساتھ انسان کے رابطے کو غیرفطری قرار دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہدایت کے ہاں ادبی عفت نامی کسی چیز کا وجود نہیں۔ یعنی وہ فحش اور غیراخلاقی ترین بات بھی عریان اصطلاحات میں بیان کرنے کی جسارت کر گزرتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صادق ہدایت نے فارسی ادب میں الفاظ اور مفاہیم کی جھوٹی اور نام نہاد حرمت کا خاتمہ کیا۔ اس نے اپنے افسانوں میں وہ تراکیب بھی استعمال کیں جن کو برتنے سے بڑے بڑے ادیب کتراتے تھے۔ اسی طرح جن واقعات اور مناظر کو معاصر ادیب مصلحت اور خوف کے دبیز پردوں میں بیان کرتے تھے ہدایت انہیں برملا بیان کرتا نظر آتا ہے۔ صادق ہدایت کے قلم کی یہ خصوصیت اسے اردو کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے نزدیک لا کھڑا کرتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہدایت کی تحریروں نے فارسی ادب کی عشقیہ، روحانی اور اخلاقی بنیادوں کو نہ فقط شدید متزلزل کر دیا بلکہ اس ادب سے زندگی کی خوبصورتی کا خاتمہ کرکے اسے موت، بدبینی، مایوسی اور قنوطیت کے اندھیروں سے بھر دیا۔ ہدایت نے انسان کی روحانی اور معنوی حیثیت کا انکار کرکے اسے ایک پست موجود کے درجے پر لا کھڑا کیا اور اس کے ایمان، ضمیر اور مذہبی اعتقادات کو خرافات قرار دیا۔ ان تمام منفی تصورات کے باوجودصادق ہدایت کو اپنی پراثر تحریروں اور قلم کی فنی پختگی کے سبب عالمی ادب میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صادق ہدایت کی موت کو ستّر سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی اس کے قارئین اور ناقدین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

